فروری 6, 2019 - ایم بلال ایم
2 تبصر ے

دنیا کو میری ضرورت ہے یا نہیں؟

آج آپ کو ایک کہانی سناتا ہوں اور آپ مجھے ہی اس کہانی کا کردار سمجھ لیں۔ ویسے یہ کہانی صرف میری ہی نہیں، بلکہ بہت سارے لوگوں کی ہے۔ کیونکہ دنیا ایسے عجوبوں سے بھری پڑی ہے۔ کہیں آپ بھی عجوبہ تو نہیں؟ بس جی! یہی بات تو جاننے والی ہے۔ مجھے بھی پہلے معلوم نہ تھا۔ لیکن پھر کسی حد تک معلوم ہو گیا کہ آخر میں کیا عجوبہ ہوں۔۔۔ ہاں تو! کہانی میرے بچپن سے شروع ہوتی ہے۔ میں وہ بندہ ہوں کہ جو بچپن میں کبھی بھی اس سوال کا جواب ٹھیک طرح نہیں دے سکا کہ بڑے ہو کر کیا بننا چاہتا ہوں۔ اگر جواب دیتا بھی تو کبھی کچھ تو کبھی کچھ۔ مسئلہ یہ نہیں تھا کہ میری کوئی دلچسپی یا شوق نہیں تھا، بلکہ مسئلہ تو یہ تھا کہ میرے بہت سارے شوق تھے۔ مجھے کھیل کود، ڈرائنگ، خطاطی، ڈرائیونگ اور کئی قسم کی انجینئرنگ وغیرہ پسند تھی۔ یوں کبھی کوئی شوق پال لیتا تو کبھی کوئی۔ کئی انوکھے کام کرتا رہتا۔ بچپن کا حال یہ تھا کہ سوتے وقت بھی تین چار چیزیں میرے سرہانے دھری ہوتیں۔ جن میں گھڑی، ٹارچ، قلم، پاکٹ ڈائری، ہتھوڑی، پیچ کس یا چاقو وغیرہ جیسی چیزیں شامل تھیں۔ اگر رات کو آنکھ کھلتی اور ان میں سے کوئی چیز غائب ہوتی تو میں شور مچا دیتا۔

سکول میں مجھے ریاضی، سائنس اور بلا بلا پسند تھی۔ جی ہاں! آپ ٹھیک سمجھے 😉 اب آگے کی کہانی سنیں۔ کالج میں مزید کئی بلائیں پال لیں اور تب میں سول انجینئر بننا چاہتا تھا، لیکن کچھ عرصے بعد کمپیوٹر میں سر گھسائے پایا گیا۔ یہ معاملہ ایسے ہی چلتا اور وقت گزرتا رہا۔ کئی شعبہ جات میں ہاتھ پیر مارنے کے بعد آخر اپنا جائزہ لینا شروع کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ کچھ وقت بعد یا آئے روز نئے سے نئے شوق کیوں پال لیتا ہوں؟ کسی ایک شعبے میں کیریئر بنانے کی کوشش کیوں نہیں کرتا؟ کیسا عجب چکر چل رہا تھا کہ پہلے میں کسی چیز میں بہت دلچسپی لینے لگتا۔ اُس پر کام کرنا اور سیکھنا شروع کر دیتا۔ اپنا قیمتی وقت، توانائی اور بعض اوقات تو پیسا بھی لگاتا۔ گویا مکمل توجہ اسی پر رکھتا، حتی کہ جان لگا دیتا۔ یوں اُس میں کافی حد تک قابل بن جاتا۔ کام اچھا بھلا چل رہا ہوتا اور عموماً یہی چاہتا کہ اسی ایک کام کو جاری رکھوں۔ مگر ایسا نہ ہوتا اور پھر ایک وقت آتا کہ میں ناچاہتے ہوئے بھی کسی دوسری سمت نکل جاتا۔ مجھے دوسری سمت زیادہ مزے کی لگنے لگتی۔ یوں اک نیا کام مل جاتا۔ سمجھتا کہ ہاں! یہی میرا اصل کام تھا اور مجھے یہی تو کرنا تھا۔ پھر سے اس نئے کام میں وقت، توانائی اور مال لگانے لگتا اور بہت آگے نکل جاتا۔ کافی حد تک بلندیوں کو چھوتا۔ مگر ایک وقت آتا ہے کہ وہاں سے بھی اک نئی سمت پکڑ لیتا۔ اور پھر نیا کام اور آخر کار اس کے ساتھ بھی پہلے جیسا ہی ہوتا۔

