<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>م بلال م کی بیاض &#187; سیاست</title>
	<atom:link href="http://www.mbilalm.com/blog/category/politics/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.mbilalm.com/blog</link>
	<description>قطرہ قطرہ سمندر</description>
	<lastBuildDate>Thu, 19 Jan 2012 13:26:32 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.3.1</generator>
		<item>
		<title>قوم، علاقہ، زبان اور انسانیت کا تقاضا</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/nation-area-language-and-humanity-demand/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/nation-area-language-and-humanity-demand/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 16 Oct 2011 08:59:04 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[area]]></category>
		<category><![CDATA[balochi]]></category>
		<category><![CDATA[demand]]></category>
		<category><![CDATA[gujrati]]></category>
		<category><![CDATA[human]]></category>
		<category><![CDATA[humanity]]></category>
		<category><![CDATA[identification]]></category>
		<category><![CDATA[identity]]></category>
		<category><![CDATA[kashmiri]]></category>
		<category><![CDATA[language]]></category>
		<category><![CDATA[nation]]></category>
		<category><![CDATA[nationalism]]></category>
		<category><![CDATA[nationalist]]></category>
		<category><![CDATA[pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[pakistani]]></category>
		<category><![CDATA[pathan]]></category>
		<category><![CDATA[punjabi]]></category>
		<category><![CDATA[sindhi]]></category>
		<category><![CDATA[انسانیت]]></category>
		<category><![CDATA[بلوچی]]></category>
		<category><![CDATA[تقاضا]]></category>
		<category><![CDATA[تقاضہ]]></category>
		<category><![CDATA[زبان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھی]]></category>
		<category><![CDATA[علاقہ]]></category>
		<category><![CDATA[قوم]]></category>
		<category><![CDATA[قوم پرست]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی]]></category>
		<category><![CDATA[پنجابی]]></category>
		<category><![CDATA[پٹھان]]></category>
		<category><![CDATA[پہچان]]></category>
		<category><![CDATA[کشمیری]]></category>
		<category><![CDATA[گجراتی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.mbilalm.com/blog/?p=1413</guid>
		<description><![CDATA[لوگوں نے قوم کو اپنے بڑھے پن کا مسئلہ بنا لیا ہے، علاقائی حد بندیوں کو انسانیت کے درمیان دیوار بنا کر رکھ دیا ہے اور زبان کے معاملے میں اتنے شدت پسند کہ دوسری زبان بولنے والوں سے نفرت کرتے ہیں۔ آج کچھ لوگوں نے نفرت کے بازار گرم کر رکھے ہیں]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
بات کسی چیز کے پسند کرنے سے شروع ہوتی ہے اور اگر اس پسند کرنے کو ایک حد پر قابو نہ کیا جائے تو یہ اپنی حدیں عبور کرتی ہوئی شدت پسندی میں داخل ہو جاتی ہے۔ ہمارا مسئلہ بھی یہی ہے کہ ہم پیار اور پرستش کے درمیان فرق واضح نہیں کر پاتے اور پیار میں اتنے آگے نکل جاتے ہیں کہ شدت پسند بن کر پرستش تک شروع کر دیتے ہیں۔</p>
<p>ایک وقت تھا جب قوم (ذات پات) آپ کی پہچان کے لئے ضروری تھی تاکہ پتہ چل سکے کہ فلاں بندہ فلاں قوم یا قبیلے کا رہنے والا ہے لیکن ٹیکنالوجی کے اس دور میں اس قسم کی پہچان کی کوئی ضرورت نہیں۔ اب اگر پہچان کی ضرورت ہے تو صرف یہی ہے کہ فلاں کا آئی ڈی کارڈ نمبر وغیرہ یہ ہے۔ اسی طرح حد بندیاں انتظامی معاملات کے لئے ہوتی ہیں تاکہ سارے علاقے کو چھوٹے چھوٹے یا مناسب حصوں میں تقسیم کر دیا جائے اور انتظامی معاملات اچھے طریقے سے چلائے جا سکیں۔ زبان صرف اپنی بات دوسرے تک پہنچانے کا ایک ذریعہ ہے۔ اس سے زیادہ زبان کی اور کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ اگر کسی چیز کی اہمیت ہے تو وہ انسانیت کی ہے۔</p>
<p>لیکن یہاں معاملہ الٹ ہے۔ لوگوں نے قوم کو اپنے بڑھے پن کا مسئلہ بنا لیا ہے، علاقائی حد بندیوں کو انسانیت کے درمیان دیوار بنا کر رکھ دیا ہے اور زبان کے معاملے میں اتنے شدت پسند کہ دوسری زبان بولنے والے انسانوں سے نفرت کرتے ہیں۔ آج کچھ لوگوں نے نفرت کے بازار گرم کر رکھے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو پہلے عام انسانوں میں قوم، علاقہ اور زبان کے نام پر نفرت پیدا کرتے ہیں پھر اسی نفرت کا سہارا لے کر اپنی سیاست کی دکان چلاتے ہیں۔ ایک عام انسان اپنی قوم، علاقہ یا زبان کی خدمت کرنے کے جوش میں اندھا ہو کر انہیں دکاندار سیاست دانوں کے ہاتھوں استعمال ہو جاتا ہے اور اس انسان کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ وہ خدمت کے جوش میں انسانیت کی توہین کر رہا ہے۔</p>
<p>اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنی قوم، اپنے علاقے اور اپنی زبان سے انسان کو پیار ہوتا ہے اور یہ ایک فطری چیز ہے۔ اسی پیار کے ہاتھوں مجبور ہو کر انسان قوم، علاقے اور زبان کی بہتری کے لئے کام کرتا ہے اور کرنا بھی چاہئے لیکن مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب پیار اندھے پیار میں تبدیل ہوتا ہے اور انسان انسانیت کو بھول کر اندھے پیار میں شدت پسند بن جاتا ہے اور پھر قوم، علاقہ اور زبان پرستی جنم لیتی ہے اور انسانوں میں ایسا تفرقہ ڈالتی ہے کہ انسان مرنے مارنے پر آ جاتا ہے۔ قوم، علاقہ اور زبان سے پیار ضرور کرو اور ان کی بہتری کے لئے کام بھی کرو لیکن کم از کم دوسروں سے نفرت نہ کرو اور اپنے پیار کو دوسروں کے لئے عذاب نہ بناؤ۔</p>
<p>ہمیں پیار اور پرستش میں فرق واضح کرنا ہو گا اور اپنے پیار کو قابو میں رکھنا ہو گا تب جا کر ہم انسانیت کی راہ پر چل سکیں گے۔ یہ دنیا انسانوں کی ہے اور ہر انسان اس بڑی قوم انسانیت کا حصہ ہے۔ اس لئے جہاں وہ اپنی چھوٹی اور قریبی قوم سے پیار کرتا ہے وہاں اسے اس بڑی قوم سے بھی پیار کرنا چاہئے۔ </p>
<p>ان معاملات میں میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ میری قوم، میرا علاقہ اور میری زبان میرے گھر سے شروع ہوتی ہے اور پھیلتی پھیلتی پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔ جو جتنا میرے قریب ہے اس کا اتنا زیادہ مجھ پر حق ہے اور مجھے اس سے اتنا زیادہ پیار ہے۔ سب سے پہلے میرا خاندان میری قوم ہے۔ اس کے بعد میرے اردگرد کے لوگ میری قوم ہیں۔ پھر میرے شہر کے لوگ اس میں شامل ہو جاتے ہیں اس کے بعد ضلع، ڈویژن، صوبہ، ملک اور پھر پوری دنیا کے انسان میری قوم بن جاتے ہیں یوں میری قوم انسانیت بن جاتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میں گجراتی ہوں، پنجابی ہوں،پاکستانی ہوں، اس زمین کا باشندہ ہوں، اس گلیکسی (ملکی وے) میں شامل ہوں۔ لے چلو میری پہچان کو جہاں تک لے جا سکتے ہوں لیکن یاد رکھو میں خود غرض نہیں کہ صرف اپنے قریبیوں سے پیار کروں۔ گجراتی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ میں پنجابیوں سے پیار نہ کروں، پنجابی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ میں باقی پاکستانیوں سے پیار نہیں کر سکتا۔یہ گجرات، یہ پنجاب تو بس میری پہچان کے لئے ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ پٹھان، بلوچی، سندھی، کشمیری اور تمام کے تمام پاکستانی میرے بھائی ہیں۔ میں ہر دم کوشش کروں گا کہ ہم سب بھائی متحد اور ایک جان رہیں۔ اگر میرا کوئی پنجابی بھائی مجھ سے لڑتا ہے تو میں اس واحد پنجابی کا مقابلہ کروں گا، اگر میرا کوئی پٹھان، بلوچی یا سندھی بھائی غلط بات کرتا ہے تو میں اس ایک پٹھان، بلوچی یا سندھی کو سمجھاؤں گا۔ میں پاگل نہیں کہ ایک بندے کی غلطی کو پورے صوبے یا قوم پر ٹھونس دوں اور اپنے خوبصورت ملک میں دراڑیں پیدا کروں۔ مجھے صوبہ صوبہ یا صوبائیت کا کوئی کھیل نہیں کھیلنا۔ میں انسان ہوں اور تمام انسانوں کو پیار کر کے اور ان کے ساتھ جینا چاہتا ہوں۔ میرے گھر پاکستان کی رونق تمام گھر والوں سے ہیں۔ مجھے اپنوں سے پیار ہے مگر میں پیار میں اندھا نہیں ہوں، میں شدت پسند نہیں ہوں، میں ہوش میں ہوں اور اپنے پیار کو پیار سمجھ کر دوسروں کو اپنے ساتھ لے کر یا خود دوسروں کے ساتھ چل کر اپنے ملک اور ساری دنیا کو خوبصورت بنانا چاہتا ہوں نہ کہ اپنے قریبیوں کے پیار میں اندھا ہو کر تھوڑے دور والوں سے نفرت شروع کر دوں۔<br />
اے میرے پٹھان، بلوچی، سندھی، کشمیری اور تمام پاکستانی بھائیوں! چھوڑ دو ہر اس کا ساتھ جو ان صوبوں کے چکروں میں پڑا ہے۔ چھوڑ دو ان لٹیروں کو جو صوبائی و لسانی تعصب پھیلا کر ہمارے وطن کو توڑنا چاہتے ہیں۔ آؤ ہم سب مل کر ایک قوم بنیں اور پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔ حکیم الامت علامہ محمد اقبال رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ<br />
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں<br />
موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ نہیں<br />
آؤ آج مل کر ایک جان ہو جائیں نہیں تو کچھ باقی نہیں رہے گا۔<br />
ملت کو جتنا بڑا کریں گے، اپنے دلوں کو جتنا وسیع کریں گے، اتنے ہی سکون سے رہیں گے اور جتنا چھوٹا کریں گے، اتنے ہی ذلیل و رسوا ہوں گے۔ قوم، علاقہ اور زبان سے پیار ضرور کرو لیکن پیار میں اتنے پاگل نہ ہو جاؤ کہ شدت اختیار کرتے ہوئے دوسروں سے نفرت شروع کر دو۔ ہم انسان ہیں اور انسانیت کا یہی تقاضا ہے کہ قوم، علاقہ اور زبان وغیرہ سے پیار تو ضرور کریں لیکن اپنے پیار کو دوسروں کے لئے تکلیف اور عذاب نہ بنائیں اور اپنے ساتھ ساتھ تمام انسانوں کا خیال رکھیں۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/nation-area-language-and-humanity-demand/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>11</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>واہ رے حکومت پنجاب</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/punjab-govt-canceled-arms-licence/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/punjab-govt-canceled-arms-licence/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 16 Dec 2010 22:55:29 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[متفرقات]]></category>
		<category><![CDATA[13000 fake licence]]></category>
		<category><![CDATA[13000 اسلحہ لائسنس منسوخ]]></category>
		<category><![CDATA[13000 جعلی اسلحہ لائسنس]]></category>
		<category><![CDATA[13000 جعلی لائسنس]]></category>
		<category><![CDATA[15000 اسلحہ لائسنس منسوخ]]></category>
		<category><![CDATA[canceled 13000 arms licence]]></category>
		<category><![CDATA[canceled 15000 arms licence]]></category>
		<category><![CDATA[canceled arms licence]]></category>
		<category><![CDATA[district govt]]></category>
		<category><![CDATA[district govt gujrat]]></category>
		<category><![CDATA[fake arms licence]]></category>
		<category><![CDATA[gujrat arms fake licence]]></category>
		<category><![CDATA[punjab govt canceled fire arms licence]]></category>
		<category><![CDATA[اسلحہ لائسنس منسوخ]]></category>
		<category><![CDATA[حاکم اعلی پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[حکومتِ پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[خادم اعلی پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[رانا ثناءاللہ]]></category>
		<category><![CDATA[واہ رے حکومت پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[وزیر اعلی پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[وزیرِ قانون پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب گورنمنٹ 13000 اسلحہ لائسنس منسوخ]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب گورنمنٹ 15000 اسلحہ لائسنس منسوخ]]></category>
		<category><![CDATA[گجرات]]></category>
		<category><![CDATA[گجرات میں جعلی اسلحہ لائسنس]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.mbilalm.com/blog/?p=618</guid>
		<description><![CDATA[سارا معاملہ بالکل صاف ہے۔ اسلحہ اور اسلحہ لائسنس کا ریکارڈ بھی موجود ہے، ڈاکخانہ میں اندراج اورتمام اسلحہ لائسنسوں کی ڈاکخانہ سے ایک یا دو بار تجدید فیس کے ساتھ ہو چکی ہے۔ بس اسلحہ لائسنس بنواتے ہوئے جو فیس تھی وہ اسلحہ برانچ کا عملہ خود کھا گیا تھا اور اسی بات کو لے کر حکومت نے شریف شہریوں کے لائسنس منسوخ کر دیئے ہیں اور ان کا اسلحہ ضبط کر رہی ہے۔
ایک لمحہ کے لئے مان لیتے ہیں کہ اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے والا قدم بالکل ٹھیک ہے تو کوئی ان تیرہ ہزار کو بھی تو بتائے کہ ان کا پیسا جو سرکار کے ملازمین کھا گئے ہیں وہ کون واپس دلوائے گا؟ ڈاکخانہ سے لائسنس کی تجدید کے لئے جو فیس حکومت کو ادا کی گئی تھی، کیا حکومت وہ فیس واپس کرے گی؟ اسلحہ مال خانے جانے سے جو اسلحہ کی قیمت ہے وہ کون دے گا؟ کیا حکومت ان تیرہ ہزار کو اتنا وقت اور ساتھ دے سکتی ہے کہ وہ اسلحہ واپس اسلحہ ڈیلروں کو فروخت کر دیں؟ لیکن ایسا کچھ نہیں ہو گا کیونکہ اگر اسلحہ واپس اسلحہ ڈیلروں کو فروخت کرنے کا کہا گیا تو اسلحہ ڈیلر بہت شور مچائیں گے اور شاید حکومت یہ بھی برداشت نہیں کر سکتی۔ بس عوام کو ہی دبا سکتی ہے۔ اگر حکومت کہے کہ اس کا کوئی قصور نہیں بلکہ عوام نے خود ہی غلطی کی ہے تو پھر میرے سیدھے اور سا دے سے سوال ہیں کہ اسلحہ برانچ کس کی ہے؟ اسلحہ برانچ کا عملہ کس نے بھرتی کیا تھا؟ اتنا بڑا کام ہوتا رہا اور اسلحہ برانچ کے انچارج تک کو پتہ نہ چلا؟ اینٹی کرپشن والے کہاں تھے؟ تقریباً دو سال حکومت کہاں سو رہی تھی؟
”حاکمِ اعلیٰ “کیا اب ایسے حالات کو ٹھیک کرنا بھی عوام آپ کو سیکھائے گی؟]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
جس چیز کا ڈر تھا، آخر وہی ہوا۔ میں نے اس بارے میں احتجاج کرتے ہوئے پہلے بھی <a href="http://www.mbilalm.com/blog/gujrat-15000-arms-licence-scandal/">ایک تحریر</a> لکھی تھی جس میں خبروں کے مطابق پچھلے دنوں گجرات میں تقریباً پندرہ ہزار (15000) ”جعلی اسلحہ لائسنس“ پکڑے جانے کی بات کی تھی۔ اب بات نکلی ہے کہ یہ پندرہ ہزار نہیں بلکہ تیرہ ہزار لائسنس تھے۔ خیر یہ دو ہزار کا فرق ہمارے میڈیا کی ”بہتر سروس“ بھی ہو سکتی ہے کیونکہ اکثر یہ گنتی کی غلطی کر جاتے ہیں یا پھر ہو سکتا ہے کہ دوہزار سے کوئی مک مکا ہو گیا ہو۔ چلو ہم فی الحال یہی مان لیتے ہیں کہ 13000 ہی تھے۔ خیر جب یہ سکینڈل سامنے آیا تھا تو جیسے ساری حکومتیں کرتی ہیں ویسے ہی ہماری حکومت پنجاب نے بھی کیا یعنی انکوائری بیٹھا دی۔<br />
کچھ دن پہلے انکوائری یعنی وزیرِ قانون پنجاب رانا ثناءاللہ کی زیر صدارت اجلاس میں ان 13000اسلحہ لائسنس کو ناجائز قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا۔ منسوخ شدہ اسلحہ لائسنس اور ان پر جاری ہونے والے اسلحہ کو پندرہ یوم میں رضاکارانہ طور پر جمع کروانے کا حکم جاری کیا۔<br />
وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ فراڈ سرکاری ملازمین نے کیا اور سزا عوام کو مل رہی ہے۔ اب عام شہری کہاں جائے؟ جس نے اسلحہ لائسنس کی تقریبا سات سے آٹھ ہزار روپے فیس اسلحہ برانچ کو ادا کی تھی، پھر ڈاکخانہ میں انداراج کروایا تھا اور پھر اس لئے اسلحہ خریدا کہ اس کے پاس لائسنس موجود ہے۔ یہ بات آج کی نہیں بلکہ کئی لوگ تو دو دفعہ اسلحہ لائسنس کی ڈاکخانہ سے تجدید بھی کروا چکے ہیں۔<br />
تیرہ ہزار لائسنس کوئی ایک دن میں نہیں بنے بلکہ یہ معاملہ دو سال پہلے کا ہے اور پتہ نہیں کتنے لمبے عرصہ سے یہ کھیل کھیلا جا رہا تھا۔ اب جو لائسنس منسوخ کر رہے ہیں وہ اس وقت کہاں تھے جب یہ کھیل چل رہا تھا؟ کوئی ان سے پوچھے جناب آپ کو حکومت میں آئے اتنا عرصہ ہو گیا ہے اور اتنا بڑا سکینڈل اب جا کر آپ کو پتہ چل رہا ہے۔ یہ کس کی نالائقی ہے؟ کیا یہ بھی ان تیرہ ہزار کی نالائقی ہے جو آپ کے بنائے ہوئے ادارہ میں گئے اور آپ کے کلرک صاحب نے کہا اتنی فیس  اور فلاں فلاں کاغذات جمع کرواؤ، اور فلاں دن آ کر اپنا لائسنس لے جانا۔ یا پھر کہیں ایسے تو نہیں تھا کہ اسلحہ برانچ، اس کے اعلیٰ عہدیدار اور اسلحہ ڈیلر سب مل بانٹ کر کھا رہے تھے۔حکومت اتنی دیر تماشہ دیکھتی رہی اور اب لائسنس منسوخ کر کے تیرہ ہزار شہریوں کو تماشہ بنا رہی ہے۔ ایک طرف لائسنس کی فیس کھائی دوسری طرف اسلحہ ڈیلروں کا اسلحہ فروخت کروایا اور اب لائسنس منسوخ، فیس ہضم اور اسلحہ مال خانے۔ مال خانے بھی تو کچرا ہی پہنچنا ہے اور اچھا اسلحہ حکومت کے افسران نے ہی پی جانا ہے۔ ساری بات بڑی عجیب ہے یعنی سب کچھ ہو گیا، سانپ مر گیا، لاٹھی بھی نہ ٹوٹی اور نظام پھر ”شفاف کا شفاف“ اور ماری گئی غریب عوام۔ ہمیں آزاد ہوئے 63سال ہو گئے ہیں لیکن ہماری جمہوریت آج بھی شہنشاہوں جیسے فیصلے کر رہی ہے۔<br />
سارا معاملہ بالکل صاف ہے۔ اسلحہ اور اسلحہ لائسنس کا ریکارڈ بھی موجود ہے، ڈاکخانہ میں اندراج اورتمام اسلحہ لائسنسوں کی ڈاکخانہ سے ایک یا دو بار تجدید فیس کے ساتھ ہو چکی ہے۔ بس اسلحہ لائسنس بنواتے ہوئے جو فیس تھی وہ اسلحہ برانچ کا عملہ خود کھا گیا تھا اور اسی بات کو لے کر حکومت نے شریف شہریوں کے لائسنس منسوخ کر دیئے ہیں اور ان کا اسلحہ ضبط کر رہی ہے۔<br />
ایک لمحہ کے لئے مان لیتے ہیں کہ اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے والا قدم بالکل ٹھیک ہے تو کوئی ان تیرہ ہزار کو بھی تو بتائے کہ ان کا پیسا جو سرکار کے ملازمین کھا گئے ہیں وہ کون واپس دلوائے گا؟ ڈاکخانہ سے لائسنس کی تجدید کے لئے جو فیس حکومت کو ادا کی گئی تھی، کیا حکومت وہ فیس واپس کرے گی؟ اسلحہ مال خانے جانے سے جو اسلحہ کی قیمت ہے وہ کون دے گا؟ کیا حکومت ان تیرہ ہزار کو اتنا وقت اور ساتھ دے سکتی ہے کہ وہ اسلحہ واپس اسلحہ ڈیلروں کو فروخت کر دیں؟ لیکن ایسا کچھ نہیں ہو گا کیونکہ اگر اسلحہ واپس اسلحہ ڈیلروں کو فروخت کرنے کا کہا گیا تو اسلحہ ڈیلر بہت شور مچائیں گے اور شاید حکومت یہ بھی برداشت نہیں کر سکتی۔ بس عوام کو ہی دبا سکتی ہے۔ اگر حکومت کہے کہ اس کا کوئی قصور نہیں بلکہ عوام نے خود ہی غلطی کی ہے تو پھر میرے سیدھے اور سا دے سے سوال ہیں کہ اسلحہ برانچ کس کی ہے؟ اسلحہ برانچ کا عملہ کس نے بھرتی کیا تھا؟ اتنا بڑا کام ہوتا رہا اور اسلحہ برانچ کے انچارج تک کو پتہ نہ چلا؟ اینٹی کرپشن والے کہاں تھے؟ تقریباً دو سال حکومت کہاں سو رہی تھی؟<br />
”حاکمِ اعلیٰ “کیا اب ایسے حالات کو ٹھیک کرنا بھی عوام آپ کو سیکھائے گی؟<br />
نوٹ:- اس تحریر کو صوبائی تعصب کا رنگ ہرگز نہ دیا جائے۔ یہ مسئلہ جتنا پنجاب کا ہے اتنا ہی پاکستان کا بھی ہے اور پاکستان ہم سب کا ہے۔<br />
پاکستان زندہ باد</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/punjab-govt-canceled-arms-licence/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>دفاع ذات اور ہماری قانون سازی</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/self-defence-and-our-legislation/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/self-defence-and-our-legislation/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 05 Dec 2010 22:46:17 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[ak47 permit]]></category>
		<category><![CDATA[arms and legislation]]></category>
		<category><![CDATA[arms permit]]></category>
		<category><![CDATA[law and order]]></category>
		<category><![CDATA[legislation]]></category>
		<category><![CDATA[self defence]]></category>
		<category><![CDATA[self defence and legislation]]></category>
		<category><![CDATA[self defence and our legislation]]></category>
		<category><![CDATA[selfdefence]]></category>
		<category><![CDATA[weapon and legislation]]></category>
		<category><![CDATA[weapon law and order]]></category>
		<category><![CDATA[اسلحہ]]></category>
		<category><![CDATA[اسلحہ اور قانون سازی]]></category>
		<category><![CDATA[اپنی حفاظت]]></category>
		<category><![CDATA[اپنی حفاظت اور اسلحہ]]></category>
		<category><![CDATA[اپنی حفاظت اور قانون سازی]]></category>
		<category><![CDATA[دفاع ذات]]></category>
		<category><![CDATA[دفاع ذات اور قانون سازی]]></category>
		<category><![CDATA[دفاع ذات اور ہماری قانون سازی]]></category>
		<category><![CDATA[قانون سازی]]></category>
		<category><![CDATA[کلاشنکوف پرمٹ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.mbilalm.com/blog/?p=611</guid>
		<description><![CDATA[کسی بھی معاشرے میں طاقت کا توازن برقرار اور امن و امان رکھنے کے لئے حکومت سب سے پہلے معاشرے میں موجود جرائم پیشہ لوگوں کی طاقت کو دیکھتی ہے۔ پھر سیکیورٹی کتنی جلدی اور کتنی طاقت کے ساتھ پہنچ سکتی ہے اور پھر عام شہری کےلئے دفاع ذات کے سازوسامان جیسے اسلحہ وغیرہ کا انتخاب کرتی ہے اور عام شہری کو اس کی اجازت دیتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ حکومت جرائم پیشہ لوگوں کی طاقت کم کرنے اور جرائم کو ختم کرنے پر کام کرتی ہے۔ جیسے جیسے جرائم پیشہ لوگوں کی طاقت کم ہوتی ہے ویسے ویسے قانون میں تبدیلی کر کے دفاع ذات کے سازوسامان میں بھی تبدیلی کر دی جاتی ہے۔ یہ تبدیلی اس لئے آسانی سے ممکن ہوتی ہے کہ دفاع ذات کے لئے رکھا گیا اسلحہ حکومت کے پاس رجسٹرڈ ہوتا ہے۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
انسان یا کسی چیز کے حفاظتی انتظامات کرتے ہوئے سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ دشمن یا حملہ آور کون ہے اور کتنی طاقت رکھتا ہے، پھر دشمن یا حملہ آور کی طاقت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حفاظتی اقدامات کیے جاتے ہیں۔ بیماری، جانور، چور اور ڈاکو وغیرہ سے بچاؤ ، سے لے بڑی سے بڑی جنگ تک میں یہی چیز سامنے رکھ کر انتظامات کیے جاتے ہیں۔ اگر دشمن کو زیر کرنا ہو تو اس سے زیادہ طاقت رکھی جاتی ہے اور اگر معاشرے میں امن و امان کی صورت حال رکھنی ہو تو اس کے لئے معاشرے میں طاقت کا توازن برقرار رکھا جاتا ہے۔ یہ وہی توازن ہے جو آئے دن خبروں میں سنا جاتا ہے کہ فلاں ملک نے نئے میزائل بنا کر خطہ میں طاقت کا توازن بگاڑ دیا ہے۔ اب طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے دو طریقے ہیں، طاقتور کی طاقت کم کر دی جائے یا کمزور کو طاقتور بنا دیا جائے۔<br />
پولیس، عدالت اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا یہی کام ہوتا ہے کہ طاقت کا غلط استعمال کرنے والے کو روکا جائے اور کمزور کی طاقت یہ خود بنیں۔ یوں معاشرے میں طاقت کا توازن برقرار رہتا ہے اور امن و امان قائم رہتا ہے لیکن وطن عزیز میں معاملہ الٹ ہے۔ یہاں کمزور کی کوئی نہیں سنتا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طاقت والے نہیں سنتے، الٹا قانون نافذ کرنے والے ادارے شریف شہری کو قانون سکھاتے رہتے ہیں اور شریف شہری کی طاقت بننے کی بجائے الٹا اپنی طاقت کا رعب شریف شہری پر بیٹھاتے ہیں اور جب بات آتی ہے حفاظت کی تو انہیں اداروں سے جواب ملتا ہے کہ ہم ہیں نا۔۔۔<br />
کسی ملک میں سیکیورٹی چاہے جتنی سخت اور بہتر کر لی جائے پھر بھی ہر بندے کے ساتھ باڈی گارڈ مہیا نہیں کیے جا سکتے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں جب تک قانون نافذ کرنے والے نہ پہنچ جائیں اتنی دیر ہر انسان دفاع ذات (Self-defence) یعنی اپنی حفاظت خود کرے۔ ہر معاشرے میں دفاع ذات کہاں تک کرنا ہے اور کن چیزوں کے استعمال سے کرنا ہے مختلف ہوتا ہے لیکن ہمارے ہاں شریف شہری کی ذہن میں ”دفاع ذات “ نام کی کوئی چیز موجود ہی نہیں۔الٹا یہاں دفاع ذات کی تعریف اور کہاں تک کرنا ہے کوئی نہیں بتاتا بلکہ معاملہ مزید خراب ہے کہ شریف شہری کے ذہن میں یہ بیٹھا دیا گیا ہے کہ دفاع ذات صرف اتنا ہے کہ بلی کو دیکھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لو۔ یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ قانون نافذ کرنے والے کتنی دیر میں پہنچتے ہیں اور پھر آ کر کیا کرتے ہیں۔<br />
کسی بھی معاشرے میں طاقت کا توازن برقرار اور امن و امان رکھنے کے لئے حکومت سب سے پہلے معاشرے میں موجود جرائم پیشہ لوگوں کی طاقت کو دیکھتی ہے۔ پھر سیکیورٹی کتنی جلدی اور کتنی طاقت کے ساتھ پہنچ سکتی ہے اور پھر عام شہری کےلئے دفاع ذات کے سازوسامان جیسے اسلحہ وغیرہ کا انتخاب کرتی ہے اور عام شہری کو اس کی اجازت دیتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ حکومت جرائم پیشہ لوگوں کی طاقت کم کرنے اور جرائم کو ختم کرنے پر کام کرتی ہے۔ جیسے جیسے جرائم پیشہ لوگوں کی طاقت کم ہوتی ہے ویسے ویسے قانون میں تبدیلی کر کے دفاع ذات کے سازوسامان میں بھی تبدیلی کر دی جاتی ہے۔ یہ تبدیلی اس لئے آسانی سے ممکن ہوتی ہے کہ دفاع ذات کے لئے رکھا گیا اسلحہ حکومت کے پاس رجسٹرڈ ہوتا ہے۔<br />
<span style="color: #ff0000;"> اب دیکھیں وطن عزیز کے حالات اور قانون سازی۔۔۔</span><br />
یہاں جرائم پیشہ لوگوں کی طاقت اتنی ہے کہ وہ شریف شہری کے گھر، دوکان، عزت اور جان وغیرہ پر اے کے 47 (AK-47)  یعنی کلاشنکوف یا کسی بھی دیگر خود کار اسلحہ سے حملہ کرتے ہیں اور سیکیورٹی تب پہنچتی ہے جب مجرم سب صفایا کر کے بلکہ سب سے قیمتی چیز انسانی عزت وجان بھی لے کر فرار ہو چکے ہوتے ہیں اور کبھی پکڑے بھی نہیں جاتے۔ اس کے بعد بات آتی ہے کہ ان حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے قانون سازی یعنی شریف شہری کو دفاع ذات کے لئے کیا سازوسامان اور کتنی تعداد رکھنے کی اجازت ہے۔ اب میں کیا بتاؤں یہ اجازت بھی آپ سب کے سامنے ہے۔سونے پر سہاگہ یہ کہ ہمارے ”خود کار معتبر شہری“ کسی شریف شہری کا دفاع ذات کے لئے معمولی سا اسلحہ رکھنا بھی اچھا نہیں سمجھتے۔ اس کے علاوہ حکومت بھی شریف شہری کو اسلحہ رکھنے کی اجازت نہیں دیتی اور اگر اجازت ہوتی ہے تو وہ بھی انہیں ”معتبر شہریوں“ کو ہوتی ہے۔ جو ویسے ہی بڑے طاقتور ہوتے ہیں اور قانون کو اپنی جاگیر سمجھ کر ہر وقت جیب میں رکھتے ہیں۔ حالات سب کے سامنے ہیں۔ یہاں جرائم پیشہ لوگ بہترین خودکار آتشی اسلحہ رکھتے ہیں، جس کی وہ کسی سے اجازت نہیں لیتے اور دن دہاڑے لیے پھرتے ہیں۔ ”معتبر شہریوں“ کو حفاظت کے لئے اے کے47 کے پرمٹ دیئے جاتے ہیں اور وہ اپنی گاڑیوں سے بندوقوں کی نالیاں باہر نکالے پھرتے ہیں۔ آ جا کر رہ جاتا ہے شریف شہری تو اسے بس اتنی اجازت ہے کہ بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لے اور اپنے مرنے کا انتظار کرے۔ حکومت کلاشنکوف کلچر روکنے کے بہانے بے شمار قانون سازی کرتی ہے اور یہ قانون شریف شہری پر لاگو ہوتا ہے جو بیچارہ ویسے ہی اپنی جان بچاتا پھر رہا ہے جبکہ یہ قانون ”معتبر شہری“ پر لاگو نہیں ہوتا کیونکہ انہیں اسلحہ پر پابندی کے باجود وزراء کے حکم اور کوٹے پر اسلحہ رکھنے کی اجازت مل جاتی ہے۔<br />
حکومت کو بھی پتہ ہے کہ اس کے قانون نافذ کرنے والے ادارے کتنے پانی میں ہیں۔ میرے خیال میں(جوکہ غلط بھی ہو سکتا ہے) جب تک ادارے بہتر اور جرائم پیشہ لوگوں کی طاقت ختم نہیں ہو جاتی کم از کم تب تک تو شریف شہری کو دفاع ذات کا حق دیا جائے اور ہر شریف شہری کو اپنی حفاظت کے لئے اسلحہ رکھنے کی تربیت اور اجازت دی جانی چاہئے تاکہ عوام میں طاقت کا توازن برقرار رہنے سے امن امان کی صورت حال بہتر رہ سکے۔ ویسے بھی اگر حکومت قانون بنانے کے بہتر طریقہ پر چلے تو اس کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ موجودہ حالات میں شریف شہری کو اپنی حفاظت کے لئے اسلحہ رکھنے کی اجازت ہونی چاہئے۔</p>
<p>اسی تحریر کی مناسبت سے دو لنک ۔<br />
<a href="http://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1100937753&amp;Issue=NP_KHI&amp;Date=20100512" target="_blank">اوریا مقبول جان کا کالم</a><br />
<a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Gun_law" target="_blank">مختلف ممالک میں بندوق  کا قانون</a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/self-defence-and-our-legislation/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>8</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جعلی لائسنس یا سرکاری ملازمین کا فراڈ</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/gujrat-15000-arms-licence-scandal/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/gujrat-15000-arms-licence-scandal/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 05 Dec 2010 01:06:02 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[متفرقات]]></category>
		<category><![CDATA[15000 fake licence]]></category>
		<category><![CDATA[15000 جعلی اسلحہ لائسنس]]></category>
		<category><![CDATA[15000 جعلی لائسنس]]></category>
		<category><![CDATA[gujrat]]></category>
		<category><![CDATA[gujrat arms fake licence]]></category>
		<category><![CDATA[gujrat arms licence scandal]]></category>
		<category><![CDATA[gujrat district govt]]></category>
		<category><![CDATA[gujrat fake licence]]></category>
		<category><![CDATA[gujrat licence scandal]]></category>
		<category><![CDATA[gujrat pakistan licence scandal]]></category>
		<category><![CDATA[gujrat weapon licence scandal]]></category>
		<category><![CDATA[punjab govt]]></category>
		<category><![CDATA[جعلی اسلحہ لائسنس]]></category>
		<category><![CDATA[گجرات]]></category>
		<category><![CDATA[گجرات میں 15000 اسلحہ لائسنس]]></category>
		<category><![CDATA[گجرات میں جعلی اسلحہ لائسنس]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.mbilalm.com/blog/?p=605</guid>
