تازہ تحاریر
تازہ تبصرے
-
- م بلال م» میرے بارے میں
- م بلال م» اردو بلاگوں کے تھوڑے قارئین کی وجوہات
- م بلال م» ویب سائیٹ وائرس ختم کرنے کا طریقہ
- قاری غلام محی الدین» میرے بارے میں
- قاری غلام محی الدین» میرے بارے میں
- فرحت کیانی» اردو بلاگوں کے تھوڑے قارئین کی وجوہات
- زاہد» ویب سائیٹ وائرس ختم کرنے کا طریقہ
- عمر» متفرق سوالات اور تبصرے
- م بلال م» متفرق سوالات اور تبصرے
- م بلال م» متفرق سوالات اور تبصرے
- عمر» متفرق سوالات اور تبصرے
- عمر» متفرق سوالات اور تبصرے
- محمد اقبال مغل» پاکستان بلاگ ایوارڈ - شام سویرے ہون ووٹاں ای ووٹاں
- محمد فاروق» اردو فارمیٹر - شامل پلگ ان - اردو انگریزی بلاگنگ ایک سات…
- عمر» ویب سائیٹ وائرس ختم کرنے کا طریقہ
ٹیگز
-
in urdu اردو کیبورڈ urdu bloging wordpress blog فانٹس pakistan اردو بلاگ internet ورڈ پریس بلاگ education اردو بلاگنگ اردو society layout اردو لکھنا installation urdu keyboard layout زبان urdu installation pak urdu installer لکھنا کی بورڈ لے آؤٹ اردو انسٹالیشن english fonetic language ورڈپریس nation اردو کیبورڈ لے آؤٹ write نظام islam کیبورڈ فانٹ رسم الخط کمپیوٹر اردو فونیٹک کی بورڈ اردو اور بلاگ لے آؤٹ کیبورڈ سیٹنگ فونیٹک urdu فونیٹک اردو کیبورڈ انگریزی install urdu keyboard fonts keyboard setting phonetic unicode phonetic urdu keyboard قوم read urdu blog معاشرہ urdu and blog keyboard صوتی system کی بورڈ اردو بلاگنگ یونیکوڈ computer ورڈ پریس انٹرنیٹ پاکستان اردو بلاگ بنانا wordpress urdu phonetic keyboard keyboard layout
محفوظات
فیس بک
Technology blogs
Blogs Directory
Blog Directory
Add blog to our directory.
Add Your Blog Blog Site 

Blogs Blog Tools Allie Marie































السلام علیکم بلال بھائی! کیسےہو؟ مجھے آپ کا بلاگ بیحد پسند ہے۔اور آپ کی بنائی ہوئی تھیم بھی کمال۔ مجھےبہت بھاتی ہے۔ اس پر اردو کا خط بھی کمال نظر آ رہا ہے۔ اور آپ کا بلاگ اور تحریریںبھی اچھی لگیں۔ اللہ کرےزورِقلم اور زیادہ۔
اس موضوع پر گفتگو کرتےہوئےمیںیہی عرض کروں گا کہ نجانےہماری سوچ کیوںمنفی ہے؟ ہم ہمیشہ الٹا ہی سوچتےہیں۔ شاید اسی لئےہماری گنگا بھی الٹی ہی بہتی ہے۔ اس کا حل تعلیم کےسوا کچھ نہیں۔ اللہ کرےہماری قوم کو ایسا لیڈر میسر ہو جو اس قوم کو عروج پر لےچلے ۔ اپنی تحریریں جاری رکھنا۔ والسلام
آپ کی سوچ اچھی ہے یعنی ہر چیز کا مثبت پہلو دیکھنا چاہیے مگر کسی بھی نئی چیز کی آمد پر اس کے اصول و ضوابط پہلے بنا لینے چاہئیں جس طرح یورپ میںانٹرنیٹ اور بالغ فلموں کے قوانین ہیں۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم پہلے تو نئی ٹیکنالوجی کو بے مہار رہنے دیتے ہیں اور اس کے بعد اس کی خرابیوں کا رونا رونے لگتے ہیں۔
اب دیکھیں آپ نے پہلے انٹرنیٹکے بارے میں لکھا کہ اس کی برائیاں گنوائی گئیں اور اچھائیوں سے دور رکھا گیا مگر بعد میں آپ نے مان لیا کہ اس کی وجہ سے برائیاں پھیلیں۔
راسخ بھائی اللہ کا شکر ہے میں بالکل ٹھیک ہوں آپ سنائیں کیا حال چال ہے؟
بلاگ پسند کرنے کا بہت شکریہ۔ یہ تو آپ کا بڑا پن ہے ورنہ بندہ ناچیز کس قابل۔ باقی بلاگ کا ہیڈر تو یقینا آپ کی وجہ سے ہی خوب صورت بنا یعنی آپ کی بھیجی ہوئی خطاطی نے ہی اپنا کام دیکھایا۔
اگر یونہی حوصلہ افزائی اور تنقید برائے تعمیر ہوتی رہی تو یقنا زور قلم اور زیادہ ہو گا۔
میرا پاکستان بھائی بات آپ کی ٹھیک ہے یقنا ہمیں نئی چیز کی آمد پر اس کے اصول و ضوابط پہلے بنا لینے چاہیے۔ لیکن جو میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ ایک ہمارے ہاں بس نقصانات کا پہلو دیکھایا جاتا ہے اچھے پہلو کو بالکل نظر انداز کر دیا جاتا ہے بلکہ نقصانات کو ظاہر کرتے ہوئے اچھائی سے بھی انکار کر دیا جاتا ہے۔
میں یہی رونا رو رہا ہوں کہ نقصانات اور فوائد کو ساتھ ساتھ لے کر چلا جائے نہ کہ بس مخالفت برائے مخالفت کی جائے۔ میں پھر کہتا ہوں کہ ٹیکنالوجی کے آتے ہی اگر اس کے مثبت پہلو کی طرف توجہ دی جائے تو بہت سے لوگ مثبت پہلو کو اپنا کر تعمیری کام میں حصہ لے سکتے ہیں۔ یہ تو آپ کو بھی پتہ ہو گا جب انٹرنیٹ عام ہوا تو ہمارے نیٹ کیفوں میں کیا کیا ہوتا تھا۔ اگر تب لوگوں کو انٹرنیٹ کا بہتر استعمال بھی بتایا جاتا تو شاید ہماری بہت بڑی تعداد برائی کی بجائے اچھائی بھی اپنا سکتی لیکن ہمارے ہاں کیا ہوا کہ لوگوں نے بس یہی کہا کہ انٹرنیٹ ہے ہی فحاشی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فحاشی کے طلب گار انٹرنیٹ استعمال کرنے لگ گئے اور تعمیری کام کرنے والے اس سے ایک عرصہ تک اس لئے دور رہے کہ یہ فحاشی والی چیز ہے۔ فحاشی والے فحاشی میں وقت ضائع کرتے رہے اور فحاشی کو روکنے والے جلوس نکالتے رہے اگر تب لوگوں کو انٹرنیٹ کا بہتر استعمال سیکھایا جاتا تو بہت بہتر ہو سکتا تھا۔ جب انٹرنیٹ آیا تو ایک بہت بڑی تعداد اس سے نفرت کرتی تھی لیکن جیسے جیسے آہستہ آہستہ اس کے فوائد کا پتہ چلا تو وہی لوگ جو کل اسے فحاشی کہتے تھے آج اس کا استعمال کر رہے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا انٹرنیٹ کے عام ہونے کے ساتھ ہی اس کے فوائد حاصل ہونے شروع ہو جاتے۔ مسئلہ صرف وہی ہے ہم سب سے پہلے منفی سوچ پر چلتے ہیں۔
بلال بھائی! آپنےمجھےپہلےبھی یہ تھیم ارسال کی تھی۔ اب تو پہلےسےکافی بدلی ہوئی ہے۔ہےنا؟ کیا آپ مجھےیہ تھیم ارسال کرسکتےہیں؟ اور ساتھمیں جو اردو کےپلگ انز بھی ہیں وہ بھی بھیج دیجئےگا۔ نیز کیا آپ مجھے اس بات کی اجازت دیں گےکہ میںاس میںرد وبدل کرسکوں؟ ویسےتو میں نےجو تھیم خریدی ہےاور آپ نےمسلم لیگ ن کے بلاگ پر دیکھی ہےوہ بھی استعمال کرنا چاہتا ہوں۔ لیکن مجھےیہ بھی بیحد پسند آئی ہےکہ اس میںنستعلیق بہت ہی دلچسپلگرہی ہے۔ اور ساتھ جو بائیں طرف تصویریں ہیں وہ بھی ساتھ ہی بھیج دیں۔۔۔ آپ کا بہت شکریہ۔
