محفوظات برائے ”متفرقات“ زمرہ

پودے لگاتے بوڑھے کو دیکھ کر لوگوں نے کہا بابا جی جب تک یہ درخت پھل دار و سایہ دار ہونگے۔ آپ اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہوں گے پھر یہ تکلیف کاہے کو؟ کہا کہ میرے بزرگ درخت لگا کے اِس دنیا سے رخصت ہو گئے مگر پھل میں نے کھایا۔ سائے میں بھی بیٹھا۔ اب یہ درخت میں اپنے فائدے کے لئے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کےلئے لگا رہا ہوں

مکمل تحریر پڑھیے »»»


آپ کے حلقہ اردو بلاگستان سے ہمارا، تمہارا اور سب کا اردو بلاگ بھی پاکستان بلاگ ایوارڈ کےالیکشن میں نامزد ہو گیا ہے. کچھ ہم نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے میں دیر کر دی تھی اور کچھ ہمارے اثاثوں کی جانچ پڑتال میں الیکشن کمیشن نے اپنی مصروفیات کے باعث کافی وقت لگا دیا ہے اور ہمیں الیکشن کمپین کے لئے بہت تھوڑا وقت ملا ہے

مکمل تحریر پڑھیے »»»


ہمارے لئے اردو کیوں ضروری – خلاصہ

م بلال م نے جمعرات، 27 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔

وہ منطق آپ تک پہنچانے کی کوشش کی ہے جو ہمارے لئے ترقی کا آسان ترین ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک دفعہ اردو کو وہ مقام دے کر تو دیکھو، جس کی یہ مستحق ہے، پھر دیکھنا یہ زبان کیسے دنوں میں عروج دیتی ہے۔ نوجوانوں بہت ذہین ہیں، ایک دفعہ بیگانی زبان کی پابندی اٹھاؤ تو سہی پھر دیکھنا یہ کیسے ملک و قوم کے دن بدلتے ہیں

مکمل تحریر پڑھیے »»»


پاکستان میں ”انگریزیا“ کی بیماری

م بلال م نے جمعرات، 27 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔

اگر کوئی علمی مقاصد کے لئے انگریزی سیکھے پھر بھی بات کوئی ہے لیکن ہمارے ایک گروہ کو ”انگریزیا“ کی بیماری ہو چکی ہے۔ یہ بیمار اور غلام ذہن انگریزی کو اعلیٰ مرتبے کی زبان سمجھتے ہیں یعنی ”سٹیٹس سمبل“۔ یہ لوگ اس بیماری کی وجہ سے ”نہ گھر کے رہے نہ گھاٹ کے“

مکمل تحریر پڑھیے »»»


ہمارے ذہنی غلاموں کا جنجال پورہ

م بلال م نے بدھ، 26 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔

انقلاب کی بات کرتے ہیں، ثقافت کی بات کرتے ہیں لیکن جو زبان استعمال کی جاتی ہے وہی ثقافت کی دھجیاں اڑا رہی ہوتی ہے۔ اخبار اردو، اخبار پڑھنے والے اردو والے، اشتہارات اردو والوں کے لئے لیکن مجال ہے کوئی بھی یونیورسٹی اپنا اشتہار اردو میں دے۔ ہمیں غلام اور ہمارے معاشرے کو ذہنی غلاموں کا جنجال پورہ بنا کر رکھ دیا ہے

مکمل تحریر پڑھیے »»»


قوموں نے ترقی کس زبان میں کی؟

م بلال م نے بدھ، 26 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔

زیادہ نہیں بس تھوڑے سا تاریخ کا مطالعہ کرو۔ دیکھو یورپ کے اس تاریک دور کو جب انگریزی میں جدید مواد تھا ہی نہیں۔ تب کچھ بندوں نے اپنی ضرورت کے مواد کو فارسی، عربی اور دیگر زبانوں سے اپنی زبان میں منتقل کیا۔ عام عوام کو سیکھایا اور شعور دیا۔ عوام خوشحال ہونا شروع ہو گئی

مکمل تحریر پڑھیے »»»


کسی قوم کی کتنی تعداد اس سطح تک پہنچتی ہے جہاں وہ اس گلوبل ویلیج کا حصہ بنتے ہوئے گلوبل ویلیج کی زبان اپناتی ہے؟ دنیا گلوبل ویلیج میں شامل ہوتی ہے لیکن ساری دنیا شامل ہوتے ہوئے عام طور پر اپنی زبان اپناتی ہے۔ اس کے بعد جس بندے نے جس سطح تک جانا ہوتا ہے، اس کے مطابق وہ دیگر کوئی زبان سیکھتا ہے

مکمل تحریر پڑھیے »»»


پاکستان کی ترقی کا راز اردو میں پوشیدہ

م بلال م نے سوموار، 24 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔

جیسے دستانہ پہن کر کسی چیز کو چھونے کا احساس اتنا اچھا نہیں ہوتا جتنا ننگے ہاتھوں چھو کرہوتا ہے، بالکل ایسے ہی اگر ہم کسی دوسری زبان کا غلاف چڑھا کر کوئی بات سمجھنے کی کوشش کریں گے، تو وہ اتنی اچھی نہیں سمجھ سکیں گے، جتنی اپنی زبان اردو میں سمجھ سکتے ہیں

مکمل تحریر پڑھیے »»»


ہمارے لئے اردو کیوں ضروری ہے؟

م بلال م نے اتوار، 23 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔

معاشرہ کی ترقی کے لئے کئی تبدیلیاں کرنی پڑتی ہیں اور پہلی تبدیلی سوچ میں کرنی ہوتی ہے۔ سوچ کی تبدیلی کے بعد چاہے خونی انقلاب برپا ہو یا فکری انقلاب لیکن سب سے پہلی شرط سوچ کی تبدیلی ہے۔ سوچ کی تبدیلی کے لئے پہلی شرط زبان کا انتخاب ہے

مکمل تحریر پڑھیے »»»


جیسا کہ پچھلی تحریر میں لکھا کہ میری تین سالہ بلاگنگ اور انٹرنیٹ کی سرگرمیوں میں اردو محفل کا بہت بڑا ہاتھ ہے اور دیگر راہنمائی کرنے والے اچھے لوگ بھی اردو محفل سے ہی ملے، اس لئے اردو محفل میرے لئے ایک مرکز اور بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔
تو دوستوں یہ ہے ”میری“ اردو محفل۔۔۔ اجی غصہ کاہے کا، غلطی ہو گئی چلیں ایسے کہتے ہیں کہ یہ ہے ”ہماری“ اردو محفل۔ لفظ ”میری“ تو بس پیار سے کہا ہے بلکہ اردو محفل تو سب اردو والوں کی ہے۔ اردو محفل ایک»»»

مکمل تحریر پڑھیے »»»