<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>بیاضِ بلال &#187; متفرقات</title>
	<atom:link href="http://www.mbilalm.com/blog/category/miscellaneous-articles/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.mbilalm.com/blog</link>
	<description>قطرہ قطرہ سمندر</description>
	<lastBuildDate>Fri, 11 May 2012 20:46:16 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=</generator>
		<item>
		<title>ڈیل و ڈل یونیورسٹی آف گجرات</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/dell-o-dell-university-of-gujrat/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/dell-o-dell-university-of-gujrat/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 15 Mar 2012 22:50:41 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[متفرقات]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[dell laptop]]></category>
		<category><![CDATA[digital punjab]]></category>
		<category><![CDATA[gujrat university]]></category>
		<category><![CDATA[laptop distribution]]></category>
		<category><![CDATA[punjab govt]]></category>
		<category><![CDATA[punjab govt laptop]]></category>
		<category><![CDATA[shahbaz sharif]]></category>
		<category><![CDATA[students laptop]]></category>
		<category><![CDATA[university of gujrat]]></category>
		<category><![CDATA[youth initiative]]></category>
		<category><![CDATA[جامعہ گجرات]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت پنجاب لیپ ٹاپ]]></category>
		<category><![CDATA[خادم اعلی پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[شہباز شریف]]></category>
		<category><![CDATA[طالب علم کا لیپ ٹاپ]]></category>
		<category><![CDATA[طلباء کے لیپ ٹاپ]]></category>
		<category><![CDATA[لیپ ٹاپ کی تقسیم]]></category>
		<category><![CDATA[وزیر اعلی پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب گورنمنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈل لیپ ٹاپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیل لیپ ٹاپ]]></category>
		<category><![CDATA[گجرات جامعہ]]></category>
		<category><![CDATA[گجرات یونیورسٹی]]></category>
		<category><![CDATA[گورنمنٹ آف پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[یوتھ انیشیٹو]]></category>
		<category><![CDATA[یونیورسٹی آف گجرات]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.mbilalm.com/blog/?p=1801</guid>
		<description><![CDATA[حکومت پنجاب ایک لاکھ بیس ہزار طلباء کو ڈیل (Dell) کے لیپ ٹاپ دے رہی ہے۔ آج شہباز شریف صاحب جامعہ گجرات (یونیورسٹی آف گجرات) لیپ ٹاپ کی تقسیم کرنے آئے تھے اور ساری بجلی ہی پی گئے۔ جن طلباء کو آج لیپ ٹاپ ملے انہوں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ ایک لمبی کھجل خرابی کے بعد کچھ ہاتھ تو لگا۔ چاہے میری آواز جامعہ گجرات کے رجسٹرار اور باقی انتظامیہ تک پہنچے نہ پہنچے لیکن حقیقت یہی ہے کہ]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
پنجاب حکومت تقریباً ایک لاکھ دس ہزار لیپ ٹاپ طلباء میں تقسیم کر رہی ہے۔ میرے خیال میں تو لیپ ٹاپ کی یہ سکیم ایک اچھا قدم ہے۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ ڈیل (Dell) کے جو لیپ ٹاپ دیئے جا رہے ہیں اگر یہ ایک لاکھ کی تعداد میں خریدیں جائیں تو فی لیپ ٹاپ کی قیمت پچیس تیس ہزار پاکستانی روپے بنتی ہے جبکہ اس کام کے لئے خزانے سے کہیں زیادہ رقم لی گئی ہے۔ خیر یہ سنی سنائی باتیں ہیں اور بھاڑ میں جائیں ایسی باتیں۔ ہم تو اتنے میں خوش ہیں کہ چلو کوئی تو اس ملک کو اکیلا نہیں کھا رہا بلکہ تھوڑا سا ہمیں بھی دے رہا ہے۔</p>
<p>آج شہباز شریف صاحب جامعہ گجرات (یونیورسٹی آف گجرات) لیپ ٹاپ کی تقسیم کرنے آئے ہوئے تھے اور ساری بجلی ہی پی گئے کیونکہ آج سارا دن بجلی نے ایک منٹ بھی دیدار نہیں کروایا، پہلے پھر بھی سارے دن میں دو گھنٹے مل جاتی تھی۔ خیر اس کے علاوہ شاہراؤں پر یہ بڑے بڑے بینر لگے ہوئے تھے۔ تمام جعلی ڈگری والوں کی طرف سے وزیراعلیٰ کو خوش آمدید کہا جا رہا تھا۔ اخبارات میں آدھے آدھے صفحے کے اشتہارات۔ ویسے ایک بات ہے، جامعہ کو جانے والی سڑک جو کافی عرصہ سے ٹوٹی ہوئی تھی وہ بن گئی ہے۔ یوں تو جامعہ گجرات نئی نویلی دلہن ہونے کی وجہ سے پہلے ہی بڑی اجلی اجلی رہتی ہے مگر آج خصوصی طور پر صفائی کا انتظام تھا۔ آپس کے بات ہے چوہدریوں نے گجرات کے لئے ایک ہی تو انسانوں والا کام کیا ہے اور وہ یہی جامعہ گجرات ہے۔ گو کہ جامعہ کا نام رکھتے ہوئے بابا جی سے زیادتی ہوئی ہے لیکن یہ کہانی پھر سہی۔</p>
<p>جن طلباء کو آج لیپ ٹاپ ملے ہیں انہوں نے خدا کا شکر ادا کیا ہے کہ ایک لمبی کھجل خرابی کے بعد کچھ ہاتھ تو لگا۔ خاص طور پر ملتان کا وہ طالب علم جو بیچارہ چھٹیوں میں گھر پہنچا تو اطلاع ملی کہ لیپ ٹاپ والا فارم کل جمع کروانا ہے تو انہیں قدموں واپس مڑا اور ساری رات کا سفر کرتے ہوئے صبح جامعہ گجرات پہنچا اور فارم جمع کروا کر رات کو پھر گھر روانہ ہوا۔ ابھی گھر پہنچا ہی تھا کہ پتہ چلا کہ وہ فارم منسوخ ہو گئے ہیں لہذا کل نئے جمع کروانے ہیں بیچارہ پھر واپس جامعہ فارم جمع کروانے پہنچا۔ باقی جن طلباء کو آج بھی لمبے انتظار کے بعد نہیں ملے وہ اپنا سا منہ لے کر اور شہباز شریف صاحب کی تقریر سن کر گھروں یا ہاسٹل کو لوٹ گئے ہیں۔ مزید جنہیں لیپ ٹاپ کے ساتھ ملنے والی سی ڈیز نہیں ملیں انہیں اب کئی دن تک دفاتر کے چکر لگانے ہوں گے۔ ویسے آئی ٹی کے طلباء کا اچھا کاروبار چمکا ہوا تھا وہ دو سو روپے میں ونڈوز انسٹال کر کے دے رہے تھے کیونکہ لیپ ٹاپ کا آپریٹنگ سسٹم اوبنٹو ہے اور ہمارے ہاں ”محنتی“ طلباء کے سامنے اوبنٹو کا لفظ ”بنٹے“ کی طرح گول گول گھومتا ہے، باقی اوبنٹو چلانا تو دور کی بات۔</p>
<p>مجھے پتہ ہے ایسی باتیں کرنے والوں کے لئے انگلی ہلتی ہے اور وہ معزول ہو جاتے ہیں۔ اجی ہمیں کسی نے کیا معزول کرنا ہے کیونکہ ہم اس جگہ پہنچے ہی نہیں جہاں سے ہمیں کوئی معزول کر سکے۔ ویسے بھی ”چھتر“ کھا کھا کر اتنے بے حس ہو گئے ہیں کہ اب چھوٹی چھوٹی باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ خیر لیپ ٹاپ دینے کی تفصیل میں ایک بات یہ بھی تھی کہ گورنمنٹ ادارے کا پرائیویٹ طالب علم بھی اگر شرائط پر پورا اترے تو وہ بھی لیپ ٹاپ کا حقدار ہے۔ جب ہم نے یہ بات پڑھی تھی تو اپنے ایک جاننے والے کو کہا کہ بھائی جان آپ نے تو اپنے مضمون  اور سال اول میں پوری جامعہ گجرات میں دوسری پوزیشن لی ہے پھر آپ اپلائی کیوں نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ طلباء کو نہیں مل رہے۔ ہم نے تحقیق کر کے بتایا کہ حضرت وہ دوسری قسم کے پرائیویٹ ہیں جنہیں نہیں مل رہے بلکہ آپ جیسے پرائیویٹ کو بھی مل رہے ہیں اور شہباز شریف کی اپنی ویب سائیٹ پر یہ بات لکھی ہوئی ہے۔ خیر ہمارے جاننے والے نے دوڑیں تیز کر دیں۔ غریب بندہ ہے، گھر کا واحد کفیل ہے اور ٹیویشن پڑھا پڑھا کر گزارہ کرتا ہے۔ نہایت ہی مشکل حالات میں اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہے۔ جب اسے لیپ ٹاپ کی امید لگی تو سرکاری دفاتر اور جامعہ گجرات کے چکر شروع ہوگئے۔</p>
<p>پہلے کنٹرولر امتحانات کو ملا۔ کنٹرولر نے کہا تم واقعی حقدار ہو اور تمام شرائط پر پورے اترتے ہو۔ تمہارا کیس آگے بھیجنا چاہئے۔ اس کام کے لئے رجسٹرار کو ملو۔ حضرت کئی دن رجسٹرار کے دفتر کے چکر کاٹتے رہے اور رجسٹرار نے اس کی ایک نہ سنی۔ اوپر سے جہاں ایسی صورت حال کی شکایت درج کروانی ہے ، ان افسران سے ملنا بھی بیچارے غریب کے بس کا روگ نہیں۔ خیر وہ  بیچارہ تھک ہار کر چپ کر گیا۔ دوسری طرف حالات یہ ہیں کہ خود جامعہ گجرات کے استاد (ملازم) جو ساتھ ساتھ تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں انہیں لیپ ٹاپ ملے ہیں۔ طلباء سے ایک حلف نامہ بھی لیا گیا جس میں یہ ذکر تھا کہ وہ کہیں ملازمت نہیں کرتے اور واقعی حقدار ہیں اور خود سے لیپ ٹاپ نہیں خرید سکتے، لیکن میں کئی ایک ایسے طلباء کا بتا سکتا ہوں جو امیر گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں، مگر انہیں لیپ ٹاپ ملے۔ ان کی امیری غریبی یا ملازمت کی کسی نے تصدیق نہیں کی مگر نہیں سنی گئی تو غریب کی۔</p>
<p>اجی ہمیں کسی امیر یا ملازم کو لیپ ٹاپ ملنے پر ذرہ بھی کوئی شکایت نہیں۔ بس رونا یہ رو رہے ہیں کہ وہ غریب جو جامعہ کے ”ریگولر“ طلباء کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے دوسری پوزیشن لیتا ہے، جس کو لیپ ٹاپ کی ضرورت بھی ہے اور وہ حقدار بھی ہے، آخر ایسے محنتی طالب علم کو صرف اس بات کی سزا دی گئی کہ وہ غریب ہے اور جامعہ کی فیس جمع نہ کروا سکنے کی وجہ سے پرائیویٹ پڑھ رہا ہے۔ گو کہ میری آواز نقار خانے میں طوطی کے مصداق سہی، چاہے میری آواز جامعہ گجرات کے رجسٹرار اور باقی انتظامیہ تک پہنچے نہ پہنچے لیکن حقیقت یہی ہے کہ رجسٹرار نے بہت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا ہے۔</p>
<p>ہمارے لئے یہ عام سی بات ہے کہ چلو یار جہاں اتنوں کو مل گیا وہاں چند ایک کو نہیں ملا تو کوئی بات نہیں۔ مگر آج وہ بندہ دیکھنے سے تعلق سے رکھتا تھا۔ ایک طرف ہر کوئی لیپ ٹاپ لئے جا رہا ہے اور دوسری طرف غریب کا بچہ اتنا پڑھنے کے باوجود بھی خالی ہاتھ ہے۔ ٹھیک ہے بھاڑ میں جائے لیپ ٹاپ، ہمت والے ہمت سے چلتے رہتے ہیں، مگر ہر کوئی آپ جیسا ہمت والا نہیں ہوتا۔</p>
<p>ہم نہیں کہتے کہ شہباز شریف صاحب ہمارے خادمِ اعلیٰ بنیں بلکہ وہ وزیرِ اعلیٰ ہی رہیں۔ ہم ایک دفعہ بھی یہ نہیں کہتے کہ آپ لیپ ٹاپ کی صورت میں ووٹوں کی دوڑ لگا رہے ہو، بلکہ ہم آپ کے اس قدم کو بہت اچھا جانتے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک اچھا قدم ہے مگر سرکار اندھا دھن لیپ ٹاپ تقسیم کرتے ہوئے اتنا خیال تو کرو کہ واقعی غریب کو اس کا حق مل بھی رہا ہے یا پھر آپ ہی کے چاہنے والوں کی جیب میں جا رہا ہے۔ </p>
<p>آج جامعہ گجرات میں تقریباً دو اڑھائی ہزار طلباء کو لیپ ٹاپ ملے۔مزید تقریباً دو ہزار کو بعد میں ملنے ہیں۔ ویسے آج جامعہ گجرات ڈیل و ڈل ہوئی تھی کیونکہ ہر بندے کے ہاتھ میں اور ہر طرف ڈیل کے لیپ ٹاپ ہی لیپ ٹاپ تھے۔ چلیں جی جب جلد ہی ایک لاکھ بیس ہزار کو لیپ ٹاپ مل جائیں گے تو پھر دیکھیں گے کہ گوگل سرچ کی رپورٹ کیا کہتی ہے۔ بات تو یہ بھی سوچنے والی ہے کہ طلباء بند رستے توڑ کر ویب سائیٹوں تک پہنچیں گے یا پھر واقعی بہتری کی طرف جائیں گے۔ ہماری تو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے دعا ہے کہ اللہ کرے طلباء ان لیپ ٹاپ کا مثبت استعمال کریں اور ملک و قوم کو فائدہ پہنچائیں۔ملتی جلتی تحاریر:-&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/punjab-govt-canceled-arms-licence/' title='واہ رے حکومت پنجاب'>واہ رے حکومت پنجاب</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/gujrat-15000-arms-licence-scandal/' title='جعلی لائسنس یا سرکاری ملازمین کا فراڈ'>جعلی لائسنس یا سرکاری ملازمین کا فراڈ</a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/dell-o-dell-university-of-gujrat/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>24</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>اگر قیامت کا اعلان ہو جائے تب بھی پودا زمین میں لگا دو</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/ager-qiyamat-ka-allan-ho-jaiy/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/ager-qiyamat-ka-allan-ho-jaiy/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 21 Nov 2011 10:34:28 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[متفرقات]]></category>
		<category><![CDATA[almoner]]></category>
		<category><![CDATA[alms]]></category>
		<category><![CDATA[change]]></category>
		<category><![CDATA[continue]]></category>
		<category><![CDATA[forest]]></category>
		<category><![CDATA[hadees]]></category>
		<category><![CDATA[india]]></category>
		<category><![CDATA[iqbal]]></category>
		<category><![CDATA[islam]]></category>
		<category><![CDATA[jungel]]></category>
		<category><![CDATA[jungle]]></category>
		<category><![CDATA[pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[plant]]></category>
		<category><![CDATA[plantation]]></category>
		<category><![CDATA[planted]]></category>