میں آپ کی بات سے مکمل متفق ہوں اور میرا ذاتی خیال بھی یہی ہے کہ کسی چیز کا استعمال مثبت اور منفی ہوسکتا ہے مطلقا کسی چیز کو مسلسل منفی یا مثبت کہنا درست سوچ نہیں اور اس کے نتائج خاص کر ٹیکنالوجی کے اس دور میں اچھے نہیں نکلتے۔
علم دشمن رویہ اس کی سب سے بڑی وجہ ہے
اگر آپ تھوڑا سے تاریخ سے درک رکھتے ہوں تو آپ کے علم میںہوگا کہ برصغیر میں ہر نئی چیز کی اسی طرح مزاحمت کی گئی تھی، شاید یہ اس خطے کے لوگوں کے جینز میںہے۔۔۔۔
راسخ بھائی یقینا مجھے یہ تھیم دیتے ہوئے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ خوشی ہو گی۔ باقی میں آپ کو یہ تھیم اور متعلقہ پلگ انز اور دیگر تصاویر ای میل کرتا ہوں۔ باقی جناب آپ کو اجازت ہی اجازت ہے جیسے چاہے جتنی چاہے تبدیلی کریں۔۔۔
راشد کامران بھائی میں بھی آپ کی بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔
جعفر بھائی میں بھی کچھ ایسا ہی ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ آخر ہم ہر جدید ٹیکنالوجی کو آتے ہی غلط کیوں کہتے ہیں؟ جب کہ اچھائی یا برائی ہماری سوچ میں ہوتی ہے۔
بلال بھائی
مجھے آپ کا مفصل ایمیل ملا۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔ ان شاء اللہ وقت ملتا ہےتو میںاسمیں کچھرنگ بھرتا ہوں۔ میری دعا ہے خدا بارب تعالی آپ کو خوش وخرم رکھے۔ اپنےوالدین سےمیرےلئے دعا کروانا۔ کہنا کہ ایک بندہ ہے اس کےلئےدعا کردو۔۔۔۔ مہربانی۔
شکریہ راسخ کشمیری بھائی۔ جی آپ رنگ بھریں اور پھر ہمیں بھی اس کا نظارہ کروائیں۔
باقی آپ کے لئے دعائیں ہی دعائیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بے شمار خوشیاں دے۔۔۔آمین
دورِ حاضر میں جو فتنہ برپا ہے اس کی بنیاد منفی سوچ ہے جو کہ صرف اَن پڑھوں میں نہیں پڑھے لکھوں میں بھی پائی جاتی ہے ۔ دین کہتا ہے کہ کوئی کلمہ پڑھ لے تو پھر جب تک ثابت نہ ہو جائے اسے مسلمان ہی سمجھنا چاہیئے ۔ قانون کہتا ہے کہ جب تک جُرم ثابت نہ ہو جائے تب تک کسی کو مُجرم نہیں کہا جا سکتا لیکن عمل اس کے برعکس ہو رہا ہے اور دنیا تباہی کی طرف بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے
السلام علیکم
آپ کے بلاگ پہ پہلے بھی آنا جانا ہے لیکن تبصرہ شاید پہلا ہی ہے۔ آپ کا بلاگ واقعی قابلِ تعریف ہے۔جہاں تک جدید ٹیکنالوجی اور سوچ کی بات ہے تو میں آپ کی بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔ اچھے پہلوؤں کو زیادہ ترجیح دینی چاہئے تا کہ دوسری طرف خیال ہی نہ جا سکے۔ آنا جانا جاری رہے گا انشاء اللہ۔
ولسلام
انکل اجمل آپ نے بالکل ٹھیک فرمایا کہ دورِ حاضر میں جو فتنہ برپا ہے اس کی بنیاد منفی سوچ ہی ہے اور یہ بیماری صرف ان پڑھوں میں ہی نہیں بلکہ پڑھے لکھوں میں بھی۔ اس پر ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہماری اکثریت میں ہے۔۔۔
عین لام میم صاحب بلاگ پر آنے اور تبصرہ کرنے کا بہت شکریہ۔
اللہ تعالیٰ آپ کو بے شمار خوشیاں دے۔۔۔آمین
بلال بھائی میں آپ کی تحریر سے اتفاق کرتا ہوں0000000
.-= Mr.10% (wajid) کے بلاگ سے آخری تحریر … بولو آؤ گے نا ۔۔۔؟ =-.
السلام علیکم محمد بلال بھائی بہت خوب بہت اچھی تحریر ہے میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا جب ہمارے علاقے میں نیا نیا نیٹ آیا تو میں نے بھی یہی کچھ سنا تھا کہ نیٹ اچھی چیز نہیں ہے ۔ نیٹ یہ ہے ، نیٹ وہ ہے ۔ لیکن جب میں نے استعمال کرنا شروع کیا تو مجھے اس کے اچھے اور بُرے ہونے کا پتہ بھی چل گیا جیسے کہتے ہیں نا اگر آپ اچھے ہو تو آپ کو سارے اچھے نظر آئیں گے اپنے تک ہے یہ سب کچھ
بہت اچھی سوچ ہے آپ کی
.-= نوائے ادب کے بلاگ سے آخری تحریر … کتنی سرحدیں بناؤ گے =-.
میرے گھر میںتو انٹرنیٹ کی یہ اہمیت ہے کہ کوئی بھی سوال ہو تو ”انٹرنیٹ پہ دیکھ کے بتا ذرا“
.-= DuFFeR – ڈفر کے بلاگ سے آخری تحریر … عقلمند کون؟ =-.
بھائی بلال صاحب اور باقی تمام دوستوں کی خدمت میں گذارش ہے کہ آپ حضرات کی باتیں بالکل درست ہیں، حقیقت یہی ہے کہ کوئی چیز درست یا غلط نہیں ہوتی انسان جو اسے استعمال کرتا ہے اس کا استعمال درست یا غلط، فساد یا صلاح، خیر وشر پیدا کرتا ہے اس لئے ہم سب کو کوشش کرنی چاہئے کہ ہم مل کر انٹرنیٹ کی استعمال کرنے والوں کو اس پر آمادہ کریں وہ انٹرنیٹ کو خیر کے کام کیلئے استعمال کریں میں ایسے کئی دوستوں کو جانتا ہوں جنہوں نے انٹرنیٹ سے دین کا کام لیا اور اس کی نشر واشاعت کا اسےذریعہ بنایا اور ایسے بھی دوست ہیں جو انٹرنیٹ سے حرام کاموں سے بچ کر اس کو خیر کے کاموں اور انسانون کی فلاح وبہبود کیلئے استعمال کرتے ہیں۔
دوسری گذارش یہ ہے کہ ہم مسئلہ کو حل کرنے کیلئے تعلیم کو عام کرنے کی بات کرتے ہیں، اور تعلیم کو تمام خرابیوں کے ٹھیک ہونے کیلئے ضروری قرار دیتے ہیں، لیکن کبھی ہم نے اس پر غور کیا ہے کہ کونسی تعلیم عام کرنی ہے کیا وہ تعلیم جوانسانوں نے بنائی، جس میں ڈارون کا نظریہ پڑھایا جاتا ہے کہ انسان اصل میں بندر تھا اور اس کے ارتقاء سے وہ انسان بن گیا، جب ہمارے لاشعور میں یہ خیال جمارہے گا ہم انسانیت کے اعلی جذبات سے کیسے معمورہوسکتے اور ہم میں اعلی صفا ت کیسے آسکتی ہیں ، جبکہ مسلمان اتنی اعلی صفات والا ہوتا کہ قومیں اس کی اتباع کرتی اور اس سے رہنمائی لیا کرتی تھیں یا انبیائے کرام کی آسمان سے لائی ہوئی تعلیم جو قیامت تک کے انسانوں کو کامیابی کی ضمانت دیتی ہے ؟کبھی دیکھیں تو سہی کہ جس تعلیم نے مسلمانوں کو گیارہ بارہ سو سال کامیابی کی معراج عطاء کی، جس میں زندگی کے تمام شعبوں کے ایسے حل موجود ہیں جو انسانیت کو معراج تک پہنچاتےہیں اور پہنچاتے رہے ہیں، کیااب وہ تعلیم ہمارے کام نہیں آسکتی، اور ہمیں اب کامیابی دلانے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔
بات درحقیقت یہ ہے کہ جب سے ہم نے اپنے دین سے منہہ موڑ لیا ہے تب سے ہم مسائل میں گھر گئے اور ہمیں ان سے نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہماری رہنمائی فرمائے اور ہمیں اپنے دین کو مضبوطی سے پکڑنے کی توفیق عطاء فرمائے۔