ایک طرف یہ ساری ”موجیں“ تو دوسری طرف اس روٹین کی وجہ سے مجھے بہت نقصان بھی اٹھانا پڑتا۔ بعض دفعہ تو بڑی اذیت سے گزرتا۔ دراصل اکثر لوگوں کی طرح میں بھی کوئی ایک شعبہ اپنا کر اس میں اپنا ”کیریئر“ بنانا چاہتا تھا۔ جس کے لئے ضروری تھا کہ بس ایک کام پر توجہ دوں اور باقی سارے شوق چھوڑ دوں۔ لیکن جب ایک کام سے چپک کر رہنا ممکن نہ ہو پاتا تو کیریئر کی ساری امیدیں بھی دم توڑنے لگتیں۔ مایوسی چھانے لگتی اور یہ سب شدید بے چینی اور ذہنی دباؤ کا باعث بنتا۔ بار بار ایسا ہونے کی وجہ سے لگتا کہ میرے ساتھ کوئی مسئلہ، کوئی خرابی ہے۔ آخر کار مجھے یہ لگنے لگا کہ میں خود ہی اپنا دشمن ہوں اور جان بوجھ کر کسی ایک کام میں مستقل دل نہیں لگاتا۔ گویا اپنے آپ کو ہی قصوروار ٹھہرانے لگا۔ اور ان باتوں نے میری راتوں کی نیند حرام کر کے رکھ دی۔
زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں
(ساغر صدیقی)
یہاں یہ بات سوچنے والی ہے کہ آخر میں ایک ہی شعبے کو اپنا کر کیریئر کیوں بنانا چاہتا تھا؟ مختلف کام سیکھنے اور اپنانے میں حرج ہی کیا تھا؟ یہ بات میرے ذہن میں کہاں سے آئی کہ مختلف شعبہ جات اپنانا غلط ہے؟ یعنی کسی ایک شعبہ میں جانا درست اور کئی ایک شعبوں میں ہاتھ پیر مارنا غلط ہے؟ یہ صحیح و غلط کا تصور میرے ذہن نے کہاں سے سیکھا؟؟؟ اس کا جواب ہے کہ یہ تصور میں نے اپنے تمدن اور معاشرے سے سیکھا۔ بار بار سیکھا اور کئی کئی شکلوں میں سیکھا۔ ہمارا معاشرہ تو کیا، دنیا کے بیشتر معاشروں میں پچھلی ایک دو صدیوں میں ایک چیز نے جنم لیا، جسے ”کیریئر“ کا نام دیا گیا اور عمومی لحاظ سے اس ”کیریئر“ کی بنیاد ہی یہی تھی کہ کوئی ایک شعبہ اپنانا اور اسی میں ماہر بننا ہے۔ بس یہی کامیاب لوگوں کی نشانی ہے کہ تم ایک وقت میں ڈاکٹر ہو یا پھر انجینئر وغیرہ۔ تمہاری دنیا بہت محدود ہے، اس لئے ایک ہی وقت میں ڈاکٹر، انجینئر اور موسیقار وغیرہ نہیں بن سکتے۔ شاید یہ سب صنعتی انقلاب کا کیا دھرا تھا، کیونکہ اسے کثیر تعداد ایسے ہی لوگوں کی چاہیئے تھی کہ جو ایک خاص مدار سے باہر نہ سوچ سکیں۔ جو صرف ایک ہی کام کریں اور ساری زندگی کولہو کے بیل کی طرح اسی میں لگے رہیں۔ یوں عوام میں Jack of all Trades, Master of None جیسی باتوں کو صحیفوں کی طرح دوہرایا جاتا اور Jack of all Trades کو ایک گالی یا طنز بنا کر رکھ دیا گیا۔ لیکن بہت کم لوگوں نے یہ سوچنے کی زحمت کی کہ دنیا رنگ رنگ کی ہے اور ہر جگہ یا ہر فرد کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں ہوتا۔
ایم بلال ایم کہتا ہے کہ
It is true “Jack of all Trades, Master of None” but “Master of many Trades” also exists in this Blue Planet.
جی ہاں! ”ہر فن مولا“ کے ساتھ ساتھ ”کثیر فن ماہر“ بھی اس نیلے سیارے کی ایک سچائی ہے اور انسان بہت کچھ بن سکتا ہے۔ وہ بیک وقت کئی شعبوں کا ماہر ہو سکتا ہے۔ جی ہاں! یہ سچ ہے کہ وہ Master of many Trades ہو سکتا ہے۔ اس کی مثالوں سے دنیا بھری پڑی ہے۔ ماضی میں اور آج بھی کئی کامیاب لوگ اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔ لیکن ابھی میں اپنے دو دوستوں کی ہی مثال دوں گا۔ پہلا: عباس مرزا جو کہ زبردست کارپنٹر یعنی لکڑی کے کام کا خصوصی ماہر ہے۔ موسیقی، فلسفہ، سائنس اور خاص طور پر بیالوجی، الیکٹریکل، الیکٹرونکس اور فزکس کے کئی شعبہ جات کا صرف علم ہی نہیں رکھتا بلکہ خود کو تجربے کے بھٹی سے بھی گزار چکا اور اب بھی گزارتا رہتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ لکھاری بھی ہے۔ ہارمونیم اور بانسری بھی بجاتا ہے۔ اور چین کی بنسری تو کیا خوب بجاتا ہے 🙂 زبردست حسِ مزاح رکھنے والا عجب ہی تخلیق کار ہے۔ دوسری مثال محمد احسن کی دوں گا۔ جو کہ بیک وقت لکھاری و ادیب(چھ کتابوں کا مصنف)، استاد، سپیس سائنٹسٹ، ویب ڈویلپر، موسیقی کا علم رکھنے والا، کیبورڈ پلیئر، سیاح، ماہر یوگی اور نہ جانے کس کس فن کا ماہر ہے۔ دونوں حضرات کی یہ چند خوبیاں بتائیں ہیں ورنہ یہ اور بھی بہت کچھ ہیں اور فی الحال ان کے بارے میں زیادہ نہیں بتاؤں گا۔ وہ کیا ہے کہ سیانے کہتے ہیں ”فاصلہ رکھو ورنہ محبت ہو جائے گی“ 😀 ویسے اگر کسی صنفِ نازک نے محبت کرنی ہی ہے تو پھر ان ”بابوں“ کو چھوڑو، یقین کرو! میں برتن اور کپڑے بھی دھو لیتا ہوں۔ صفائیاں اور سلائیاں بھی کر لیتا ہوں۔ فوٹوگرافر، سیاح، لکھاری اور ویب ڈویلپر اور بلا بلا تو ہوں ہی۔ تو پھر کیا خیال ہے؟ او نئیں نئیں۔۔۔ میں تو مذاق کر رہا تھا۔ کیوں مجھے بیگم سے کُٹ لگوانی ہے 😀 تسی بابوں سے ہی محبت کرو۔ ویسے بال تو میرے بھی کافی سفید ہیں۔ 😛

ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ معاشرہ بچے کی کچھ ایسی ذہن سازی کر دیتا ہے کہ اس نے بڑے ہو کر بس ایک ہی شعبہ اپنانا، اسی پر توجہ رکھنی اور اسی میں ہی کیریئر بنانا ہے۔ اور باقی سارے شوق چھوڑ دینے ہیں۔ یوں جو یہ سب نہیں کر پاتا، وہ طرح طرح کے مسائل کا شکار ہو جاتا ہے بلکہ معاشرہ اسے کر دیتا ہے۔ ذرا سوچیں! اب وہ بندہ کیا کرے کہ جس کا اندرونی نظام، جینز کی کوڈنگ یا فطرت ہی ایسی ہو کہ اسے بہت سارے شوق ہوں، مختلف چیزوں اور خاص طور پر کئی ایک مضامین سے لگاؤ ہو اور وہ بہت سارے کام کرنا چاہتا ہو۔ اگر تو اس قسم کے لوگ دنیا کی پرواہ کئے بغیر اپنی دھن میں لگے رہیں، ساتھ ساتھ حالات بھی سازگار رہیں اور وہ بروقت مناسب مقام حاصل کر لیں تو بہت اچھا۔ ورنہ ان کے لئے مسائل ہی مسائل۔ کیونکہ ایک طرف وہ اپنی فطرت کی وجہ سے بھیڑچال کے ساتھ چل نہیں پاتے۔ یعنی اکثریت کی طرح صرف ایک شعبہ تک محدود نہیں رہ سکتے۔ دوسری طرف معاشرے کی چال ڈھال ایسی کہ صرف ایک شعبے کو اپناؤ اور ”کیریئر“ بناؤ۔ یوں ان کا اور معاشرہ کا قدم قدم پر ٹکراؤ ہوتا ہے اور المیہ تو یہ ہے کہ معاشرے میں ایسے لوگوں کے لئے کوئی جگہ نہیں بن پاتی۔ یوں معاشرتی رویوں کی وجہ سے شروع میں وہ خود کو عجوبہ سمجھنے اور تنہا محسوس کرنے لگتے ہیں۔ پھر خود کو غلط اور ایک ناکام انسان اور آخر کار ناکارہ سمجھنے لگتے ہیں۔ اور یہ سوچ انہیں کہاں تک لے جاتی ہے، کچھ نہ پوچھیں۔
کٹ تو گیا ہے، کیسے کٹا یہ نہ پوچھیئے
یارو! سفر حیات کا آسان تو نہ تھا
(فاروق روکھڑی)

