جون 10, 2015
12 تبصر ے

میری سات سالہ اردو بلاگنگ کا آغاز کیسے ہوا

بلاگ لکھتے ہوئے آج پورے سات سال ہو گئے ہیں۔ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ چھ ماہ تک ایک پوسٹ بھی نہ لکھی ہو۔ خیر آج بلاگ گرہ ہے تو کچھ اوٹ پٹانگ حاضرِ خدمت ہے۔ اکثر لکھاریوں کو لکھنے کا شوق بچپن سے ہوتا ہے۔ جبکہ ہمارے لکھنے کی تو بچپن میں ہی واٹ لگ گئی تھی۔ یہ تو پردیس میں وطن کی یاد نے ستایا تو ہم حادثاتی طور پر لکھاری بن بیٹھے۔ اوپر سے شعاعوں کی بجائے ”تعویذوں“ کی وجہ سے ہماری اردو اچھی ہو گئی۔ آپس کی بات ہے اور کسی کو بتانا نہیں کہ بیسویں صدی بعد از مسیح میں ہم←  مزید پڑھیے
دسمبر 13, 2014
12 تبصر ے

بوڑھی انسانیت

اس ”ہارن باز“ ہجوم کے چکر میں حالت ایسی ہو گئی کہ ہمت ہارنے لگا۔ آخر کار آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا اور میں گھٹنوں کے بل گرا۔ ساتھ ہی اک خیال آیا کہ یہ شہ سوار میدانِ جنگ میں گر رہا ہے یا پھر طفل گھٹنوں کے بل ہو رہا ہے؟ گویا میں خود پر ہنسا۔ پھر ایک آواز سنائی دی۔ ہاتھ میں گلاس پکڑے وہ میرے سامنے تھی۔ گلاس میں پانی تھا لیکن اگر زہر بھی ہوتا تو چپکے سے میرے خلق میں اتر جاتا۔ اس چُلو بھر زندگی میں محبت کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور وہ←  مزید پڑھیے
دسمبر 10, 2014
11 تبصر ے

ادب، ادیب اور معاشرہ

اگر میں ادیب ہوتا تو یہ سب کسی کہانی یا افسانے کی صورت میں لکھتا۔ پھر ہر کسی کو پڑھتے ہوئے مزا بھی آتا اور میری بات بھی سب تک پہنچ جاتی۔ بہرحال بات یہ ہے کہ سائنس چیزیں بناتی ہے جبکہ ادب انسان کو ”انسان“ بناتا ہے۔ زمین کے گرد گھومتے سٹیلائیٹ کی طرح، ادیب معاشرے کے گرد گھومتا ہے۔ اپنے علم و ہنر کے ذریعے ایسے ایسے تازیانے برساتا ہے کہ لوگ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ سعادت حسن منٹو کو ہی دیکھ لیں۔ ویسے کئی بیچارے لوگوں کا خیال ہے کہ منٹو نے فحش اور جنس نگاری←  مزید پڑھیے
نومبر 20, 2014
11 تبصر ے

ادب صاحب کی جوان لڑکیاں

اپنے جناب ادب صاحب کی دو جوان لڑکیاں ہیں۔ دونوں بہت خوبصورت ہیں اور ہمیں دونوں سے ہی محبت ہے۔ گو کہ بڑی میں محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہے لیکن اتنی آسانی سے رومانوی نہیں ہوتی۔ جبکہ چھوٹی کے تو کیا ہی کہنے۔ قدم بعد میں اٹھاتی ہے اور رومان کی دنیا پہلے بساتی ہے۔ شاید اسی لئے اکثر جوان لڑکے چھوٹی پر فدا ہیں۔ ایک تو چھوٹی کی حرکتیں اور اوپر سے بھری جوانی۔ اس کے نین دل چیر دیں، بولے تو سُر بکھیرے اور چال ڈھال ایسی کہ نوجوان تو کیا بزرگ بھی←  مزید پڑھیے
نومبر 12, 2014
20 تبصر ے

پاکستانی پردیسی عرف مینگوز

کئی پاکستانی پردیسیوں کو ایک خاص بیماری لگی ہوئی ہے۔ ان کا کام پاکستان کی ہر چیز پر تنقید کرنا ہوتا ہے۔ میں ایسے پردیسیوں کو ”مینگوز“ کہتا ہوں۔ وہ کیا ہے کہ ہمارے مزیدار آموں کی طرح یہ بھی ایکسپورٹ ہو گئے۔ ان کا اصل سواد تو بیگانے لے گئے۔ ہمارے لئے پیچھے بس گھٹلیاں بچی ہیں، جو وقتاً فوقتاً ہمارے سروں پر برستی ہیں۔ ایک دفعہ جب مینگوز نے پاکستان میں رہنے والوں کو جاہل کہا، تو میرا میٹر گھوم گیا۔ پھر میں نے زرمبادلہ، حب الوطنی اور دیگر کئی باتوں پر کھری کھری سناتے ہوئے کہا کہ←  مزید پڑھیے