ایک زمانہ تھا جب لوگ صنم کو خط لکھتے اور جب خط مکمل لکھ لیتے تو دوبارہ پڑھتے تاکہ اگر کوئی غلطی ہوئی ہے تو اسے درست کر لیا جائے لیکن اکثر یہی ہوتا کہ محسوس کرتے یہ الفاظ اظہار محبت کے لئے بہتر نہیں۔ پھر کیا ہوتا، خط کو پھاڑ دیتے اور نیا خط لکھنے بیٹھ جاتے۔ یہی عمل کئی بار دہرایا جاتا اور جب دل اکتا جاتا تو سوچتے کہ سیدھی سیدھی بات لکھتے ہیں اگر صنم کو پیار پر یقین آنا ہے تو آ جائے گا، نہیں تو نہیں۔
آج میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں خط پھاڑے جاتے تھے لیکن یہاں Ctrl+a کر کے ساری تحریر منتخب ہوتی اور پھر ڈیلیٹ۔ سمجھ نہیں آتی تھی کہ کیا لکھوں اور کس طرح سمجھانے کی کوشش کروں۔ آخر کار میں نے بھی یہی فیصلہ کیا کہ دو ٹوک کہہ دیتا ہوں اگر انہوں نے ماننا ہے تو ٹھیک نہیں تو ان کی مرضی۔
لوگ کھلے خط لکھتے ہیں لیکن میں آج کھلا محبت نامہ لکھ رہا ہوں۔ میرا یہ کھلا محبت نامہ ان دوست بلاگر کے نام ہے جو غصہ میں ہوش کھو بیٹھے ہیں۔ ایسی تحاریر لکھ رہے ہیں جو کم از کم میری سمجھ سے بالا تر ہیں۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ بڑا اچھا لکھنے والے بلاگر بھی اس گندگی میں چھلانگ لگا چکے ہیں۔ کبھی آپ نے سوچا ہے کہ آپ اردو بلاگر پاکستان کے ان لاکھوں انٹرنیٹ صارفین میں سے چند ایک ہیں جو اردو کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ بے شک آپ سیاست، مزاح، مذہب یا کسی بھی موضوع پر لکھتے ہیں لیکن آپ کی وجہ سے انٹرنیٹ پر اردو مواد دن بدن زیادہ ہو رہا ہے۔ ذرا غور کریں تو پتہ چلے کہ آپ وہ لوگ ہیں جو آنے والے دنوں میں یاد رکھے جائیں گے بلکہ آپ خود سینہ چوڑا کر کے کہیں گے کہ ہم وہ بلاگر ہیں جب کوئی کوئی انٹرنیٹ پر اردو میں لکھتا تھا تب ہم نے لکھنا شروع کیا۔ تھوڑا سا غور کریں ، باقی زبانوں میں لاکھوں بلاگر ہوں گے لیکن اردو میں آپ چند مٹھی بھر لوگ ہیں۔ ہم اکثر کہتے ہیں کہ ہمارے بڑے اگر شروع دن سے پاکستان کو کسی سیدھی راہ پر چلا دیتے تو آج ہمارا یہ حال نہ ہوتا۔ میں آپ کو کہتا ہوں شروع دن سے اردو بلاگستان کو تعلیم و تحقیق کی راہ پر ڈالیں تاکہ کل کو نئے بلاگر یہ نہ کہیں کہ اردو بلاگستان میں ہم اس لئے ایسا کر رہے ہیں کیونکہ یہ اس کا شروع دن کا طریقہ کار ہے۔ باقی اچھے برے سبھی لوگ شامل ہوتے رہیں گے لیکن آپ ان چند لوگوں میں سے ہیں جو اردو بلاگستان کی بنیاد رکھ رہیں ہیں۔ بے شک اظہارِ رائے کی آزادی کا دوسرا نام بلاگ ہے لیکن اس اظہار میں یہ تو خیال رکھیں کہ آپ انسان بھی ہیں اور دوسرے انسانوں کے جذبات مجروح نہ کریں۔ بے شک ہر انسان کا دوسرے سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن اچھے لوگ ہمیشہ اختلاف کو سامنے رکھ کر بحث برائے تعمیر کرتے ہیں، نہ کہ بحث برائے بحث اور پھر انا کی جنگ میں اتنا آگے نکل جانا کہ دے پوسٹ پر پوسٹ اور وہ بھی ایسی کہ سمجھ سے ہی بالا تر کہ اس پوسٹ کا مقصد کیا ہے۔ جس کا حالات سے کوئی لینا دینا نہیں۔ میں حیران رہ گیا کہ یہ وہی بلاگر ہیں جو اتنی عمدہ پوسٹ لکھتے تھے۔ کبھی خود احتسابی کریں اور سوچیں کہ آپ اس عوام میں سے وہ چند لوگ ہیں جن کی اکثریت پڑھی لکھی، سوچ سمجھ رکھنی والی ، حق کی آواز دوسروں تک پہنچانے والی ہے۔ لیکن آپ کا یہ حال دیکھ کر صاف اندازہ ہو جاتا کہ واقعی اگر ہم ایسی بری حالت میں ہیں تو اس میں ہمارا ہی قصور ہے کیونکہ جس عوام کے ”ایڈوانس“ لوگ ایسے ہیں اس کے عام آدمی کا تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔ ذرا سوچیں ایک طرف آپ غریب آدمی کے دکھ کا رونا روتے ہیں ، معاشرتی برائیوں کا رونا روتے ہیں اور دوسری طرف آپ خود کیا کر رہے ہیں؟ میں کہنا تو نہیں چاہتا تھا لیکن مجبور ہو گیا ہوں ، ایک طرف آپ کی تحریروں سے ایسا لگتا ہے کہ پوری قوم کا دکھ آپ کے سینے میں ہے اور آپ بڑے مفکر ہیں اور دوسری طرف جاہلوں سے بھی گئی گزری حرکتیں کرتے ہیں۔
میں تو صرف اتنا کہتا ہوں کہ بلاگ کو بلاگ سمجھ کر بلاگنگ کریں۔ مذاہب سے لے کر جنسی حوالے تک، سائنس سے لے کر ایک عام آدمی تک حتی کہ جس موضوع پر آپ کا دل کرتا ہے لکھیں اور خوب جم کر لکھیں لیکن ایک دوسرے کو گالیاں نہ دیں۔ ایک دوسرے سے خوب بحث کریں لیکن بحث برائے تعمیر کریں۔ ایک دوسرے کے نظریات سے لاکھ اختلاف کریں لیکن ذاتیات پر نہ آئیں۔
آخر پر میں صرف اتنا کہوں گا کہ اگر اس تحریر کی کوئی بات بری لگے تو میں معافی چاہتا ہوں اور آپ سب سے گذارش کرتا ہوں کہ نفرتوں اور لڑائیوں کو ختم کرو، محبتیں اور خوشیاں تقسیم کرو۔ میں نہ مانو کی بجائے لچک پیدا کریں۔ میں نہ مانو، ہٹ دھرمی اور انا کی وجہ سے ابو حکمت ، ابو جہل بن جاتے ہیں۔اپنے علم اور اپنے رتبے کو انا بنانے کی بجائے اس کی مدد سے اپنے شعور کو اجاگر کریں۔ علم کا ہونا اعلیٰ شعور کی نشانی نہیں بلکہ اعلیٰ شعور کا ہونا علم کی نشانی ہے۔

 

تازہ تحاریر سے بذریعہ ای میل باخبر رہیں۔ اپنا ای میل ایڈریس درج کریں۔


ملتی جلتی تحاریر:-     • بلاگ اور ویب سائیٹ کی پالیسی     • میری تحاریر کے بارے میں آپ سے گذارش     • اردو اور بلاگ (مکمل کتاب)     • اردو اور بلاگ – کتاب کا پہلا صفحہ     • ورڈپریس بلاگ – ایڈمن پینل کا عمومی جائزہ