		<description><![CDATA[مجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہ لائسنس جعلی کیسے ہوے؟ لائسنس جاری ہوئے تو حکومتی ادارے سے ڈی سی او کی مہر و دستخط کے ساتھ سرکاری ملازمین کے ہاتھوں جاری ہوئے، پیسے کھائے تو سرکاری ملازمین نے کھائے۔ اب ایک عام شہری کو کیا پتہ اور پتہ چل بھی نہیں سکتا کہ اندر کھاتے سرکاری ملازمین کیا گل کھلا رہے ہیں۔ عام شہری تو اپنے جان و مال کی حفاظت کے لئے اسلحہ کا لائسنس بنوانے سرکاری دفتر جاتا ہے، فیس ادا کرتا ہے اور لائسنس حاصل کرتا ہے۔ بعد میں حکومت اعلان کرتی ہے کہ ہم آپ کے لائسنس منسوخ کرتے ہیں کیونکہ ہم نے جو بندے لائسنس بنانے کے لئے رکھے ہوئے تھے وہ دھوکے باز نکلے اور پیسے کھا گئے ہیں۔ کوئی ان پندرہ ہزار لوگوں کو بتائے کہ ان کا اس میں کیا قصور ہے؟]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
گجرات ویسے تو کوئی بہت بڑا شہر نہیں لیکن سیاست کے حوالے سے ہمیشہ اخبار کی سرخیوں میں نمایا جگہ حاصل کرتا ہے۔ اس کے علاوہ گجرات میں بہت بڑی فین انڈسٹری ہے اور نشان حیدر حاصل کرنے والوں میں سے تین کا تعلق بھی ضلع گجرات سے ہے۔ ضلع گجرات کا زیادہ رقبہ زرعی ہے اور یہاں کے دیہاتی لوگ کھیتی باڑی کے علاوہ مال مویشی بھی پالتے ہیں۔ مال مویشی عام طور پر آبادی سے دور ویرانے میں جسے مقامی لوگ ”ڈیرہ“ کہتے ہیں وہاں رکھتے ہیں اور رات کو حفاظت کے لئے کم از کم ایک بندہ ان کے پاس ضرور ہوتا ہے اور عام طور پر حفاظتی اقدام کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس بندے کو اپنے پاس اسلحہ رکھنا مجبوری ہے۔ یہ تو تھا گجرات کا بالکل  تھوڑا سا تعارف، اب میں اصل بات کی طرف چلتا ہوں۔<br />
 خبروں کے مطابق پچھلے دنوں گجرات میں تقریباً پندرہ ہزار (15000) ”جعلی اسلحہ لائسنس“ پکڑے گئے ہیں۔ پاکستان میں آج کل جیسی خبریں گردش میں ہیں اور اوپر سے وکی لیکس نےتو اخبار میں کوئی جگہ چھوڑی نہیں کہ جہاں کوئی اور خبر آ سکے وہاں ایک شہر کی یہ خبر عام سی بن جاتی ہے۔ ویسے بھی اعلیٰ عہدیداران کے لئے یہ خبر عام ہی ہے لیکن ان پندرہ ہزار لوگوں کے لئے یہ خبر بہت اہمیت رکھتی ہے جن کے اسلحہ لائسنس ”جعلی“ نکلے ہیں۔<br />
ہوا کچھ یوں کہ گجرات اسلحہ برانچ کے عملے نے اسلحہ لائسنس کے ریکارڈ والے اصل رجسٹر کے علاوہ ایک علیحدہ متوازی رجسٹر بنا رکھا تھا۔ جب کوئی اسلحہ لائسنس حاصل کرنے کے لئے اسلحہ برانچ جاتا تو عملہ فیس لے کر اسلحہ لائسنس کا اجرا کر دیتا اور اندراج اصل رجسٹر کی بجائے متوازی رجسٹر میں کرتا۔ جس سے ریکارڈ سرکار کی نظر میں نہ جاتا اور لائسنس کی فیس قومی خزانے میں جمع کرانے کی بجائے عملہ خود ہضم کرتا  رہا۔ فیس جمع نہ ہونے سے پنجاب حکومت کوتقریباً بارہ کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ جب کوئی لائسنس کے اصلی ہونے کی تصدیق کے لئے اسلحہ برانچ سے رابطہ کرتا تو وہی عملہ لائسنس کے اصلی ہونے کی بھی تصدیق کر دیتا۔ اس سکینڈل کےپکڑے جانے پر پنجاب حکومت نے انکوائری بیٹھا دی۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ متوازی ریکارڈ والے 15000لائسنس ”جعلی“ ہیں اور صوبائی حکومت انہیں منسوخ کر دے گی۔ اس سکینڈل کی اخباروں میں جو سرخیاں لگیں ان میں کہا گیا ہے کہ گجرات میں ”جعلی“ اسلحہ لائسنس پکڑے گئے ہیں۔<br />
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہ لائسنس جعلی کیسے ہوے؟ لائسنس جاری ہوئے تو حکومتی ادارے سے ڈی سی او کی مہر و دستخط کے ساتھ سرکاری ملازمین کے ہاتھوں جاری ہوئے، پیسے کھائے تو سرکاری ملازمین نے کھائے۔ اب ایک عام شہری کو کیا پتہ اور پتہ چل بھی نہیں سکتا کہ اندر کھاتے سرکاری ملازمین کیا گل کھلا رہے ہیں۔ عام شہری تو اپنے جان و مال کی حفاظت کے لئے اسلحہ کا لائسنس بنوانے سرکاری دفتر جاتا ہے، فیس ادا کرتا ہے اور لائسنس حاصل کرتا ہے۔ بعد میں حکومت اعلان کرتی ہے کہ ہم آپ کے لائسنس منسوخ کرتے ہیں کیونکہ ہم نے جو بندے لائسنس بنانے کے لئے رکھے ہوئے تھے وہ دھوکے باز نکلے اور پیسے کھا گئے ہیں۔ کوئی ان پندرہ ہزار لوگوں کو بتائے کہ ان کا اس میں کیا قصور ہے؟<br />
اب عام شہری کہاں جائے؟ جس نے لائسنس کی تقریبا سات سے آٹھ ہزار روپے فیس ادا کی تھی، پھر ڈاکخانہ میں انداراج کروایا تھا اور پھر اس لئے اسلحہ خریدا کہ اس کے پاس لائسنس موجود ہے۔ اب فی بندے کے پاس جو واحد اسلحہ ہو گا وہ کم از کم دس ہزار روپے کا تو ہو گا۔ کئی تو اب تک دو دفعہ لائسنس کو ڈاکخانہ سے رینیو(Renew) کروا چکے ہوں گے جس کی فیس ایک ہزار روپے ہے۔ یوں ایک بندے نے تقریباً بیس ہزار خرچہ کیا  ہے اور ٹوٹل تقریباً تیس کروڑ روپے بنتے ہیں۔ اب حکومت اگر متوازی ریکارڈ والے لائسنس منسوخ کرتی ہے تو پھر ان لائسنس پر جاری ہونے والا اسلحہ بھی ضبط کرے گی۔ اچھا اسلحہ تو افسران پی جائیں گے اور سرکاری مال خانے کچرا ہی پہنچے گا۔ اس سب کو چھوڑ کر بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسی صورت میں عوام کا پیسہ کون دے گا؟<br />
ویسے اس کی بہتر صورت تو یہی ہے کہ حکومت اپنے دھوکہ باز ملازمین سے پیسا نکلوائے، متوازی رجسٹر سے اصل رجسٹر پر ریکارڈ منتقل کرے اور عام شہری کو تنگ نہ کرے کیونکہ یہ لائسنس جعلی نہیں بلکہ سرکاری ملازمین  سرکار سے  فراڈ کر گئے ہیں۔ اس میں ان پندرہ ہزار لوگوں کا کوئی قصور نہیں جنہوں نے اسلحہ برانچ سے لائسنس حاصل کیے تھے بلکہ ان افسران کا قصور ہے جن کے دفتر میں اتنا بڑا فراڈ ہو رہا تھا اور وہ ٹھنڈی مشینوں کے آگے بیٹھے آرام فرما رہے تھے۔ ویسے یہ فراڈ آج کل میں نہیں ہوا بلکہ پچھلے دو سال سے جاری تھا اور حکومت کو اب جا کر پتہ چلا ہے یا پھر حکومت تماشہ دیکھ رہی تھی اور اگر لائسنس منسوخ کرتی ہے تو پندرہ ہزار شہریوں کو تماشہ بنا دے گی۔</p>
<p>خبروں کا حوالہ<br />
<a target="_blank" href="http://dunyanews.tv/index.php?key=Q2F0SUQ9OCNOaWQ9MTc2NDYjTGFuZz11cmR1">دنیا نیوز</a>، <a target="_blank" href="http://www.sananews.net/urdu/archives/28920">ثناء</a> ، <a target="_blank" href="http://shaanegujrat.com/gujrat-news/15000-fake-arms-licenses-have-been-captured-from-gujrat-caused-loss-worth-millions-gujrat-fake-arms-licenses/46,1100">شانِ گجرات (لوکل)1</a>، <a target="_blank" href="http://www.shanegujrat.com/gujrat-news/gujrat-licence-scandal-15000-fake-arms-licenses-cause-millions-of-loss-punjab-govt-inquiry-rana-sana-ullah-khan/46,1143">شانِ گجرات (لوکل)2</a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/gujrat-15000-arms-licence-scandal/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>9</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>مقصد برائی لیکن وہ مخلص ہیں</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/misdeed-but-sincere/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/misdeed-but-sincere/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 26 Oct 2010 22:26:43 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[misdeed]]></category>
		<category><![CDATA[misdeed but sincere]]></category>
		<category><![CDATA[sincere]]></category>
		<category><![CDATA[wrong goal]]></category>
		<category><![CDATA[wrong goal but sincere]]></category>
		<category><![CDATA[اچھائی کے لئے جدوجہد]]></category>
		<category><![CDATA[جاگو پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جدوجہد]]></category>
		<category><![CDATA[رشوت]]></category>
		<category><![CDATA[سفارش]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست دان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاستدان]]></category>
		<category><![CDATA[مقصد برائی لیکن مخلص]]></category>
		<category><![CDATA[مقصد برائی لیکن وہ مخلص ہیں]]></category>
		<category><![CDATA[نظام کی خرابی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارے حکمران]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.mbilalm.com/blog/?p=563</guid>
		<description><![CDATA[آپ خود سوچو! ان خراب حکمرانوں سے نجات حاصل کرنے یا نظام کی بہتری کے لئے  ہم نے ان کا مقابلہ کرنے یا اچھائی کے لئے کیا کیا؟  ہم بڑی آسانی سے حکمرانوں کو قصوروار کہہ کر پھر اپنی دنیا میں مست ہو جاتے ہیں۔ تھوڑا سا سوچو! یہی ہمارے حکمران جنہیں ہم نالائق کہتے ہیں لیکن وہ اپنے کام اور مقصد کے لئے ہم سے زیادہ محنت کرتے ہیں۔ اب ان کا کام اور مقصد ہی برائی کرنا ہے تو وہ برائی کرنے کے لئے کیا کیا نہیں کرتے۔ بچپن سے لے کر مرنے تک دشمن کے ڈر اور خوف میں رہتے ہیں۔ میڈیا سے بچتے بچاتے اپنا کام کرتے ہیں۔ کئی کئی سال جیلوں میں گذارتے ہیں۔ اپنے مقصد کے لئے اپنے رشتہ داروں کو گنواتے ہیں۔سوچ سوچ کر پلان بناتے ہوئے پاگل ہو جاتے ہیں۔ راتوں کو جاگ جاگ کر میٹنگز کرتے ہیں۔ اپنے مقصد کے لئے دن رات لوگوں سے ملتے ہیں۔ کسی کو توڑتے ہیں تو کسی کو اپنے ساتھ جوڑتے ہیں۔ اپنے مقصد کے لئے انہوں نے ایک منظم گروہ تیار کر رکھا ہے۔ ایک مرتا ہے تو اس کا بیٹا، بیٹی یا دیگر کوئی وارث اس کی جگہ لے کر اپنے کام کو مزید آگے بڑھاتا ہے۔63 سال ہو گئے لیکن ان کی جدوجہد آج بھی جاری ہے۔ اپنے جیسوں کا بڑا برا انجام دیکھ کر بھی ان کی ہمت میں کمی نہیں آئی۔ بے شک ان کا مقصد برائی ہے لیکن وہ اپنے مقصد کے ساتھ مخلص ضرور ہیں۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
ہمارے معاشرے کی اکثریت نظام کی خرابی کا سہرا حکمرانوں کے سر سجاتے ہیں۔ ٹھیک ہے ہمارے حکمران بھی ”ہماری“ طرح خراب ہیں۔ بالکل ایسا ہی ہے جی ”ہماری طرح“۔ حکمران نہ تو کسی دوسرے سیارے سے آئے ہیں اور نہ ہی کوئی دوسری مخلوق ہیں۔ وہ بھی ہمارے ہی ”لگدے لائی دے“ ہیں۔ کبھی ہم نے غور کیا کہ اگر حکمران ٹھیک نہیں تو ہم کتنے ٹھیک ہیں؟ آج چھوٹی سی بات ہو ہم سفارش کروانے اور رشوت دینے کے لئے سب سے آگے ہوتے ہیں۔ یوں سفارش منظور کرنے والے اور رشوت لینے والے بھی تو اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ بلکہ میں تو کہوں گا وہ ہم سے بہتر کام کرنے والے اور اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی جدوجہد کرنے والے ہیں۔<br />
