جولائی 24, 2020 - ایم بلال ایم
تبصرہ کریں

گوم گاما گیگو – گھیم گھیم

یہ ہے سن 8520ء۔ آج کا انسان آدھے سے زیادہ سائی بورگ (Cyborg) بن چکا ہے۔ صدیوں پہلے انڈسٹری، سڑکوں اور ان پر انجن دوڑانے کی وجہ سے انسان نے ماحول کی جو تباہی پھیری تھی، اس کی کافی حد تک بحالی تو ہو گئی مگر آج 8520 عیسوی میں بھی سیارہ زمین اس کے نتائج بھگت رہا ہے۔ اسی کی وجہ سے کئی پہاڑ حتی کہ کچھ آٹھ ہزاری پہاڑ بھی ختم ہو کر اب صرف ماضی کا قصہ ہیں۔ کئی نامور دریا سوکھ گئے، مگر ”عشق سدا سلامت“، لہٰذا عاشقوں کا دریا کسی نہ کسی طرح آج بھی بہتا ہے۔ تجسس سے مجبور اور فنا کی منزلوں کے مسافر آج بھی اس کے کنارے آ بیٹھتے ہیں۔ ان میں ایک انسان وہ بھی ہے کہ جو باقیوں کی طرح خلاؤں کے دور دراز سفر کرنے کی بجائے چناب کنارے بیٹھا بیٹھا بس خلاؤں کو گھورتا رہتا ہے۔ ایک دن اچانک اسے کچھ نظر آیا تو وہ بولا ”گوم گاما گیگو؟“۔۔۔
”گھیم گھیم“ خلائی سپر کمپیوٹر نے اسے جواب میں کہا۔۔۔
دراصل آج 8520ء میں انسان ایسی کمپیوٹر نما مشین بنا چکا ہے کہ جو دکھائی نہ دینے والے ذرات کی شکل میں ہر وقت ہر جگہ موجود ہے۔ آپ کہیں بھی ہوں یہ آپ کے ساتھ رہتا ہے۔ جہاں چاہیں، جب چاہیں، بس دماغ میں سوچیں تو یہ ان دماغی سگنلز کو پکڑ کر فوری جواب دیتا ہے اور جواب بھی آواز کی صورت نہیں بلکہ براہ راست دماغ میں ہی منتقل کر دیتا ہے۔ اور جب چناب کنارے بیٹھے اس انسان کو خلاؤں میں ایک دُم دار ستارہ نظر آیا تو اس نے اسی کمپیوٹر سے سوال کیا ”گوم گاما گیگو“ یعنی کیا تمہارے پاس اس کی معلومات ہے؟ کمپیوٹر نے جواب میں کہا کہ بالکل جی بالکل (گھیم گھیم)۔
انسان: تو پھر چلو مجھے اس کی ساری تفصیلی معلومات دو۔
کمپیوٹر: یہ ایک ایسا دُم دار ستارہ (Comet) ہے کہ جو ساڑھے چھ ہزار سال بعد دوبارہ سورج کا چکر لگانے آیا ہے۔ اس سے پہلے یہ2020ء میں آیا تھا۔ تب کا انسان اتنا ترقی یافتہ نہیں تھا کہ اس دم دار تک پہنچ سکتا۔ حتی کہ عام لوگوں کے پاس اس قدر جدید کیمرے بھی نہیں تھے کہ دُم دار کی گہرائی میں تصویر بنا سکتے۔ مگر میرے پاس تمہارے لئے ایک حیرانی کی بات ہے۔
انسان: بھلا وہ کیا؟
کمپیوٹر: ابھی یعنی 8520ء میں چناب کنارے جس جگہ تم بیٹھے ہو، ساڑھے چھ ہزار سال پہلے 2020ء میں بالکل اسی جگہ سے ایک پاگل نے اسی دم دار ستارے نیو وائز Neowise (C/2020 F3) کی تصویر بنائی تھی۔
انسان: کیا تمہارے ریکارڈ میں وہ تصویر ہے؟ ”گھیم گھیم“ اور پھر کمپیوٹر نے یہ والی تصویر اسے دیکھا دی۔ اس پر انسان نے کہا کہ مجھے اس تصویر کی مکمل معلومات دو۔ یوں کمپیوٹر کہنے لگا کہ ہزاروں سال پہلے یہیں قریب ہی کچھ دوست رہا کرتے تھے۔ جب انہیں پتہ چلا کہ نظامِ شمسی کے آخری کناروں سے ایک دم دار ستارہ سورج کا چکر لگانے آیا ہوا ہے تو وہ شہروں کی فضائی آلودگی سے دور رات کے اندھیرے میں چناب کناروں پر اسے دیکھنے اور اس کی تصویریں بنانے کے لئے مارے مارے پھرتے۔ اُن دنوں ایک تو پوری زمین کو وبا نے گھیرا ہوا تھا اور ساتھ ساتھ سخت گرمی اور شدید حبس کا موسم تھا۔ خیر وہ دوست چار پانچ دن خوب خجل خراب ہوئے۔ کبھی آسمان پر بادل ہوتے اور دم دار ستارہ نظر نہ آتا تو کبھی ہوا میں نمی کا تناسب زیادہ ہونے کی وجہ سے تصویر واضح نہ ہو پاتی۔ کیونکہ نمی کے معمولی قطرے بھی بعض اوقات عدسوں کا کام کر جاتے ہیں۔ ویسے انہوں نے کئی ایک تصویریں بنا لیں تھیں مگر ان میں ایک منظرباز بھی تھا۔ جس کی تشنگی ختم نہیں ہو رہی تھی اور ہر تصویر کے بعد یہی کہتا کہ نہیں ایسی نہیں، اس سے بھی اچھی بنانی ہے۔ بلکہ فلاں طرح کی کمپوزیشن ہونی چاہیئے۔ ہمیشہ کی طرح اس معاملے میں بھی اس کی تشنگی تو باقی ہی رہی لیکن ایک دن اپنی مطلوبہ کمپوزیشن سے ملتی جلتی دم دار ستارے کی تصویر بنا ہی گیا۔ اور یہ وہی تصویر ہے۔ جس میں کچھ دوستوں کو اونچے بند پر کھڑا کیا اور خود منظرباز رات کے اندھیرے میں پتھروں کی خطرناک ڈھلوان سے اتر کر اور جھاڑیوں میں سے ہوتا ہوا دریا کی گزرگاہ (ریور بیڈ) تک بالکل اسی جگہ پہنچا گیا کہ جہاں ابھی تم بیٹھے ہو۔ بالکل اسی جگہ پر اس نے کیمرے کو ٹرائی پاڈ پر لگایا اور دوری کی وجہ سے اونچی آواز میں چیخ چیخ کر دوستوں کا مقام، سمت اور انداز مطلوبہ کمپوزیشن کے مطابق کراتا۔ گو کہ 2020ء کے دور کی مناسبت سے کئی اچھے ٹیلی فوٹو لینز موجود تھے مگر منظرباز کے پاس جیسے لینزز تھے، وہ انہیں کی مدد سے ہی یعنی اپنے دستیاب وسائل کے ساتھ ہی ایڑھی چوٹی کا زور لگا دیا کرتا تھا اور دم دار ستارے کی تصویر بنانے کے لئے بھی اس نے ایسا ہی کیا۔۔۔ ویسے اُس کے دوست بھی خوب تھے۔ یوں تو بات بات پر جگتیں مارتے لیکن فوٹوگرافی میں اس کا بھرپور ساتھ دیتے۔ اب اسی تصویر کو ہی دیکھ لو کہ ان میں ایک عباس مرزا نامی شخص ہے، جو پتھروں کی خطرناک ڈھلوان پر بیٹھا روشنیاں پھینک رہا ہے۔ چونکہ منظرباز کو فلاں مقام سے فلاں زاویے پر روشنی چاہیئے تھی تو پھر یارِ غار کمر بستہ ہو گیا تھا۔ اس کے علاوہ بمبوکاٹ پر طاہر منظور عاطر اور ساتھ کھڑا شہبازالحسن۔ اور وہ پیچھے دور خلاؤں میں دم دارمہمان دوست۔
انسان: ایک تصویر کے لئے اتنا تردد۔ واہ! کیا ہی من موجی لوگ تھے۔
کمپیوٹر: گھیم گھیم۔۔۔
*******
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع گجرات میں دریائے چناب کے کنارے سے نظر آتا دم دار ستارہ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *