محفوظات برائے ”ہمارا معاشرہ“ زمرہ     ( صفحہ نمبر 2 )

ہمارے لئے اردو کیوں ضروری ہے؟

م بلال م نے اتوار، 23 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔
8 تبصر ے

معاشرہ کی ترقی کے لئے کئی تبدیلیاں کرنی پڑتی ہیں اور پہلی تبدیلی سوچ میں کرنی ہوتی ہے۔ سوچ کی تبدیلی کے بعد چاہے خونی انقلاب برپا ہو یا فکری انقلاب لیکن سب سے پہلی شرط سوچ کی تبدیلی ہے۔ سوچ کی تبدیلی کے لئے پہلی شرط زبان کا انتخاب ہے

««« مکمل تحریر پڑھیے »»»

شیئر کریں     ای میل     فیس بک     ٹویٹر     گوگل بز     ٹیکنوراٹی     ڈگ     ڈیلیشیئس

ہماری ضرورتیں اور شدت پسندی

م بلال م نے ہفتہ، 22 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔
7 تبصر ے

جہاں جہاں میرے نظریات و سوچ میں مسائل ہیں، آپ ان کی نشاندہی کریں، مجھ سے اختلاف کریں، تنقید کریں، مجھے سمجھائیں، دلائل سے قائل کریں تاکہ میں اپنے نظریات میں بہتری لا سکوں۔ لیکن یہاں بھی ہماری گنگا الٹی ہی بہی۔ پتہ نہیں یار لوگ یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ ہر تحریر لکھنے والا ان پر حملہ کر رہا ہے

««« مکمل تحریر پڑھیے »»»

شیئر کریں     ای میل     فیس بک     ٹویٹر     گوگل بز     ٹیکنوراٹی     ڈگ     ڈیلیشیئس

آخری حدوں کو چھوتی ہوئی شدت پسندی

م بلال م نے جمعہ، 21 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔
12 تبصر ے

کوئی تو ان شدت پسند گروہوں کو سمجھائے کہ اسلام بہت روشن خیال مذہب ہے۔ بے گناہ انسان کو مارنا جہاد نہیں بلکہ ظالم سے ٹکرانے کو جہاد کہتے ہیں۔ کوئی تو قدم بڑھائے اور ان کا دماغ روشن کرے کہ اسلام عورت کو ملکہ بناتا ہے۔ ہے کوئی جو میانہ روی کا بتائے اور حق کی صدا لگائے

««« مکمل تحریر پڑھیے »»»

شیئر کریں     ای میل     فیس بک     ٹویٹر     گوگل بز     ٹیکنوراٹی     ڈگ     ڈیلیشیئس

شدت پسندی اور معاشرے پر اس کے اثرات

م بلال م نے جمعرات، 20 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔
4 تبصر ے

جب ہم کسی کام (چاہے کام اچھا ہی کیوں نہ ہو) کے معاملے میں شدت پسند بنتے ہیں تو ہمارا مقصد صرف وہی ایک کام بن کر رہ جاتا ہے، ہمارے دماغ پر وہی کام سوار ہو جاتا ہے تو ہمیں دنیا کا سب سے اچھا کام وہی لگنے لگتا ہے۔ بس پھر یہاں سے نقصانات شروع ہو جاتے ہیں

««« مکمل تحریر پڑھیے »»»

شیئر کریں     ای میل     فیس بک     ٹویٹر     گوگل بز     ٹیکنوراٹی     ڈگ     ڈیلیشیئس

قوم، علاقہ، زبان اور انسانیت کا تقاضا

م بلال م نے اتوار، 16 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔
11 تبصر ے

لوگوں نے قوم کو اپنے بڑھے پن کا مسئلہ بنا لیا ہے، علاقائی حد بندیوں کو انسانیت کے درمیان دیوار بنا کر رکھ دیا ہے اور زبان کے معاملے میں اتنے شدت پسند کہ دوسری زبان بولنے والوں سے نفرت کرتے ہیں۔ آج کچھ لوگوں نے نفرت کے بازار گرم کر رکھے ہیں

««« مکمل تحریر پڑھیے »»»

شیئر کریں     ای میل     فیس بک     ٹویٹر     گوگل بز     ٹیکنوراٹی     ڈگ     ڈیلیشیئس

شدت پسندوں کے جھرمٹ

م بلال م نے بدھ، 12 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔
10 تبصر ے

دو گروہ مجھے منفرد نظر آتے ہیں۔ دونوں گروہ ایک دوسرے کے دشمن ہیں لیکن دونوں میں ایک عادت مشترک ہے اور وہ عادت ہے ”شدت پسندی“۔ میں ایک گروہ کو ”مذہبی شدت پسند“ کہتا ہوں تو دوسرے کو ”روشن خیال شدت پسند“۔ میرے کہنے پر نہ جائیے گا کیونکہ ان دونوں گروہوں کا مذہب اور روشن خیالی سے دور دور کا کوئی تعلق نہیں