آپ خود سوچو! ان خراب حکمرانوں سے نجات حاصل کرنے یا نظام کی بہتری کے لئے  ہم نے ان کا مقابلہ کرنے یا اچھائی کے لئے کیا کیا؟  ہم بڑی آسانی سے حکمرانوں کو قصوروار کہہ کر پھر اپنی دنیا میں مست ہو جاتے ہیں۔ تھوڑا سا سوچو! یہی ہمارے حکمران جنہیں ہم نالائق کہتے ہیں لیکن وہ اپنے کام اور مقصد کے لئے ہم سے زیادہ محنت کرتے ہیں۔ اب ان کا کام اور مقصد ہی برائی کرنا ہے تو وہ برائی کرنے کے لئے کیا کیا نہیں کرتے۔ بچپن سے لے کر مرنے تک دشمن کے ڈر اور خوف میں رہتے ہیں۔ میڈیا سے بچتے بچاتے اپنا کام کرتے ہیں۔ کئی کئی سال جیلوں میں گذارتے ہیں۔ اپنے مقصد کے لئے اپنے رشتہ داروں کو گنواتے ہیں۔سوچ سوچ کر پلان بناتے ہوئے پاگل ہو جاتے ہیں۔ راتوں کو جاگ جاگ کر میٹنگز کرتے ہیں۔ اپنے مقصد کے لئے دن رات لوگوں سے ملتے ہیں۔ کسی کو توڑتے ہیں تو کسی کو اپنے ساتھ جوڑتے ہیں۔ اپنے مقصد کے لئے انہوں نے ایک منظم گروہ تیار کر رکھا ہے۔ ایک مرتا ہے تو اس کا بیٹا، بیٹی یا دیگر کوئی وارث اس کی جگہ لے کر اپنے کام کو مزید آگے بڑھاتا ہے۔63 سال ہو گئے لیکن ان کی جدوجہد آج بھی جاری ہے۔ اپنے جیسوں کا بڑا برا انجام دیکھ کر بھی ان کی ہمت میں کمی نہیں آئی۔ بے شک ان کا مقصد برائی ہے لیکن وہ اپنے مقصد کے ساتھ مخلص ضرور ہیں۔<br />
شاید آپ کو میری باتیں عجیب لگیں لیکن اچھے یا برے مقصد سے بالا تر ہو کر کبھی کسی سیاست دان کی زندگی کا تھوڑا قریب سے تجزیہ کیجئے گا۔ پھر آپ کو پتہ چلے گا کہ وہ اپنے مقصد کے لئے کتنی محنت اور کیسی کیسی قربانی دیتے ہیں۔ تب آپ کو پتہ چلے گا کہ دوسری طرف ہم جیسی عوام کتنے پانی میں ہے۔ ہم نے ان کی برائی ختم کرنے کے لئے یعنی ان کے مقابلے میں اچھائی کے لئے کیا کیا؟ کیا ان جتنی لگن سے محنت کی؟ کیا ان جتنا کام کیا؟ وہ برائی کی خاطر ہر وقت خوف میں زندگی گزارتے ہیں اور ہم خوف آنے کے ڈر سے اچھائی ہی نہیں کرتے۔وہ برائی کے لئے میڈیا سے بچتے ہیں اور ہم اچھائی کے لئے گواہی تک نہیں دیتے۔ وہ برائی کے لئے جیل کاٹتے ہیں اور ہم جیل کے ڈر سےمست ملنگ بنے ہوئے ہیں۔وہ اپنے مقصد کی خاطر رشتہ دار تک گنوا دیتے ہیں اور ہم رشتہ داروں کی خاطر اچھائی نہیں کرتے۔ وہ کرسی کے لئے پلان بناتے ہیں اور ہمارے پاس کچھ بہتر کرنے کی سوچ تک نہیں آتی۔وہ راتوں کو جاگ جاگ کر میٹنگز کرتے ہیں اور ہم آرام سے خواب غفلت کی نیند سو رہے ہیں۔ وہ دن رات لوگوں کو اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کرتے ہوئے ایک منظم گروہ تیار کرتے ہیں اور ہم نے اچھائی کے لئے نہ خود کو جوڑا ہے اور نہ ان کو توڑا ہے اور سونے پر سہاگہ ہم پنجابی، سندھی، بلوچی اور پٹھان میں تقسیم ہوئے بیٹھے ہیں۔ ان میں ایک مرتا ہے تو دوسرا آ جاتا ہے اور ہم مرنے کے ڈر سے اچھائی ہی نہیں کرتے۔ان کی جدوجہد 63 سال سے جاری ہے اور ہم ان کا مقابلہ کرنے کے 63 منٹ بھی نہیں نکال سکتے۔ ان کا برا انجام بھی ہوتا ہے لیکن وہ ڈرتے نہیں جبکہ ہم اچھے انجام کے لئے کوشش تک نہیں کرتے۔<br />
کبھی خود سے سوال کرنا کہ دوسری طرف بیٹھے ہوئے بھیڑیوں کے مقابلے میں تم نے کیا کیا؟ بے شک ان کا مقصد درندگی ہے لیکن وہ اپنے مقصد کے ساتھ مخلص ضرور ہیں۔ شاید عوام کا مقصد اچھائی لانے کی کوشش ہے لیکن ہم اپنے مقصد کے ساتھ مخلص نہیں۔ یا پھر ان مٹھی بھر لوگوں کے مقابلے میں اتنی بڑی عوام میں اتنی عقل اور ہمت موجود نہیں اور یہ ہمارے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ ہم نظام کی بہتری کے لئے اتنے بڑے ہجوم سے چند لوگ بھی آگے نہیں لا پائے، جو ان جتنی سوچ، عقل اور ہمت رکھتے ہوں۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/misdeed-but-sincere/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>12</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>کیا ہم پینڈو انسان نہیں؟</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/villager-are-not-human/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/villager-are-not-human/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 23 Jun 2010 23:23:46 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[villager]]></category>
		<category><![CDATA[villager are not human]]></category>
		<category><![CDATA[دیہاتی]]></category>
		<category><![CDATA[شہری اور دیہاتی میں تفریق]]></category>
		<category><![CDATA[پینڈو]]></category>
		<category><![CDATA[کیا پینڈو انسان نہیں؟]]></category>
		<category><![CDATA[کیا ہم پینڈو انسان نہیں؟]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=326</guid>
		<description><![CDATA[جب کسی سے پوچھا جائے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ دیہات کو کم بجلی اور شہر کو زیادہ تو جواب ملتا ہے شہر میں انڈسٹری ہوتی ہے اور اگر اسے بجلی نہیں ملے گی تو انڈسٹری بند ہو جائے گی۔ شہری لوگ بجلی جانے اور گرمی لگنے پر گھر سے باہر نہیں نکل سکتے اس لئے ان کو بجلی زیادہ دی جاتی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی اگر شہر کو بجلی صرف ان دو وجوہات کی بنا پر زیادہ دی جاتی ہے تو ہم دیہاتی مٹی کے ساتھ مٹی ہو جاتے ہیں تو پھر کیا فصلوں کوآنسوؤں سے سیراب کریں؟ تیل کی قیمتیں آسمانوں کو چھو رہی ہیں آ جا کر بجلی سے چلنے والے ٹیوب ویل سے کام چلایا تو بجلی بھی ”ٹھس“۔اگر انڈسٹری کے بغیر گزارہ نہیں تو زرعی ملک میں زراعت کے بغیر گزارہ کیسے ہو گا؟ میں مانتا ہوں انڈسٹری کے بغیر گزارہ نہیں لیکن کیا زراعت کے بغیر گزارہ ممکن ہے؟ کیا ہم دیہاتی گرمی لگنے پر باہر فصلوں میں جا بیٹھیں؟ کیا ہمارے بچوں کو گرمی نہیں لگتی؟ کیا ہمارا کوئی حق نہیں کہ ہمارے بچے پنکھوں کے نیچے بیٹھ کر پڑھ سکیں؟ کیا ہمیں سستی بجلی دیتے ہو جو ساری ساری رات بند رکھتے ہو؟کیا ہم ٹیکس نہیں دیتے؟ کیا ہمیں ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں؟ کیا ٹھنڈا پانی پینے سے ہمارے پیٹ خراب ہو جاتے ہیں؟اوئے بتاؤ ہمیں بتاؤ کیا ہم جانور ہیں؟ کیا ہم انسان نہیں؟ کیا ہم پاکستانی نہیں؟ سیاست دانو جواب دو تم کیسے پاکستانیوں کی اتنی بڑی تعداد کو صرف دیہاتی کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہو؟]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
سننے میں آیا ہے کہ پاکستان کی ستر فیصد آبادی چلو اس سے کم سہی لیکن نصف سے زیادہ ضرور ہے اور وہ  دیہی علاقوں میں رہتی ہے یعنی ”پینڈو“ ہے۔ میں بھی ایک پینڈو ہوں۔<br />
مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آتی کہ شہریوں کو زیادہ حقوق اور دیہاتیوں کو کم کیوں؟ کیا ہم دیہاتی انسان نہیں ہوتے؟ ایک بات واضح کر دوں کہ تمام پاکستانی شہری میرے لئے محترم ہیں اور میں ان کی اتنی ہی قدر کرتا ہوں جتنی میں دیہاتیوں کی کرتا ہوں۔ یہاں بات قدر یا عزت کی نہیں بلکہ اپنے حق کی ہے اور میں اپنے حق کا مطالبہ کسی عام شہری سے نہیں بلکہ صاحبِ اختیار لوگوں سے کر رہا ہوں۔ عام شہری سے تو گذارش ہے کہ جہاں آپ اپنے حق کے لئے آواز اٹھاؤ وہاں اپنے دیہاتی بھائیوں کو بھی یاد رکھو۔<br />
واپس اپنے موضوع کی طرف آتا ہوں کہ کیا ہم دیہاتی انسان نہیں؟ یہ خیال میرے ذہن میں اس لئے آیا کہ یہاں میرے گاؤں میں شام سات بجے کی بجلی بند ہے اور ابھی بھی بند ہے۔تقریبا 2 بجے کے قریب ایک بار آئی ۔ 30منٹ رہی اور پھر اللہ کو پیاری ہو گئی۔ ہمارے گاؤں سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا شہر جلالپورجٹاں ہے۔ اگر ہم اپنے چھت پر جائیں تو شہر کی بتیاں نظر آتی ہیں۔ ابھی بجلی نے ”مت ماری“ تو میں صحن میں گیا اور پھر سوچا چھت پر جا کر دیکھتا ہوں کہ شہر کی بجلی ہے یا نہیں۔ معلوم ہوا کہ شہر میں بجلی ہے اور یہ عذاب صرف دیہاتیوں کے لئے ہے۔ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا بلکہ اکثر بھی نہیں بلکہ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے۔ یہ بات آپ بھی اچھی طرح جانتے ہوں گے۔ خیر نیچے آیا لیپ ٹاپ آن کیا اور پھر کیا ؟ پھر یہ تحریر لکھ رہا ہوں۔<br />
جب کسی سے پوچھا جائے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ دیہات کو کم بجلی اور شہر کو زیادہ تو جواب ملتا ہے شہر میں انڈسٹری ہوتی ہے اور اگر اسے بجلی نہیں ملے گی تو انڈسٹری بند ہو جائے گی۔ شہری لوگ بجلی جانے اور گرمی لگنے پر گھر سے باہر نہیں نکل سکتے اس لئے ان کو بجلی زیادہ دی جاتی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی اگر شہر کو بجلی صرف ان دو وجوہات کی بنا پر زیادہ دی جاتی ہے تو ہم دیہاتی مٹی کے ساتھ مٹی ہو جاتے ہیں تو پھر کیا فصلوں کوآنسوؤں سے سیراب کریں؟ تیل کی قیمتیں آسمانوں کو چھو رہی ہیں آ جا کر بجلی سے چلنے والے ٹیوب ویل سے کام چلایا تو بجلی بھی ”ٹھس“۔اگر انڈسٹری کے بغیر گزارہ نہیں تو زرعی ملک میں زراعت کے بغیر گزارہ کیسے ہو گا؟ میں مانتا ہوں انڈسٹری کے بغیر گزارہ نہیں لیکن کیا زراعت کے بغیر گزارہ ممکن ہے؟ کیا ہم دیہاتی گرمی لگنے پر باہر فصلوں میں جا بیٹھیں؟ کیا ہمارے بچوں کو گرمی نہیں لگتی؟ کیا ہمارا کوئی حق نہیں کہ ہمارے بچے پنکھوں کے نیچے بیٹھ کر پڑھ سکیں؟ کیا ہمیں سستی بجلی دیتے ہو جو ساری ساری رات بند رکھتے ہو؟کیا ہم ٹیکس نہیں دیتے؟ کیا ہمیں ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں؟ کیا ٹھنڈا پانی پینے سے ہمارے پیٹ خراب ہو جاتے ہیں؟اوئے بتاؤ ہمیں بتاؤ کیا ہم جانور ہیں؟ کیا ہم انسان نہیں؟ کیا ہم پاکستانی نہیں؟ سیاست دانو جواب دو تم کیسے پاکستانیوں کی اتنی بڑی تعداد کو صرف دیہاتی کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہو؟<br />
