تازہ تحاریر
تازہ تبصرے
-
- م بلال م» میرے بارے میں
- م بلال م» اردو بلاگوں کے تھوڑے قارئین کی وجوہات
- م بلال م» ویب سائیٹ وائرس ختم کرنے کا طریقہ
- قاری غلام محی الدین» میرے بارے میں
- قاری غلام محی الدین» میرے بارے میں
- فرحت کیانی» اردو بلاگوں کے تھوڑے قارئین کی وجوہات
- زاہد» ویب سائیٹ وائرس ختم کرنے کا طریقہ
- عمر» متفرق سوالات اور تبصرے
- م بلال م» متفرق سوالات اور تبصرے
- م بلال م» متفرق سوالات اور تبصرے
- عمر» متفرق سوالات اور تبصرے
- عمر» متفرق سوالات اور تبصرے
- محمد اقبال مغل» پاکستان بلاگ ایوارڈ - شام سویرے ہون ووٹاں ای ووٹاں
- محمد فاروق» اردو فارمیٹر - شامل پلگ ان - اردو انگریزی بلاگنگ ایک سات…
- عمر» ویب سائیٹ وائرس ختم کرنے کا طریقہ
ٹیگز
-
اردو کیبورڈ لے آؤٹ install رسم الخط english انگریزی pak urdu installer کیبورڈ سیٹنگ فانٹس society urdu bloging urdu phonetic keyboard read انٹرنیٹ layout installation اردو بلاگ اردو فونیٹک کی بورڈ فانٹ اردو انسٹالیشن urdu keyboard یونیکوڈ کی بورڈ لے آؤٹ نظام زبان urdu and blog اردو بلاگ بنانا فونیٹک wordpress معاشرہ کمپیوٹر language urdu اردو کیبورڈ صوتی ورڈپریس اردو wordpress blog اردو بلاگنگ urdu blog system اردو لکھنا in urdu computer کیبورڈ اردو بلاگنگ unicode education islam قوم فونیٹک اردو کیبورڈ اردو اور بلاگ phonetic urdu keyboard urdu keyboard layout fonts ورڈ پریس write phonetic لکھنا keyboard setting keyboard layout لے آؤٹ fonetic ورڈ پریس بلاگ کی بورڈ پاکستان keyboard pakistan urdu installation internet nation
محفوظات
فیس بک
Technology blogs
Blogs Directory
Blog Directory
Add blog to our directory.
Add Your Blog Blog Site 

Blogs Blog Tools Allie Marie































ہم خود ہی سستی کے مارے ہیں احتجاج کیسے کریں احتجاج کرتے ہیں روزی کیسے کمائیں گے ایک مزدور اگر ایک دن احتجاج کرتا ہے تو ایک دن پورا اس کے گھر آگ نہیںجلدی
.-= خرم ابنِ شبیر کے بلاگ سے آخری تحریر … ”یہی چراغ جلے گے تو روشنی ہوگی“ =-.
ہمارے ملک میں کسی قسم کا کوئی بحران نہیں ہے یہ سب بحران خود ساختہ پیدا کیئے ھوئے ہیں ۔ انکو حرام خوروں کو صرف اپنی جیب کی ہے اور کسی کی نہیں ۔ میرے والد صاحب بتاتے ہیں کمپنی میں کسی ملازم کو دو ماہ سے تنخواہ نہیں دے رہے مالکان ۔ وجہ یہ ہے کہ کمپنی مالکان نے اپنا سارا پیسہ ملک سے باہر ٹرانسفر کروا دیا ہے جسکی وجہ یہ ہے کہ مسٹر 10 پرسنٹ نے ہر ایک کو تنگ کیا ھوا ہے کہ اسکی جیب بھرو۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی ہمیں کب احساس ھوگا کہ ہمارا حق کیا ہے اور ہماری ذمہ داری کیا ہے ۔ چلیں ذمہ داری میں تو ہم سب ہی کاہل ہیں لیکن اکثریت کو اپنے حق کا ہی نہیں پتہ کہ انکا حق کیا ہے ۔
پِنگ بیک :- دیا جلائے رکھنا ہے » Blog Archive » اپنے حق کا احساس کریں
بلال بھائی کی باتیں سچ پر مبنی پر انکے حل سے آری ہوتی ہیں (یہ مذاق یا تنقید نہیں، حقیقت کی نشاندہی ہے :angel: )
آپنے حکمرانوں پر روائتی طور پر بجلی نہ ہونے کا الزام تھوپ دیا حالانکہ جو حکمران تربیلا ڈیم اور اسلام آباد جیسی چیز ہمیں دے گیا، اسکو ہمی نے کتا کتا کہہ کر فارغ کر دیا۔
یہاں بات حکمران کی نہیں، سیاست کی نہیں، بلکہ وسائل کی کریں۔ کیا ہمارے پاس بجلی پیدا کرنے کے وسائل ہیں یا نہیں، اسپر بات کریں۔ یاد رہے کہ یہ حکمران عوام کیلئے اسوقت تک کچھ بھی نہیںکریں گے جب تک انکے اپنے گھروں میں اے سی چلتے رہیں گے۔
سلا م وعلٰیکم۔
میرے بھا یئو۔ جیسا بلا ل نے کھا ھے۔ میں با لکل متفق ھو ں۔ ھما ری عوام جب تک نہں جاگے گی اس پا کستا ن کا کچھ ھو نے والا نہں ھے۔مجھے یا د ھے آج سے کچھ ما ہ پہلے کی با ت ھے گیس کی وجہ سے لو گ کا فی پر یشا ن تھے۔ ھما ر ے ایک کا ر کن نے جس کا نا م قد یر بٹ ھے یہ بات جلا لپو ر جٹا ں کی ھے۔ ا س نے پورے جلا لپو ر میں اعلا ن کروایا کہ کل جلسہ ھے گیس کی لو د شیڈنگ پر سب شر کت کرو تا کہ ھم اپنے حکمرا نوں کے سر پر پیٹھیں کہ وہ ایسا نہ کر یں۔۔۔۔۔۔ لیکن بڑ ے افسو س کہ ساتھ کہنا پڑتا ھے کہ ھماری عوام کہ پا س ا پنے لیے وقت نہیں ھے ۔جب قدیر بٹ جلسہ کے لیے چوک میں پہنچے تو وہا ں پہ صر ف چند لو گ تھے جو کہ تنضیم کے آدمی تھے۔ابھی عوام کو سب کچھ بھو ل چکا ھے کہ ھم کیا ٹھیک کر رھے ھیں اور کیا غلط ۔ ۔ ۔ رونا ان کی قسمت میں ھے۔ایک انسا ن ا گر اپنے لیے وقت نہں نکا ل سکتا تو ا پنی مجبو ر ہو ں کے لیے تو اس سے صا ف زاھر ھے کہ و ہ ابھی ایسا جینے کا آدی ھو چکا ھے۔۔۔۔۔ جاگو عوا م جاگو اور جگا و اپنے حکمرا نوں کو اکٹھے ھو جا و سا رے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے حق کہ لیے بھا گو مانگو حق۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے حق کے لیے لڑو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رضوان احمد بٹ
تو پھر ٹھیک ہے سستی کے مارے ہی پڑے رہتے ہیں۔ آج اپنے حق کے لئے احتجاج کرنے سے ایک دن گھر آگ نہیں جلے گی لیکن کل اسی سستی کی وجہ سے پورا گھر ہی جل جائے گا۔
اللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت کرے اور ہمیں ظالم کے خلاف آواز بلند کرنے کی توفیق دے۔۔۔آمین
آپ نے ٹھیک کہا یقینا ہماری اکثریت کو اپنے جائز حق کا ہی نہیں پتہ۔ یہاں تو ہم رشوت دے کر کام ہونے پر سوچتے ہیں کہ ہمیں ہمارا حق مل گیا۔
جناب میں نہ تو کوئی بیوروکریٹ ہوں اور نہ کوئی تھینک ٹینک ہوں بلکہ میں ایک عام شہری ہوں جو ایک چھوٹی سی ٹافی کی خریداری پر بھی ٹیکس دیتا ہوں اس لئے یہ وسائل اور ان کے حل میری ذمہ داری نہیں بلکہ میرے اور دیگر عوام کے ٹیکسوں سے عیاشی کرنے والے ہمارے نوکر اسی لئے ہیں۔
مجھے پتہ ہے میری تحریر روائتی ہے لیکن میں نے کوئی جھوٹا الزام نہیںلگایا بلکہ میری نظر میں یہی حقیقت ہے۔
باقی آپ کے تبصرے پر میں اب کیا لکھوں مجھے تو سمجھ نہیں آرہی کہ آپ بات کیا کرنا چاہتے ہیں۔ نہ بات حکمرانوں کی جائے اور نہ سیاست کی پھر بھی آپ خود فرما رہے ہیں کہ حکمران عوام کے لئے کچھ نہیں کریں گے جب تک ان کے اپنے گھروں کے اے سی بند نہیںہونگے۔ اوپر سے آپ کے تبصرے میں بہت زیادہ بے ربطگی ہے یا پھر میری عقل سے سب کچھ اوپر ہے۔ اس لئے مزید معذرت۔
رضوان میرا بلاگ پڑھنے اور پھر تبصرہ کرنے کا بہت شکریہ۔
اللہ تعالیٰ آپ کو بے شمار خوشیاں دے۔۔۔آمین
بجلی کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کی سی تو ہے لیکن اور بھی اشیا جن کی قیمتوں سے تمام عوام الناس کی زندگیوں پر گہرا اثر پڑتا ہے پٹرول اور ڈیزل نایاب بنا دیے گئے ہیں، آٹا دال سبزی گوشت کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ یہ حال تو ان چیزوں کا ہے جو اشیا لازمی حیثیت کی حامل ہیں جن کے بغیر جینا محال ہے، اس کے برعکس ایسی اشیا جیسے موبائل کالنگ ریٹس اور ایس ایم ایس ، کیبل ٹی وی وغیرہ کی قیمتیں کم کر کے عوام کی جیبوں سے پیسہ نکلوایا جا رہا ہے۔
یقینن ایسے مواقع پر احتجاج ضروری ہے عوام کو سفید پوشی کا لبادہ اتار کر مشترکہ سوچ سوچنی ہو گی، جب تک ذاتی مفادات سامنے رکھیں گے یہ ایسے ہی چلتا رہے گا۔
شکریہ بلال بھائی۔
.-= یاسر عمران مرزا کے بلاگ سے آخری تحریر … Urdu Blogs Aggregator updates =-.
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
بجلی کاشاٹ فال انتہائی اہم ہے اس کے بغیرملک پر انتہائی برےاثرات پڑرہےہیں لیکن جب تک عوام نہیں اٹھےگئی کوئي فائدہ نہیں لوگوں کواحتجاج کرناچاہیے لیکن پرامن طریقے تاکہ حکومت کوپتہ چلےحکومتی مشینری کوکیاپروا ہے وہ خودتواےسی رومزاےسی گاڑیاں اےگھرمیں رہتےہیں اوروہاں بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی نہیں ہوتی۔
والسلام
جاویداقبال
.-= جاویداقبال کے بلاگ سے آخری تحریر … Alex será comercializado en España por Grammata =-.
ہر کوئی یہی کہتا ہے دوسرا کرئے میں کیوں ۔؟ جب تک کسی دوسرے کی تکلیف کو اپنا نا سمجھا گیا خاص کر غریب کی تو کبھی بھی ہم اچھائی کی جانب گامزن ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتے ۔ یہ کام ہماری نئی نسل کر سکتی ہے ۔ اگر انکے پیچھے ہمارے بزرگوں کا ہاتھ ہو تو؟
اچھے لوگ حکومت میں ہونگے تو ہی کچھ بہتری ہو سکتی ہے۔ مگر کیسے؟ خود حکومت میں آنے کی کوشش کریں یا اچھے کوگوں کو حکومت میں آنے کے لیے تیار کریں، اور ان کی مدد بھی کریں۔ یہ بھی نہیں کر سکتے تو لوگوں کو شعور دینے کی ضرورت ہے۔ یہ کام بیٹھے بیٹھائے نہیں ہو سکتے، وقت اور پیسہ لگتا ہے۔
.-= عامر شہزاد کے بلاگ سے آخری تحریر … ترجمہ سے ٹی ایم ایکس بنانا =-.
لوڈ شیڈنگ!
یہاں پردیس میں بیٹھ کر جب بھی پاکستان کے ٹکٹ لینے کا ارادہ پکڑوں، یار لوگ یہ کہہ کر ڈراتے ہیں ” پا کستان جا رہے ہو؟۔۔۔۔وہاں تو لوڈ شیڈنگ۔۔۔”
.-= عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … پردیس میں تبلیغ دین =-.