اگر آپ کی بھی اندرونی وائرنگ ایسی ہے کہ بہت سارے شوق اور مختلف مضامین سے لگاؤ رکھتے ہیں۔ اور شوق آپ کو مختلف شعبہ جات میں لئے پھرتے ہیں۔ اگر آپ کے ساتھ بھی اس کہانی جیسا کوئی مسئلہ ہے یا ماضی میں رہا ہے۔ تو آئیے، ہاتھ ملائیے۔
آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں
تو ہائے گل پکار میں چلاؤں ہائے دل
(رند لکھنوی)
ویسے زیادہ آہ و زاریوں کی بھی ضرورت نہیں۔ کیونکہ یہ سرے سے کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں۔ بس اتنی سی بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آپ کوئی عجوبے نہیں، آپ کے ساتھ کچھ غلط نہیں۔ جبکہ درحقیقت آپ بیک وقت کئی کئی شعبوں کی قابلیت و اہلیت رکھنے والے، بولے تو ”ہمہ جہت شخصیت“ ہیں۔ آپ ملٹی پوٹنشیئلائیٹ (Multipotentialite) ہیں۔ جی ہاں! اس رنگ برنگی دنیا میں ایک رنگ ملٹی پوٹنشیئلائیٹ بھی ہے۔ اس معاملے میں ہمارے جیسی ہی ایک ”سہیلی“ ایملی واپنک (Emilie Wapnick) بھی ہے۔ عرصہ پہلے چھوٹے بھائی صاحب نے ایملی کی ٹیڈ ٹاک(TEDx Talk) کا لنک بھیجا۔ اس میں ایملی نے تفصیلی گفتگو کی تھی۔ یوں مجھے سارا معاملہ کھل کر سمجھ آیا اور پھر میں نے اس متعلق کافی مغزماری کی۔ خیر ایملی اس بارے میں کتاب بھی لکھ چکی ہے اور puttylikeڈاٹ کام ویب سائیٹ کو ایسے لوگوں کا مرکز بنا رکھا ہے۔

ہمہ جہتی (ملٹی پوٹنشیئلیٹی) کو مسئلہ تو لوگوں نے ایویں بنا رکھا ہے، ورنہ اگر ماضی میں تھوڑا سا جھانکا جائے تو کئی سائنسدان اور فلاسفر وغیرہ بھی ملٹی پوٹنشیئلائیٹ تھے۔ ارسطو، آئزک نیوٹن اور فوٹوگرافی کے محسن، آنکھ اور روشنی پر لاجواب تحقیق کرنے والے ابن الہیثم اس کی بڑی مثالیں ہیں۔ ہمہ جہت شخصیات یعنی ملٹی پوٹنشیئلائیٹ قسم کے لوگوں کے لئے کئی ایک اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔ جیسے سکینرز اور پولی میتھ وغیرہ۔ کہتے ہیں کہ ابو ریحان البیرونی پولی میتھ تھے۔ دراصل ملٹی پوٹنشیئلٹی کو باریکی میں جا کر مزید کئی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ فی الحال ہم مجموعی جائزہ ہی لے رہے ہیں۔