صرف ایک بجلی کا مسئلہ نہیں ہر بات میں دیہاتیوں کے ساتھ اچھوتوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ مانا کہ ایک دیہات کی آبادی کم ہوتی اس لئے اس کو ساری سہولیات نہیں دی جاسکتی۔لیکن کچھ دیہات ملا کر مشترکہ سہولت تو دی جا سکتی ہے۔ جیسے سکول، کالجز اور ہسپتال وغیرہ۔ ہوتا کیا ہے کہ سکول اور ہسپتال بنائے تو جاتے ہیں لیکن پھر استاد اور ڈاکٹر صاحب غائب۔ کیونکہ ان کو لگتا ہے یہ پینڈو لوگ ہیں ان کو تعلیم اور صحت کی کیا ضرورت۔ حکومت دیہات سے زیادہ شہری سکول و کالجز اور ہسپتالوں کی نگرانی کرتی ہے لیکن دیہات کو دیہات سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ میں مانتا ہوں کہ دیہات میں شہر جتنی سہولیات نہیں دی جا سکتیں لیکن جب چند دیہاتوں کو ملا کر شہر جتنی آبادی ہو جائے پھر تو سکول، کالج اور ہسپتال شہر جیسے ہونے چاہئیں۔ ہم دور دراز سفر کرنے کو تیار ہیں لیکن ہمیں بھی تعلیم اور صحت کا ویسا ہی معیار ملنا چاہئے جیسا شہری بابو کو ملتا ہے۔ یہاں ہمارے ساتھ والے گاؤں میں ہائی سکول ہے اور شہر میں بھی ہائی سکول ہے۔ دونوں میں طلباء کی تعداد میں کوئی خاص فرق نہیں لیکن شہر کے سکول کا معیار اور ہے اور گاؤں کے سکول کا معیار اور۔ جو تھوڑے بہت اچھے استاد ہیں وہ سب شہر کے سکول میں ہیں اور جو سارا دن حقہ پینے والا بندہ ہے وہ گاؤں کے سکول میں استاد ہے اور وہ سارا دن بچوں کو اسی کام لگائے رکھتا ہے۔میں مانتا ہوں چھوٹی جگہ پر چھوٹے پیمانے پر اور بڑی جگہ  پر بڑے پیمانے پر کام ہوتا ہے۔ اب ہر گاؤں میں یونیورسٹی تو نہیں بن سکتی لیکن بالکل بنیادی سہولیات تو بغیر کسی تفریق کے  ملنی چاہئیں۔شہرمیں رہنے والے کو گرمی لگتی ہے تو گاؤں میں رہنے والے کو بھی لگتی ہے۔ شہری بچے کو تعلیم کا حق ہے تو دیہاتی بچے کو بھی اتنا ہی حق ہے۔ ہم دور دراز سفر کرنے کو تیار ہیں۔ ہم پینڈو کہلوانے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے لیکن خدا کے لئے ہمیں مساوی حقوق دیئے جائیں۔ پہلے ہی پیارے پاکستان میں لوگ تفرقوں میں تقسیم ہیں، کوئی صوبہ مانگ رہا ہے تو کوئی ملک۔ کوئی پنجابی کی صدا لگا رہا ہے تو کوئی سندھی کی، کوئی پاکستانی سے زیادہ بلوچی کہلوانا پسند کرتا ہے تو کوئی ہزاروی۔ اس سے پہلے کہ شہری اور پینڈو کی صدائیں بھی بلند ہونا شروع ہو جائیں۔ خدا کے لئے عوام کو پاکستانی بناؤ اور ہم جیسے پینڈو لوگوں کو بھی انسان اور پاکستانی سمجھو۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/villager-are-not-human/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>12</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>دور حاضر میں بے شمار مسائل اور بیماریوں کی جڑ</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/load-shading-and-pakistani-nation/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/load-shading-and-pakistani-nation/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 25 Apr 2010 13:50:55 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[load shading and pakistani nation]]></category>
		<category><![CDATA[load-shading]]></category>
		<category><![CDATA[load-shading-and-pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[لوڈ شیڈنگ]]></category>
		<category><![CDATA[لوڈ شیڈنگ اور بیمار عوام]]></category>
		<category><![CDATA[لوڈ شیڈنگ اور نفسیاتی مریض]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=230</guid>
		<description><![CDATA[اللہ نہ کرے جب کسی انسان کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جائے تو وہ کئی لحاظ سے بے بس ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں انرجی کسی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ آج ہمارے ملک کی ریڑھ کی ہڈی بُری طرح ٹوٹے ہوئے بھی ایک عرصہ ہونے کو ہے لیکن ہمارے حکمران کرسی بچانے کے چکر میں اس مرض کا علاج کرنے کی بجائے عام کو جھوٹے دلاسے اور جھوٹے سرکاری بیان دیتے رہتے ہیں۔ انہیں بیانات اور اشتہارات پر غریب عوام کا بے شمار پیسا لگا دیا گیا ہے۔ اگر یہی پیسا اپنی واہ واہ بنانے کی بجائے کسی کام پر لگایا جاتا تو آج ہمارے حالات بالکل ٹھیک نہ سہی لیکن کم از کم آج جیسے نہ ہوتے۔
ہمیں جھوٹے دلاسے دینے والے، ہمیں بجلی کم استعمال کرنے کا کہنے والے خود آرام سے عیاشی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ جن کے گھروں اور دفتروں میں بڑے بڑے جنریٹر اور یو پی ایس لگے ہیں۔ جو جہاں جائیں وہاں بجلی بند نہیں ہوتی چاہے وہ نتھیا گلی ہی کیوں نہ ہو۔ ہمارے ٹیکسوں اور ہمارے خون پسینے کی کمائی سے ہمارے نوکر ہمیں ہی ذلت کی زندگی دے رہے ہیں۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
	اللہ نہ کرے جب کسی انسان کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جائے تو وہ کئی لحاظ سے بے بس ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں انرجی کسی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ آج ہمارے ملک کی ریڑھ کی ہڈی بُری طرح ٹوٹے ہوئے بھی ایک عرصہ ہونے کو ہے لیکن ہمارے حکمران کرسی بچانے کے چکر میں اس مرض کا علاج کرنے کی بجائے عوام کو جھوٹے دلاسے اور جھوٹے سرکاری بیان دیتے رہتے ہیں۔ انہیں بیانات اور اشتہارات پر غریب عوام کا بے شمار پیسا لگا دیا گیا ہے۔ اگر یہی پیسا اپنی واہ واہ بنانے کی بجائے کسی کام پر لگایا جاتا تو آج ہمارے حالات بالکل ٹھیک نہ سہی لیکن کم از کم آج جیسے نہ ہوتے۔<br />
	لوڈ شیڈنگ یعنی بجلی کا بحران ایک ایسا مرض ہے جو عوام کی زندگی کو ”الف“ سے لے کر ”ے“ تک متاثر کر رہا ہے۔ اس سے پوری قوم نفسیاتی مریض بنتی جا رہی ہے۔ جس کی مثالیں آپ کو جگہ جگہ ملیں گی۔ تمام شعبہ ہائے زندگی برباد ہورہےہیں۔ طالب علم اپنی جگہ پریشان ہے تو صنعتکار اپنی جگہ۔ فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، غریب مزدور فاقوں پر مجبور ہورہا ہے۔ جو کام گھنٹوں میں ہو جاتے تھے وہ دنوں میں بھی نہیں ہو رہے۔ ساری ساری رات مچھر سے گانے سننے کے ساتھ ساتھ ایک عجیب سی کوفت میں رات جاگ کر گزارنے والے طالب علم دن کو کیا خاک پڑھائی کریں گے۔ اسی طرح مزدور دن کو مزدوری کرے گا یا اپنی نیند پوری کرے گا۔ اسی طرح ہر شعبہ ہائے زندگی کا حال ہے۔ آپ جہاں دیکھو جدھر دیکھو ہر محفل میں ہر دفتر میں غرض ہر جگہ لوگ لوڈ شیڈنگ کی ہی باتیں کرتے ہیں اور اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں اور اندر ہی اندر لوڈ شیڈنگ کی وجوہات کو کوستے ہیں۔ یہ عجیب سی کیفیت ذہنی مریض بنانے کے لئے کافی ہے۔<br />
	ذرا سوچئے! نیند کی کمی، ذہنی الجھن، روزگار میں کمی، پیسے کی مشکلات، فاقوں کا ڈر، پروڈکشن میں کمی، منٹوں کا کام دنوں میں اور سست رفتاری وغیرہ وغیرہ۔ کیا یہ چھوٹی سی مصیبتیں ہیں؟ نہیں۔ بلکہ آج کے دور میں یہ کسی عذاب سے کم نہیں۔ ہم نہ چاہتے ہوئے بھی بے شمار بیماریوں اور مسائل کو گلے لگانے پر مجبور ہیں۔ ہمارا مستقبل دن بدن تاریک سے تاریک تر ہو رہا ہے۔ ہماری پوری ایک نسل نفسیاتی مریض بن رہی ہے۔ ہمیں کمر کسنے کا کہنے والے، ہمیں جھوٹے دلاسے دینے والے، ہمیں بجلی کم استعمال کرنے کا کہنے والے خود آرام سے عیاشی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ جن کے گھروں اور دفتروں میں بڑے بڑے جنریٹر اور یو پی ایس لگے ہیں۔ جو جہاں جائیں وہاں بجلی بند نہیں ہوتی چاہے وہ نتھیا گلی ہی کیوں نہ ہو۔ ہمارے ٹیکسوں اور ہمارے خون پسینے کی کمائی سے ہمارے نوکر ہمیں ہی ذلت کی زندگی دے رہے ہیں۔<br />
	اور ایک ہم عوام ہیں جو بجلی جانے پر واپڈا و دیگر حکام کو چند گالیاں اور برا بھلا کہہ کر اندر ہی اندر جلتے اور تڑپتے رہتے ہیں لیکن کوئی انقلابی قدم نہیں اٹھاتے۔ خود تو سوچتے ہیں اور عجیب عجیب سوچ کر خود کو نفسیاتی مریض تو بنا رہے ہیں لیکن جب آواز بلند کرنے یا کام کا وقت آتا ہے تو چپ کر جاتے ہیں۔<br />
	میں اپنی اس تحریر کے ذریعے اپنے ہم وطن پاکستانیوں کو دعوتِ فکر دیتا ہوں کہ وہ ذرا اپنے گھر اور گردونواح کے لوگوں کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ اس لوڈشیڈنگ کی وجہ سے وہ خود اور باقی لوگ کن کن بیماریوں اور مسائل کی وجہ سے آہستہ آہستہ اس زہر سے موت کی آغوش میں جا رہے ہیں۔ آخر پر بس اتنا کہوں گا کہ جاگو پاکستانی جاگو! اور دیکھو کہ آج کے دور میں یہ لوڈ شیڈنگ بے شمار بیماریوں اور مسائل کی جڑ ہے اور یہ کس طرح پوری ایک نسل کو نفسیاتی مریض بنا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/load-shading-and-pakistani-nation/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>11</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جاگو، جگاؤ اور دنیا پہ چھا جاؤ</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/wake-up-pakistan-1/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/wake-up-pakistan-1/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 18 Feb 2010 13:23:32 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[jago Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[wake up Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[wakeup]]></category>
		<category><![CDATA[جاگو]]></category>
		<category><![CDATA[جاگو پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جاگو، جگاؤ اور دنیا پہ چھا جاؤ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=166</guid>
		<description><![CDATA[یہ چھوٹی اور عام سی مثال اس لئے دی ہے کہ ہم عام لوگ ہیں اور ہمارا بس بھی ان عام اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر چلتا ہے۔ جب یہ عام لوگ ہی بڑے لوگ بنتے ہیں تو بس بھی بڑی بڑی باتوں پر چلتا ہے اور پھر کرپشن اور دیگر برائیاں بھی بڑی ہو جاتی ہیں۔ ہم میں اور صاحبِ اقتدار میں فرق صرف چھوٹے اور بڑے پیمانے کا ہے۔ ہمارے پیمانے میں تھوڑی شراب آتی ہے تو ہم تھوڑی پیتے ہیں اور صاحبِ اقتدار کے پیمانے میں زیادہ آتی ہے تو وہ زیادہ پیتا ہے۔ فرق صرف پیمانے کا ہے ورنہ ہم ہیں ایک جیسے ہی۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