««« مکمل تحریر پڑھیے »»»

شیئر کریں     ای میل     فیس بک     ٹویٹر     گوگل بز     ٹیکنوراٹی     ڈگ     ڈیلیشیئس

دفاع ذات اور ہماری قانون سازی

م بلال م نے سوموار، 6 دسمبر 2010 کو شائع کیا۔
8 تبصر ے

کسی بھی معاشرے میں طاقت کا توازن برقرار اور امن و امان رکھنے کے لئے حکومت سب سے پہلے معاشرے میں موجود جرائم پیشہ لوگوں کی طاقت کو دیکھتی ہے۔ پھر سیکیورٹی کتنی جلدی اور کتنی طاقت کے ساتھ پہنچ سکتی ہے اور پھر عام شہری کےلئے دفاع ذات کے سازوسامان جیسے اسلحہ وغیرہ کا انتخاب کرتی ہے اور عام شہری کو اس کی اجازت دیتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ حکومت جرائم پیشہ لوگوں کی طاقت کم کرنے اور جرائم کو ختم کرنے پر کام کرتی ہے۔ جیسے جیسے جرائم پیشہ لوگوں کی طاقت کم ہوتی ہے ویسے ویسے قانون میں تبدیلی کر کے دفاع ذات کے سازوسامان میں بھی تبدیلی کر دی جاتی ہے۔ یہ تبدیلی اس لئے آسانی سے ممکن ہوتی ہے کہ دفاع ذات کے لئے رکھا گیا اسلحہ حکومت کے پاس رجسٹرڈ ہوتا ہے۔

««« مکمل تحریر پڑھیے »»»

شیئر کریں     ای میل     فیس بک     ٹویٹر     گوگل بز     ٹیکنوراٹی     ڈگ     ڈیلیشیئس

مقصد برائی لیکن وہ مخلص ہیں

م بلال م نے بدھ، 27 اکتوبر 2010 کو شائع کیا۔
12 تبصر ے

آپ خود سوچو! ان خراب حکمرانوں سے نجات حاصل کرنے یا نظام کی بہتری کے لئے ہم نے ان کا مقابلہ کرنے یا اچھائی کے لئے کیا کیا؟ ہم بڑی آسانی سے حکمرانوں کو قصوروار کہہ کر پھر اپنی دنیا میں مست ہو جاتے ہیں۔ تھوڑا سا سوچو! یہی ہمارے حکمران جنہیں ہم نالائق کہتے ہیں لیکن وہ اپنے کام اور مقصد کے لئے ہم سے زیادہ محنت کرتے ہیں۔ اب ان کا کام اور مقصد ہی برائی کرنا ہے تو وہ برائی کرنے کے لئے کیا کیا نہیں کرتے۔ بچپن سے لے کر مرنے تک دشمن کے ڈر اور خوف میں رہتے ہیں۔ میڈیا سے بچتے بچاتے اپنا کام کرتے ہیں۔ کئی کئی سال جیلوں میں گذارتے ہیں۔ اپنے مقصد کے لئے اپنے رشتہ داروں کو گنواتے ہیں۔سوچ سوچ کر پلان بناتے ہوئے پاگل ہو جاتے ہیں۔ راتوں کو جاگ جاگ کر میٹنگز کرتے ہیں۔ اپنے مقصد کے لئے دن رات لوگوں سے ملتے ہیں۔ کسی کو توڑتے ہیں تو کسی کو اپنے ساتھ جوڑتے ہیں۔ اپنے مقصد کے لئے انہوں نے ایک منظم گروہ تیار کر رکھا ہے۔ ایک مرتا ہے تو اس کا بیٹا، بیٹی یا دیگر کوئی وارث اس کی جگہ لے کر اپنے کام کو مزید آگے بڑھاتا ہے۔63 سال ہو گئے لیکن ان کی جدوجہد آج بھی جاری ہے۔ اپنے جیسوں کا بڑا برا انجام دیکھ کر بھی ان کی ہمت میں کمی نہیں آئی۔ بے شک ان کا مقصد برائی ہے لیکن وہ اپنے مقصد کے ساتھ مخلص ضرور ہیں۔

««« مکمل تحریر پڑھیے »»»

شیئر کریں     ای میل     فیس بک     ٹویٹر     گوگل بز     ٹیکنوراٹی     ڈگ     ڈیلیشیئس