بمطابق وکیپیڈیا: علمِ نفسیات میں ملٹی پوٹینشیئلیٹی(Multipotentiality) کی اصطلاح اُن لوگوں کے لئے استعمال ہوتی ہے کہ جو ایک سے زیادہ شعبوں کی قابلیت رکھتے ہوں اور خاص طور پر وہ جو دانش مند، کھوجی یا فنکارانہ لگن وغیرہ رکھتے ہوں۔ بمطابق ایملی: ”ملٹی پوٹنشیئلائیٹ وہ ہوتا ہے کہ جو تخلیقی ذہن کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ کئی شعبہ جات سے لگاؤ رکھتا ہو“۔ اکثر اوقات ان کا تخلیقی ذہن ہی انہیں کئی کئی شعبوں کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ نئے سے نیا سیکھنے کے لئے بڑے پُرجوش رہتے ہیں اور ان کی زندگی میں تعلیمی و تحقیقی دلچسپی کے کئی میدان آتے ہیں، چلے جاتے ہیں اور بعض دفعہ دوبارہ آتے ہیں۔ ایسے لوگ ایک شناخت کے سہارے نہیں رہ سکتے۔ عموماً کسی لگی بندھی روٹین کے ساتھ نہیں چل سکتے، بلکہ من موجی قسم کے ”چھلاوے“ ہوتے ہیں اور اپنی ہی الگ فضاؤں میں اڑانیں بھرتے ہیں۔ ویسے یہ بہت آسان ہے کہ کوئی اپنی ملٹی پوٹنشیئلیٹی کو کمزوری سمجھے اور اس پر قابو پانے کی کوشش میں ہلکان ہوتا رہے۔ اور اگر اسے کوئی عیب سمجھتے ہوئے، بالفرض اس پر قابو پا لیا، خود پر جبر کر کے کسی ایک شعبے سے چپک گیا تو سمجھیں کہ اس نے اپنی صلاحیتوں کو غرق کر دیا۔ دراصل ملٹی پوٹنشیئلائیٹ لوگوں میں عجیب قسم کی صلاحیتیں اور توانائیاں ہوتی ہیں۔ جن میں سے تین اہم صلاحیتیں یہ ہیں۔
نمبر1: تخلیقی ذہن کے حامل ان لوگوں کو بہت آئیڈیاز سوجھتے ہیں۔ انہیں منفرد آئیڈیاز بنانے والا بھی کہا جاتا ہے۔ چونکہ یہ کئی شعبوں کے ماہر اور تجربہ کار ہوتے ہیں اور ان کا جائزہ لے سکتے ہیں، لہٰذا ایک سے زیادہ شعبوں کو ایک نکتے پر اکٹھا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ جہاں پر شعبوں کا ملاپ ہوتا ہے تو اسی جنکشن پر ایک نئی چیز، نئی جہت یا آئیڈیا جنم لیتا ہے۔
نمبر2: یہ لوگ کوئی نئی چیز بہت تیزی سے سیکھنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ جب انہیں کوئی نیا کام پسند آتا ہے تو دن رات اسی میں گھسے رہتے ہیں۔ کسی بچے یا ناتجربہ کار کی طرح ہر جگہ سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہر دروازے پر دستک دیتے ہیں۔
نمبر3: کئی ایک کام جاننے کی وجہ سے اکثر اوقات حالات کے مطابق کچھ نہ کچھ کر سکنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ ایسے ہی کسی ایمرجنسی کی صورت میں اکثر اوقات کوئی نہ کوئی جگاڑ لگا ہی لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ماچس نہیں تو بیٹری یا موٹرسائیکل کے سپارک پلگ سے آگ جلا کر سگریٹ سلگا لیتے ہیں۔ 😉

دنیا میں طرح طرح کی چیزیں اور خاص طور پر بہت سارے پہلو رکھنے والے (ملٹی ڈائمنشنل) مسائل ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لئے ہمیں سپیشلسٹ کے ساتھ ساتھ ملٹی پوٹنشیئلائیٹ کی بھی ضرورت ہے۔ کیونکہ کسی ایک فن یا شعبے کا ماہر کسی چیز کو صرف اپنے شعبے کے محسوس زاویے سے ہی دیکھ سکتا ہے جبکہ ملٹی پوٹنشیئلائیٹ گھوم پھر کر کئی ڈائمنشنز اور زاویوں سے دیکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اب اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ملٹی پوٹنشیئلائیٹ ہی بہتر ہوتے ہیں۔ اگر کوئی کسی ایک شعبے سے ہی لگاؤ رکھتا ہے تو ایسے لوگوں کی بھی معاشرے کو ضرورت ہے۔ کیونکہ کسی اچھی ٹیم میں سپیشلسٹ بھی ہوتے ہیں، جو کہ ایک خاص سمت پر مکمل توجہ دیتے ہیں اور ملٹی پوٹنشیئلائیٹ بھی ہوتے ہیں، جو کہ مجموعی طور پر جائزہ لیتے ہیں۔ کہہ سکتے ہیں کہ ملٹی پوٹنشیئلائیٹ آئیڈیا بناتے ہیں اور سپیشلسٹ اسے عملی جامہ پہناتے ہیں۔

