تازہ تحاریر
تازہ تبصرے
-
- م بلال م» میرے بارے میں
- م بلال م» اردو بلاگوں کے تھوڑے قارئین کی وجوہات
- م بلال م» ویب سائیٹ وائرس ختم کرنے کا طریقہ
- قاری غلام محی الدین» میرے بارے میں
- قاری غلام محی الدین» میرے بارے میں
- فرحت کیانی» اردو بلاگوں کے تھوڑے قارئین کی وجوہات
- زاہد» ویب سائیٹ وائرس ختم کرنے کا طریقہ
- عمر» متفرق سوالات اور تبصرے
- م بلال م» متفرق سوالات اور تبصرے
- م بلال م» متفرق سوالات اور تبصرے
- عمر» متفرق سوالات اور تبصرے
- عمر» متفرق سوالات اور تبصرے
- محمد اقبال مغل» پاکستان بلاگ ایوارڈ - شام سویرے ہون ووٹاں ای ووٹاں
- محمد فاروق» اردو فارمیٹر - شامل پلگ ان - اردو انگریزی بلاگنگ ایک سات…
- عمر» ویب سائیٹ وائرس ختم کرنے کا طریقہ
ٹیگز
-
phonetic اردو انسٹالیشن ورڈپریس language education ورڈ پریس بلاگ اردو بلاگنگ اردو بلاگ معاشرہ اردو بلاگ بنانا اردو کیبورڈ اردو urdu installation computer wordpress blog islam اردو بلاگنگ کیبورڈ in urdu urdu phonetic keyboard fonetic کمپیوٹر english internet pakistan اردو لکھنا society انٹرنیٹ read urdu bloging urdu انگریزی system pak urdu installer اردو کیبورڈ لے آؤٹ قوم صوتی unicode رسم الخط fonts keyboard layout یونیکوڈ urdu keyboard layout زبان اردو اور بلاگ لکھنا keyboard setting urdu blog اردو فونیٹک کی بورڈ keyboard کی بورڈ installation phonetic urdu keyboard لے آؤٹ nation فانٹ نظام کی بورڈ لے آؤٹ فونیٹک اردو کیبورڈ install urdu keyboard فانٹس فونیٹک ورڈ پریس کیبورڈ سیٹنگ urdu and blog write wordpress پاکستان layout
محفوظات
فیس بک
Technology blogs
Blogs Directory
Blog Directory
Add blog to our directory.
Add Your Blog Blog Site 

Blogs Blog Tools Allie Marie































بالکل درست ۔ اللہ کا فرمان غلط نہيں ہو سکتا
إِنَّ اللّہَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِہِمْ ۔ سورت 13 الرعد ۔ آیت 11 ۔
اللہ اس کو جو کسی قوم کو حاصل ہے نہیں بدلتا جب تک وہ اپنی حالت کو نہ بدلے
بہت خوب بلال بھائی!
تصویر کا دوسرا رُخ خوب بیان کیا ہے آپ نے۔ دراصل انسان کو کچھ بڑا کام کرنے کے لئے بڑی تحریک درکار ہوتی ہے یعنی جتنی بڑی منزل کا تعین آپ اپنے لئے کرتے ہیں اُس کے لئے آپ کو اُتنی ہی بڑی تحریک درکار ہوتی ہے۔ یہ ہمارے سیاستدان جو اتنے پاپڑ بیلتے ہیں اُس کے پیچھے ایک بہت بڑی تحریک کار فرما ہوتی ہے، جیسا کہ اقتدار کی ہوس، یا زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرنے کی تحریک۔ یہ تحاریک اس قدر شدید ہوتی ہیں کہ انسان کو صحیح اور غلط کی تمیز بھی نہیں رہتی اور وہ اپنی منازل کو پا لینے کے لئے اندھا دھند بھاگتا ہے۔
اس کے برعکس ایک عام آدمی کی زندگی معمولی محرکات کے تابع ہوتی ہے یعنی بساط بھر روزی روٹی اور عزت کی زندگی۔ پھر آج کے زمانے میں اخلاقی اقدار اس قدر پست اور بے قیمت ہو کر رہ گئیں ہیںکہ کوئی اُن کے پیچھے اپنی زندگی تیاگنے کو تیار ہی نہیں۔ یوں بھی اخلاقی تحاریک کی منازل بھی اس دنیا میں تو خسارہ ہی خسارہ ہے ہاں البتہ اس کا اجر اگلی دنیا میں ملتا ہے اور ہم سب بہت بے صبرے ہیں۔
اسی صورتِ حال پر طنز کرتے ہوئے ابنِ انشا نے کہا تھا:
کچھ کہنے کا وقت نہیں یہ ۔۔۔کچھ نہ کہو، خاموش رہو
اے لوگو خاموش رہو۔۔۔ ہاں اے لوگو، خاموش رہو
سچ اچھا، پر اس کے جلو میں، زہر کا ہے اک پیالا بھی
پاگل ہو؟ کیوں ناحق کو سقراط بنو، خاموش رہو
حق اچھا، پر اس کے لئے کوئی اور مرے تو اور اچھا
تم بھی کوئی منصور ہو جو سُولی پہ چڑھو؟ خاموش رہو
محترم السلام علیکم ۔میرے خیال میں ،اس بکھری ہوئی قوم کو لیڈر اور نعرہ کی ضرورت ہے ۔ جس دن یہ مل جائیں گے پاکستان کی تقدیر بدل جائیگی۔ قائداعظم لیڈر نعرہ آزادی نتیجہ پاکستان ۔افیونی قوم لیڈر ماؤ زے تنگ نعرہ لانگ مارچ ترقی نتیجہ وی۔ٹو پاور ۔لیڈر بھٹو نعرہ روٹی کپڑا مکان ،مساوات نتیجہ ایٹمی پاور ۔لیڈر اوباما نعرہ چینج نتیجہ ناقابل یقین کالا صدر غرض مثالیں اور بھی بہت سی ہیں ۔ یاد رہے نعرہ جنون کی شکل اختیار کرلے تو نتیجہ یقینی ہوتا ہے ۔آپنے موجودہ لیڈرو ں کی بات کی تو عرض ہے کہ – یہ سب نشئی ہیں طاقت کا نشہ اس نشہ پر اپنی ہر چیز قربان کرنے ہر وقت تیار رہتے ہیں ۔ انکا نعرہ زر اور پاور ہے اسکے لئے کچھ بھی کرنے کو یہ ہر وقت تیار رہتے ہیں ۔ بہت شکریہ
:star:
بڑی حد تک کھری اور سچی بات کی بلال بھائی۔ عموماً اس طرح کی باتیں ہضم کرنا ہمارے شعائر میں شامل نہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہمیں اپنے اندر موجود ہر اس برائی کا خاتمہ کرنے کی بھی ضرورت ہے جو ہم کسی دوسرے میں محسوس کرتے ہوں۔
افتخار اجمل بھوپال کے تبصرہ کا جواب
چچا جان یہی بات تو سمجھانے کی ایک چھوٹی سی کوشش کی ہے۔ پتہ نہیں کب ہم سمجھیں گے۔ خیر، پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ۔
محمد احمد کے تبصرہ کا جواب
آپ کی باتوں سے مکمل اتفاق کرتا ہوں بس اتنا کہوں گا۔ آپ نے کہا کہ ”ایک عام آدمی کی زندگی معمولی محرکات کے تابع ہوتی ہے یعنی بساط بھر روزی روٹی اور عزت کی زندگی۔“ آج کل کے حالات میں عزت کی زندگی کوئی معمولی محرک نہیں۔ یہ ایک بہت بڑی تحریک ہے۔ شاید کسی فلم کا ڈائیلاگ تھا کہ روٹی نہیں دے سکتے تو کم از کم عزت تو دو۔ کبھی غور کرنا ہمارے بوسیدہ نظام میں کیسے راہ چلتے عزت نفس کی دھجیاں اڑتی ہیں۔ چلو اگر یہ عزت کی زندگی معمولی محرک ہے تو پھر اسی کے لئے ہی محنت کر لیں کم از کم عزت تو ملے۔
md کے تبصرہ کا جواب
وعلیکم السلام
بات آپ کی ٹھیک ہے لیکن یہ لیڈر آئے گا کہاں سے؟ قائداعظم یا باقی لیڈروں نے اگر کچھ کیا تو اکیلے نہیں کیا بلکہ ان کے ساتھ مخلص لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد تھی۔ ہمارا المیہ ہی یہی ہے کہ ہم تبدیلی تو چاہتے ہیں لیکن خود کو تبدیل نہیں کرتے۔ جس دن ہم نے خود کو تبدیل کیا اس دن لیڈر بھی سامنے آئے گا، نعرہ بھی وجود میں آئے گا اور تبدیلی بھی ہو گی۔
:star: :star:
محمداسد کے تبصرہ کا جواب
آپ نے بالکل ٹھیک فرمایا۔ بے شک تبدیلی تب ہی آئے گی جب ہم خود کو ٹھیک کریں گے۔
:clap: :clap: :clap:
:talktohand: :talktohand: :talktohand:
:hypnotized:
:eyeroll:
کیا آپنے مجھے بلاک کیا ہواہے؟؟؟؟؟
یا آپنے موڈریشن آن کررکھی ہے؟؟؟؟
محترم میں نے کسی کو بھی بلاک نہیں کیا ہوا اور نہ ہی ایسا کوئی ارادہ رکھتا ہوں۔ ہاں موڈریشن آن کی ہوئی ہے وہ بھی صرف اس لئے کیونکہ کچھ دن پہلے بیہودہ فحش الفاظ والے تبصرے کیے تھے کسی نے۔ تبصرہ کرنے والا کوئی بیمار انسان تھا کیونکہ نہ تو میرا اس سے کوئی جھگڑا تھا اور نہ کوئی بحث چل رہی تھی بلکہ اس نے ایک مبارکبادی پوسٹ پر گندے الفاظ استعمال کیے تھے تو مجبوری میں مجھے موڈریشن آن کرنی پڑی۔ کوئی جتنا چاہے اختلاف کرے بس فحش زبان استعمال نہ کرے تو فی الحال میں اس تبصرے کو نہیں روکوں گا۔ موڈریشن بیمار لوگوں کے لئے لگائی ہوئی ہے۔
بات وہی سوچ پرآتی ہےدراصل جب تک ہم سوچیں گےنہیں توکچھ کرنہیں سکتے۔حکمران ٹولہ سوچتابھی ہےاورکرنےکی ہمت وحوصلہ بھی رکھتاہے۔جب تک شعورمیں بساہواخوف نہیں ختم ہوگاہم ترقی کی راہوں میں یونہی بھٹکتےپھریں گےاوریہ حکمران ہم کوکٹ پتلیوں کی طرح ناچتےرہیں گے۔
م بلال کے تبصرہ کا جواب
بیمار معاشرے میں بیمار لوگوں کی کمی نہیں،پورا اردو سیارہ ایسے ذہنی مریضوں سے پریشان ہے اللہ انہیں نیک ہدایت دے آمین :pray:
اچھی تحریر ہے –
آج معاشرے کا جو حال ہے وہ ہے ہی اسی وجہ سے کہ جب کوی برای ہوتی تھی یا ہے تو لوگ یہ سوچ کر الگ ہو جاتے کہ ہم تو “شر یف ” لوگ ہیں اس مسلے سے ہمارا کیا تعلق ہے – مگر آچ آگ گھروں میں گھس گی ہے تو واویلہ مچا ہوا ہے – کوی جرم کرنے والا اس لیے نہیں ڈر رہا کہ اس کی بیک ہے مگر ایک شریف ڈر رہا ہے اسکی کوی بیک نہیں بلکہ اس کو کہا جاتا ہے کہ آپ تو “شریف” ہو یعنی شرافت نہ ہوی گالی ہو گی-