ہماری مایوسی اور مثبت سوچ

م بلال م نے منگل، 26 اکتوبر 2010 کو شائع کیا۔
4 تبصر ے

اکثر مثبت سوچ کی ترویج کے لئے ایک بات کی جاتی ہے کہ ”گلاس کو آدھا خالی نہ دیکھو بلکہ آدھا بھرا ہوا دیکھو“۔
جو لوگ مشکل سر پر ہو لیکن اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہیں ایسے لوگوں کی ہمت بڑھانے اور مشکل کا مقابلہ کرنے کے لئے حوصلہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے بلکہ اکثر تنقیدی انداز میں کہا جاتا ہے کہ ”بلی کو دیکھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینا کسی مسئلے کا حل نہیں“۔
میں اکثر ان دونوں باتوں کی وجہ سے کافی ”کنفیوز“ ہو جاتا ہوں۔ جب کہیں پڑھتا یا سنتا ہوں کہ یہ ٹی وی اینکر، کالم نگار اور باقی لکھاری وغیرہ ملک کی خرابیاں ہی دیکھتے ہیں اور پھر دوسروں کو بتاتے ہیں۔ یہ لوگ ملک میں مایوسی پھیلا رہے ہیں۔ یہاں پھر وہی بات میرے ذہن میں آتی ہے کہ واقعی گلاس کو آدھا خالی نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ آدھا بھرا ہوا بھی تو ہے۔ کچھ دیر اسی پر اتفاق رکھتا ہوں لیکن ساتھ ہی جب یہ خیال آتا ہے کہ بلی کو دیکھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینا بھی تو کوئی سمجھداری نہیں تو پھر سوچتا ہوں، نہیں نہیں خرابیاں سب کے سامنے لائی جانی چاہئیں، تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ ہمارے ملک میں کیا کیا گل کھلائے جا رہے ہیں، عوام کو جگایا جائے اور بتایا جائے کہ غفلت کی نیند سے جاگو اور ہوش کرو۔
مزید اس تحریر میں مایوسی اور مثبت سوچ پر بالکل تھوڑی سی بات کرتا ہوں۔

««« مکمل تحریر پڑھیے »»»

شیئر کریں     ای میل     فیس بک     ٹویٹر     گوگل بز     ٹیکنوراٹی     ڈگ     ڈیلیشیئس

ہم اور ہمارا کردار (سوئم و آخری)

م بلال م نے جمعرات، 23 ستمبر 2010 کو شائع کیا۔
6 تبصر ے

ہماری اکثریت پسِ پردہ کام کرنے کو تیار ہی نہیں بلکہ سب کو ہیرو بننے کا شوق ہے۔ جو بھی تھوڑا بہت کام سمجھ جاتا ہے وہ پھر اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر بیٹھ جاتا ہے۔ میری نظر میں یہ بھی ہماری ناکامی کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ اس کی مثال آپ کو عام زندگی سے لے کر انٹرنیٹ تک ہر جگہ ملے گی۔ عام زندگی میں اس کی سب سے بڑی مثال ہماری سیاسی جماعتیں ہیں اور انٹرنیٹ پر میں اس کی مثال مختلف ویب سائیٹس اور فورمز کے ممبران سے معذرت کے ساتھ پیش کرتا ہوں۔ آپ دیکھ لیں، اتنے ہمارے فورمز استعمال کرنے والے ممبر نہیں جتنے اب فورمز بن رہے ہیں۔ ذہانت کا ذخیرہ ٹوٹ ٹوٹ کر بہت جگہوں پر بکھرا پڑا ہے۔ ہیرو بننے کے چکروں میں سب شروع سے پہیہ ایجاد کر رہے ہیں۔ کسی نے تھوڑا زیادہ کر لیا ہے اور کسی نے کم۔ اگر یہی کام ایک پلیٹ فارم پر ہوتا تو اب تک پہیہ تو کیا کئی قسم کی گاڑیاں بن جانی تھیں۔ جب ایک پلیٹ فارم سے کام زیادہ ہوتا تو پھر نیا منصوبہ بنایا جاتا اور نئے فورمز، لیکن ایسا کچھ نہیں۔ کبھی غور کیا آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ ایک چھوٹی سی وضاحت کرتا جاؤں کہ سب کی بات نہیں کر رہا بلکہ اکثریت ایسی ہے۔ اگر مقصد اور منزل مختلف ہو پھر تو ظاہر ہے علیحدگی ہی بہتر ہے لیکن اگر مقصد ہو اچھا مسلمان بننے کی تو پھر ہر کوئی اپنی اپنی مسجد کیوں بناتا ہے؟ ایک دوسرے کے ساتھ کیوں نہیں چل سکتے؟ ہاں تو کبھی آپ نے غور کیا آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ تو میری نظر میں اس کی چند وجوہات ہیں۔

««« مکمل تحریر پڑھیے »»»

شیئر کریں     ای میل     فیس بک     ٹویٹر     گوگل بز     ٹیکنوراٹی     ڈگ     ڈیلیشیئس