		<category><![CDATA[propitiatory]]></category>
		<category><![CDATA[quran]]></category>
		<category><![CDATA[sacrifice]]></category>
		<category><![CDATA[tree]]></category>
		<category><![CDATA[آیت]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[اقبال]]></category>
		<category><![CDATA[تبدیلی]]></category>
		<category><![CDATA[جاریہ]]></category>
		<category><![CDATA[جنگل]]></category>
		<category><![CDATA[حدیت]]></category>
		<category><![CDATA[درخت]]></category>
		<category><![CDATA[شجر]]></category>
		<category><![CDATA[شجر کاری]]></category>
		<category><![CDATA[شجرکاری]]></category>
		<category><![CDATA[صدقہ]]></category>
		<category><![CDATA[قرآن]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پودا]]></category>
		<category><![CDATA[ہندوستان]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.mbilalm.com/blog/?p=1588</guid>
		<description><![CDATA[پودے لگاتے بوڑھے کو دیکھ کر لوگوں نے کہا بابا جی جب تک یہ درخت پھل دار و سایہ دار ہونگے۔ آپ اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہوں گے پھر یہ تکلیف کاہے کو؟ کہا کہ میرے بزرگ درخت لگا کے اِس دنیا سے رخصت ہو گئے مگر پھل میں نے کھایا۔ سائے میں بھی بیٹھا۔ اب یہ درخت میں اپنے فائدے کے لئے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کےلئے لگا رہا ہوں]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم  </p>
<p>”<a href="https://www.facebook.com/Tree.Plantation.Pakistan" target="_blank">پاکستان میں شجر کاری</a>“ کی خواہش پر <a href="https://www.facebook.com/abid.gillani" target="_blank">سید عابد گیلانی</a> کی ایک زبردست تحریر پیش خدمت ہے۔</p>
<p>پودے لگاتے بوڑھے کو دیکھ کر لوگوں نے کہا بابا جی جب تک یہ درخت پھل دار و سایہ دار ہونگے۔ آپ اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہوں گے پھر یہ تکلیف کاہے کو؟ کہا کہ میرے بزرگ درخت لگا کے اِس دنیا سے رخصت ہو گئے مگر پھل میں نے کھایا۔۔۔ سائے میں بھی بیٹھا۔۔۔ اب یہ درخت میں اپنے فائدے کے لئے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کےلئے لگا رہا ہوں۔</p>
<p>ہم چونکہ بحیثیت مجموعی خود غرض ہوچکے ہیں ۔لہذا اپنی دنیا میں گم ہیں۔آس پاس کی کوئی خبر نہیں۔وہ لوگ جو اپنی طبعی عمر کے آخر ی حصے میں پہنچتے ہیں اور زندگی کی گزری فلم کو اپنے خیالات میں تازہ کرکے دیکھتے ہیں اور انہیں نظر آتا ہے کہ میں نے فلاں بستی میں  ایک کنواں کھدوایا تھا آج بھی وہاں سے لوگ پانی پیتے ہیں۔ وہ جو دو یتیم بچے تھے جنہیں میں نے پڑھایا لکھایا  ، آج وہ اچھے منصب پر فائز خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ کچھ گھرانے مسکینوں کے تھے، جو اپنی خود اری کے باعث کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاسکتے تھے، میں نہ صرف کفالت کرتا رہا بلکہ ان کے مستقل روزگار کا اہتمام کر دیا۔ زندگی سے مایوس ایک مریض کو ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا ،علاج کروایا۔وہ اپنے بچوں کے ساتھ آج خوش و خرم زندگی گزار رہا ہے۔ کوئی حاجت مند ملا اس کی ضرورت پوری کردی۔ راستوں کے کنارے پودے لگائے جو آج تناور درخت بن چکے ہیں، لوگ پھل بھی کھاتے ہیں اور سائے میں بھی بیٹھتے ہیں۔</p>
<p>یقین کیجئے ایسے لوگ بہت مطمئن اور پرسکون ہوتے ہیں۔ وہ عمر رفتہ کی ان نیکیوں کو یاد کرتے ہیں اور راحت و اطمینان محسوس کرتے ہیں۔ایسے ہی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”اے نفس مطمئنہ لوٹ آ اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ  میں تجھ سے راضی اور تومجھ سے راضی“۔ مگر جو لوگ ان کاموں سے دور رہے وہ عمر کے آخری حصے میں راحت و سکوں کی اس کیفیت سے محروم رہے۔ میرے دوست احباب جانتے ہیں کہ میں بوڑھے لوگوں کی باتیں توجہ سے سنتا ہوں ، پاس بیٹھتا ہوں۔ وقت دیتا ہوں۔اس لئے تاکہ وہ باتیں کر کے اپنے دل کا غبار اتار سکیں اور یہ جاننے میں بھی مدد ملتی ہے کہ وہ اپنی گزری زندگی کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔</p>
<p>اگر ہم اطمینان چاہتے ہیں تو صدقہ جاریہ کا اہتمام کریں۔ اللہ کے نبی نے فرمایا ”جو شخص درخت لگائے یا کھیتی باڑی کرے پھر اس میں سے انسان ، پرندے یا جانور کھائیں وہ اس کے لئے صدقہ جاریہ ہے“۔ ایک اور خوبصورت فرمان اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ”درخت اللہ کے حکم سے سجدہ ریز ہوتے ہیں“۔</p>
<p>کیوں نہ میں اور آپ خد ا کے حضور سجدہ ریز ہونے والے ڈھیر سارے درخت لگائیں۔ درخت تو دکھاوے اور ریاکاری کی عبادت نہیں کرتے۔ کیا خیال ہے میں اور آپ  جو درخت  لگائیں گے ان کی سجدہ ریزیوں میں ہمارا کوئی حصہ نہیں ہوگا؟ ممکن ہے میرے جیسے ریاکاروں کے سجدوں میں خالص سجدے صرف ان درختوں کے ہوں جو ہمیں فائدہ پہنچا جائیں۔<br />
اللہ کے نبی مدینے تشریف لائے تو میلوں پھیلے رقبے پر کئی جنگل اور سبزہ زار لگوائے۔ انہیں چراہ گاہ اور محفوظ علاقہ بھی کہا جاتا تھا۔ اور بلا ضرورت درخت کاٹنے کی سختی سے ممانعت تھی۔</p>
<p> حسن فطرت کے تناظر میں درختوں کی جو منظر کشی قرآن نے بیان کی اسے پڑھ کر انسان فطرت کے حسین نظاروں کھو جاتا ہے۔اسی لئے شائد علامہ اقبال ؒ نے کہا تھا ۔<br />
<center><span style="color: #0000ff;">خدا اگر دل ِ فطرت شناس دے تجھ کو<br />
سکوت لالہ و گل سے کلام پیدا کر</span></center></p>
<p>قرآن مجید نے شجر کاری کے ساتھ جڑے معیشت اور خوشحالی کے گہرے تعلق کو بڑے خوبصورت لفظوں میں بیان کیا ہے۔ حسن فطرت کی رعنائیوں ، دلکش مناظر کو آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سکون قرار دیا ہے۔ میں جان بوجھ کر اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کیونکہ یہ موضوع الگ تحریر کا متقاضی ہے۔</p>
<p>اس وقت میرے سامنے بین الاقوامی ادارے ایف اے او کی فاریسٹ ریسورس اسسمنٹ کی تفصیلی رپورٹ ہے جس کے مطابق پاکستان میں صرف 3 فیصد رقبے پر جنگلات ہیں اوراس میں بھی خطرناک حد تک مسلسل کمی ہوتی جارہی ہے۔ہمارے پڑوسی ملک بھارت کا 24فیصد سے زائد علاقہ جنگلات پر مشتمل ہے جبکہ اس میں مزید تیز رفتار توسیع کی منصوبہ بندی کی جاری ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ ہم نے دل بھی بنجر کر لئے ہیں اور پاک سر زمین کو بھی مکمل بنجر کرنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>اللہ کے نبی کا یہ فرمان مجھے اکثر و بیشتر مایوسی سے نکال کر آمادہِ عمل کرتا ہے۔ آپ کوبھی اندازہ ہوجائے گا کہ درخت لگانے کی اہمیت کیا  ہے: فرمایا ”اگر تمھارے ہاتھ میں ایک پودے کی قلم ہے اور تم اسے لگا رہے اور عین اس وقت قیامت کا اعلان ہوجائے تو بھی کوشش کرو کہ یہ پودا زمین میں لگا دو“۔</p>
<p> میری تحریر میں تو شائد اثر نہ ہو مگر میر ے نبی نے سنگ دلوں اور تنگ ذہنوں کو بدل کے رکھ دیا۔ اور وہ بھی صرف 23برس میں۔ ”وحشی“ تہذیب یافتہ ہوگئے۔ آئیے اس پاک سر زمین سے محبت کا ثبوت دیتے ہوئے ہم اپنے آپ سے عہد کریں کہ ہم میں سے ہر شخص کم از کم 20پودے لگا کر اپنے وطن کو سر سبز و شاداب بنانے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ آئیے مل کر اس بکھرے سماج کی شیرازہ بندی کریں۔ سماج کے منفی رویوں کو پیدواری اور مثبت طرز فکر دینے کی اجتماعی کوشش کریں۔ خود غرضی سے تائب ہو کر آنے والی نسلوں کو ایک خوشحال اور سر سبز و شاداب پاکستان دے کر جائیں۔ میں نے اور آپ نے جلدیا بدیر اس دنیا سے رخصت ہوجانا ہے۔ مگر آئندہ نسلوں کے لیے کچھ اچھا کر کے اپنے اگلے سفر کو صدقہ جاریہ کے ذریعے اپنے لیے باعثِ راحت و سکون بنا لیں۔</p>
<p><a href="http://dairay.wordpress.com/2011/11/11/%D8%A7%DA%AF%D8%B1-%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85%D8%AA-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%86-%DB%81%D9%88-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%AA%D8%A8-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D9%BE%D9%88%D8%AF%D8%A7-%D8%B2/" target="_blank">اس تحریر کا حوالہ</a></p>
<p><font color="#FF0000" style="font-size: 20px">نوٹ:-</font> دوستو! یہ تحریر میری نہیں۔ جیسا کہ اوپر عرض کر چکا ہوں یہ تحریر ”<a href="https://www.facebook.com/Tree.Plantation.Pakistan" target="_blank">پاکستان میں شجر کاری</a>“ کی خواہش پر پوسٹ کی گئی ہے۔ یوں تو میں خود زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کے حق میں ہوں اور وقتاً فوقتاً اس کی عملی کوشش کرتا رہتا ہوں، لیکن یہ تحریر پڑھنے کے بعد سے ابھی تک میں نے خود 20 پودے نہیں لگائے لیکن کوشش ہے کہ پہلی فرصت اور موسم کے مطابق یہ کام انجام دیا جائے۔ لازمی نہیں کہ ہم 20 کی تعداد سوچ کر بوجھ سمجھتے ہوئے ایک بھی پودا نہ لگائیں۔ بس کوشش کریں کہ زیادہ سے زیادہ جتنے پودے لگا سکتے ہیں اتنے لگائیں اور پھر ان کی دیکھ بھال بھی کریں۔<br />
<a href="http://www.mbilalm.com/blog/chief-almir-surui-tribe/">یہاں دیکھیں</a> دنیا کیسے اپنے درختوں اور جنگلات کی حفاظت کر رہی ہے اور ایک ہم ہیں کہ۔۔۔ملتی جلتی تحاریر:-&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/reply-on-urdu-in-present-time/' title='موجودہ دور میں اردو زبان &#8211; جواب'>موجودہ دور میں اردو زبان &#8211; جواب</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/why-urdu-important-for-us-summary/' title='ہمارے لئے اردو کیوں ضروری &#8211; خلاصہ'>ہمارے لئے اردو کیوں ضروری &#8211; خلاصہ</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/extremism-and-its-effects-on-society/' title='شدت پسندی اور معاشرے پر اس کے اثرات'>شدت پسندی اور معاشرے پر اس کے اثرات</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/two-extremist-groups/' title='شدت پسندوں کے جھرمٹ'>شدت پسندوں کے جھرمٹ</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/our-needs-and-extremism/' title='ہماری ضرورتیں اور شدت پسندی'>ہماری ضرورتیں اور شدت پسندی</a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/ager-qiyamat-ka-allan-ho-jaiy/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>8</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>پاکستان بلاگ ایوارڈ &#8211; شام سویرے ہون ووٹاں ای ووٹاں</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/pakistan-blog-awards-2011-m-bilal-m-blog/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/pakistan-blog-awards-2011-m-bilal-m-blog/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 19 Nov 2011 23:59:21 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[متفرقات]]></category>
		<category><![CDATA[award]]></category>
		<category><![CDATA[election]]></category>
		<category><![CDATA[lose]]></category>
		<category><![CDATA[rate]]></category>
		<category><![CDATA[rating]]></category>
		<category><![CDATA[star]]></category>
		<category><![CDATA[supporter]]></category>
		<category><![CDATA[voter]]></category>
		<category><![CDATA[win]]></category>
		<category><![CDATA[الیکشن]]></category>
		<category><![CDATA[ایوارڈ]]></category>
		<category><![CDATA[تارے]]></category>
		<category><![CDATA[جیالے]]></category>
		<category><![CDATA[جیت]]></category>
		<category><![CDATA[حلقہ]]></category>
		<category><![CDATA[رائے]]></category>
		<category><![CDATA[ریٹنگ]]></category>
		<category><![CDATA[ستارے]]></category>
		<category><![CDATA[سپوٹر]]></category>
		<category><![CDATA[طریقہ]]></category>
		<category><![CDATA[نامزدگی]]></category>
		<category><![CDATA[ووٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ووٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ہار]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.mbilalm.com/blog/?p=1549</guid>
		<description><![CDATA[آپ کے حلقہ اردو بلاگستان سے ہمارا، تمہارا اور سب کا اردو بلاگ بھی پاکستان بلاگ ایوارڈ کےالیکشن میں نامزد ہو گیا ہے. کچھ ہم نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے میں دیر کر دی تھی اور کچھ ہمارے اثاثوں کی جانچ پڑتال میں الیکشن کمیشن نے اپنی مصروفیات کے باعث کافی وقت لگا دیا ہے اور ہمیں الیکشن کمپین کے لئے بہت تھوڑا وقت ملا ہے]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
<a href="http://pakistanblogawards.com/2011/11/19/best-use-of-the-urdu-language-in-a-blog-muhammad-bilal-mahmood/" title="Pakistan Blog Awards 2011" target="_blank"><img alt="" src="http://www.mbilalm.com/images/others/m-bilal-m-urdu-blog-awards.jpg" title="Vote for M Bilal M&#039;s Blog" class="alignleft" width="175" height="175" /></a>لو وائی یارو، سجنو، مترو، دوستو تے قاریو!</p>
<p>آپ کے حلقہ ”اردو بلاگستان“ سے ہمارا، تمہارا اور سب کا <a href="http://www.mbilalm.com/blog/" title="M Bilal M's Blog">اردو بلاگ</a> بھی ”<a href="http://pakistanblogawards.com/2011/11/19/best-use-of-the-urdu-language-in-a-blog-muhammad-bilal-mahmood/" title="Pakistan Blog Awards 2011" target="_blank">پاکستان بلاگ ایوارڈ</a>“ کےالیکشن میں نامزد ہو گیا ہے۔۔۔ حضرات! ہم پہلے بھی ایک دوسرے کی ضرورتوں کا خیال رکھتے رہے ہیں اور ان شاء اللہ مستقبل میں بھی ہم ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔ کچھ ہم نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے میں دیر کر دی تھی اور کچھ ہمارے اثاثوں کی جانچ پڑتال میں الیکشن کمیشن نے اپنی مصروفیات کے باعث کافی وقت لگا دیا ہے اور ہمیں الیکشن کمپین کے لئے بہت تھوڑا وقت ملا ہے۔ لہٰذا وقت کا تقاضہ ہے کہ تمام عہدیداران اور جیالے فوراً محترک ہو جائیں۔ <a href="http://pakistanblogawards.com/2011/11/19/best-use-of-the-urdu-language-in-a-blog-muhammad-bilal-mahmood/" title="Vote for M Bilal M's Blog" target="_blank">الیکشن کمیشن کی ویب سائیٹ</a> پر جائیں اور سب سے پہلے اپنے قیمتی ووٹ اور اس سے بھی زیادہ قیمتی تبصرے سے نوازیں، پھر دیگر فورمز، پلیٹ فارمز، سوشل میڈیا، رشتہ داروں، دوستوں اور تمام جگہوں پر بھرپور کمپین چلا کر، جیت یقینی بنائیں۔۔۔شکریہ۔۔۔<br />
<center><span style="color: #0000ff;">جیالوں کے نعرے۔۔۔ ووٹ ہمارے، ووٹ ہمارے<br />
بلاگ تے موراں۔۔۔ ٹھکا ٹھک<br />
چھا گیا وائی چھا گیا۔۔۔ساڈا بلاگ چھا گیا</span></center></p>
<p><font style="line-height: 15px;">&nbsp;</font><br />
خیر مذاق کے علاوہ بات یہ ہے کہ <a href="http://www.mbilalm.com/blog/" title="م بلال م کا بلاگ">میرا بلاگ</a> (م بلال م کی بیاض) پاکستان بلاگ ایوارڈ کے ”بلاگ میں اردو زبان کا بہتر استعمال“ والے زمرہ میں نامزد ہوا ہے۔ کسی بلاگ کے جیتنے کے لئے ووٹ اور تبصرے 50فیصد کردار ادا کریں گے، باقی 50فیصد فیصلہ جج صاحبان کریں گے۔فی الحال مجھے آپ کے ووٹ اور تبصرے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ زیادہ جلدی میں ہیں تو کم از کم صرف ایک کلک سے ووٹ تو دے دیں۔ باقی جو حضرات ووٹ کے ساتھ ساتھ ”<a href="http://pakistanblogawards.com/2011/11/19/best-use-of-the-urdu-language-in-a-blog-muhammad-bilal-mahmood/" title="Pakistan Blog Awards 2011" target="_blank">پاکستان بلاگ ایوارڈ</a>“ کی ویب سائیٹ پر  میرے بلاگ کی <a href="http://pakistanblogawards.com/2011/11/19/best-use-of-the-urdu-language-in-a-blog-muhammad-bilal-mahmood/" title="Nomination of M Bilal M's Blog" target="_blank">نامزدگی والے صفحہ</a> پر تبصرہ بھی کر دیں تو یہ سونے پر سہاگہ ہو گا۔ لیکن ٹھہریئے! اگر آپ کو میرا بلاگ پسند ہے یعنی آپ سمجھتے ہیں کہ ”<a href="http://www.mbilalm.com/blog/" title="M Bilal M's Blog">م بلال م کی بیاض</a>“ ووٹ کے قابل ہے، تو ووٹ دیجئے گا۔ فیصلہ جو ہو گا دیکھا جائے گا لیکن اس سارے مرحلے سے کم از کم مجھے یہ تو اندازہ ہو جائے گا کہ ”اردو“ کے بارے میں کیا گیا ”کام“ کتنا قابل ہے اور آپ لوگ اس کو کتنا پسند کرتے ہیں۔ ایوارڈ ملے نہ ملے، کوئی پرواہ نہیں لیکن آؤ دنیا پر ثابت کریں کہ ہم اردو بلاگر کسی سے کم نہیں۔</p>
<p><center><font color="#FF0000" style="font-size: 22px">ووٹ دینے کا طریقہ</font></center></p>
<p><a href="http://pakistanblogawards.com/2011/11/19/best-use-of-the-urdu-language-in-a-blog-muhammad-bilal-mahmood/" title="Vote for M Bilal M's Blog" target="_blank">سب سے پہلے اس لنک پر جائیں۔</p>
<p>http://pakistanblogawards.com/2011/11/19/best-use-of-the-urdu-language-in-a-blog-muhammad-bilal-mahmood/</a></p>
<p>وہاں پر آپ کو درج ذیل تصویر کے مطابق ہیڈنگ کے نیچے پانچ ستارے نظر آئیں گے۔ آپ میرے بلاگ کو جتنا پسند کرتے ہیں اتنے نمبر والے ستارے پر کلک کر کے اتنے نمبر دے سکتے ہیں۔ بائیں طرف والا ستارہ ایک نمبر کا ہے اور دائیں طرف والا پانچ نمبر کا ہے۔ درمیان والے بھی اپنے نمبروں کے حساب سے ترتیب سے ہیں۔ پانچ نمبر والے ستارے پر کلک کرنے کا مطلب ہے کہ آپ نے بلاگ کو پانچ نمبر دیئے۔</p>
<p><center><a href="http://pakistanblogawards.com/2011/11/19/best-use-of-the-urdu-language-in-a-blog-muhammad-bilal-mahmood/" title="Pakistan Blog Awards 2011" target="_blank"><img alt="" src="http://www.mbilalm.com/images/others/m-bilal-m-blog-vote.gif" title="Vote for M Bilal M&#039;s Blog - Method" width="600" height="500" /></a></center></p>
<p>ستارے پر کلک کرنے کے بعد معمولی سی زحمت کریں اور وہیں پر یعنی <a href="http://pakistanblogawards.com/2011/11/19/best-use-of-the-urdu-language-in-a-blog-muhammad-bilal-mahmood/" title="Comment for M Bilal M's Blog" target="_blank">بلاگ ایوارڈ والی ویب سائیٹ</a> پر نیچے میرے بلاگ کے بارے میں اپنے تاثرات بے شک چند ایک الفاظ میں تبصرے/رائے کی صورت میں درج کروا دیں۔ وہاں پر آپ کی دی گئی رائے بلاگ کے اچھے ہونے یا نہ ہونے کے لئے بہت اہم کردار ادا کرے گی۔<br />
یوں تو ووٹ دینے کی آخری تاریخ <del>25 نومبر 2011ء</del> ہے لیکن لگے ہاتھوں ابھی ووٹ دے دیں۔ آپ بھی خوش ہم بھی خوش۔</p>
<p>ہو سکے تو دعاؤں میں یاد رکھئے گا۔۔۔<br />
اللہ تعالیٰ آپ کو بے شمار خوشیاں دے۔۔۔آمین</p>
<p><span style="color: #0000ff;">اپڈیٹ:- ”پاکستان بلاگ ایوارڈ“ والوں نے ووٹنگ کی تاریخ 25 نومبر 2011ء سے بڑھا کر 28 نومبر 2011ء کر دی ہے۔</span>ملتی جلتی تحاریر:-&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/rotate-earth-with-finger/' title='میں نے انگلی سے زمین گھما دی'>میں نے انگلی سے زمین گھما دی</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/you-are-emotional/' title='آپ جذباتی ہو رہے ہیں'>آپ جذباتی ہو رہے ہیں</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/urdu-keyboard-layout/' title='اردو کلیدی تختہ (Urdu Keyboard Layout)'>اردو کلیدی تختہ (Urdu Keyboard Layout)</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/tableeg-ka-tareeqa-behter-karo/' title='تبلیغ کا طریقہ بہتر کرو اور احتیاط سے کام لو'>تبلیغ کا طریقہ بہتر کرو اور احتیاط سے کام لو</a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/pakistan-blog-awards-2011-m-bilal-m-blog/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>55</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ہمارے لئے اردو کیوں ضروری &#8211; خلاصہ</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/why-urdu-important-for-us-summary/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/why-urdu-important-for-us-summary/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 27 Oct 2011 18:27:48 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[متفرقات]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[best]]></category>
		<category><![CDATA[brilliant]]></category>
		<category><![CDATA[change]]></category>
		<category><![CDATA[common man]]></category>
		<category><![CDATA[education]]></category>
		<category><![CDATA[english]]></category>
		<category><![CDATA[generation]]></category>
		<category><![CDATA[global]]></category>
		<category><![CDATA[internet]]></category>
		<category><![CDATA[language]]></category>
		<category><![CDATA[logic]]></category>
		<category><![CDATA[mother tongue]]></category>
		<category><![CDATA[mystery]]></category>
		<category><![CDATA[nation]]></category>
		<category><![CDATA[pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[pakistani]]></category>
		<category><![CDATA[progressive]]></category>
		<category><![CDATA[revolution]]></category>
		<category><![CDATA[secret]]></category>
		<category><![CDATA[selection]]></category>
		<category><![CDATA[society]]></category>
		<category><![CDATA[status]]></category>
		<category><![CDATA[system]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>
		<category><![CDATA[urdu important]]></category>
		<category><![CDATA[victorious]]></category>
		<category><![CDATA[village]]></category>
		<category><![CDATA[why urdu]]></category>
		<category><![CDATA[youngster]]></category>
		<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ضروری]]></category>
		<category><![CDATA[اردو کیوں]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام]]></category>
		<category><![CDATA[انتخاب]]></category>
		<category><![CDATA[انقلاب]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[انگریزی]]></category>
		<category><![CDATA[انگلش]]></category>
		<category><![CDATA[بہترین]]></category>
		<category><![CDATA[بین الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[تبدیلی]]></category>
		<category><![CDATA[ترقی]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[ذہانت]]></category>
		<category><![CDATA[ذہین]]></category>
		<category><![CDATA[راز]]></category>
		<category><![CDATA[زبان]]></category>
		<category><![CDATA[عام]]></category>
		<category><![CDATA[عام آدمی]]></category>
		<category><![CDATA[عام پاکستانی]]></category>
		<category><![CDATA[علم]]></category>
		<category><![CDATA[غالب]]></category>
		<category><![CDATA[فتح]]></category>
		<category><![CDATA[قوم]]></category>
		<category><![CDATA[مادری زبان]]></category>
		<category><![CDATA[معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[مقام]]></category>
		<category><![CDATA[منطق]]></category>
		<category><![CDATA[نسل]]></category>
		<category><![CDATA[نظام]]></category>
		<category><![CDATA[نوجوان]]></category>
		<category><![CDATA[ویلیج]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی]]></category>
		<category><![CDATA[پذیر]]></category>
		<category><![CDATA[گاؤں]]></category>
		<category><![CDATA[گلوبل]]></category>
		<category><![CDATA[یافتہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.mbilalm.com/blog/?p=1484</guid>
		<description><![CDATA[وہ منطق آپ تک پہنچانے کی کوشش کی ہے جو ہمارے لئے ترقی کا آسان ترین ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک دفعہ اردو کو وہ مقام دے کر تو دیکھو، جس کی یہ مستحق ہے، پھر دیکھنا یہ زبان کیسے دنوں میں عروج دیتی ہے۔ نوجوانوں بہت ذہین ہیں، ایک دفعہ بیگانی زبان کی پابندی اٹھاؤ تو سہی پھر دیکھنا یہ کیسے ملک و قوم کے دن بدلتے ہیں]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم</p>
<p><a href="http://www.mbilalm.com/blog/disease-of-english-in-pakistan/" target="_blank">گزشتہ سے پیوستہ</a></p>
<p>ساری باتوں کا خلاصہ یہ کہ سب سے پہلے معاشرے کی ترقی کے لئے <a href="http://www.mbilalm.com/blog/why-urdu-important-for-us/" target="_blank">مناسب زبان کا انتخاب</a> کرنا ہے۔ جب ہم پاکستان کے لئے مناسب زبان کا انتخاب کرنے نکلتے ہیں تو ہم پر صاف واضح ہو جاتا ہے کہ ہماری <a href="http://www.mbilalm.com/blog/developement-of-pakistan-with-urdu/" target="_blank">ترقی کا سب سے پہلا راز</a> ہماری قومی زبان اردو میں پوشیدہ ہے۔؟ ٹھیک ہے <a href="http://www.mbilalm.com/blog/global-village-international-language-and-pakistan/" target="_blank">دنیا گلوبل ویلیج بن چکی ہے</a> لیکن ساری ترقی یافتہ دنیا اس گلوبل ویلیج میں شامل ہوتے ہوئے عام طور پر اپنی ہی زبان اپناتی ہے۔ اس کے بعد جس بندے نے جس سطح تک جانا ہوتا ہے پھر اس کے مطابق وہ دیگر کوئی زبان یا انگریزی سیکھتا ہے۔ ساری <a href="http://www.mbilalm.com/blog/in-which-language-nations-progress/" target="_blank">ترقی یافتہ دنیا کے عام لوگ</a> انٹرنیٹ پر بھی اپنی ہی زبان اپنائے ہوئے ہیں۔ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہوئے اگر ابھی بھی ہمیں زیادہ تر انگریزی کا سہارا لینا پڑتا ہے تو اس میں قصور بھی ہمارا ہی ہے کیونکہ جتنا ہم اردو کو اپنائیں گے اتنی ہی انگریزی کی ضرورت دن بدن کم ہوتی جائے گی۔ جب ہم اردو اپنائیں گے تو ساری مشکلات آسان ہونا شروع ہو جائیں گی۔ ہمیں کسی بیگانی زبان کی وجہ عام لوگوں پر تعلیم کے راستے بند نہیں کرنے ہوں گے اور ایک انگریزی کی وجہ سے عام لوگوں کو آگے آنے سے نہیں روکنا ہو گا۔ جو جس بھی زبان میں لکھ کر، بول کر یا سوچ کر اپنا مدعا بیان کر سکتا ہے اسے اس کی اجازت دینی ہو گی۔ ہمیں اچھے لوگ سامنے لانے ہیں نہ کہ انگریزی بولنے والے لوگوں کو بڑے عہدوں پر بیٹھانا ہے۔ اس کے بعد عام بندے کو اگر مواد کسی دوسری زبان کا چاہئے تو مترجم کا استعمال کرے اور اگر زیادہ ضرورت ہو تو پھر جس کی جو زبان ضرورت ہو وہ سیکھے۔ ایک دفعہ پھر کہوں گا کہ کسی بھی معاشرے میں اپنی زبان کے علاوہ کوئی دوسری زبان سیکھنے کی ضرورت بہت کم لوگوں کو ہوتی ہے اس لئے ان تھوڑے لوگوں کو کوئی دوسری زبان سیکھانی چاہئے نہ کہ پوری کی پوری قوم پر بیگانی زبان ٹھونس کر ذہانت کا کباڑہ کر دیا جائے۔ ہمیں اس <a href="http://www.mbilalm.com/blog/trouble-land-of-our-mental-slave/" target="_blank">الٹی بہتی ہوئی گنگا</a> کو سیدھا کرنا ہو گا اور <a href="http://www.mbilalm.com/blog/disease-of-english-in-pakistan/" target="_blank">”انگریزیا“ کی بیماری سے بچنا</a> ہو گا۔ ہم جغرافیائی لحاظ سے آزاد ہیں تو ہمیں اس ذہنی غلامی سے بھی آزادی حاصل کرنی ہو گی، تب کہیں جا کر اقوام عالم میں ہم بھی اپنی کوئی شناخت بنا پائیں گے۔ وقت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر آنے والی زبانیں تو تبدیل ہوتی آئیں ہیں۔ پہلے عربی اور فارسی تھیں، اب انگریزی ہے تو کل کو کوئی اور ہو گی، اور وہ ”اردو“ بھی ہو سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے آپ کو  یہ ”دیوانے کا خواب لگے“ لیکن خواب دیکھنے کی آزادی تو دیجئے حضور؟ خیر ہر غالب قوم کی زبان خودبخود بین الاقوامی سطح پر آ جاتی ہے، لیکن دیگر قوموں کی اپنی محنت و تاریخ تو صدیوں پر محیط ہوتی ہے تو کیا کل کو کوئی دوسری زبان بین الاقوامی سطح پر آئے گی تو ہم اس کی طرف دوڑ لگا دیں گے؟ اور تب تک کی ہوئی ساری محنت، سارا ادب، ساری تاریخ چھوڑ کر نئی زبان سیکھنے چل پڑیں گے؟ خدارا ہوش کے ناخن لو اور دیکھو کہ زبانوں کی سطح تبدیل ہونے پر قومیں اپنی زبانیں نہیں بدلتیں بلکہ اپنی زبان کو اپنائے رکھتی ہیں، اپنا قیمتی ورثہ سنبھالے ترقی کرتی رہتیں ہیں۔<br />
 یاد دہانی کے لئے بتا دوں کہ مجھے انگریزی سے یا کسی بھی دوسری زبان سے کوئی دشمنی نہیں بلکہ میں نے وہ منطق آپ تک پہنچانے کی کوشش کی ہے جو میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے لئے ترقی کا آسان ترین ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک دفعہ اردو کو وہ مقام دے کر تو دیکھو، جس کی یہ مستحق ہے، پھر دیکھنا یہ زبان آپ کو کیسے دنوں میں عروج دیتی ہے۔ ہمارے نوجوانوں بہت ذہین ہیں، ایک دفعہ بیگانی زبان کی پابندی اٹھاؤ تو سہی پھر دیکھنا یہ کیسے ملک و قوم کے دن بدلتے ہیں۔</p>
<p>اردو ہماری قومی زبان ہے۔ گھر، بازار، دفتر اور ہر جگہ پر اس کا استعمال کرو۔ اپنی زبان کو اپناؤ اور خوشحال ہو جاؤ۔</p>
<p><center>&#8212; ختم شد &#8212;</center>ملتی جلتی تحاریر:-&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/developement-of-pakistan-with-urdu/' title='پاکستان کی ترقی کا راز اردو میں پوشیدہ'>پاکستان کی ترقی کا راز اردو میں پوشیدہ</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/why-urdu-important-for-us/' title='ہمارے لئے اردو کیوں ضروری ہے؟'>ہمارے لئے اردو کیوں ضروری ہے؟</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/trouble-land-of-our-mental-slave/' title='ہمارے ذہنی غلاموں کا جنجال پورہ'>ہمارے ذہنی غلاموں کا جنجال پورہ</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/global-village-international-language-and-pakistan/' title='گلوبل ویلیج، بین الاقوامی زبان اور پاکستان'>گلوبل ویلیج، بین الاقوامی زبان اور پاکستان</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/disease-of-english-in-pakistan/' title='پاکستان میں ”انگریزیا“ کی بیماری'>پاکستان میں ”انگریزیا“ کی بیماری</a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/why-urdu-important-for-us-summary/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>9</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>پاکستان میں ”انگریزیا“ کی بیماری</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/disease-of-english-in-pakistan/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/disease-of-english-in-pakistan/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 27 Oct 2011 01:56:25 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[متفرقات]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[advance]]></category>
		<category><![CDATA[cancer]]></category>
		<category><![CDATA[conspiracy]]></category>
		<category><![CDATA[day by day]]></category>
		<category><![CDATA[disease]]></category>
		<category><![CDATA[english]]></category>
		<category><![CDATA[fever]]></category>
		<category><![CDATA[illiterate]]></category>
		<category><![CDATA[injection]]></category>
		<category><![CDATA[insult]]></category>
		<category><![CDATA[language]]></category>
		<category><![CDATA[living]]></category>
		<category><![CDATA[mental]]></category>
		<category><![CDATA[mentely]]></category>
		<category><![CDATA[nation]]></category>
		<category><![CDATA[national]]></category>
		<category><![CDATA[noble]]></category>
		<category><![CDATA[objective]]></category>
		<category><![CDATA[pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[pakistani]]></category>
		<category><![CDATA[people]]></category>
		<category><![CDATA[research]]></category>
		<category><![CDATA[salve]]></category>
		<category><![CDATA[society]]></category>
		<category><![CDATA[standard]]></category>
		<category><![CDATA[status]]></category>
		<category><![CDATA[symbol]]></category>
		<category><![CDATA[system]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>
		<category><![CDATA[virus]]></category>
		<category><![CDATA[year]]></category>
		<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[اعلی مرتبہ]]></category>
		<category><![CDATA[اعلیٰ]]></category>
		<category><![CDATA[انگریزی]]></category>
		<category><![CDATA[بخار]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[بے عزتی]]></category>
		<category><![CDATA[تحقیق]]></category>
		<category><![CDATA[جاہل]]></category>
		<category><![CDATA[جدید]]></category>
		<category><![CDATA[جراثیم]]></category>
		<category><![CDATA[دن بدن]]></category>
		<category><![CDATA[ذلت]]></category>
		<category><![CDATA[ذہن]]></category>
		<category><![CDATA[ذہنی]]></category>
		<category><![CDATA[رہن سہن]]></category>
		<category><![CDATA[رہنا]]></category>
		<category><![CDATA[زبان]]></category>
		<category><![CDATA[سازش]]></category>
		<category><![CDATA[سال]]></category>
		<category><![CDATA[سرطان]]></category>
		<category><![CDATA[سمبل]]></category>
		<category><![CDATA[سٹیٹس]]></category>
		<category><![CDATA[عوام]]></category>
		<category><![CDATA[غلام]]></category>
		<category><![CDATA[غلامی]]></category>
		<category><![CDATA[قوم]]></category>
		<category><![CDATA[لوگ]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبے]]></category>
		<category><![CDATA[معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[معیار]]></category>
		<category><![CDATA[مقصد]]></category>
		<category><![CDATA[نشان]]></category>
		<category><![CDATA[نظام]]></category>
		<category><![CDATA[وائرس]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکا]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی]]></category>
		<category><![CDATA[کینسر]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.mbilalm.com/blog/?p=1483</guid>
		<description><![CDATA[اگر کوئی علمی مقاصد کے لئے انگریزی سیکھے پھر بھی بات کوئی ہے لیکن ہمارے ایک گروہ کو ”انگریزیا“ کی بیماری ہو چکی ہے۔ یہ بیمار اور غلام ذہن انگریزی کو اعلیٰ مرتبے کی زبان سمجھتے ہیں یعنی ”سٹیٹس سمبل“۔ یہ لوگ اس بیماری کی وجہ سے ”نہ گھر کے رہے نہ گھاٹ کے“]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم  </p>
<p><a href="http://www.mbilalm.com/blog/trouble-land-of-our-mental-slave/" target="_blank">گذشتہ سے پیوستہ</a></p>
<p>اگر کوئی جدید تحقیق یا کسی دوسرے علمی مقاصد کے لئے انگریزی سیکھے پھر بھی بات دل کو لگتی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ایک گروہ کو ”انگریزیا“ کی بیماری ہو چکی ہے۔ یہ بیمار اور غلام ذہن انگریزی کو اس لئے نہیں اپناتے کہ انہوں نے جدید تحقیق کرنی ہے بلکہ یہ لوگ انگریزی کو اعلیٰ مرتبے کی زبان سمجھتے ہیں یعنی ”سٹیٹس سمبل“۔ اور عام انسانوں سے خود کو اعلیٰ ثابت کرنے کے لئے اپنی اصل پہچان کھوتے ہوئے انگریزی کا سہارا لیتے ہیں۔ دراصل یہ ایسے لوگ ہیں جن کو پتہ ہی نہیں کہ وہ اس بیماری کی وجہ سے ”نہ گھر کے رہے نہ گھاٹ کے“۔ یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اپنی زبان اور رہن سہن ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت عام پاکستانیوں سے جدا کر لیا ہے تاکہ یہ ہمارے لاشعور میں یہ بات بیٹھا سکیں کہ یہ انگریزیا والے اعلیٰ لوگ ہیں اور ہم عام عوام جاہل ہیں۔ بیماری ان لوگوں میں اتنی رچ چکی ہے کہ یہ لوگ ”انگریزیا“ کے غلام ہو چکے ہیں۔ یہ لوگ تو بیمار ہیں ہی لیکن ان کی وجہ سے یہ بیماری معاشرے میں سرطان کی طرح پھیلتی جا رہی ہے اور ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ یہی بیمار اور غلام لوگ ہمارے سروں پر بیٹھے ہیں اور دن رات ”انگریزیا“ کا وائرس عام عوام تک پہنچا رہے ہیں بلکہ اس وائرس کے ٹیکے ہاتھ میں پکڑے ہر کسی کو ”ٹھوک“ رہے ہیں۔ کبھی آپ نے غور کیا کہ ان غلام لوگوں نے ہمیں اپنا غلام بنا رکھا ہے یعنی ہم غلاموں کے غلام بن کر رہ گئے ہیں۔ جیسے انگریز دور میں انگریزوں سے بات چیت کرنے کے لئے ان کی زبان سیکھنی پڑی تھی بالکل آج اسی طرح ان بیماروں نے ہمارے اوپر وہی نظام لاگو کر دیا ہے۔ پہلے ہم صرف انگریزوں کے غلام تھے لیکن اب مزید ذلت امیز غلامی کا طوق ہماری گردنوں میں ہے کیونکہ اب ہم انگریزوں کے غلاموں کے غلام بن چکے ہیں۔ انگریز سے آزادی لی تھی کہ ہم آسان زبان میں اور مکمل آزادی سے بات چیت کر لیں لیکن اب ان غلام ذہنوں کی وجہ سے ہم دن بدن رسوا ہو رہے ہیں۔ ہمیں اس بیماری سے بچنا ہے اور ساتھ ساتھ خود کو اور اپنی سوچ کو غلامی سے بچاتے ہوئے مکمل آزادی حاصل کرنی ہے۔ دوستوں اپنے دماغوں پر زیادہ زور نہ ڈالو! بس اتنا سوچو کہ پچھلے 64سال سے یہی انگریزیا کے بیمار لوگ ہمارے سیاہ و سفید کے مالک بنے ہوئے ہیں۔ ہمیں دن رات انگریزی کی خوراک دے رہے ہیں۔ اگر اس دوائی سے ہم نے ٹھیک ہونا ہوتا تو کب کے ہو چکے ہوتے۔ 64 سال تھوڑے نہیں ہوتے۔ خدارا اپنے آپ کو پہچانو، حقیقت کو پہچانو اور اس انگریزی کے سحر سے باہر نکلو۔ اپنی زبان اپناؤ، آسانی سے بات چیت کرو اور اتنی ہی آسانی سے ترقی کرو۔<br />
 اللہ تعالیٰ ہمارے معاشرے کے ان بیماروں کو صحت دے اور ساری قوم کو ”انگریزیا“ کے وائرس سے بچائے۔۔۔آمین</p>
<p>اگلا اور آخری حصہ :- <a href="http://www.mbilalm.com/blog/why-urdu-important-for-us-summary/">ہمارے لئے اردو کیوں ضروری &#8211; خلاصہ</a>ملتی جلتی تحاریر:-&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/trouble-land-of-our-mental-slave/' title='ہمارے ذہنی غلاموں کا جنجال پورہ'>ہمارے ذہنی غلاموں کا جنجال پورہ</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/why-urdu-important-for-us-summary/' title='ہمارے لئے اردو کیوں ضروری &#8211; خلاصہ'>ہمارے لئے اردو کیوں ضروری &#8211; خلاصہ</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/developement-of-pakistan-with-urdu/' title='پاکستان کی ترقی کا راز اردو میں پوشیدہ'>پاکستان کی ترقی کا راز اردو میں پوشیدہ</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/in-which-language-nations-progress/' title='قوموں نے ترقی کس زبان میں کی؟'>قوموں نے ترقی کس زبان میں کی؟</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/global-village-international-language-and-pakistan/' title='گلوبل ویلیج، بین الاقوامی زبان اور پاکستان'>گلوبل ویلیج، بین الاقوامی زبان اور پاکستان</a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/disease-of-english-in-pakistan/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>11</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ہمارے ذہنی غلاموں کا جنجال پورہ</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/trouble-land-of-our-mental-slave/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/trouble-land-of-our-mental-slave/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 26 Oct 2011 17:29:06 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[متفرقات]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[advertisement]]></category>
		<category><![CDATA[agent]]></category>
		<category><![CDATA[application]]></category>
		<category><![CDATA[civil]]></category>
		<category><![CDATA[common]]></category>
		<category><![CDATA[course]]></category>
		<category><![CDATA[court]]></category>
		<category><![CDATA[css]]></category>
		<category><![CDATA[culture]]></category>
		<category><![CDATA[decision]]></category>
		<category><![CDATA[department]]></category>
		<category><![CDATA[disgrace]]></category>
		<category><![CDATA[education]]></category>
		<category><![CDATA[english]]></category>
		<category><![CDATA[examination]]></category>
		<category><![CDATA[facebook]]></category>
		<category><![CDATA[form]]></category>
		<category><![CDATA[illiterate]]></category>
		<category><![CDATA[language]]></category>
		<category><![CDATA[lecture]]></category>
		<category><![CDATA[level]]></category>
		<category><![CDATA[like]]></category>
		<category><![CDATA[mafia]]></category>
		<category><![CDATA[man]]></category>
		<category><![CDATA[mental]]></category>
		<category><![CDATA[nation]]></category>
		<category><![CDATA[newspapers]]></category>
		<category><![CDATA[pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[pakistani]]></category>
		<category><![CDATA[police]]></category>
		<category><![CDATA[revolution]]></category>
		<category><![CDATA[servant]]></category>
		<category><![CDATA[slave]]></category>
		<category><![CDATA[strange]]></category>
		<category><![CDATA[system]]></category>
		<category><![CDATA[teacher]]></category>
		<category><![CDATA[tear]]></category>
		<category><![CDATA[trouble]]></category>
		<category><![CDATA[university]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>
		<category><![CDATA[write]]></category>
		<category><![CDATA[written]]></category>
		<category><![CDATA[اخبار]]></category>
		<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[استاد]]></category>
		<category><![CDATA[اشتہار]]></category>
		<category><![CDATA[اعداد]]></category>
		<category><![CDATA[امتحان]]></category>
		<category><![CDATA[ان پڑھ]]></category>
		<category><![CDATA[انقلاب]]></category>
		<category><![CDATA[انگریزی]]></category>
		<category><![CDATA[ایجنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[بیگانہ]]></category>
		<category><![CDATA[بیگانی]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[ثقافت]]></category>
		<category><![CDATA[جادو]]></category>
		<category><![CDATA[جادوگر]]></category>
		<category><![CDATA[جامیعہ]]></category>
		<category><![CDATA[جاہل]]></category>
		<category><![CDATA[درخواست]]></category>
		<category><![CDATA[دھجیاں]]></category>
		<category><![CDATA[ذہنی]]></category>
		<category><![CDATA[زبان]]></category>
		<category><![CDATA[سبق]]></category>
		<category><![CDATA[سول سرونٹ]]></category>
		<category><![CDATA[سی ایس ایس]]></category>
		<category><![CDATA[عام آدمی]]></category>
		<category><![CDATA[عام پاکستانی]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[غلامی]]></category>
		<category><![CDATA[فارم]]></category>
		<category><![CDATA[فیس بک]]></category>
		<category><![CDATA[فیصلہ]]></category>
		<category><![CDATA[قوم]]></category>
		<category><![CDATA[لائیک]]></category>
		<category><![CDATA[لکھنا]]></category>
		<category><![CDATA[لیکچر]]></category>
		<category><![CDATA[مافیا]]></category>
		<category><![CDATA[محکمہ]]></category>
		<category><![CDATA[مسائل]]></category>
		<category><![CDATA[معیار]]></category>
		<category><![CDATA[نظام]]></category>
		<category><![CDATA[نوکر]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پسند]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[یونیورسٹی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.mbilalm.com/blog/?p=1480</guid>
		<description><![CDATA[انقلاب کی بات کرتے ہیں، ثقافت کی بات کرتے ہیں لیکن جو زبان استعمال کی جاتی ہے وہی ثقافت کی دھجیاں اڑا رہی ہوتی ہے۔ اخبار اردو، اخبار پڑھنے والے اردو والے، اشتہارات اردو والوں کے لئے لیکن مجال ہے کوئی بھی یونیورسٹی اپنا اشتہار اردو میں دے۔ ہمیں غلام اور ہمارے معاشرے کو ذہنی غلاموں کا جنجال پورہ بنا کر رکھ دیا ہے]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم  </p>
<p><a href="http://www.mbilalm.com/blog/in-which-language-nations-progress/" target="_blank">گذشتہ سے پیوستہ</a></p>
<p>کیسی عجیب بات ہے ہمارے ہاں عدالت فیصلہ ایک کسان کے لئے کرتی ہے لیکن فیصلہ لکھتی انگریزی میں ہے۔ قانون پاکستانیوں کے لئے ہے لیکن لکھا انگریزی میں جاتا ہے۔ انقلاب لانے والے بات غریبوں سے کرتے ہیں لیکن زبان پتہ نہیں کونسی استعمال کرتے ہیں۔ بات ثقافت کی ہوتی ہے لیکن جو زبان استعمال کی جاتی ہے وہی ثقافت کی دھجیاں اڑا رہی ہوتی ہے۔ اخبار اردو، اخبار پڑھنے والے اردو والے، اشتہارات اردو والوں کے لئے لیکن مجال ہے کوئی بھی یونیورسٹی اپنا اشتہار اردو میں دیتی ہو اور نہ ہی کسی کی ویب سائیٹ اردو میں ہے۔ ذہنی غلاموں نے ہمیں غلام اور ہمارے معاشرے کو ذہنی غلاموں کا جنجال پورہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ کبھی آپ نے غور کیا طالب علم پاکستانی، ہڈیوں میں رچی قومی زبان اردو، نصاب انگریزی، لیکچر گلابی اردو (اردو+انگریزی) میں، طالب علم سوچتا اردو میں، امتحانات میں لکھتا انگریزی میں، طالب علم آپس میں بات چیت اردو میں کرتے، استاد سے سوال اردو میں کرتے، جواب اردو میں لیتے لیکن نصاب انگریزی۔ اوئے! یہ سب کیا ہے؟ یہ ذہنی غلاموں کا جنجال پورہ نہیں تو پھر مجھے بتاؤ اور اسے کیا کہوں؟ ہمارے ہاں پتہ نہیں کیوں ہر کام میں گنگا الٹی ہی بہتی ہے۔ آپ انٹرنیٹ پر دیکھ لیں باتیں انقلاب کی لیکن انگریزی میں، او خدا کے بندو! انہوں نے انقلاب نہیں لانا جن کو تم سنا رہے ہو بلکہ جس نے انقلاب لانا ہے وہ تو ایک عام پاکستانی ہے۔ اس تک پہنچو اور اس کی زبان میں بات کرو اور اسے سمجھاؤ، لیکن مجال ہے جو کوئی ”واقعی“ انقلاب لانے کے لئے عام انسان کی سطح پر آنے کو تیار ہو۔ یہ سب اعداد کے اور باتوں کے جادوگر ہیں، جن کا مقصد صرف یہ دیکھنا ہے کہ کتنے لوگوں نے انہیں یا ان کے صفحہ کو انٹرنیٹ پر پسند کیا، ذرا پسند کا معیار تو دیکھو، واہ سبحان اللہ۔ اِدھر آج پسند کا بٹن دبایا اُدھر کل یاد بھی نہیں تھا کہ کسی ”انقلابی“ کی آواز پر لبیک کہا تھا۔ اس میں عام بندے کا کوئی قصور نہیں بلکہ قصور تو اس ”انقلابی“ کا ہے جس نے سوچ تبدیل کرنے کے لئے عام بندے تک آنے کی کوشش ہی نہیں بلکہ انقلاب کے لئے اس کا انقلابی قدم یہ تھا کہ ”Plz Like my Page“۔ واہ رے انقلابی، صدقے جاؤں تیرے انقلاب پہ۔۔۔</p>
<p>بے شمار محکموں کا کام صرف عام عوام تک محدود ہے لیکن انہیں محکموں میں بھرتی کرتے ہوئے معیار انگریزی بنایا جاتا ہے۔ سی ایس ایس جیسے امتحان لیے جاتے ہیں اور بھرتی ہونے والے ”سول سرونٹ“ ہوتے ہیں۔ ایسے نوکر جنہوں نے خدمت ایسی عوام کی کرنی ہے، عام طور پر ایسی عوام سے ملنا اور مخاطب ہونا ہے، جو اردو سمجھتی ہے لیکن انہیں ”سول سرونٹ“ کو بھرتی کرنے کے لئے معیار انگریزی رکھا گیا ہے۔ یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے کہ آخر سی ایس ایس جیسے امتحانات میں انگریزی پر اتنا زور کیوں دیا جاتا جبکہ اس امتحان کے نتیجے میں بھرتی ہونے والے تو عام عوام کے نوکر بننے جا رہے ہوتے ہیں۔ ٹھیک ہے کچھ نوکروں نے باہر کے ممالک میں پاکستان کی نمائندگی کرنی ہوتی ہے تو ایسے نوکروں کے لئے انگریزی لازمی رکھ لیں لیکن جنہوں نے پولیس جیسے محکموں میں جانا ہے جہاں پر سارا کام ہی عام عوام کے لئے کرنا ہے وہاں پر انگریزی کی اتنی کیا ضرورت ہے؟ قرضہ اور اس جیسے دیگر درخواست فارم وغیرہ ہوتے عام انسان کے لئے ہیں لیکن لکھے انگریزی میں ہوتے ہیں۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ایسا سب کچھ کر کے ہم چھوٹی چھوٹی اور بنیادی باتوں پر پاکستان کی سب سے بڑی تعداد کے لئے سیکھنے، سمجھنے اور اپنا مدعا بیان کرنے کے دروازے بند کر دیتے ہیں۔ پھر انہیں چیزوں کی آڑ میں ہم ہر ادارے میں ایجنٹ مافیا پیدا کرتے ہیں، بابو صاحب پیدا کرتے ہیں اور اچھی بھلی سوچ رکھنے والے کو صرف زبان کی وجہ سے جاہل بنا دیتے ہیں۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ہم نے اپنے نوجوان کو دو کشتیوں (اردو اور انگریزی) کا سوار کر رکھا ہے اور طالب علم کی آدھی محنت تو ایک بیگانی زبان سیکھانے میں ضائع کر دیتے ہیں۔</p>
<p>اگلا حصہ :- <a href="http://www.mbilalm.com/blog/disease-of-english-in-pakistan/">”انگریزیا“ کی بیماری</a>ملتی جلتی تحاریر:-&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/why-urdu-important-for-us-summary/' title='ہمارے لئے اردو کیوں ضروری &#8211; خلاصہ'>ہمارے لئے اردو کیوں ضروری &#8211; خلاصہ</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/disease-of-english-in-pakistan/' title='پاکستان میں ”انگریزیا“ کی بیماری'>پاکستان میں ”انگریزیا“ کی بیماری</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/global-village-international-language-and-pakistan/' title='گلوبل ویلیج، بین الاقوامی زبان اور پاکستان'>گلوبل ویلیج، بین الاقوامی زبان اور پاکستان</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/developement-of-pakistan-with-urdu/' title='پاکستان کی ترقی کا راز اردو میں پوشیدہ'>پاکستان کی ترقی کا راز اردو میں پوشیدہ</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/why-urdu-important-for-us/' title='ہمارے لئے اردو کیوں ضروری ہے؟'>ہمارے لئے اردو کیوں ضروری ہے؟</a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/trouble-land-of-our-mental-slave/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>قوموں نے ترقی کس زبان میں کی؟</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/in-which-language-nations-progress/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/in-which-language-nations-progress/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 26 Oct 2011 01:00:18 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[متفرقات]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[advancement]]></category>
		<category><![CDATA[arabic]]></category>
		<category><![CDATA[data]]></category>
		<category><![CDATA[dual]]></category>
		<category><![CDATA[english]]></category>
		<category><![CDATA[global village]]></category>
		<category><![CDATA[google]]></category>
		<category><![CDATA[history]]></category>
		<category><![CDATA[international]]></category>
		<category><![CDATA[language]]></category>
		<category><![CDATA[logic]]></category>
		<category><![CDATA[nation]]></category>
		<category><![CDATA[national language]]></category>
		<category><![CDATA[nations]]></category>
		<category><![CDATA[pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[pershian]]></category>
		<category><![CDATA[proficiency]]></category>
		<category><![CDATA[progress]]></category>
		<category><![CDATA[promotion]]></category>
		<category><![CDATA[research]]></category>
		<category><![CDATA[resources]]></category>
		<category><![CDATA[technology]]></category>
		<category><![CDATA[translate]]></category>
		<category><![CDATA[translator]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>
		<category><![CDATA[visa]]></category>
		<category><![CDATA[visa language]]></category>
		<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[انگریزی]]></category>
		<category><![CDATA[بین الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[تحقیق]]></category>
		<category><![CDATA[تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[ترجمہ]]></category>
		<category><![CDATA[ترقی]]></category>
		<category><![CDATA[تکنیک]]></category>
		<category><![CDATA[دو]]></category>
		<category><![CDATA[زبان]]></category>
		<category><![CDATA[زبانیں]]></category>
		<category><![CDATA[عربی]]></category>
		<category><![CDATA[فارسی]]></category>
		<category><![CDATA[قوم]]></category>
		<category><![CDATA[مترجم]]></category>
		<category><![CDATA[منطق]]></category>
		<category><![CDATA[مواد]]></category>
		<category><![CDATA[وسائل]]></category>
		<category><![CDATA[ویزا]]></category>
		<category><![CDATA[ویزہ]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[گلوبل ویلیج]]></category>
		<category><![CDATA[گوگل]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.mbilalm.com/blog/?p=1474</guid>
		<description><![CDATA[زیادہ نہیں بس تھوڑے سا تاریخ کا مطالعہ کرو۔ دیکھو یورپ کے اس تاریک دور کو جب انگریزی میں جدید مواد تھا ہی نہیں۔ تب کچھ بندوں نے اپنی ضرورت کے مواد کو فارسی، عربی اور دیگر زبانوں سے اپنی زبان میں منتقل کیا۔ عام عوام کو سیکھایا اور شعور دیا۔ عوام خوشحال ہونا شروع ہو گئی]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم  </p>
<p><a href="http://www.mbilalm.com/blog/global-village-international-language-and-pakistan/" target="_blank">گذشتہ سے پیوستہ</a></p>
<p>اس عنوان کا جواب صرف اتنا ہے کہ اپنی زبان، اپنی زبان اور بس اپنی ہی زبان میں ترقی کی۔<br />
خدا کے بندو زیادہ نہیں بس تھوڑے سے تاریخ کے صفحات کا مطالعہ کرو۔ دیکھو یورپ کے اس تاریک دور کو جب انگریزی میں جدید مواد تھا ہی نہیں۔ تب کچھ بندوں نے اپنی ضرورت کے مواد کو فارسی، عربی اور دیگر زبانوں سے اپنی زبان میں منتقل کیا۔ عام عوام کو سیکھایا اور شعور دیا۔ عوام خوشحال ہونا شروع ہو گئی۔ آج وہ وقت ہے کہ کسی بھی زبان میں کوئی تحقیق آتی ہے وہ اسے فورا اپنی زبان میں منتقل کرتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ پوری عوام کو نئی زبان سیکھانے سے بہتر ہے کہ چند لوگ مترجم بن جائیں اور اپنی عوام کو اسی کی زبان میں مواد فراہم کریں تاکہ جتنی محنت نئی زبان سیکھنے پر کرنی ہے اتنی کسی اور کام میں کر کے مزید ترقی کی جائے۔ کئی لوگ کہتے ہیں کہ وہ اور دور تھا جبکہ آج کچھ اور حالات ہیں۔ آج دنیا گلوبل ویلیج بن چکی ہے۔ لوگ بالکل ٹھیک کہتے ہیں واقعی وہ دور اور تھا اور یہ دور اور ہے، تب حالات اور تھے اور آج اور ہیں۔ تب مواد کم تھا تو انسان ترجمہ کر لیتے تھے۔ واہ کیا خوب منطق ہے۔ یہ منطق دیتے ہوئے ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ آج مواد زیادہ ہے تو اس کے لئے آج ہمارے پاس وسائل بھی تو زیادہ ہیں۔ اب تو وہ وقت آ چکا ہے جب کمپیوٹر کے سامنے کتاب رکھو وہ خود ہی تراجم کرے گا۔ ہارڈ کاپی کو سافٹ کاپی میں منتقل کرے گا اور نا جانے کیا کیا خودبخود کر دے گا۔ اگر اردو جدید ٹیکنالوجی میں اس مقام پر نہیں پہنچی جہاں دیگر زبانیں ہیں تو اس میں اردو کا کوئی قصور نہیں، یہ ہماری ہی نالائقی ہے۔ مزید یہ کہ گلوبل ویلیج کا راگ الاپنے والے جن کو انگریزی کا بخار چڑھا ہوا ہے۔ جنہوں نے کنویں سے باہر دیکھا ہی نہیں کہ ساری ترقی یافتہ دنیا اپنی اپنی زبانوں کو اپنائے ہوئے مزید ترقی کر رہی ہے۔ اگر انگریزی کے بغیر ترقی ممکن نہیں تھی تو پھر انہوں نے کیسے ترقی کر لی؟ دنیا گلوبل ویلیج بن چکی ہے تو پھر گوگل اور اس جیسی کئی ایک کمپنیاں انگریزی کے علاوہ دیگر زبانوں میں کیوں موجود ہیں۔ وہ ”صرف“ اس گلوبل ویلیج کی زبان کو ہی کیوں نہیں اپناتیں؟ دیگر زبانوں میں اپنی ویب سائیٹیں اور دیگر مواد کیوں فراہم کرتیں ہیں؟ اس کا جواب صرف اتنا ہے کہ وہ کمپنیاں جانتی ہیں کہ ترقی یافتہ لوگ صرف اپنی زبان میں ترقی کرکے یہاں پہنچے ہیں اور وہ کبھی اپنی زبان نہیں چھوڑیں گے۔ ویسے بھی گلوبل ویلیج کی زبان انگریزی والی بات سرے سے ہی غلط ہے۔ بے شک دنیا گلوبل ویلیج بن چکی ہے لیکن اس گلوبل ویلیج کی کوئی ایک زبان نہیں بلکہ اتنی ہی زبانیں ہیں جتنی زبانوں والے لوگ اس میں شامل ہیں۔ کبھی آپ نے غور کیا ساری ترقی یافتہ دنیا اپنی کاغذی کاروائی اپنی زبان میں کرتی ہے۔ دیارِغیر جانے والے لوگوں کو اس بات کا اندازہ ہو گا کہ ویزا کے جو کاغذات باہر سے آتے ہیں وہ اس ملک کی اپنی زبان میں ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ باہر جانے والے کو اپنی اسناد اور دیگر کاغذات  بھی اس ملک کی ہی زبان میں منتقل کروانے ہوتے ہیں۔ اگر انگریزی اتنی ہی اہم ہے تو وہ ملک پاگل ہیں جو آپ سے آپ کے کاغذات اپنی زبان میں مانگتے ہیں؟ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنے کام اپنی زبان میں کرتی ہیں اور صرف نہایت ہی مجبوری میں دوسری کسی زبان کا سہارا لیتی ہیں، کیونکہ سمجھدار قومیں دو کشتیوں کی سوار نہیں بنتیں بلکہ ایک کشتی میں بیٹھتی ہیں اور منزل کی جانب رواں دواں رہتی ہیں۔</p>
<p>اگلا حصہ :- <a href="http://www.mbilalm.com/blog/trouble-land-of-our-mental-slave/">ہمارے ذہنی غلاموں کا جنجال پورہ</a>ملتی جلتی تحاریر:-&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/why-urdu-important-for-us-summary/' title='ہمارے لئے اردو کیوں ضروری &#8211; خلاصہ'>ہمارے لئے اردو کیوں ضروری &#8211; خلاصہ</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/developement-of-pakistan-with-urdu/' title='پاکستان کی ترقی کا راز اردو میں پوشیدہ'>پاکستان کی ترقی کا راز اردو میں پوشیدہ</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/disease-of-english-in-pakistan/' title='پاکستان میں ”انگریزیا“ کی بیماری'>پاکستان میں ”انگریزیا“ کی بیماری</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/global-village-international-language-and-pakistan/' title='گلوبل ویلیج، بین الاقوامی زبان اور پاکستان'>گلوبل ویلیج، بین الاقوامی زبان اور پاکستان</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/why-urdu-important-for-us/' title='ہمارے لئے اردو کیوں ضروری ہے؟'>ہمارے لئے اردو کیوں ضروری ہے؟</a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/in-which-language-nations-progress/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>گلوبل ویلیج، بین الاقوامی زبان اور پاکستان</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/global-village-international-language-and-pakistan/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/global-village-international-language-and-pakistan/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 25 Oct 2011 09:42:52 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[متفرقات]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[adopt urdu]]></category>
		<category><![CDATA[advanced]]></category>
		<category><![CDATA[appropriate]]></category>
		<category><![CDATA[brilliant]]></category>
		<category><![CDATA[education]]></category>
		<category><![CDATA[english]]></category>
		<category><![CDATA[global village]]></category>
		<category><![CDATA[graduation]]></category>
		<category><![CDATA[intermediat]]></category>
		<category><![CDATA[international]]></category>
		<category><![CDATA[internet]]></category>
		<category><![CDATA[language]]></category>
		<category><![CDATA[level]]></category>
		<category><![CDATA[modern research]]></category>
		<category><![CDATA[pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[person]]></category>
		<category><![CDATA[progressive]]></category>
		<category><![CDATA[researcher]]></category>
		<category><![CDATA[school]]></category>
		<category><![CDATA[student]]></category>
		<category><![CDATA[system]]></category>
		<category><![CDATA[underdeveloped]]></category>
		<category><![CDATA[university]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>
		<category><![CDATA[world]]></category>
		<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[اردو اپنانا]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[انگریزی]]></category>
		<category><![CDATA[بین الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[ترقی پذیر]]></category>
		<category><![CDATA[ترقی یافتہ]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[جامعیہ]]></category>
		<category><![CDATA[جامیعہ]]></category>
		<category><![CDATA[جدید تحقیق]]></category>
		<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ذہین]]></category>
		<category><![CDATA[زبان]]></category>
		<category><![CDATA[سکول]]></category>
		<category><![CDATA[طالب علم]]></category>
		<category><![CDATA[قابل]]></category>
		<category><![CDATA[لائق]]></category>
		<category><![CDATA[لوگ]]></category>
		<category><![CDATA[محقق]]></category>
		<category><![CDATA[معیار]]></category>
		<category><![CDATA[نظام]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[گلوبل ویلیج]]></category>
		<category><![CDATA[یونیورسٹی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.mbilalm.com/blog/?p=1468</guid>
		<description><![CDATA[کسی قوم کی کتنی تعداد اس سطح تک پہنچتی ہے جہاں وہ اس گلوبل ویلیج کا حصہ بنتے ہوئے گلوبل ویلیج کی زبان اپناتی ہے؟ دنیا گلوبل ویلیج میں شامل ہوتی ہے لیکن ساری دنیا شامل ہوتے ہوئے عام طور پر اپنی زبان اپناتی ہے۔ اس کے بعد جس بندے نے جس سطح تک جانا ہوتا ہے، اس کے مطابق وہ دیگر کوئی زبان سیکھتا ہے]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم  </p>
<p><a href="http://www.mbilalm.com/blog/developement-of-pakistan-with-urdu/" target="_blank">گذشتہ سے پیوستہ</a></p>
<p>انگریزی ہم پر ٹھونسنے کے حق میں یار لوگوں کے پاس سب سے بڑے دلائل یہ ہیں کہ دنیا گلوبل ویلیج بن چکی ہے اور اس گلوبل ویلیج کی زبان انگریزی ہے۔ انگریزی ایک بین الاقوامی اور علم کی زبان ہے۔ دنیا کا زیادہ تر جدید علم انگریزی میں ہے۔ جدید تحقیق انگریزی میں ہی مل سکتی ہے۔ چلیں یار لوگوں کے یہ دلائل ہم خود مان لیتے ہیں لیکن سوال تو یہ ہے کہ یہ دلائل ہم پر یا کسی بھی قوم پر لاگو کیسے ہو سکتے ہیں؟ سب سے پہلے تو یہ بات دیکھیں کہ کسی قوم (ترقی یافتہ+ترقی پذیر) کی کتنی تعداد اس سطح تک پہنچتی ہے جہاں وہ اس گلوبل ویلیج کا حصہ بنتے ہوئے گلوبل ویلیج کی زبان اپناتی ہے؟ ٹھیک ہے دنیا گلوبل ویلیج میں شامل ہوتی ہے لیکن ساری ترقی یافتہ دنیا شامل ہوتے ہوئے عام طور پر اپنی زبان اپناتی ہے۔ اس کے بعد جس بندے نے جس سطح تک جانا ہوتا ہے پھر اس کے مطابق وہ دیگر کوئی زبان یا انگریزی سیکھتا ہے۔ ساری ترقی یافتہ دنیا کے عام لوگ انٹرنیٹ پر بھی اپنی ہی زبان اپنائے ہوئے ہیں۔ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہوئے اگر ابھی بھی ہمیں زیادہ تر انگریزی کا سہارا لینا پڑتا ہے تو اس میں قصور بھی ہمارا ہی ہے کیونکہ جتنا ہم اردو کو اپنائیں گے اتنی ہی انگریزی کی ضرورت دن بدن کم ہوتی جائے گی۔ ویسے اس گلوبل ویلیج کی زبان کا فارمولا ہم پر ہی کیوں لاگو ہوتا ہے؟ یہ گلوبل ویلیج کے بالکل مرکز میں رہنے والے، جرمنی، فرانس، سپین اور پورے یورپ وغیرہ پر کیوں نہیں ہوتا؟ یہ انگریزی ہمارے لئے ہی اتنی کیوں ضروری ہے، یہ چین اور جاپان کے لئے اتنی ضروری کیوں نہیں؟</p>