&nbsp;&nbsp;&nbsp; &#8220;حکومت ٹھیک ہو تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔&#8221; اس جیسے فقرات اکثر سننے کو ملتے ہیں۔ بات تو ٹھیک ہے کہ حکومت ٹھیک ہو تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا اور ہر لحاظ سے ایک بہترین معاشرہ وجود میں آئے گا۔ پہلی بات کہ شاید ہم یہاں یہ بھول جاتے ہیں کہ خراب چیزیں کبھی خود بخود ٹھیک نہیں ہوتیں۔ دوسرا شاید ہم یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ جیسی عوام ہوتی ہے ویسے حکمران ہوتے ہیں۔ اگر ہم تھوڑا سا اپنا تجزیہ کریں تو یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ ہماری اکثریت سوائے حکومت اور نظام کو کوسنے کے اور کچھ نہیں کرتی۔ جبکہ ہماری اکثریت خود اندر سے خراب ہو چکی ہے۔ ہر کوئی شارٹ کٹ اور &#8220;یگاڑ&#8221; لگانے کے چکر میں ہے۔ اخلاقی قدروں کا دور دور تک نام و نشان نہیں۔ یہاں چھوٹی سی مثال دینا چاہوں گا۔ اگر کسی کے موبائل پر غلطی سے کسی دوسرے کا لوڈ یعنی بیلنس آ جائے تو شاید ہی کوئی ہو گا جو اسے واپس کرے گا یا کرنے کا سوچے گا ورنہ اکثریت کا تو یہ حال ہے کہ شکر کریں گے کہ مفت کا مال ملا ہے۔ جبکہ اخلاقی قدروں کو دیکھا جائے تو کم از کم بیلنس واپس کرنے کی کوشش ضرور کرنی چاہیئے۔<br />
&nbsp;&nbsp;&nbsp; یہ چھوٹی اور عام سی مثال اس لئے دی ہے کہ ہم عام لوگ ہیں اور ہمارا بس بھی ان عام اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر چلتا ہے۔ جب یہ عام لوگ ہی بڑے لوگ بنتے ہیں تو بس بھی بڑی بڑی باتوں پر چلتا ہے اور پھر کرپشن اور دیگر برائیاں بھی بڑی ہو جاتی ہیں۔ ہم میں اور صاحبِ اقتدار میں فرق صرف چھوٹے اور بڑے پیمانے کا ہے۔ ہمارے پیمانے میں تھوڑی شراب آتی ہے تو ہم تھوڑی پیتے ہیں اور صاحبِ اقتدار کے پیمانے میں زیادہ آتی ہے تو وہ زیادہ پیتا ہے۔ فرق صرف پیمانے کا ہے ورنہ ہم ہیں ایک جیسے ہی۔<br />
&nbsp;&nbsp;&nbsp; اگر ہم چاہتے ہیں کہ نظام بہتر ہو۔ حق دار کو اس کا حق ملے، ہر کسی کو انصاف ملے تو سب سے پہلے ہمیں خود کو ٹھیک کرنا ہو گا۔ جب ہم حق داروں کو ان کا حق دیں گے، ہر کسی سے انصاف کریں گے اور سب سے بڑھ کر جب اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں گے تو نظام خود بخود ٹھیک ہونا شروع ہو جائے گا۔<br />
&nbsp;&nbsp;&nbsp; تاریخ گواہ ہے کہ جب برائی، ظلم و ستم، ناانصافی یعنی ہر طرف اندھیرے کا راج ہوتا ہے تو اس میں روشنی کی لئے دیا خود بخود روشن نہیں ہوتا بلکہ چند لوگوں کو ضرور خوابِ غفلت سے اٹھ کر آگے بڑ کر دیا جلانا پڑتا ہے۔<br />
&nbsp;&nbsp;&nbsp; اے میرے ہم وطنو! بہت نیند ہو چکی اب جاگو اور دوسروں کو بھی جگاؤ۔ قطرہ قطرہ ملا کر سمندر بنا ڈالو، آگے بڑھو! دوسروں کے لئے نہ سہی کم از کم اپنے حق کے لئے تو آواز بلند کرو۔ اب نہیں تو کب اٹھو گے؟ ہم نہیں تو پھر کون جاگے گا؟ اے پاکستان کے عام شہری تم بکریوں میں رہتے رہتے یہ بھول گئے ہو کہ تم شیر ہو۔ تم ایک عام شہری ہو اور عام شہری اچھائی کا وہ فولاد ہوتا ہے جس سے جو برائی ٹکراتی ہے وہ چکنا چور ہو جاتی ہے۔اے پاکستان کے شیرو سب برائی کے پیمانے توڑ ڈالو۔ سب سے پہلے خود کو اچھائی کا فولاد بناؤ اور پھر دوسروں کو بھی بکریوں سے نکالو، انہیں آئینہ دکھاؤ اور ان میں حقیقی شعور بیدار کرو کہ تم بکری نہیں، تم شیر ہو۔<br />
اے میرے وطن کے مظلومو! پل پل غربت کی چکی میں پسنے والو! قدم قدم پر اپنی خودی کی دھجیاں اڑتی دیکھنے والو! اٹھواپنے حق کے لئے آواز بلند کرو۔ اندھیرے کو کوسنے سے بہتر ہے کہ ایک دیا جلاؤ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ خوابِ غفلت سے جاگو، جگاؤ اور دنیا پہ چھا جاؤ۔</p>
<p>بقول شاعر<br />
کیا پوچھتے ہو یہ کیسی گھڑی ہے<br />
قیامت جیسی برسات کی جھڑی ہے</p>
<p>اپنی جان اپنا وطن بالکل آزاد ہے مگر<br />
عوام اک دوسرے کے پیچھے پڑی ہے</p>
<p>محبت کس کو کہتے ہیں بھول چکے<br />
موتیوں بغیر دیکھو خالی یہ لڑی ہے</p>
<p>کچھ ہمت کرو ساتھیو اٹھ کھڑے ہو<br />
بہت مشکل وقت کی یہ گھڑی ہے<br />
(ارمان سید)</p>
<p>جاری ہے۔۔۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/wake-up-pakistan-1/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>وہ بات ہی نہ کریں جس کو کرنے کا آپ میں دم نہیں</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/load-shading-energy-crisis-and-pakistani-minister/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/load-shading-energy-crisis-and-pakistani-minister/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 17 Feb 2010 14:15:48 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[energy crisis]]></category>
		<category><![CDATA[load-shading]]></category>
		<category><![CDATA[load-shading-and-pakistani-minister]]></category>
		<category><![CDATA[load-shading-in-pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[pakistani-minister]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی کا بحران]]></category>
		<category><![CDATA[لوڈ شیڈنگ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان میں بجلی کا بحران]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان میں لوڈ شیڈنگ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=157</guid>
		<description><![CDATA[حکومت اور ان کے درباریوں سے صرف ہم یہ کہتے ہیں کہ اب وہ دور نہیں رہا کہ آپ نے جو کہا عوام نے چپ چاپ سن لیا اور پھر کچھ عرصہ بعد بھول گئے۔ اب میڈیا بہت تیز ہو چکا ہے اور ساتھ ساتھ عوام کے ذہن بھی کچھ کچھ کام کرنا شروع ہو گئے جس کی وجہ سے اب یہ سچے جھوٹے وعدوں اور باتوں کو بھی یاد رکھتے ہیں۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
	دنیا کا ایک بہت عام اور سادہ سا قانون ہے کہ جو جتنے بڑے عہدے پر ہوتا ہے اس پر ذمہ داریاں بھی اتنی بڑی ہی ہوتی ہیں۔آپ کسی گھر کے سربراہ کو دیکھ لیں یا کسی بھی ادارے کے سربراہ یا باقی کام کرنے والوں کو۔ جو جتنی بڑی نوکری پر ہو گا اس پر ذمہ داریاں بھی اتنی بڑی ہوں گی۔ آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کسی کو بڑا عہدہ یا نوکری صرف اس لئے دی جاتی ہے کہ اس نے اس نوکری پر رہتے ہوئے بڑے کام اور بڑی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوتی ہیں۔<br />
	حاکمِ وقت ہونا ایک بہت بڑی نوکری اور بہت بڑا عہدہ ہوتا ہے۔ اس عام اور سادہ قانون کے تحت حاکمِ وقت پر بے شمار ذمہ داریاں ہوتی ہیں کیونکہ وہ کسی ملک وقوم کا سب سے بڑا نوکر ہوتا ہے۔ ایک عام انسان پر عام سی ذمہ داریاں ہوتی ہیں جبکہ حاکمِ وقت پر پورے ملک و قوم کی ذمہ داریاں ہوتی ہیں اس لئے حاکمِ وقت کو ایک ایک قدم پھونک کر رکھنا ہوتا ہے۔ ہر بات کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنا اور اپنے درباریوں سے مشورہ کرنا ہوتا ہے۔<br />
	ہم ایک ایسی عوام ہیں جو کبھی یہ سوچتے ہی نہیں کہ ہم پر ایک قوم بننے کی ذمہ داری بھی ہے اور اوپر سے سونے پر سہاگہ کہ ہمارے حکمران بھی ہماری طرح کے ہیں کہ وہ بھی کوئی کام کرنے یا بولنے سے پہلے ایک بار بھی نہیں سوچتے۔ ابھی چند ماہ پہلے غریب عوام کے پیسے سے لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے کے اشتہارات اخبارات میں چھاپے اور چھپوائے گئے۔ جن میں سب سے اوپر اپنی اور ساتھ ساتھ اپنے درباریوں کی تصاویر بھی تھیں۔ اشتہارات میں کہا گیا کہ دسمبر 2009 تک لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کر دیا جائے گا یا پھر بڑی حد تک قابو پا لیا جائے گا۔ اسی طرح کے بے شمار بیانات بھی پڑھنے کو ملے۔ 18 جولائی 2009 کو ایک اشتہار وزارت پانی و بجلی، حکومت پاکستان کی طرف سے اکثر اخبارات میں شائع ہوا جس میں کہا گیا کہ&#8221;نئے پاور پراجیکٹس۔ خوشحالی کی روشن راہیں۔ انشاءاللہ بجلی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر مختلف نئے پاور پراجیکٹس کی تکمیل سے دسمبر 2009 تک مزید ساڑھے 3ہزار میگا واٹ بجلی حاصل ہو گی۔ ہمارا عزم۔روشن پاکستان۔ پاکستان میں توانائی کے شعبے کی نئی جہت۔ پاکستان الیکڑک پاور کمپنی۔&#8221; اس کے ساتھ ساتھ مختلف پراجیکٹس ، وہ کتنے میگاواٹ بجلی بنائیں گے اور کب تکمیل کو پہنچیں گے درج تھا۔اشتہار کے مطابق آخر پر مکمل ہونے والے چار پراجیکٹ بھی دسمبر تک مکمل ہو جائیں گے۔<br />
	حکومت اور ان کے درباریوں سے صرف ہم یہ کہتے ہیں کہ اب وہ دور نہیں رہا کہ آپ نے جو کہا عوام نے چپ چاپ سن لیا اور پھر کچھ عرصہ بعد بھول گئے۔ اب میڈیا بہت تیز ہو چکا ہے اور ساتھ ساتھ عوام کے ذہن بھی کچھ کچھ کام کرنا شروع ہو گئے جس کی وجہ سے اب یہ سچے جھوٹے وعدوں اور باتوں کو بھی یاد رکھتے ہیں۔<br />
ہم حکومت سے صرف یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ وہ نئے پاور پراجیکٹس کہاں ہیں؟ وہ خوشحالی کی روشن راہیں کہاں گم ہو گئیں؟ وہ دسمبر 2009 تک ملنے والی ساڑھے 3 ہزار میگا واٹ بجلی کونسی زمین نگل گئی؟ آپ کا عزم اور اس کے تحت روشن پاکستان کہاں ہے؟ پاکستان میں توانائی کے شعبے کی نئی جہت تو کہیں نظر نہیں آ رہی۔ پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی کیا بس نام کی ہی تھی؟ روشن پاکستان کے خواب دیکھانے والوں کو صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ روشن پاکستان کی عوام آج بھی پندرہ پندرہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ برداشت کر رہی ہے۔ طالب علم  موم بتیاں جلا کر پڑھنے پر مجبور ہیں۔ کارخانے بند ہو رہے ہیں۔ مزدور بے روزگار ہو رہیں۔ مگر آپ کروڑوں کے اشتہارات دے کر آخر کیا ثابت کرنا چاہ رہے ہیں؟<br />
حکومت سے گذارش ہے کہ کم از کم دنیا کے اس عام اور سادہ قانون کو ہی پہچان لو۔ کچھ بولنے سے پہلے کم از کم سوچ ہی لیا کرو۔ رب نے آپ کو بڑے عہدوں پر بٹھایا ہے تو آپ پر ذمہ داریاں بھی بڑی ہیں۔ کچھ اپنی ذمہ داریاں اور اپنے عہدوں کا ہی خیال کیا کرو۔ غریب عوام کے پیسے سے اخبارات میں اشتہار دینے سے پہلے کچھ سروے یا کچھ درباریوں سے ہی مشورہ کر لیا کرو تاکہ بعد میں آپ کو شرمندہ نہ ہونا پڑے اور غریب عوام کا پیسا فضول اشتہارات میں ضائع بھی نہ ہو۔ اب بہانے بنانے سے بہتر تھا کہ بیانات اور اشتہارات دینے سے پہلے سب دیکھ لیتے کہ یہ کام آپ مکمل کر بھی سکو گے یا نہیں۔ ہم یہاں اخلاقی جرات کی بات نہیں کرتے کیونکہ اگر وہ بات کی جائے تو پھر کئی وزراء کو جرات کرنی پڑے گی اور اپنی ناکامی یا اپنا جھوٹ تسلیم کرتے ہوئے وزارت چھوڑنی پڑے گی۔ اس لئے ہم وہ بات ہی نہیں کرتے جس سے آپ کو تکلیف ہو۔ ہم آپ کی شان میں کوئی گستاخی نہیں کرتے بس ہماری اتنی گذارش ہے کہ اپنے عہدے اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور وہ بات ہی نہ کریں جس کو کرنے کا آپ میں دم نہیں۔</p>
<p><a target="_blank" href="http://express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1100672168&#038;Issue=NP_LHE&#038;Date=20090718"><br />
<img src="http://express.com.pk/images/NP_LHE/20090718/Sub_Images/1100672168-1.jpg" width="500" height="409"></a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/load-shading-energy-crisis-and-pakistani-minister/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>توہین رسالت قانون، اصل خرابی کہاں</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/toheen-e-risalat-qanoon-asal-kharabi-kaha/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/toheen-e-risalat-qanoon-asal-kharabi-kaha/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 20 Sep 2009 00:16:55 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[توہین رسالت قانون، اصل خرابی کہاں]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/%d8%aa%d9%88%db%81%db%8c%d9%86-%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d9%84%d8%aa-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86%d8%8c-%d8%a7%d8%b5%d9%84-%d8%ae%d8%b1%d8%a7%d8%a8%db%8c-%da%a9%db%81%d8%a7%da%ba/</guid>
		<description><![CDATA[بسم اللہ الرحمن الرحیم یوں تو آج کل توہین رسالت، ختم نبوت، اقلیتوں کے حقوق وغیرہ پر بہت باتیں اور جگہ جگہ بحث و مباحث کا سلسلہ جاری ہے لیکن 17 ستمبر 2009ء کو روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ کے صفحہ اول پر شائع ہونے والے گورنر پنجاب کے بیان &#8220;توہین رسالت کا قانون ختم ہونا چاہیے&#8221; [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
یوں تو آج کل توہین رسالت، ختم نبوت، اقلیتوں کے حقوق وغیرہ پر بہت باتیں اور جگہ جگہ بحث و مباحث کا سلسلہ جاری ہے لیکن 17 ستمبر 2009ء کو روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ کے صفحہ اول پر شائع ہونے والے گورنر پنجاب کے بیان &#8220;توہین رسالت کا قانون ختم ہونا چاہیے&#8221; نے مجھ جیسے عام شہری کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ آج ہم یہاں اسلام میں توہین رسالت کی سزا کے حوالے سے بات نہیں کریں گے بلکہ عمومی جائزہ لیں گے کیونکہ اگر اسلامی نقطہ نظر سے بات کی جائے  تو اس کے لئے علم کا معیار بھی  کافی بلند ہونا چاہے اور ویسے بھی  یہ ایک بہت حساس معاملہ ہے اور اپنے ایمان کی فکر کرتے ہوئے ایک ایک قدم پھونک کر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ اس لئے آج ہم عمومی جائزہ ہی لیتے ہیں۔<br />
پوری دنیا میں کوئی قانون اس  لئے بنایا جاتا ہے کہ ریاستی نظام کو امن و امان سے چلایا جا سکے اور خلاف ورزی کرنے والے کو سزا دی جائے تاکہ آئندہ مجرم یا کوئی دوسرا بھی سزا سے نصیحت پکڑے اور جرم سے دور رہے۔ قانون پر عملدرآمد کرانا  حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے اور خلاف ورزی کرنے والے کو سزا صرف اور صرف عدالت دے سکتی ہے۔ عوام کسی جرم کی نشاندہی کر سکتی ہے،جرم روکنے میں حکومت کی مدد کر سکتی ہے لیکن سزا دینے کا اختیار عام عوام کے پاس نہیں ہوتا اور جب ماورائے عدالت سزا عام شہری دینے لگتے ہیں۔ ایک تو یہ سیدھا سیدھا جرم کرتے ہیں اور دوسرا اس وجہ سے معاشرے میں شر پیدا ہوتا ہے اور سارا معاشرہ تباہ ہو کر رہ جاتا ہے۔  اگر کہیں ایسے حالات پیدا ہو جائیں جیسا کہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے تو اس صورت میں حکومت وقت کو خود بھی اور عام عوام کو بھی قانون پر سختی سے عمل کرنے اور کروانے کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ادارے اور حکمران نہ تو خود سو فیصد قانون پر عمل کرتے ہیں اور نہ ہی عوام سے کروا سکتے ہیں۔ جب کوئی مسئلہ بنتا ہے تو اپنی کمزوریوں کو چھپانے کے لئے عجیب عجیب بیان دے دیتے ہیں کہ فلاں قانون ٹھیک نہیں، فلاں شق تبدیل کی جائے ، یہ کیا جائے ، وہ کیا جائے وغیرہ۔۔۔<br />
ایسا ہی ایک بیان ہمارے گورنر صاحب بھی دے چکے ہیں جس کا میں اوپر ذکر کر چکا ہوں۔ سوچنے کا مقام ہے کہ ہم پر ایسے حکمران بیٹھے ہیں جو یہ نہیں جانتے کہ دنیا کا کوئی ملک، کوئی قانون نبی تو دور کی بات ایک عام انسان کی توہین کی بھی اجازت نہیں دیتا اور تو اور کسی مجرم کو اس کے جرم کی سزا کے علاوہ مزید کوئی تکلیف دینے کی اجازت نہیں دیتا۔ اور ایک ہمارے گورنر صاحب ہیں جو توہین رسالت کے قانون کو ختم کروانا چاہتے ہیں۔ ہاں یہاں یہ بات یاد رہے کہ توہین رسالت کی سزا کیا ہے اور کیا ہونی چاہیے اس پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی  اسمبلی اور پارلیمنٹ وغیرہ اسلامی نقطہ نظر سے ضرور بحث کر سکتی ہے اور قانون میں تبدیلی کر سکتی ہے لیکن یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ توہین رسالت کا قانون ختم ہو جائے۔ ذرا سوچئیے دنیا کا کوئی بھی انسان اپنے نبی، پیغمبریا لیڈر کی توہین برداشت نہیں کرتا۔ مسلمانوں کو ایک طرف کر کے  فرض کریں اگر کوئی ہندؤ یا کوئی دوسرا بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو کیا عیسائی یہ برداشت کریں گے؟ اگر کوئی مسلمان ہندؤں کے دیوتا کی توہین کرتا ہے تو کیا ہندؤں یہ برداشت کریں گے؟ ہر گز نہیں کریں گے اور کرنی بھی نہیں چاہئے کیونکہ جب ہم اپنی توہین ہونے پر ہتک عزت کا دعوی کر دیتے ہیں تو پھر ان لوگوں جن کو انسانوں کی ایک جماعت عظیم ہستی سمجھتی ہے کی شان میں گستاخی یا توہین کسی صورت قابل قبول نہیں ہونی چاہئے۔ چاہے وہ ہستی مسلمانوں کی ہو یا پھر کسی بھی مذہب کی ہو۔ کسی کی بھی توہین قابل قبول ہرگز نہیں ہونی چاہئے۔ یہاں ایک بات یاد رہے کہ نظریات و عقائد سے اختلاف اور چیز ہے اور توہین و گستاخی اور چیز ہے۔<br />
 فرض کریں اگر یہ قانون ختم کر دیا جاتا ہے تو پھر ہر کسی کو چھوٹ ہو گی کہ وہ جو چاہے کرے۔ منفی ذہنیت کے مالک لوگوں کو موقع مل جائے گا اور پھر ایسے ایسے بیانات اور گستاخیاں ہو گیں کہ پوری دنیا کا معاشراتی نظام بگڑ کر رہ جائے گا۔ یہ  ہمارے کچھ لوگ اور حکمران آج ہمیں جس دنیا کے قانون کا حوالہ دیتے ہیں شاید ان کو خود معلوم نہیں کہ اُس دنیا میں ایک عام انسان کی توہین پر کیا سے کیا ہو جاتا ہے اور عدالتیں ایسے حرکت میں آتی ہیں کہ صدر تک کو اپنی فکر ہونے لگتی ہے۔ میں کوئی قانون دان تو نہیں لیکن یہ بات بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ دنیا کا کوئی قانون کسی کی مذہبی شخصیات اور مذہبی رسومات کی توہین کی اجازت نہیں دیتا۔ دنیا کے ہر ملک میں ایسے قانون کسی نہ کسی صورت میں موجود ہیں۔<br />
آج کل ایک اور بحث بڑی چل رہی ہے کہ مسئلہ توہین رسالت کے قانون کا نہیں بلکہ اس قانون کے غلط استعمال کا ہے۔  بات پھر وہیں آ جاتی ہے کہ قانون کا ٹھیک استعمال کرنا اور کروانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ دنیا میں کوئی ایسی چیز ، عہدہ اور نہ ہی کوئی قانون ایسا ہے جس کا غلط استعمال نہ کیا جاسکتا ہو۔ مثلا کوئی جھوٹی گواہی دے کر کسی کو سزا دلوا دیتا ہے اب بے گناہ کو سزا ہو جاتی ہے اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ سب جانتے ہوئے بھی کہ گواہی کے نظام کے بغیر کام نہیں چلے گا اور آپ  سیدھا سیدھا گواہی کے نظام کو ہی ختم کروانے چل پڑیں بلکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ اس نظام کو بہتر کیا جائے۔ اگر اس میں بہتری کی گنجائش ہے تو بہتری کرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں شعور بھی پیدا کریں تاکہ کوئی جھوٹی گواہی دے ہی نہ۔ اب یہ بات تو صاف ہے کہ کسی کی مذہبی شخصیات کی توہین کا قانون اگر ختم کر دیا جائے تو بے شمار مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ہاں اگر اس قانون میں کوئی کمی ہے تو اس کو بہتر کیا جائے اور اگر حکمرانوں یا انتظامی اداروں سے ٹھیک طرح قانون پر عمل درآمد نہیں کروایا جا رہا تو وہ خود کو بہتر کریں یا پھر اپنی غلطی تسلیم کریں۔ میں مانتا ہوں کہ توہین رسالت کے قانون کی آڑ میں کئی شر پسند عناصر فائدہ حاصل کرتے ہیں اور قانون کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ بات پھر وہیں آتی ہے کہ قانون کا ٹھیک استعمال کس نے کروانا ہے؟ انتظامی اداروں کو کس نے بہتر کرنا ہے؟<br />
میری گورنر صاحب اور ہر اس بندے سے گذارش ہے جو خودکو &#8220;لبرل&#8221; ظاہر کرنے کے لئے پتہ نہیں کیا کیا بیان دے جاتے ہیں کہ جناب ذرا سوچئیے کیا اس قانون کو ختم کرنے سے معاشرے میں فساد برپا نہیں ہو گا؟ باقی اگر آپ سے انتظامی امور نہیں چلائے جاتے اور آپ کے دور حکومت میں توہین رسالت کے قانون کا غلط استعمال کیا جاتا ہے تو برائے مہربانی اپنی کمی کو چھپانے کے لئے قانون کو ختم کرنے کے بیان نہ دیں۔ ویسے یہ تو آپ اور ہم سب جانتے ہیں کہ اصل خرابی کہاں ہے۔۔۔</p>
<p>نوٹ:- یہ کوئی فتوی نہیں بلکہ میرے خیالات و نظریات ہیں۔ ضروری نہیں کہ آپ کو ان سے مکمل اتفاق ہو لیکن یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ بحث برائے تعمیر کی بجائے بحث برائے بحث شروع کر دیں۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/toheen-e-risalat-qanoon-asal-kharabi-kaha/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>19</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

