تازہ تحاریر
تازہ تبصرے
-
- م بلال م» میرے بارے میں
- م بلال م» اردو بلاگوں کے تھوڑے قارئین کی وجوہات
- م بلال م» ویب سائیٹ وائرس ختم کرنے کا طریقہ
- قاری غلام محی الدین» میرے بارے میں
- قاری غلام محی الدین» میرے بارے میں
- فرحت کیانی» اردو بلاگوں کے تھوڑے قارئین کی وجوہات
- زاہد» ویب سائیٹ وائرس ختم کرنے کا طریقہ
- عمر» متفرق سوالات اور تبصرے
- م بلال م» متفرق سوالات اور تبصرے
- م بلال م» متفرق سوالات اور تبصرے
- عمر» متفرق سوالات اور تبصرے
- عمر» متفرق سوالات اور تبصرے
- محمد اقبال مغل» پاکستان بلاگ ایوارڈ - شام سویرے ہون ووٹاں ای ووٹاں
- محمد فاروق» اردو فارمیٹر - شامل پلگ ان - اردو انگریزی بلاگنگ ایک سات…
- عمر» ویب سائیٹ وائرس ختم کرنے کا طریقہ
ٹیگز
-
اردو بلاگنگ اردو بلاگنگ read nation education اردو اور بلاگ انٹرنیٹ install ورڈ پریس بلاگ wordpress urdu installation پاکستان urdu and blog installation society زبان urdu bloging ورڈپریس keyboard setting فونیٹک اردو کیبورڈ write phonetic اردو لکھنا قوم لکھنا فونیٹک کیبورڈ wordpress blog نظام system english کی بورڈ urdu in urdu keyboard layout urdu keyboard layout انگریزی رسم الخط کیبورڈ سیٹنگ pakistan language ورڈ پریس internet کمپیوٹر اردو بلاگ بنانا اردو کیبورڈ fonetic urdu phonetic keyboard urdu blog fonts pak urdu installer اردو کیبورڈ لے آؤٹ معاشرہ کی بورڈ لے آؤٹ فانٹس unicode layout اردو بلاگ computer صوتی اردو انسٹالیشن اردو فونیٹک کی بورڈ فانٹ phonetic urdu keyboard keyboard لے آؤٹ urdu keyboard یونیکوڈ اردو islam
محفوظات
فیس بک
Technology blogs
Blogs Directory
Blog Directory
Add blog to our directory.
Add Your Blog Blog Site 

Blogs Blog Tools Allie Marie































بلال۔۔
میں تو کہتا ہوں کہ اردو بلاگستان میں الیکشن کروالیتے ہیں۔ آپ منتخب ہو جائیں تو یہ تمام مطالبات اور شکایات قوم کے آگے رکھ دی جائیں۔
مجھے آپ میںایک لیڈر چھُپا ہوا نظر آرہا ہے۔
بات درست ہے۔۔۔لیکن ہم کیا کریں۔ ہمیں ڈھنگ سے کوئی ردعمل دکھانا آتا ہی نہیں۔ پابندیاں ہی لگا سکتے تھے وہ لگا لیںگے۔
ویسے اردو بلاگستان میں بھی کچھ اصحاب ہیں جو فیس بُک پر پاپندی کی حمایت میںپوسٹیںلکھتے رہے ہیں۔ سوچتا ہوں۔۔اگر گوگل، بلاگ سپاٹ اور ورڈ پریس پر بھی پابندی لگ گئی۔۔۔تو تب اُن کا موقف کیا ہوگا؟۔۔۔اُمید ہے وہ انٹرنیٹ پر آنا اور بلاگ لکھنا ہی چھوڑ دیں گے۔۔ :dontknow:
.-= عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … ہوزے ساراماگو۔۔۔ایک عہد کا خاتمہ! =-.
بلال بھائی اور عثمان بھائی ۔
آپ کے خیالات قابل ستائش ہیں – لیکن ہر ایک شہری کو قربانی کے لئے کیسے تیار کیا جائے ؟ ہر بندہ سسٹم کی جکڑ میں ایک طرح سے قربانی دے رہا ہے لیکن اس قربانی کا فائدہ صرف لیڈر حضرات لے رہے ہیں ۔ یہ الیکشن آمریت اور سب طریقے آزمائے جا چکے ہیں ۔ کوئی اور طریقہ نکالیں ۔ ہر طبقہ کے سرکردہ لوگ علماء اُستاد میڈیا وغیرہ وغیرہ لوگ باتیں کر رہیں ہیں لیکن اس کا تیکنیکی حل اور اُسکی شروات سامنے نہیں آ رہی ۔ سیاست اور مذہب میں اتنے گروپ ہیں کہ ملغوبہ سا بن گیا ہے ۔ اگر اس میں ایک ادھ گروپ پُرخلوص بھی ہو تو دوسرے اسکے ساتھ کیسے مل کر کام کریں ؟ مفاہمت بھی بندر بانٹ سے زیادہ نتائج فراہم نہیں کر رہی -
ویسے آپ ایک بات بتائیے۔۔۔یہ آجکل آپ آدھی آدھی رات کو جاگ کر پوسٹیں کیوں لکھ رہے ہیں؟؟

.-= عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … ہوزے ساراماگو۔۔۔ایک عہد کا خاتمہ! =-.
باتیں تو آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔ ایسی بات سمجھانا بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنی والی بات ہے اب ۔
.-= محمودالحق کے بلاگ سے آخری تحریر … الصَلواۃ خیر من النوم کا ہے پیغام بیدار ہو جا =-.
آپ کی باتیں سو فیصد درست ہیں۔توہین آمیز خاکوں پر یہاں احتجاج کر نے کی پلاننگ کر نے والوں سے میں نے عرض کیا تھا کہ اگر احتجاج ہی کرنا ھے تو جلوس نہ نکالیں۔چار چار کی ٹولیاں بناتے ہیں اور تمام اسلامی ممالک کی ایمبیسیز کے سامنے احتجاج کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ میں ان اسلامی ممالک کے حکمران قرار داد دیں اور کوئی قانون پاس کروایں جس سے مسلمانوں کی دل آزاری نہ ھو۔ایسے ھی جیسے یہودیوں کے حقوق یا دل آزاری نہ کرنے کا یورپین ممالک میں قانون ھے۔ ھو سکتا ھے میری تجویز ناقص ھو۔لیکن نام نہاد لیڈری کے شوقین حضرات کا جواب کچھ اس طرح تھا کہ اتنا وقت کس کے پاس ھے۔اور اخراجات بھی آئیں گے۔تو محترم کیسی دین کی محبت اور کیسی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت!!۔میرے خیال میں کسی بھی سیاسی یا مذہبی لیڈر یا اہل دانش نے کوئی اس طرح کی یا اس سے بہتر اورمزید پائیدار اس مسئلے کے کی تجویز نہیں دی۔اگر ایسی کوئی تجویز ھے بھی تو احتجاج مسلسل ھونا چاھئے نہ کہ دوبارہ اسطرح کا مسئلہ کھڑا ھو اور جلوس نکال کر روڈبلاک کریں اور جب دل کی بھڑاس نکل جائے یا لیڈری کا شوق پورا ھو جائے تو گھر جا کر لمبی تان کر سو جائیں۔مسلمان حکمران بے حس ہیں لیکن ہم عوام مسلمانوں کی سوچ بھی کچھ ایسی ھی ھے۔
تين پرانے واقعات ہيں جنہيں ياد کر کے اپنی قوم کی عقل پر رونا پڑتا ہے ۔
ايک پڑھے لکھے صاحب نے کپڑا خريدا اور ساتھ کی دکان پر دو جاپانی کچھ خريد رہے تھے ۔ اُن کی ستائش حاصل کرنے کيلئے کپڑے پر لگے ليبل کو اُنہيں دکھايا جو جاپانی زبان ميں لکھا تھا ۔ وہ دو نوں جاپانی ہنسنے لگے ۔ جب وہ شخص چلا گيا تو ميں نے اُن سے پوچھا کہ آپ ہنسے کيوں ؟ بولے کہ جاپانی ميں لکھا تھا پاکستان کا بنا ہوا
کراچی ميں ايک بہت پرانی پلاسٹک کے برتنوں وغيرہ کا کارخانہ ہے ۔ ميں وہاں گيا ہوا تھا تو مالک سے کہا کہ آپ کا معيار بہت اچھا ہے تو اپنا مال ملک ميں پھيلاتے کيوں نہيں ؟ بولے کيا کريں لوگ باہر کا بنا مال پسند کرتے ہيں چاہے گھٹيا ہو ۔ بھاۓي کيا بتائيں ہماری اپنی اماں دبئی گئيں اور وہا سے ايک ٹب لے آئيں کہا اماں ہم سے کہا ہوتا يہ وہاں سے لانے کی کيا ضرورت تھی بوليں ارے تم کہاں ايسا بناتے ہو تو ميں نے اُلٹا کر کے ماں کو دکھايا ہمارے کارخانے کا بنا تھا
ايک پاکستانی نوجوان لندن سے پتلون خريد لائے اور بڑے فخر سے مجھے دکھا کر کہنے لگے يہ ديکھو کتنی بہترين ہے ہمارے ملک ميں تو ايسا مال بنتا ہی نہيں ۔ ميں تجسس سے پتلون اند باہر سے ديکھنے لگا اچانک ميری نظر ايک ليبل پر پڑی جو پتلون کے اند لگا تھا ۔ لکھا تھا پاکستان کی ساختہ پاکستانی کپڑے سے
.-= افتخار اجمل بھوپال کے بلاگ سے آخری تحریر … لطيفے شعبہ انجنئرنگ کے =-.
میرے پہلے دو تبصرے کہاں گئے۔۔۔۔؟ میں نے سائیٹ ایڈرس غلط لکھ دیا تھا۔۔۔ یا ماڈریشن کی وجہ سے؟
.-= عین لام میم کے بلاگ سے آخری تحریر … ڈائری لکھنا =-.
چلو دوبارہ لکھ دیتے ہیں۔۔۔
بلال بھائی:: :notlistening: میں نے نہیں سننا یہ سب۔۔۔۔ ویسے اپکی اور میری سوچ ایک معاملے میں ایک سی ہے: “اکثر جب دوستوں میں بحث ہوتی تو میری یہی کوشش ہوتی کہ میں اس معاملے پر خاموشی اختیار کروں۔ مجھے ٹھیک طرح سمجھ نہیں آتی تھی کہ اس مسئلہ کا کیا حل ہے؟ “۔۔۔۔۔
عثمان:: صحیح کہا، میرا ووٹ بھی بلال بھائی کیلئے ہی ہوگا۔۔۔ بس ذرا بلال بھائی اپنی عمر بتا دیں۔۔کیونکہ میں نوجوان قیادت کا قائل ہوں!! :peace: :angel:
.-= عین لام میم کے بلاگ سے آخری تحریر … ڈائری لکھنا =-.
خود ميری دادی ايک دن جدہ سے ريڈی ميڈ فراک لائيں بچوں کے ليے اوپر لکھا تھا ميڈ ان پاکستان
.-= پھپھے کٹنی کے بلاگ سے آخری تحریر … 180 ڈگری =-.
عثمان بھائی آپ کی لیڈر والی بات سے ایک بات یاد آگئی۔ یہاں گاؤں میں لوگ اکثر ایک بات کرتے ہیں کہ جس دفعہ فصل اچھی ہو جائے تو شریکوں کا دل کرتا ہے کہ اسے الیکشن لڑوا دیا جائے تاکہ جو رقم اس کے پاس اکٹھی ہوئی ہے وہ ختم ہو جائے۔ :rotfl:
بھائی جی یہ لیڈری اور الیکشن افففففف۔ ویسے میں اس کے خلاف نہیں بس میری کوشش تو یہی ہے کہ ہم عوام اپنے ووٹ کی اہمیت جان سکیں۔ اور اس اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے اگر میں کوئی کردار ادا کر سکوں تو یہ میرے لئے خوشی کی بات ہو گی۔ باقی لیڈر بنا نہیں جاتا بلکہ اصل لیڈر تو عوام خود ہے۔
میں نے بھی وہ تحاریر جو فیس بک پر پابندی کے حق میں ہیں وہ پڑھی تھیں۔ میں ان سب کے موقف کی قدر کرتا ہوں اور میں یہ کہتا ہوں کہ اس مسئلے کا کوئی حل ہونا چاہئے بلکہ گستاخی کرنے والے کو منہ توڑ جواب دینا چاہئے۔ اب میری نظر میں ان کا منہ کیسے توڑنا ہے اسی کی وضاحت کے لئے یہ تحریر لکھی تھی۔ باقی سب کا اپنا اپنا موقف ہے۔ ویسے ابوشامل بھائی کی تحریر ”ہم چھوڑ چلیں ہیں محفل کو“ پر ایک تبصرہ تھا جس کا ایک فقرہ مجھے بہت پسند آیا تھا وہ یہ کہ ”اگر یہ جنگ ہے تو محاذ مت چھوڑیں ہمت سے جنگ لڑیں۔“
جناب یہ واپڈا کی مہربانی ہے۔ وہ کیا ہے کہ بجلی نہیں ہوتی ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر نہیں چل سکتا تو کوئی کتاب پڑھ لیتا ہوں، بلاگ پڑھتا ہوں، اردو محفل پڑھتا ہوں اور اگر کچھ دماغ میں آ جائے تو پوسٹ بھی لکھ دیتا ہوں۔ ویسے اب یہ نہ ہو کہ آپ کہیں کہ بجلی اور جائے :rotfl: :rotfl: :rotfl:
بس جی اس معاملے میں ہم جو کر سکتے ہیں ہمیں وہ کرنا چاہئے اور میں نے بھی ایک لمبی خاموشی کے بعد وہی کیا۔ گھنٹی باندھنے کی کوشش میں لگے رہنا چاہئے۔ باقی سب اللہ پر چھوڑ دینا چاہئے۔
آپ نے جو احتجاج کا طریقہ بتایا مجھے وہ بہت پسند ہے اور میرے خیال میں پر امن احتجاج ہی ہونا چاہئے۔ لیکن مسئلہ پھر وہی ہے کہ اگر آپ میں دم نہیں تو پھر کسی قسم کا احتجاج کچھ نہیں کرنے والا۔ پہلے ہمیں خود کو بہتر اور مضبوط کرنا ہو گا پھر جا کر ہمارا احتجاج بھی کام کرے گا۔ لیکن چاہے احتجاج کام کرے نہ کرے لیکن میرے خیال میں ظلم کے خلاف آواز ضرور اٹھانی چاہئے کیونکہ اس سے کم از کم ہمارے باقی بھائیوں کو تو ہوش آئے گا اور پھر ہم کامیابی کی طرف چلنے لگیں گے۔
بہت خوب کیا زبردست واقعے لکھے ہیں۔ لیکن مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ آپ نے یہ کس بات کے جواب میں لکھے ہیں یعنی آپ نے سوئی بنانے والی بات کے جواب میں لکھے ہیں کہ دیکھو ہم بہت کچھ بناتے ہیں پھر تم کیوں کہہ رہے ہو کہ ہم سوئی تک نہیں بنا سکتے۔ یا پھر اس بات کے جواب میں کہ ہمارے لوگ امپورٹڈ چیزیں پسند کرتے ہیں جبکہ ہماری چیزیں پوری دنیا میں دستیاب ہیں۔
ویسے سوئی بنانے والی تو ایک مثال دی ہے باقی بنانے کو تو بہت کچھ ہم بنا رہے ہیں۔ لیکن مسئلہ وہی ہے کہ ایک تو اپنے ملک میں اس کا استعمال بہت کم لوگ کرتے ہیں دوسرا اپنی چیز چاہے بہت اچھے معیار کی ہو لیکن ہمارے لوگ امپورٹڈ ہی پسند کریں گے چاہے امپورٹڈ کسی کام کی نہ ہو۔
آپ کے دونوں تبصروں کو Akismet نے دبوچ لیا تھا اور سپیم میں ڈال دیا تھا جبکہ ان دونوں تبصروں میں ایسی کوئی بات نہیں تھی کہ انہیں سپیم قرار دیا جائے۔ خیر آپ نے مزید تبصرہ کر دیا ہے اس لئے میں انہیں ختم کر دیتا ہوں۔
عین لام میم بھائی بہت شکریہ کہ آپ نے دوبارہ تبصرہ کیا۔ دراصل میں اس معاملے میں اس لئے خاموش رہتا تھا کہ یہ بڑا نازک معاملہ ہے اور اس پر جو کہنا ہو سوچ سمجھ کر کہنا چاہئے۔
رہی بات الیکشن اور ووٹ کی تو حضرت اردو بلاگستان میں اس ناچیز سے کئی بلاگر بلکہ سارے بلاگر ہی بہتر ہیں اس لئے ان میں سے کوئی لیڈر تلاش کرتے ہیں چلو میں بھی آپ کے ساتھ ہوں۔
ویسے میری عمر ”میرے بارے میں“ جو صفحہ ہے اس میں لکھی ہوئی ہے۔ اس اکتوبر میں میں ستائیس سال کا ہو جاؤں گا۔ لیکن پچھلے ایک سال سے عمر ستائیس لکھ دی ہوئی ہے۔ کیونکہ 26 تو پچھلے سال مکمل ہو گئے تھے اس لئے ستائیسواں شروع ہو گیا تو ہم نے 27 کر دی۔
تو کیا بچوں نے ہنسی خوشی پہن لئے یا پھر انکار کر دیا۔
پاکستان سے ٹیکسٹائل کی مصنوعات باہر جاتی ہیں وہاں پر باہر کاٹھپا لگتا ہے اور پھر وہ مہنگی کرکے بیرون ممالک بیچی جاتی ہیں بڑے بڑے ناموں سے :eyeroll:
باقی بات آپ کی بالکل سچ ہے مگر ہے محنت طلب اور محنت ہم اور بہت سے کاموں میں کرتے رہتے ہیں تعلیم اور ترقی میں نہ سہی :silly:
آپ سے پوچھنے کے بعد میں خود ہی اس صفحے پہ چلا گیا تھا۔ چلیں ابھی تو آپ جوان ہی ہیں۔۔۔!!
.-= عین لام میم کے بلاگ سے آخری تحریر … ڈائری سے انتخاب -1 =-.
پِنگ بیک :- What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ » Blog Archive » کيا ہم آزادی کے مستحق ہيں ؟
پاکستان کی مصنوعات ساری دنیا میں مشہور ہیں۔ کھانے کی اشیا ہوں یا استعمال کی چیزیں۔ ہم کو پاکستانی ہونے پر فخر ہونا چاہیے۔
دیکھیں یہ فلوریڈا والے چرچ کو میڈیا میں مسلمانوں نے دو دو ہات لیا۔ اچھے طریقے سے اسلامی نقطہ نظر پیش کیا تو پادری نے اپنا ارادہ ترک کر دیا۔ ایسے موقع پر مسلمانوں کو صورتحال اپنے مفاد کے مطابق موڑ لینی چاہیے ۔ جلوسوں اور نعروں سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
خدا آپ کو اجر عظیم دے۔ گریٹ اردو میں آپ کی معلومات نے میری طرح بے شمار پاکستانیوں کو مستفید کیا ہے۔میں نے بھی ایک بلاگ
famous urdu quotesشروع کیا ہے۔دعا کریں کہ اچھا کام کر سکوں۔