<p>دوسری بات یہ کہ پاکستانیوں کی کتنی تعداد ہے جسےبین الاقوامی سطح تک جا کر علم کے حصول کے لئے انگریزی اپنانی پڑتی ہے؟ آخر پاکستان میں کتنے لوگ ہیں جنہیں جدید تحقیق جاننے کی ضرورت ہوتی ہے؟ ٹھیک ہے ابھی ہمارے درمیان ایسی تعداد بہت ہی کم ہے لیکن ہم ترقی کر بھی جائیں تو تب بھی ساری قوم نے اس بین الاقوامی سطح تک نہیں پہنچنا ہوتا بلکہ آپ دیکھ لیں ترقی یافتہ ممالک میں بھی ایسی بین الاقوامی سطح پر چند گنے چنے لوگ ہی ہوتے ہیں، جنہیں بین الاقومی یا دیگر کوئی زبان سیکھنا ضروری ہوتی ہے۔ آخر کسی قوم میں ایسے کتنے محقق ہوتے ہیں جنہوں نے بین الاقوامی سطح پر پہنچنا ہوتا ہے؟ چلیں اگر آپ کو اعتراض ہے تو مان لیتے ہیں کہ یہ تعداد گنی چنی نہیں ہوتی بلکہ زیادہ ہوتی ہے، تو پھر آپ خود اندازہ لگا لیں کہ ایک لاکھ، ایک کروڑ اور ایک قوم میں یہ تعداد کتنی ہوتی ہے؟ اس اندازے کے بعد بھی آپ دیکھیں گے کہ یہ تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہی ہوتی ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے بین الاقوامی سطح تک جا کر کام کرنا ہے وہ سیکھیں یا انہیں سیکھاؤ بین الاقوامی زبان۔ اب چند لوگوں کو بین الاقوامی سطح پر لانے کے لئے پوری عوام کو انگریزی سیکھانا بہتر ہے یا پھر جو اس سطح تک پہنچے صرف وہ سیکھ لے۔ صرف بیمار کو دوائی دی جاتی ہے۔ باقی جنہوں نے اپنی زندگی پاکستان سے شروع کرنی ہے اور یہیں پر کام کاج کرتے گزار دینی ہے ان تندرستوں کو صبح شام انگریزی کی خوراک دے کر الٹا بیمار کیا جا رہا ہے۔ آخر ہم انگریزی کو بنیاد بناکر کئی لوگوں پر بنیادی علم کے دروازے کیوں بند کر دیتے ہیں؟ ہم بین الاقوامی جدید تحقیق کی زبان کا کہہ کر بے شمار پاکستانیوں پر علم کے راستے بند کر دیتے ہیں۔ ہم کسی دوسری زبان کو معیار بناتے ہوئے کئی لائق لوگوں کو آگے آنے سے روک دیتے ہیں۔ تھوڑی سی تحقیق کریں تو خود جان جائیں گے کہ اس انگریزی کی وجہ سے ہمارے کتنے ہی لوگ  انٹرمیڈیٹ اور بی۔اے نہیں کر پاتے۔ کبھی کسی یونیورسٹی کے نتائج دیکھیئے گا اور پھر انگریزی میں فیل ہونے والے آرٹس کے طلبہ کو شمار کریں اور ساتھ ساتھ دیکھیں کہ ایسے طلبہ نے دیگر مضامین میں جو اردو میں ہیں ان میں کیا کارکردگی دیکھائی ہے؟ پھر خود ہی جان جائیں گے کہ ایسے بے شمار طلبہ ہیں جو دیگر مضامین میں بڑے اچھے ہوتے ہیں، وہ اچھے اور دیانت دار سکالر، منتظم، سیاست دان، استاد، جرنیل،صحافی وغیرہ  بن سکتے ہیں، خدا نے ان کو کسی نہ کسی خاص شعبے کی اعلیٰ خصوصیات پیدائشی طور پر دی ہوتی ہیں لیکن یہ ایک انگریزی ان کا کباڑہ کر دیتی ہے۔ پھر وہی اعلیٰ خصوصیات رکھنے والے ہمیں دکانوں پر کام کرتے اور ریڑھیاں چلاتے نظر آتے ہیں۔ اس ایک بیگانی زبان کی وجہ سے ہم ذہانت کا کباڑہ کر کے رکھ دیتے ہیں۔ ساری دنیا اس چھوٹی اور آسان بات کو سمجھ چکی ہے اور اپنی اپنی زبان اپناتے ہوئے دن بدن ترقی کر رہی ہے لیکن ہماری غلامانہ سوچ سے بھری کھوپڑی کو اتنی چھوٹی سی بات سمجھ نہیں آ رہی کہ کسی قوم کی ترقی اس کی اپنی زبان میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ </p>
<p>ایک دفعہ پھر کہوں گا کہ جس کو انگریزی کی ضرورت ہے اسے سیکھاؤ اور جو اپنا لوہا اپنی زبان اردو میں منوا سکتا ہے اس پر علم کے دروازے بند نہ کرو۔ جو بندہ ایک اچھا بیوروکریٹ بن کر ملک و قوم کی خدمت کر سکتا ہے، جو بندہ اچھا جرنیل بن کر اچھا دفاع کر سکتا ہے، جو ایک اچھا استاد بن کر قوم کی تربیت کر سکتا ہے انہیں اس ایک انگریزی کی وجہ سے نہ روکو بلکہ ان کی قدرتی صلاحیت کو بروئے کار لاؤ اور ترقی کی راہ پر چلو۔ جس نے بین الاقوامی سطح تک پہنچنا ہے یا جنہیں  انگریزی کی ضرورت ہے صرف وہ سیکھیں یا سیکھاؤں۔ ویسے بھی جو بین الاقوامی سطح تک پہنچنے کے قابل ہوتا ہے اسے انگریزی یا دیگر کوئی بھی زبان سیکھنے میں مسئلہ بھی نہیں ہوتا کیونکہ وہ ہے ہی قابل۔ فرض کریں کہ وہ قابل تو ہے لیکن زبان سیکھنے کے معاملے میں تھوڑا کند ذہن ہے تو پھر بھی اسے کوئی مسئلہ نہیں ہو گا کیونکہ وہ ایسی سطح پر ہوتا ہے جہاں مترجم ملنے کوئی بڑی بات نہیں ہوتی۔ خدارا ہوش کرو اور اس ایک انگریزی کی وجہ سے ایک عام آدمی کو دیوار سے مت لگاؤ۔</p>
<p>اگلا حصہ :- <a href="http://www.mbilalm.com/blog/in-which-language-nations-progress/">قوموں نے ترقی کس زبان میں کی؟</a>ملتی جلتی تحاریر:-&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/why-urdu-important-for-us-summary/' title='ہمارے لئے اردو کیوں ضروری &#8211; خلاصہ'>ہمارے لئے اردو کیوں ضروری &#8211; خلاصہ</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/trouble-land-of-our-mental-slave/' title='ہمارے ذہنی غلاموں کا جنجال پورہ'>ہمارے ذہنی غلاموں کا جنجال پورہ</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/developement-of-pakistan-with-urdu/' title='پاکستان کی ترقی کا راز اردو میں پوشیدہ'>پاکستان کی ترقی کا راز اردو میں پوشیدہ</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/disease-of-english-in-pakistan/' title='پاکستان میں ”انگریزیا“ کی بیماری'>پاکستان میں ”انگریزیا“ کی بیماری</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/in-which-language-nations-progress/' title='قوموں نے ترقی کس زبان میں کی؟'>قوموں نے ترقی کس زبان میں کی؟</a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/global-village-international-language-and-pakistan/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>پاکستان کی ترقی کا راز اردو میں پوشیدہ</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/developement-of-pakistan-with-urdu/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/developement-of-pakistan-with-urdu/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 24 Oct 2011 07:26:22 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[متفرقات]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[advanced]]></category>
		<category><![CDATA[century]]></category>
		<category><![CDATA[education]]></category>
		<category><![CDATA[english]]></category>
		<category><![CDATA[english learn]]></category>
		<category><![CDATA[english problems]]></category>
		<category><![CDATA[explicate]]></category>
		<category><![CDATA[freedom]]></category>
		<category><![CDATA[generation]]></category>
		<category><![CDATA[important]]></category>
		<category><![CDATA[language]]></category>
		<category><![CDATA[months]]></category>
		<category><![CDATA[nation]]></category>
		<category><![CDATA[national language]]></category>
		<category><![CDATA[our urdu]]></category>
		<category><![CDATA[pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[progress]]></category>
		<category><![CDATA[progressive]]></category>
		<category><![CDATA[promotion]]></category>
		<category><![CDATA[secret]]></category>
		<category><![CDATA[system]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>
		<category><![CDATA[years]]></category>
		<category><![CDATA[آزادی]]></category>
		<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[انگریزی]]></category>
		<category><![CDATA[انگریزی کا مسئلہ]]></category>
		<category><![CDATA[انگلش سیکھنا]]></category>
		<category><![CDATA[ترقی]]></category>
		<category><![CDATA[ترقی پذیر]]></category>
		<category><![CDATA[ترقی یافتہ]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[راز]]></category>
		<category><![CDATA[زبان]]></category>
		<category><![CDATA[سال]]></category>
		<category><![CDATA[صدیاں]]></category>
		<category><![CDATA[ضروری]]></category>
		<category><![CDATA[عوام]]></category>
		<category><![CDATA[قوم]]></category>
		<category><![CDATA[قومی زبان]]></category>
		<category><![CDATA[مہینے]]></category>
		<category><![CDATA[نسل]]></category>
		<category><![CDATA[نظام]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ہماری اردو]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.mbilalm.com/blog/?p=1463</guid>
		<description><![CDATA[جیسے دستانہ پہن کر کسی چیز کو چھونے کا احساس اتنا اچھا نہیں ہوتا جتنا ننگے ہاتھوں چھو کرہوتا ہے، بالکل ایسے ہی اگر ہم کسی دوسری زبان کا غلاف چڑھا کر کوئی بات سمجھنے کی کوشش کریں گے، تو وہ اتنی اچھی نہیں سمجھ سکیں گے، جتنی اپنی زبان اردو میں سمجھ سکتے ہیں]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم  </p>
<p><a href="http://www.mbilalm.com/blog/why-urdu-important-for-us/" target="_blank">گذشتہ سے پیوستہ</a></p>
<p>اگر بات پاکستان کی کریں تو پھر علاقائی زبانیں بہت پیچھے رہ جاتی ہیں اور دیکھنا یہ ہے کہ اس عوام کی زیادہ تعداد کو بات سمجھانے کے لئے کس زبان کا سہارا لینا پڑے گا؟ وہ کونسی زبان ہے جو پاکستانی سب سے زیادہ آسانی سے بول، لکھ، پڑھ اور سمجھ سکتے ہیں؟ آخر ایسی کونسی زبان ہے جو پورے پاکستان کی نمائندگی کر سکتی ہے؟ ایسے میں صرف ایک ہی زبان سامنے آتی ہے اور وہ ہے ہماری قومی زبان ”اردو“۔ اردو ہی پاکستان کی وہ زبان ہے جو کئی ایک زبانیں بولنے والے پاکستانیوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔ پاکستان کے کسی بھی علاقہ میں جائیں، جہاں آپ کو مقامی زبان نہ آتی ہو تو اس کے بعد اگر کوئی زبان آپ کا ساتھ دے سکتی ہے تو وہ اردو ہی ہے۔ چھوٹی سی اور آسان بات یہی ہے کہ ”اردو“ ہی وہ واحد زبان ہے جو ہم پاکستان میں نگری نگری گھومتے ہوئے ساتھ لے کر چل سکتے ہیں۔ اگر ہمیں معاشرے میں تبدیلی لانی ہے اور تعلیم عام کرنی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچے سکولوں میں جائیں اور پھر اعلیٰ تعلیم تک پہنچے تو ہمیں ”اردو“ کا ہی سہارا لینا پڑے گا۔ جیسے دستانہ پہن کر کسی چیز کو چھونے کا احساس اتنا اچھا نہیں ہوتا جتنا ننگے ہاتھوں چھو کرہوتا ہے، بالکل ایسے ہی اگر ہم کسی دوسری زبان کا غلاف چڑھا کر کوئی بات سمجھنے کی کوشش کریں گے، تو وہ اتنی اچھی نہیں سمجھ سکیں گے، جتنی اپنی زبان اردو میں سمجھ سکتے ہیں۔ ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن ”اردو“ ہی ہر میدان میں ہمارا ساتھ دے سکتی ہے اور ہمیں ترقی کی طرف لے جا سکتی ہے۔</p>
<p>کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جب اردو کو قومی زبان کا درجہ دیا گیا تب اردو سمجھنے والوں کی تعداد بہت کم تھی۔ لمحہ بھر کے لئے ایسا مان بھی لیا جائے تو سوال یہ نہیں کہ تب کیا حالات تھے بلکہ سوال تو یہ ہے کہ اب کیا حالات ہیں اور ان حالات میں کونسی زبان ہمارا ساتھ دے سکتی ہے؟ ہم مانتے ہیں کہ پاکستان کے ابھی بھی کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں پر لوگ اردو نہیں سمجھتے لیکن غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ اردو نہ سمجھنے والے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ جو زبان (انگریزی) ہم پر ٹھونسی جا رہی ہے اس کو سمجھنے والے لوگوں کی تعداد اردو سمجھنے والے لوگوں کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ ایک خاص طبقے کی غلامانہ سوچ کو لے کر ہم پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد پر علم کے راستے بند نہیں کر سکتے۔ کبھی اپنے تعلیمی نظام پر غور کریں اور کچھ اعداد وشمار اکٹھے کریں تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ایسے بچے جو تعلیم ادھوری چھوڑ جاتے ہیں جہاں ان کی کئی دوسری وجوہات ہے وہاں پر سب سے بڑی وجہ بچے کو انگریزی سیکھنے میں مسئلہ ہے۔ اس بات کو لے کر اب آپ شہروں تک محدود نہ رہیئے گا، کبھی اس تقریباً 65 فیصد دیہاتی آبادی پر بھی نظر دوڑائیے گا جن کا بچہ اردو تختی فرافر لکھتا ہے لیکن انگریزی رٹے لگانے سے بھی اس کے دماغ میں نہیں بیٹھتی۔ شاید ہی کوئی بچہ ہو جسے اردو سیکھنے میں انگریزی سے زیادہ مشکل پیش آتی ہو بلکہ عام طور پر پاکستان میں ایک ان پڑھ بندہ چاہے اردو ٹھیک بول نہ سکے لیکن اردو سمجھ ضرور جائے گا۔ اگر آپ کہیں کہ شہروں میں بھی ایسے علاقے ہیں جہاں لوگ بے شک انگریزی بول نہ سکیں لیکن سمجھ ضرور جائیں گے تو عرض پھر وہی ہے کہ ایسی تعداد اردو کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر ہے۔</p>
<p> گو کہ کسی غیر پاکستانی کے لئے اردو کی نسبت انگریزی سیکھنا آسان ہے لیکن ہمارے معاشرے میں اردو کے علاوہ جو زبانیں موجود ہیں وہی زبانیں ہمیں اردو سیکھنے میں زیادہ آسانی فراہم کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ صدیوں سے رائج ہمارا نظام، تاریخ اور رہن سہن بھی اردو سیکھنے کی  سہولت دیتا ہے جبکہ انگریزی سیکھنا ہمارے لئے اردو کی نسبت مشکل ہے۔ کچھ لوگ اس بات کو یہ کہہ کر رد کرتے ہیں کہ اردو کی تعلیم ہم نے شروع دن سے دینی شروع کر دی تھی لیکن انگریزی کی تعلیم نہیں دی تھی اس وجہ سے اردو ہماری ہڈیوں تک میں رچ گئی ہے۔ جبکہ میں اس انگریزی کی تعلیم نہ دینے والی بات کو نہیں مانتا کیونکہ شروع دن سے ہی انگریزی کی بھی تعلیم دی جا رہی ہے، بلکہ انگریزی کی تعلیم تو اردو کے مقابلے میں زیادہ زور و شور سے دی جارہی ہے لیکن پھر بھی ناکامی ہی ہوئی ہے۔ اردو جو ہمارے اندر تک اتر چکی ہے اس کے پیچھے صدیوں کی کہانیاں ہیں۔ اب بھی اگر ہم اردو کو مکمل چھوڑ کر اس کی جگہ انگریزی کو لاتے ہیں تو 64 سال پہلے ضائع کر چکے ہیں اور ابھی ہمیں کم از کم 50 سال اور لگانے ہوں گے، تب کہیں جا کر انگریزی ہمارے درمیان اس جگہ پہنچنے کے ”قریب“ ہو گی جہاں آج اردو ہے۔ 64 سال کے تجربات سے سیکھ کر ابھی بھی ہم اپنا قبلہ درست کر لیں تو تب بھی ہمارے مزید کئی سال ضائع ہونے سے بچ سکتے ہیں۔ مادری اور ہڈیوں میں رچی زبان کی جگہ نئی زبان لانے کے لئے دن، مہینے یا سال درکار نہیں ہوتے بلکہ اس کے لئے صدیاں لگتی ہیں۔ صدیوں بعد نئی زبان آ تو جاتی ہے لیکن قوم اپنی شناخت کھو چکی ہوتی ہے۔ جب تک نئی زبان ٹھیک طرح پہلی زبان کی جگہ نہیں لے لیتی تب تک قومیں اندھیروں میں ہی بھٹکتی رہتی ہیں۔ صدیوں تک اندھیروں میں بھٹکنے سے بہتر یہی ہوتا ہے کہ اپنی زبان کو ہی اپنایا جائے اور فوری ترقی کی جائے۔</p>
<p>اگلا حصہ :- <a href="http://www.mbilalm.com/blog/global-village-international-language-and-pakistan/">گلوبل ویلیج، بین الاقوامی زبان اور پاکستان</a>ملتی جلتی تحاریر:-&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/why-urdu-important-for-us-summary/' title='ہمارے لئے اردو کیوں ضروری &#8211; خلاصہ'>ہمارے لئے اردو کیوں ضروری &#8211; خلاصہ</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/global-village-international-language-and-pakistan/' title='گلوبل ویلیج، بین الاقوامی زبان اور پاکستان'>گلوبل ویلیج، بین الاقوامی زبان اور پاکستان</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/disease-of-english-in-pakistan/' title='پاکستان میں ”انگریزیا“ کی بیماری'>پاکستان میں ”انگریزیا“ کی بیماری</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/trouble-land-of-our-mental-slave/' title='ہمارے ذہنی غلاموں کا جنجال پورہ'>ہمارے ذہنی غلاموں کا جنجال پورہ</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/in-which-language-nations-progress/' title='قوموں نے ترقی کس زبان میں کی؟'>قوموں نے ترقی کس زبان میں کی؟</a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/developement-of-pakistan-with-urdu/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ہمارے لئے اردو کیوں ضروری ہے؟</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/why-urdu-important-for-us/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/why-urdu-important-for-us/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 23 Oct 2011 13:14:53 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[متفرقات]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[attachment]]></category>
		<category><![CDATA[downfall]]></category>
		<category><![CDATA[education]]></category>
		<category><![CDATA[english]]></category>
		<category><![CDATA[farmer]]></category>
		<category><![CDATA[history]]></category>
		<category><![CDATA[important]]></category>
		<category><![CDATA[language]]></category>
		<category><![CDATA[learn]]></category>
		<category><![CDATA[logic]]></category>
		<category><![CDATA[mother tongue]]></category>
		<category><![CDATA[nation]]></category>
		<category><![CDATA[natural]]></category>
		<category><![CDATA[new language]]></category>
		<category><![CDATA[revolution]]></category>
		<category><![CDATA[selection]]></category>
		<category><![CDATA[society]]></category>
		<category><![CDATA[spread]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>
		<category><![CDATA[views]]></category>
		<category><![CDATA[voice]]></category>
		<category><![CDATA[آواز]]></category>
		<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[انتخاب]]></category>
		<category><![CDATA[انقلاب]]></category>
		<category><![CDATA[انگلش]]></category>
		<category><![CDATA[تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[زبان]]></category>
		<category><![CDATA[زوال]]></category>
		<category><![CDATA[سیکھنا]]></category>
		<category><![CDATA[ضروری]]></category>
		<category><![CDATA[فطرتی]]></category>
		<category><![CDATA[قدرتی]]></category>
		<category><![CDATA[قوم]]></category>
		<category><![CDATA[لگاؤ]]></category>
		<category><![CDATA[مادری زبان]]></category>
		<category><![CDATA[معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[منطق]]></category>
		<category><![CDATA[نئی زبان]]></category>
		<category><![CDATA[نظریات]]></category>
		<category><![CDATA[پھیلانا]]></category>
		<category><![CDATA[پہنچانا]]></category>
		<category><![CDATA[کسان]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.mbilalm.com/blog/?p=1455</guid>
		<description><![CDATA[معاشرہ کی ترقی کے لئے کئی تبدیلیاں کرنی پڑتی ہیں اور پہلی تبدیلی سوچ میں کرنی ہوتی ہے۔ سوچ کی تبدیلی کے بعد چاہے خونی انقلاب برپا ہو یا فکری انقلاب لیکن سب سے پہلی شرط سوچ کی تبدیلی ہے۔ سوچ کی تبدیلی کے لئے پہلی شرط زبان کا انتخاب ہے]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
اپنی زبان سے لگاؤ ہونا ایک فطرتی بات ہے۔ جن قوموں کی زبان نہیں رہتی تو میرے خیال میں وہ قوم بھی باقی نہیں رہتی۔ بے شک وہ انسان یا ان کی نئی نسلیں دنیا میں موجود رہتی ہیں لیکن ان کے آباؤاجداد تاریخ کے گمشدہ صفحات میں گم ہو کر رہ جاتے ہیں۔ خیر یہاں میں اس فطرتی لگاؤ پر بات نہیں کروں گا بلکہ کوشش کروں گا کہ اس منطق کی ٹھیک وضاحت کر سکوں جومیں سمجھتا ہوں کہ ہماری ترقی کے لئے بہت ضروری ہے بلکہ اس کے بغیر ترقی کا عمل نہایت ہی سست ہو کر صدیوں پر محیط ہو جائے گا۔ یہ تحریر ایک نشت میں نہیں لکھی گئی بلکہ یہ کئی لوگوں سے کئی حوالوں سے  بحث اور پھر اس بحث سے نتائج پر غور کر کے لکھی گئی ہے۔ ”ہمارے لئے اردو کیوں ضروری ہے؟“ کے عنوان سے لکھی گئی اس تحریر کو ایک سے زائد اقساط میں شائع کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ لوگ آسانی سے ساری تحریر پڑھ سکیں۔</p>
<p>سب سے پہلے ایک بات واضح کر دوں کہ مجھے انگریزی یا کسی دوسری زبان سے کوئی دشمنی نہیں اور نہ ہی میں زبانوں سے دشمنیاں رکھنے کا قائل ہوں۔ بلکہ میں تو کہتا ہوں جس کا جو زبان سیکھنے کو دل کرتا ہے وہ سیکھے لیکن کم از کم ہم پر تو کوئی دوسری زبان نہ ٹھونسے ۔ میرا مقصد صرف اتنا ہے کہ اس بات کی وضاحت کر سکوں کہ آخر وہ کونسی زبان ہے جو ہمارے لئے سب سے زیادہ آسانیاں پیدا کرتی ہے اور ہماری ترقی کے لئے سب سے زیادہ مدد گار ثابت ہو سکتی ہے؟</p>
<p><font color="#FF0000" style="font-size: 20px">کسی معاشرے کے لئے زبان کا انتخاب</font></p>
<p>جہاں معاشرہ زوال کا شکار ہو وہاں پر لوگوں کو نئی زبانیں نہیں سیکھائی جاتی بلکہ پہلے سے موجود زبان میں ہی تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔ جہاں تکنیکی کام رکے ہوں وہاں یہ نہیں کیا جاتا کہ پہلے دوسری زبان سیکھاؤ پھر ”ڈگری والے انجینئر“ بناؤ اور پھر ان سے کام لو بلکہ پہلے سے موجود زبان میں ہی دیسی انجینئر (مستری) بنائے جاتے ہیں اور ان سے کام لے کر ملک کو ترقی کی رہ پر گامزن کیا جاتا ہے۔ جہاں کسان ہل چلانا بھول گیا ہو وہاں پہلے اسے نئی زبان نہیں سیکھائی جاتی بلکہ فوری طور پر اس کو اسی کی زبان میں ہی ہل چلانے کی ترغیب و تربیت دی جاتی ہے تاکہ فوری اناج پیدا ہو اور انسان بھوکے نہ مریں۔ جہاں تعلیم کا فقدان ہو وہاں پر نئی زبان نہیں سیکھائی جاتی بلکہ پہلے سے موجود زبان میں ہی تعلیم دی جاتی ہے اور اگر تعلیمی مواد کسی دوسری زبان میں ہو تو پوری عوام کو نئی زبان سیکھانے سے کئی گنا آسان ہے کہ تعلیمی مواد کا اپنی زبان میں ترجمہ کیا جائے کیونکہ کوئی بھی انسان کوئی بھی بات جتنی اچھی اپنی مادری اور قومی زبان میں سمجھ سکتا ہے اتنی کسی دوسری زبان میں نہیں سمجھ سکتا۔ پتہ نہیں یار لوگوں کو اتنی چھوٹی سی بات سمجھ میں کیوں نہیں آتی۔ اگر میری بات پر یقین نہ آئے تو تاریخ کھول کر دیکھیں، سب سمجھ جائیں گے کہ جس قوم نے بھی ترقی کی وہ اپنی ہی زبان میں کی، نہ کہ کسی دوسری زبان میں۔ فرانس اور پورے یورپ نے کس کی زبان میں ترقی کی؟ جاپانی کس کی زبان میں اپنے بچوں کو تعلیم دیتے ہیں؟ چین کس زبان کے بل پر ترقی کر رہا ہے؟ اور تو اور خود برطانیہ اور امریکہ نے ترقی کے لئے کس کی زبان اپنائی؟ یہ ایسے سوال ہیں جن کا جواب ڈھونڈنے چلیں تو ہم پر کئی راز کھلتے ہیں۔</p>
<p>جہاں انسانوں کی سوچ میں بگاڑ پیدا ہو جائے تو اس ہجوم کو قوم میں تبدیل کرنے کے لئے سب سے پہلے انہیں کی زبان میں بات کر کے ان کی سوچ تبدیل کرنی پڑتی ہے نہ کہ پہلے انہیں کوئی نئی زبان سیکھاؤ اور پھر بات کرو۔ جہاں بھی معاشرہ زوال کا شکار ہو وہاں پر اسے ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لئے کئی تبدیلیاں کرنی پڑتی ہیں اور سب سے پہلی تبدیلی اس معاشرے کی سوچ میں کرنی ہوتی ہے۔ سوچ کی تبدیلی کے بعد چاہے خونی انقلاب برپا ہو یا فکری انقلاب لیکن سب سے پہلی شرط سوچ کی تبدیلی ہے۔ سوچ کی تبدیلی کے لئے معاشرے کے ہر فرد تک اپنی آواز پہنچانی پڑتی ہے۔ اب اتنے بڑے ہجوم کے ہر ہر فرد کو علیحدہ علیحدہ کئی ایک زبانوں میں بات سمجھنا ممکن نہیں ہوتا۔  اس لئے آواز پہنچانے کے لئے کسی ایسی زبان کا سہارا لینا پڑتا ہے جو ہجوم کی زیادہ تعداد جانتی ہو۔ یعنی سوچ کی تبدیلی کے لئے اپنا پیغام کسی تک پہنچانے کے لئے سب سے پہلی شرط زبان کا انتخاب ہی ہے۔ کسی قوم کی ترقی کی پہلی شرط ہی یہ ہے کہ وہ اپنے لئے کسی مناسب زبان کا انتخاب کرے۔</p>
<p>اگلا حصہ :- <a href="http://www.mbilalm.com/blog/developement-of-pakistan-with-urdu/">پاکستان کی ترقی کا راز اردو میں پوشیدہ</a>ملتی جلتی تحاریر:-&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/why-urdu-important-for-us-summary/' title='ہمارے لئے اردو کیوں ضروری &#8211; خلاصہ'>ہمارے لئے اردو کیوں ضروری &#8211; خلاصہ</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/trouble-land-of-our-mental-slave/' title='ہمارے ذہنی غلاموں کا جنجال پورہ'>ہمارے ذہنی غلاموں کا جنجال پورہ</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/in-which-language-nations-progress/' title='قوموں نے ترقی کس زبان میں کی؟'>قوموں نے ترقی کس زبان میں کی؟</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/developement-of-pakistan-with-urdu/' title='پاکستان کی ترقی کا راز اردو میں پوشیدہ'>پاکستان کی ترقی کا راز اردو میں پوشیدہ</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/disease-of-english-in-pakistan/' title='پاکستان میں ”انگریزیا“ کی بیماری'>پاکستان میں ”انگریزیا“ کی بیماری</a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/why-urdu-important-for-us/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>8</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