یہ بات خاص طور پر جاننے والی ہے کہ ”موسمی بٹیروں“ کی طرح مختلف شعبوں میں چھلانگیں لگانے اور شوق کی خاطر یا سیکھنے کے لئے مختلف شعبہ جات کو اپنا کر ماہر بننے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ بہرحال بعض اوقات کوئی ملٹی پوٹنشیئلائیٹ کئی ایک کاموں کا ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ کسی ایک کا خصوصی ماہر(سپیشلسٹ) بھی ہو سکتا ہے۔ جبکہ یہ بھی لازمی نہیں کہ جو فطرتی طور پر ملٹی پوٹنشیئلائیٹ ہو گا تو وہ ضرور کئی کاموں کا ماہر بن جائے گا۔ جیسا کہ پہلے بھی کہا: یہ سب مختلف لوگوں کی مختلف ذہنی صلاحیتوں اور حالات پر منحصر ہے۔ مثلاً سازگار ماحول مل گیا تو کوئی ملٹی پوٹنشیئلائیٹ اپنی صلاحیتوں کو نکھار پائے گا، ورنہ معاشرتی بھیڑچال اسے شدید خجل کرے گی یا پھر روزی روٹی کے چکروں میں پس کر رہ جائے گا۔ ایملی بی بی حالانکہ وہ دیکھنے میں بی بی سے زیادہ ”بیبا“ ہے، بہرحال ایملی کہتی ہے کہ اگر کسی ملٹی پوٹنشیئلائیٹ پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ کسی ایک شعبے پر ہی توجہ دے تو یوں اس کی توانائیاں ضائع ہو کر رہ جائیں گی۔ لہٰذا بطور ایک معاشرے کے ہمیں چاہیئے کہ ملٹی پوٹنشیئلائیٹ کو یہ شعور دیں کہ وہ فطرتی طور پر جو ہے، وہی رہے اور اپنے آپ کو کسی ایک شعبے تک محدود کر کے اپنی توانائیاں ضائع نہ کرے۔

ہمارے معاشرے کا عمومی مزاج یہی ہے کہ ہر کسی کو صرف ایک شعبہ اپنا کر اسی میں کیریئر بنانے کا دباؤ ڈالتا ہے۔ لیکن ہمیں اس وجہ سے کسی پریشانی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ ہمیں معاشرے کی نظر سے نہیں بلکہ خود اپنا جائزہ لینا ہو گا کہ ہماری فطرت کیا ہے؟ ہمارے جینز میں کیا کوڈنگ ہے؟ آیا ہم ملٹی پوٹنشیئلائیٹ فطرت رکھتے ہیں یا پھر سپیشلسٹ؟ ملٹی پوٹنشیئلائیٹ کو ملٹی پوٹنشیئلائیٹ ہی رہنا چاہیئے اور اسی طرح جو سپیشلسٹ فطرت رکھتے ہیں وہ بھی اپنی فطرت کے حساب سے ہی چلیں۔ ساری باتوں کا خلاصہ یہ کہ اپنے آپ سے ملیں، اپنی فطرت کو پہچانیں اور اسی کے مطابق چلنے کی کوشش کریں۔ یوں ایک اچھی اور پُرسکون زندگی گزارنا ممکن ہو گا۔ آخر پر بس اتنا کہوں گا کہ میرے وہ ملٹی پوٹنشیئلائیٹ ساتھی جوکہ حالات اور خود کو سمجھ نہیں پا رہے اور پریشان ہیں، ان سے گزارش ہے کہ پریشان نہ ہوں۔ اپنے آپ کو ناکارہ ہرگز نہ سمجھیں اور مایوس تو بالکل بھی نہ ہوں اور یہ جان لو کہ اگر قدرت نے آپ کو تخلیق کیا ہے تو پھر یقیناً آپ بہت اہم ہیں اور دنیا کو آپ کی بہت ضرورت ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”دنیا کو میری ضرورت ہے یا نہیں؟

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *