<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>م بلال م کی بیاض &#187; اسلام اور عصر حاضر</title>
	<atom:link href="http://www.mbilalm.com/blog/category/islam-and-present-time/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.mbilalm.com/blog</link>
	<description>قطرہ قطرہ سمندر</description>
	<lastBuildDate>Thu, 19 Jan 2012 13:26:32 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.3.1</generator>
		<item>
		<title>نعرے لگانا آسان مگر محنت کرنا بہت مشکل</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/discussion-easy-but-hardwork-difficult/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/discussion-easy-but-hardwork-difficult/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 24 Jun 2010 22:00:28 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[اسلام اور عصر حاضر]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[9 ویب سائٹس بند]]></category>
		<category><![CDATA[discussion easy but hardwork difficult]]></category>
		<category><![CDATA[نعرے لگانا آسان مگر محنت کرنا بہت مشکل]]></category>
		<category><![CDATA[ویب سائیٹ بلاک]]></category>
		<category><![CDATA[کرے کون؟]]></category>
		<category><![CDATA[گوگل اور یاہو بلاک]]></category>
		<category><![CDATA[گوگل، ایم ایس این اور یاہو بین]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=330</guid>
		<description><![CDATA[اگر ہم اپنے آج کے حالات دیکھیں تو ہم بھی جنگ  کی پوزیشن میں نہیں۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم پہلے ترقی کریں۔ جب ہم ترقی کر جائیں گے اور بادشاہ ہوں گے تو اول غیر مسلموں کو گستاخی کی جرأت ہی نہیں ہو گی اور اگر انہوں نے کوئی ایسی حرکت کی تو ہم منہ توڑ جواب دے سکیں گے۔ لیکن اس طرف کوئی نہیں آئے گا۔ کیونکہ یہ کام یعنی مستقل مزاجی، ایمانداری، جذبے اور لگن کے ساتھ ترقی کرنا نعرے لگانے، جلوسوں میں اپنے ہی بھائیوں کے کاروبار تباہ کرنے اور ویب سائیٹ بلاک کرنے سے بہت مشکل ہے۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
انٹرنیٹ بنانے والے نے بھی کیا زبردست چیز بنا دی ہے۔ ایک وقت تھا تحریک آزادی اور دوسری تحریکوں کے سربراہ اور دیگر ممبران کو دور دراز علاقوں تک سفر کرنا پڑتا، آزادی کا شعور دینے اور اپنی آواز دوسروں تک پہنچانے کے لئے پرنٹ میڈیا کا سہارا لینا پڑتا پھر کہیں جا کر چند لوگوں تک آواز پہنچتی۔ دوسری طرف آج کا وقت ہے جس میں انٹرنیٹ جیسی سہولت دستیاب ہے اور مجھ جیسا پینڈو بھی اگر ہمت رکھتا ہو تو انٹرنیٹ کے ذریعے اپنی آواز چند لمحات میں پوری دنیا تک پہنچا سکتا ہے۔ بلاگ لکھ سکتا ہے، مختلف فورمز پر اپنے حق کی صدا لگا سکتا ہے۔ مختلف اداروں کی رپورٹس دیکھ سکتا ہے۔ لائبریری میں کتابیں  تلاش کرنے کی بجائے گوگل اور دیگر سرچ انجن کے ذریعے چند منٹوں میں اپنی مطلوبہ معلومات حاصل کر سکتا ہے۔ سوچتا ہوں اب وہ وقت دور نہیں جب پاکستان کا بچہ بچہ یہ صدا لگائے گا کہ ہمیں ہمارا حق دو۔ کیونکہ سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائیٹس کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے کے خیالات سن رہے ہیں۔ تھوڑا اور آہستہ آہستہ سہی لیکن عوام کو شعور ضرور آ رہا ہے۔ سیاست دانوں کے فریب اور جھوٹے وعدے اگر کوئی بھولنا چاہے تو انٹرنیٹ اسے دوبارہ یاد کروا دیتا ہے۔ اور یہ سب انٹرنیٹ کی بدولت تیزی سے ہو رہا ہے۔<br />
ایک <a target="_blank" href="http://ejang.jang.com.pk/6-23-2010/images/1026.gif">خبر</a> پڑھی تھی کہ ” قرآن پاک میں تحریف کا الزام، لاہور ہائیکورٹ کا یاہو،ایم ایس این، گوگل سمیت 9 ویب سائٹس بند کرنے کا حکم“۔ اس سے پہلے خاکوں والے معاملے پر فیس بک اور یوٹیوب کو بھی بین کیا گیا تھا۔ اکثر جب دوستوں میں بحث ہوتی تو میری یہی کوشش ہوتی کہ میں اس معاملے پر خاموشی اختیار کروں۔ مجھے ٹھیک طرح سمجھ نہیں آتی تھی کہ اس مسئلہ کا کیا حل ہے؟ جب کوئی زیادہ پوچھتا تو میرا جواب یہی ہوتا کہ اس مسئلہ کا کوئی نہ کوئی حل ضرور ہونا چاہئے لیکن یہ جو حل ہمارے لوگ کر رہے ہیں یہ کوئی بہتر حل نہیں۔ دیکھو جی جنہوں نے یہ گستاخی کی ہے اگر حقیقت کو تسلیم کیا جائے تو وہ اس وقت بادشاہ ہیں اور جنگل میں بادشاہ شیر ہی ہوتا ہے پھر چاہے شیر بچے دے یا انڈے اس کی مرضی۔ اگر بچے یا انڈے دینے پر اعتراض ہے تو خود شیر بنو۔ پھر کسی کی جرأت ہی نہیں ہو گی کہ وہ اس طرح کی گستاخیاں کریں۔ ایسے ویب سائیٹ بلاک کر کے تم اپنا ہی نقصان کر رہے ہو۔ عوام میں جو تھوڑا بہت شعور آ رہا ہے اسے بھی ختم کر دو گے۔<br />
اگر اسلامی تاریخ دیکھی جائے اور خاص طور پر <a target="_blank" href="http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B5%D9%84%D8%AD_%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%A8%DB%8C%DB%81">صلح حدیبیہ</a> کا معاہدہ دیکھا جائے تو اس کی زیادہ تر شقیں ظاہری طور پر مسلمانوں کے حق میں نہیں تھیں جس کی سب سے بڑی مثال کہ” اگر کوئی مسلمان مکہ کے لوگوں کے کے پاس چلا جائے تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا مگر کوئی مشرک مسلمان ہو کر اپنے بزرگوں کی اجازت کے بغیر مدینہ چلا جائے تو اسے واپس کیا جائے گا۔“ لیکن اس وقت مسلمان جنگ کی پوزیشن میں نہیں تھے اور حالات کا یہی تقاضا تھا کہ مسلمان کسی طرح جنگ سے بچ جائیں۔ اسی معاہدہ جس کی زیادہ شقیں ظاہری طور پر مسلمانوں کے حق میں نہیں تھیں کی بنا پر مسلمان جنگ سے بچ گئے اور پھر اگلے سال مکہ میں داخل ہوئے۔<br />
اگر ہم اپنے آج کے حالات دیکھیں تو ہم بھی جنگ  کی پوزیشن میں نہیں۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم پہلے ترقی کریں۔ جب ہم ترقی کر جائیں گے اور بادشاہ ہوں گے تو اول غیر مسلموں کو گستاخی کی جرأت ہی نہیں ہو گی اور اگر انہوں نے کوئی ایسی حرکت کی تو ہم منہ توڑ جواب دے سکیں گے۔ لیکن اس طرف کوئی نہیں آئے گا۔ کیونکہ یہ کام یعنی مستقل مزاجی، ایمانداری، جذبے اور لگن کے ساتھ ترقی کرنا نعرے لگانے، جلوسوں میں اپنے ہی بھائیوں کے کاروبار تباہ کرنے اور ویب سائیٹ بلاک کرنے سے بہت مشکل ہے۔<br />
نبی پاکﷺ کی عظمت پر جان قربان کرنے کا نعرہ لگانا بہت آسان ہے لیکن اس کے حقیقی معنوں پر عمل کرنا بہت مشکل ہے۔ ایک طرف ہم انہیں گستاخی کرنے والوں کے ملکوں سے امداد لے کر چلتے ہیں اور دوسری طرف انہیں سے تعلق ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ایک طرف ہم انہیں کی پروڈکٹ استعمال کر کے ان کی معیشت مستحکم کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ وہ گستاخی کیوں کرتے ہیں۔ اگر حقیقت کو تسلیم کرو تو سچ یہی ہے کہ اگر ان میں گستاخی کی جرأت ہے تو یہ سب ہماری کمزوری ہے کیونکہ انہیں پتہ ہے مسلمان کمزور ہیں زیادہ سے احتجاج کریں گے، اپنے ہی ملک کی املاک کو نقصان پہنچائیں گے، پھر چپ ہو جائیں گے، ہم سے امداد لے کر کھائیں گے اور ہماری معیشت کو طاقت ور بنائیں گے۔<br />
 کبھی کبھی سوچ آتی ہے کہ یہ سب کیا ہے ایک طرف ہم کاربونیٹڈ واٹرز کے ذائقہ تک کے معیار کو قربان نہیں کر تے اور نہ ہی ان کا متبادل بناتے ہیں اور اگر بنائیں تو ہمارے لوگ کہتے ہیں ، جی امپورٹڈ چیز تو پھر کمال کی ہوتی ہے۔ اور پھر دوسری طرف چیختے ہیں کہ وہ گستاخی کر گئے۔ کبھی سوچا ہے ایک سوئی تک ہم نہیں بنا سکتے۔ ہمارا نوجوانوں کا بس ایک ہی خواب ہے کہ کسی اچھے ملک جا کر سیٹ ہو جائیں۔ کبھی سوچا ہے یہی ہمارا ٹیلنٹ وہاں جا کر انہیں ترقی دیتا ہے اور پھر ان میں جرأت پیدا ہوتی ہے۔ نہیں یہ نہیں سوچیں گے ہم کیونکہ یہ سوچیں تو پھر بہت کچھ قربان کرنا پڑے گا اور ہم قربانی نہیں دینا چاہتے بس نعرے ہی لگا سکتے ہیں۔ کبھی سوچا کہ یہ کمپیوٹر، انٹرنیٹ، گاڑیاں حتیٰ کہ وہ بندوق جو ہماری فوج استعمال کرتی ہے، وہ جہاز جن پر ہم حج کے لئے جاتے ہیں، وہ ماربل کاٹنے کی مشینیں جنہوں سے ماربل کاٹا اور حرم پاک میں لگا، وہ گھڑی جس سے وقت دیکھ کر ہم نماز کا وقت معلوم کرتے ہیں۔ ان سب کی ٹیکنالوجی کس نے بنائی؟ میں یہ نہیں کہتا کہ ان کی پروڈکٹ استعمال نہ کرو ان کی ٹیکنالوجی استعمال نہ کرو بلکہ انہیں کی چیزیں، معلومات اور ٹیکنالوجی استعمال کر کے خود ترقی کرو۔ ان کے ملکوں میں جاؤ ان سے تعلیم حاصل کرو۔ جدید ترین ٹیکنالوجی سیکھو۔ ان کے ساتھ امن سے رہو اور یہ سمجھو کہ ہم نے معاہدہ کیا ہوا ہےاور  پھر ہر چیز خود تیار کرو، اپنے دوسرے بھائیوں کو سیکھاؤ اپنے ملک میں آ کر وہی تعلیم، وہی ٹیکنالوجی استعمال کرو اور زبردست قسم کی چیزیں تیار کرو۔ اپنے ملک کو ترقی دو، اپنی معیشیت مستحکم کرو اور پھر دیکھو وہ گستاخی کرتے ہیں یا نہیں؟ لیکن ہم یہ سب نہیں کریں گے کیونکہ ویب سائیٹس بلاک کرو اور بس کام ختم، مستقبل جائے بھاڑ میں۔<br />
او خدا کے بندو! پہلے ترقی کرو، خود کو اتنا مستحکم کرو کہ آج جس ٹیکنالوجی کو وہ کنڑول کر رہے ہیں مستقبل میں تم کنٹرول کرو اور پھر اگر کوئی گستاخانہ  ویب سائیٹ بناتا ہے یا فیس بک جیس ویب سائیٹ پر صفحہ بناتا ہے تم اسے ایک منٹ سے پہلے ختم کر سکو۔ مگر یہ کام، یہ محنت کرے کون؟ کیونکہ نعرے لگانا آسان مگر محنت کرنا بہت مشکل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/discussion-easy-but-hardwork-difficult/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>17</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ہر دن 12 ربیع الاول کا دن ہو</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/har-din-12-rabi-ul-awal-ka-din-ho/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/har-din-12-rabi-ul-awal-ka-din-ho/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 11 Mar 2009 22:52:25 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[اسلام اور عصر حاضر]]></category>
		<category><![CDATA[12 rabi-ul-awal]]></category>
		<category><![CDATA[12 ربیع الاول]]></category>
		<category><![CDATA[rabi-ul-awal]]></category>
		<category><![CDATA[بارہ ربیع الاول]]></category>
		<category><![CDATA[جشن آمدِ رسول ﷺ]]></category>
		<category><![CDATA[حضرت محمد ﷺ کا میلاد]]></category>
		<category><![CDATA[حضرت محمد ﷺ کی ولادت]]></category>
		<category><![CDATA[ربیع الاول]]></category>
		<category><![CDATA[رسول ﷺ کی پیدائش]]></category>
		<category><![CDATA[میلاد رسول]]></category>
		<category><![CDATA[میلاد مصطفیٰ]]></category>
		<category><![CDATA[میلاد مصطفےٰ]]></category>
		<category><![CDATA[ہر دن 12 ربیع الاول کا دن ہو]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=65</guid>
		<description><![CDATA[کل 12 ربیع الاول کا دن تھا۔ جس دن ہر سال ہمارے مسلمان بھائی حضرت محمدﷺ کی ولادت کی خوشی میں جشن مناتے ہیں۔ اپنے رب تعالیٰ کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ملنے پر شکر ادا کرتے ہیں اور یہ سب کچھ کرتے ہیں۔ یہ سب دیکھ کر، سن کر اور محسوس کر کے مجھے بڑی حیرانی ہوئی اور میں یہ سب لکھنے پر مجبور ہو گیا کہ  ایک طرف مسلمان یہ چیز مانتے ہیں کہ حضرت محمدﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہیں مگر یہ کیا بات ہوئی اتنی بڑی نعمت کی خوشی صرف ایک دن؟ سال میں صرف ایک دن بھلائی کے کام کئے اور پھر بس (اللہ اللہ تے خیر سلا)۔ ایک دن اتنی روشنی کر دی کہ باقی سال وہی اندھیرے۔ ایک دن میں اتنا مال خرچ کر دیا جو کسی خاص کام نہ آیا اور باقی سال پھر وہی غربت۔ دوستو! یہ کیسی خوشی ہے؟ یہ کیسا جشن ہے؟]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
یہ کونسی سنسان جگہ ہے؟ نہ روشنی ، نہ رونق؟ ہر چہرہ مرجایا ہوا ہے؟ ہر کسی کو اپنی پڑی ہے؟<br />
 یہ سوال میرے لئے پہلے اتنے عجیب نہ تھے کیونکہ میں انہیں میں رہا۔ روز دیکھتا روز سنتا۔ لیکن کل شائد کوئی ایسا خواب دیکھا تھا جس نے مجھے یہ عجیب سے سوال کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ حقیقی دنیا کچھ اور نظارہ پیش کرتی تھی جو کہ اب بھی ہے۔ لیکن خواب اتنا سہانا تھا کہ کیا بتاؤ۔ خواب میں ہوا کچھ یوں کہ جس طرف دیکھا چراغاں تھا۔ گھر، بازار، گلیوں، محلوں اور شہروں کو لوگوں نے سجا رکھا تھا۔ کئی ایسی جگہ بھی دیکھیں جہاں لوگوں کا گزر کم ہوتا تھا لیکن وہاں بھی لائٹوں کی بھر مار تھی اور ہر طرف روشنی ہی روشنی تھی۔ روشنیوں کی وجہ سے کئی گھر ایک بلب جیسے چمک رہے تھے۔ گلیوں کی مکمل صفائی کی گئی تھی بلکہ کئی گلیوں میں بڑے خوبصورت ریشمی کلین بھی بچھائے گئے تھے۔ ہر چہرے پر رونق تھی۔ لوگ خوشی سے جھوم جھوم کر نعرے لگا رہے تھے۔ خوشی کا اظہار کرنے کے لئے کئی لوگوں نے اپنی سائیکل، موٹر سائیکل یا گاڑی غرض جو جو جس کے پاس تھا اسے مختلف جھنڈیوں اور جھنڈوں سے سجایا ہوا تھا۔ ایک جشن کا سما تھا ایک عجیب سی چہل پہل تھی۔ رونقیں ہی رونقیں تھیں۔<br />
پھر اچانک میری آنکھ کھل گئی۔ اور دنیا اپنا اصل رنگ دیکھانے لگی۔ کل خواب میں جہاں رونقیں ہی رونقیں تھیں آج وہاں پھر خواب سے پہلے جیسی حالت تھی وہی سنسان گلیاں جہاں اندھیرے اپنے رنگ جمائے ہوئے تھے۔ وہی فقیر مانگ رہے تھے۔ وہی غریب لوگ روٹی کی تلاش میں در در بھٹک رہے تھے۔ وہی غریب کا بچہ کھیل کود اور سکول جانے کے دنوں میں مزدوری کر رہا تھا۔ بازاروں میں تاجر گاہکوں کو جھوٹ بول بول کر اور قسمیں کھا کھا کر اپنا مال بھیچ رہے تھے۔ خواب میں جہاں ہر چہرہ پُر رونق تھا  حقیقت میں وہی چہرے اداسی کی داستانیں سنا رہے تھے۔ یہ سب دیکھ کر مجھے اپنا خواب بہت عجیب لگا اور میں اپنے خواب کے بارے میں تحقیق کرنے لگا تو سب سامنے آیا اور پتہ چلا کہ یہ میرا خواب نہیں تھا بلکہ کل 12 ربیع الاول کا دن تھا۔ جس دن ہر سال ہمارے مسلمان بھائی حضرت محمدﷺ کی ولادت کی خوشی میں جشن مناتے ہیں۔ اپنے رب تعالیٰ کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ملنے پر شکر ادا کرتے ہیں اور یہ سب کچھ کرتے ہیں۔ یہ سب دیکھ کر، سن کر اور محسوس کر کے مجھے بڑی حیرانی ہوئی اور میں یہ سب لکھنے پر مجبور ہو گیا کہ  ایک طرف مسلمان یہ چیز مانتے ہیں کہ حضرت محمدﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہیں مگر یہ کیا بات ہوئی اتنی بڑی نعمت کی خوشی صرف ایک دن؟ سال میں صرف ایک دن بھلائی کے کام کئے اور پھر بس (اللہ اللہ تے خیر سلا)۔ ایک دن اتنی روشنی کر دی کہ باقی سال وہی اندھیرے۔ ایک دن میں اتنا مال خرچ کر دیا جو کسی خاص کام نہ آیا اور باقی سال پھر وہی غربت۔ دوستو! یہ کیسی خوشی ہے؟ یہ کیسا جشن ہے؟<br />
ہونا تو یہ چاہئے کہ جب بھی توفیق ہو اسی وقت اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ اسی چیز کو دیکھتے ہوئے  آؤ کچھ ایسا کرتے ہیں جس سے ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر سارا سال بلکہ ہر لمحہ ادا کریں۔ آؤ حضورﷺ کی ولادت کی خوشی سارا سال منائیں جس سے عالم اسلام بلکہ پوری دنیا میں رونقیں ہی رونقیں ہوں۔<br />
 ایک دن میں بہت زیادہ بلب لگانے اور بجلی پر خرچ کرنے سے بہتر ہے کہ ایک بلب گلی میں لگا دیا جائے جو سارا سال کام کرے اور راہگیروں کا بھلا ہو۔ بہت زیادہ جھنڈوں پر کپڑا لگانے سے بہتر ہے کہ کسی غریب کو لباس سلوا دیں تاکہ وہ گرمی و سردی سے محفوظ رہ سکے۔ایک دن میں بہت زیادہ پٹرول لگانے سے بہتر ہے کہ کسی غریب طالب علم کا سکول آنے جانے کا بندوبست کر دیں۔ ایک دن میں لوگوں کو پکڑ پکڑ کر دودھ پلانے سے بہتر ہے کہ غریب کے معصوم بچے کے لئے پورے سال کے دودھ کا بندوبست کر دیں۔ ایک دن میں بہت زیادہ محنت کر کے گلی صاف کرنے سے بہتر ہے کہ روز مرہ کے کوڑے کرکٹ کا مناسب انتظام کریں۔ ایک دن گلیوں میں کالین بچھانے سے بہتر ہے کہ درس گاہ میں طالب علموں کے بیٹھنے کا انتظام کر دیں۔ ایک دن ہی بہت زیادہ کام کرنے سے بہتر ہے کہ روز کا کام روز کریں۔ ایک دن مسجد کو سجانے بہتر ہے کہ پورا سال باقائدگی سے نماز پڑھیں۔ ایک دن حضرت محمدﷺ کی ولادت کی خوشی منانے سے بہترکہ ہر وقت ولادت کی خوشی مناتے ہوئےان کی تعلیمات پر عمل کریں اور ہر لمحہ خدا کا شکر ادا کریں۔<br />
جب ہم مندرجہ بالا اور دیگر اپنی ذمہ داری کے کام روزانہ کریں گے تو یقینا ہماری دنیا و آخرت بہتر ہو گی۔<br />
میرے مسلمان بھائیوں ذرا غور کرو، اسلامی تعلیمات کو سمجھو اور جو اسلام کہتا ہے وہ کرو۔ ویسے کیسی عجیب بات ہے کہ ہم مسلمانوں نے کرنا کچھ اور تھا مگر کر کچھ اور رہے ہیں۔ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ اسلامی تعلیمات اپناؤ اور باقی دنیا کے لئے روشنی کی کرن بنو تاکہ ہر دن 12 ربیع الاول کا دن ہو اور ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں ہوں۔</p>
<p>نوٹ:- یہ ضروری نہیں کہ آپ میرے نظریات سے اتفاق کریں مگر یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ بحث برائے بحث کریں۔ بحث برائے تعمیر ضرور کریں تاکہ مجھے بھی علم مل سکے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/har-din-12-rabi-ul-awal-ka-din-ho/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>11</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>تحقیق سے دوری مسائل کا باعث اور ہمارا المیہ</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/tahqeeq-say-dori-masail-ka-bais/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/tahqeeq-say-dori-masail-ka-bais/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 28 Oct 2008 19:58:40 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[اسلام اور عصر حاضر]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=16</guid>
		<description><![CDATA[بسم اللہ الرحمن الرحیم پاکستان آج جس جگہ آ پہنچا ہے اِن نازک حالات میں عوام کو ایک جان ہونے کی ضرورت ہے لیکن ہماری عوام ابھی تک ذاتی بحث و مباحثہ، فرقہ واریت اور ناجانے کن کن مسائل میں الجھ رہی ہے۔ جہاں پاکستان کے بے شمار مسائل ہیں۔ وہاں ہماری عوام کا ایک [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">بسم اللہ الرحمن الرحیم</p>
<p style="text-align: right;">پاکستان آج جس جگہ آ پہنچا ہے  اِن نازک حالات میں عوام کو ایک جان ہونے کی ضرورت ہے لیکن ہماری عوام ابھی تک ذاتی بحث و مباحثہ، فرقہ واریت اور ناجانے کن کن مسائل میں الجھ رہی ہے۔<br />
جہاں پاکستان کے بے شمار مسائل ہیں۔ وہاں ہماری عوام کا ایک بہت بڑا مسئلہ تحقیق سے دوری ہے۔ زیادہ تر لوگ اپنے مطلب کی سنی سنائی اور میڈیا کی پھیلائی ہوئی باتوں پر عقل کی کھڑکیاں بند کر کے یقین کرتے ہیں۔ اسی طرح کچھ لوگ اپنے ارد گرد کے ماحول کے زیادہ لوگ جو ایک سوچ کے ہوتے ہیں ان کی سوچ اپنے اوپر مسلط کر لیتے ہیں۔ اس طرح جب ایک عام پاکستانی جس سوچ کو یا جس گروہ کے نظریات کو اپنے اوپر مسلط کرتا ہے پھر اس پر مکمل قائم رہتا ہے۔ چاہے کچھ بھی ہو جائے اپنی سوچ کا اور اپنے گروہ کا دفاع کرتا ہے بے شک اسے جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ ہی کیوں نہ ثابت کرنا پڑے۔ اس طرح کی مثالیں ہمیں روز مرہ ہر موڑ، ہر فورم اور ہر جگہ ملتی ہیں۔ جیسے اب ایک انسان افغانی طالبان کے حق میں ہے تو وہ افغانی طالبان کے ہر جائز و ناجائز کاموں کی حمایت کرے گا اور ساتھ ساتھ بہتی گنگا میں خود کش حملے کرنے والے پاکستانی طالبان کی بھی حمایت کر دے گا۔ اسی طرح جو امریکہ کے حق میں ہے تو وہ امریکہ کے ہر جائز و ناجائز کاموں کی مکمل حمایت کرے گا۔ اور یہی حال ہمارا پاکستانی سیاست کے بارے میں ہے اگر کوئی زرداری کا حامی ہے تو وہ زرداری کے ہر جائز و ناجائز کاموں کی حمایت اور جو نواز کا حامی ہے تو وہ نواز کے ہر جائز و ناجائز کاموں کی حمایت کرے گا۔ اور جو کسی کا حامی نہیں وہ ان دونوں کے ہر جائز و ناجائز کا کی مخالفت کرے گا۔<br />
اگر ہم افغانی طالبان کو دیکھیں تو میڈیا ہی کے ذریعے ان کے اچھے اخلاق کی مثال برطانوی صحافی مریم(یو آنے رڈلے (پرانا نام)) کی کتاب، پوست کی کاشت پر پابندی کے بارے میں سب جانتے ہیں اور دوسری طرف ہمیں میڈیا ہی کے ذریعے پتہ چلنے والی دوسری غیر اخلاقی باتیں بھی سب کے سامنے ہیں۔ اسی طرح امریکہ کی اپنے شہری اور کئی دوسرے ممالک کے شہریوں کے لے لئے بے شمار حقوق، سائنسی ایجادات اور کئی اچھی چیزیں موجود ہیں اور دوسری طرف &#8220;کاما&#8221; جیسے افغانستان کے کئی چھوٹے بڑے دیہات اور شہروں کے بے گناہ شہریوں پر بمباری، گوانتا ناموبے کے قیدیوں کی حالت، عراق کے حالات، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حالات، سب کے سامنے موجود ہیں۔<br />
لیکن مجھے ایک بات سن کر، دیکھ کر بہت عجیب لگتا ہے کہ ہمارے پاکستانیوں کی زیادہ تعداد بس جو سنا یا دیکھا اور اگر اُن میں سے ایک بھی بات دل کو لگی تو پھر بس اس کی اندھی پیروی کرنے لگتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ وہ باتیں ان کے لاشعور میں بیٹھ جاتیں ہیں کہ یہ لوگ بالکل مکمل طور پر ٹھیک ہیں اور فلاں مکمل طور پر خراب اور راہ ہدایت سے بھٹکے ہوئے لوگ ہیں۔ لیکن پتہ نہیں ہمیں یہ سمجھ کیوں نہیں آتی کہ ایک جھوٹ بولنے والا لازمی نہیں کہ ہر بار جھوٹ ہی بولے اور ایک سچا انسان لازمی نہیں کہ ہر بات پر راہ ہدایت پر ہو۔ بے شک عملوں کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ لیکن کسی اچھی نیت کے ساتھ کوئی کام کرنے یا کسی کے حق یا مخالفت میں بولنے سے پہلے کم سے کم خود تحقیق ضرور کر لینی چاہئے کہ جو کام ہم نیک نیتی سے کرنے جا رہے ہیں کیا اُس عمل سے کوئی نقصان تو نہیں ہونے والا۔ تحقیق کے بعد ہمیں چاہئے کہ اچھے راستے کو اختیار کرتے ہوئے عمل کر جائیں اور نتائج اللہ تعالٰی پر چھوڑ دیں۔ لیکن کم از کم خود سے کوئی تحقیق تو کریں، عقل کی تمام کھڑکیاں کھول کر غور تو کریں۔ لیکن یہاں معاملہ الٹ ہو چکا ہے۔ میں کسی کی نیک نیتی پر شک نہیں کر رہا لیکن یہاں کام تو نیک نیتی سے کیا جاتا ہے لیکن اپنے عمل پر ذرا سا بھی غوروفکر نہیں کیا جاتا کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ جیسے ہمارے کچھ دوست امریکہ کے اچھے کاموں کو ہی دیکھ بس امریکہ امریکہ کرنے لگتے ہیں اور اسی طرح کچھ طالبان کے اچھے کاموں کو دیکھ کر طالبان طالبان کرنے لگتے ہیں۔ اب دونوں کی نیتوں پر شک نہیں کیونکہ دونوں اطراف کے لوگ دونوں گروہوں کی کسی نہ کسی اچھی بات سے متاثر ہوئے ہیں اور نیک نیتی سے میدان میں اتریں ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم امریکہ امریکہ اور طالبان طالبان کرتے ہوئے دونوں کے جائز و ناجائز کاموں کی حمایت میں زد کر دیتے ہیں اور پھر یوں امریکہ اور طالبان کو چھوڑ کر ہم ذاتی انا کی جنگ شروع کر دیتے ہیں۔ جس سے ہم اپنے آپ کو گروہوں میں تقسیم کر دیتے ہیں اس کا فائدہ کسی کو ہو نہ ہو لیکن نقصان پوری امتِ مسلمہ کو ہو رہا ہے۔<br />
اب ہمارے کچھ دوست نیک نیتی سے جہاد کی فضیلت بیان کرتے ہیں لیکن جب کوئی دوسرا بات کرتا ہے تو بحث میں جہاد اور فساد میں فرق کئے بغیر بس دوسرے کو زیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح فساد کی مخالفت کرنے والے بحث میں اتنے آگے نکل جاتے ہیں کہ فساد کی مخالفت کے ساتھ ساتھ جہاد کے حقیقت بھی دُھندلی کر دیتے ہیں۔اب اس بات میں کسی کا فائدہ ہو نہ ہو لیکن جہاد کی حقیقت اور جہاد کے معنوں کو ضرور نقصان ہوتا ہے۔ اور یہی حال فرقہ واریت کی جنگ کا ہے۔ دوستو! اسلام تو وہ مذہب ہے جو اقلیتوں تک کو تخفظ فراہم کرتا ہے۔<br />
ہم یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ اگر ہم ایسے ہی نیک نیتی کے ساتھ لیکن بغیر تحقیق کے چلتے رہے تو ہم ایک اندھیر نگری میں خود تو جائیں گے لیکن ساتھ باقیوں کو بہت نقصان پہچانے کے ساتھ ساتھ اسلام کو بھی کمزور کرتے جائیں گے۔۔۔<br />
اے میرے ہم وطنو، اے میرے مسلمان بھائیوں اور بہنوں! ذرا ٹھنڈے دماغ سے سوچو!<br />
اب اسی تناظر میں ایک خود کش حملہ آور کو دیکھتے ہیں۔۔۔<br />
آج کے دور میں، پاکستان میں ایک خود کش حملہ آور ایسے ہی تو جان دینے کے لئے تیار نہیں ہو جاتا۔ اب جو خود کو مسلمان بھی کہتا، خود کش حملے کو جہاد بھی کہتا ہے اور امید کرتا ہے کہ اسے شہادت مل رہی ہے۔۔۔ ذرا سوچو! اُس کی نیت کیا ہے؟؟؟ اُس کے اپنے جذبات کیا ہیں؟؟؟ ایک لمحہ کے لئے ایسا ہی لگے گا کہ اُس کو اپنے نظریات پر مکمل یقین ہے کہ وہ جو کر رہا ہے ٹھیک کر رہا ہے۔ لیکن وہ انسان جو کام کرنے جا رہا ہے یا کرتا ہے۔ کم از کم مجھے تو نہیں لگتا کہ وہ ٹھیک کر رہا ہے اور میرے خیال میں آپ تمام لوگ بھی اس کام (خود کش حملے) کو غلط ہی کہیں گے۔ خود کش حملے میں بے گناہوں کو مارنا کسی لحاظ سے بھی ٹھیک قدم نہیں اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ لیکن اب اُس کا انسان کا کیا کریں جو اپنی نیت اپنے ارادوں کو بہتر سمجھ کر رہا ہے؟؟؟<br />
یہاں مسئلہ بھی وہی ہے جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ ہماری اکثریت سنی سنائی باتوں پر یقین کرتی ہے خود سے کوئی تحقیق نہیں کرتی اور اپنی سوچ کی اندھی پیروی کرتی ہے۔ جیسا کہ اُس (خود کش حملہ کرنے والے) نے کسی سے سنا کہ خود کش حملے میں دشمن کے بے گناہ لوگوں کو مارنا بھی جہاد ہے۔ اُس نے جہاد کی خاطر نیک نیتی سے بات مان لی لیکن خود سے تحقیق کرنے کی زحمت تک نہیں کی کہ خود کش حملے میں بے گناہوں کو مارنا ٹھیک بھی ہے یا نہیں؟؟؟ خود سے تحقیق نہ کرنے کی وجہ سے وہ خود کش حملہ آور جہاد کے نام پر غلط ہاتھوں اور فساد میں استعمال ہو گیا۔۔۔<br />
اب خود کش حملہ آور ایک تو سرا سر غلط عمل کر رہا ہے اور اوپر سے اس کے عمل سے مسلمانوں کو اور پاکستان کو اتنا نقصان ہو رہا ہے کہ اُس کی سوچ سے بھی باہر ہے۔۔۔ یوں ایک خود کش حملہ کن وجوہات کے اثرات سے ہوا وہ تو آپ لوگ سمجھ گئے ہوں گے۔۔۔<br />
اس لئے ہم سب کو چاہئے کہ سنی سنائی، میڈیا میں پھیلائی، مختلف تقاریر، سیمینار اور جلسوں میں سنی ہوئی باتوں اور کسی خاص گروہ کی ہر بات پر یقین کرنے سے پہلے خود اچھی طرح تحقیق کر لیں، اس پر اچھی طرح سوچ بیچار کر لیں، مختلف مکاتب فکر سے مشورہ کریں، خود قرآن و حدیث کا مطالعہ کریں اور جب اچھی طرح ہر پہلو کا جائزہ لے لیں اور سمجھ لیں پھر کسی بات کی مخالفت یا تائید کریں اور ساتھ ساتھ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ لازمی نہیں کہ ایک بندہ یا میڈیا جو بھی کہے وہ سب ٹھیک ہے یا سب غلط ہے۔۔۔<br />
دعا ہے کہ اللہ تعالٰی ہمیں تحقیق کرنے، نظریات کو درست کرنے اور اسلام کی خدمت کرنے کی توفیق دے۔۔۔آمین</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/tahqeeq-say-dori-masail-ka-bais/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>مسلمان بے گناہوں کا خون نہیں بہاتا</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/musalman-bay-ghunahoo-ka-khoon-nahi-bahata/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/musalman-bay-ghunahoo-ka-khoon-nahi-bahata/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 15 Oct 2008 21:05:53 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[اسلام اور عصر حاضر]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی طالبان، خود کش حملے]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=15</guid>
		<description><![CDATA[بسم اللہ الرحمن الرحیم ہمارا پیارا وطن پاکستان آج کل بے شمار مسائل کا شکار ہے کچھ لوگ تو اب پاکستان کو مسائلستان کہتے ہیں۔ ویسے تو کئی مسائل ہیں لیکن آج ہم خود کش حملوں کو دیکھتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پاک فوج جب کہیں آپریشن کرتی ہے تو وہ لوگ جواب میں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
ہمارا پیارا وطن پاکستان آج کل بے شمار مسائل کا شکار ہے کچھ لوگ تو اب پاکستان کو مسائلستان کہتے ہیں۔ ویسے تو کئی مسائل ہیں لیکن آج ہم خود کش حملوں کو دیکھتے ہیں۔<br />
کہا جاتا ہے کہ پاک فوج جب کہیں آپریشن کرتی ہے تو وہ لوگ جواب میں خود کش حملے کرتے ہیں۔ ہم تھوڑی دیر کے لئے کچھ باتیں تصور کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ پاکستان کی فوج سرا سر غلطی پر ہے اور جن کے خلاف آپریشن کر رہی ہے وہ مسلمان ہیں اور اسلام کی سر بلندی کے لئے کوشاں ہیں۔ جنہیں آج کل طالبان کہا جاتا ہے یا وہ خود کہلواتے ہیں۔ ایک بات یاد رہے کہ ہم افغانی طالبان کا ذکر نہیں کر رہے بلکہ پاکستانی طالبان کا ذکر کر رہے ہیں اور نہ ہی افغانی طالبان کا پاکستانی طالبان سے رشتہ ناتہ دیکھ رہے ہیں کیونکہ یہ ایک علیحدہ اور لمبی بحث ہے۔ اچھا تو ہم اپنے تصورات میں واپس آتے ہیں کہ پاکستانی فوج غلطی پر ہے اور طالبان اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کے لئے لڑ رہے ہیں۔ پاکستانی فوج تو ہے ہی غلطی پر اس لئے وہ جو بھی کرے غلط ہے لیکن ہم اُن لوگوں کے کردار کو دیکھتے ہے جو اسلام اور مسلمان کے لئے لڑ رہے ہیں یعنی پاکستانی طالبان۔۔۔<br />
پاکستانی فوج امریکہ کے کہنے پر یا خود اپنی مرضی سے طالبان کے علاقے پر حملہ کرتے ہیں تو جواب میں طالبان خود کش حملے کرتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ خود کش حملہ پاکستانی فوج پر ہے یا کسی اور پر؟؟؟ یہ بات سب جانتے ہیں کہ خود کش حملے فوج پر بھی ہوتے ہیں اور عام عوام پر بھی۔ فوج پر ہونے والے حملوں کو چھوڑ کر عام عوام پر ہونے والے حملوں کو اسلامی نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کے لئے لڑنے والے کیا کر رہے ہیں؟؟؟<br />
اسلامی تعلیمات اور تاریخ کھول کر دیکھیں تو ایک بات صاف صاف ظاہر ہوتی ہے کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے ہر کام کے قوانین اور قواعد و ضوابط بنائے ہیں اور مسلمانوں کو اُن پر چلنے کا کہا گیا ہے۔ حضورﷺ اور خلفائے راشدین کے زمانے کی جنگوں کو دیکھیں تو جب بھی کوئی اسلامی لشکر روانہ ہوتا تو اُس کو جنگ کے قوانین یاد دلائے جاتے جن میں سے صرف ایک جس کو تقریباً ایک عام مسلمان بھی جانتا ہے۔ وہ یہ کہ &#8220;جو تہمارے خلاف ہتھیار نہ اُٹھائیں انہیں کچھ نہیں کہنا&#8221; یعنی عام الفاظ میں یوں کہ جو لوگ تم سے نہیں لڑتے اُن سے تم نے نہیں لڑنا اور نہ ہی انہیں کوئی نقصان پہنچانا ہے بے شک وہ کوئی بھی ہوں۔<br />
یہاں دیکھا جائے تو وہ لوگ جن کے خلاف لڑنے سے منع کیا جا رہا ہے وہ لوگ ہیں تو دشمن کے اور دشمن کے علاقے کے اور ہو سکتا ہے کہ وہ کفار ہوں۔ لیکن پھر بھی عام عوام سے لڑنے سے منع کیا گیا۔ ہم اس ایک اصول کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ کفار عوام، دشمن کے لوگ، ظاہر ہے جن کے لوگ ہوں گے تو ہمدردیاں بھی اُن کے ساتھ ہوں گی لیکن پھر بھی عام عوام کو مارنے سے منع کیا گیا ہے۔<br />
اب ہم نے صرف ایک اسلامی جنگی اصول کو دیکھ لیا۔ اب دیکھتے ہیں اسلام کے لئے لڑنے والے طالبان کو۔۔۔ طالبان کی دشمن اگر فوج ہے تو فوج سے لڑیں لیکن بے گناہ پاکستانی عوام کو کیوں مار رہے ہیں؟؟؟ طالبان پر حملہ فوج کرتی ہے لیکن طالبان کمزور عوام پر خود کش حملہ کیوں کرتے ہیں؟؟؟ اس غریب عوام کو روٹی نہیں مل رہی لیکن یہ انتقامی کاروائی میں بھوکی عوام کا گوشت کیوں کھاتے ہیں؟؟؟ ملک بحرانوں کا شکار ہے لیکن ملکی تنصیبات کو تباہ کر کے ملک کو اور کھوکھلا کیوں کرتے ہیں؟؟؟ یہاں ویسے ہی بھائی بھائی سے خوف زدہ ہے پھر چیتھڑے اڑا کر عوام میں خوف کیوں پیدا کیا جا رہا ہے؟؟؟ کیا قصائی کم پڑ گئے جو خود کش حملہ کے ذریعے اپنا اور عوام کا گوشت کیا جا رہا ہے؟؟؟<br />
اِن باتوں کو دیکھ کر ایک بات صاف ظاہر ہو جاتی ہے کہ جو شر پسند عناصر عام عوام پر حملے کرتے ہیں اور اُن کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں وہ کسی طرح سے بھی اسلامی جنگی اصولوں پر نہیں چل رہے اور نہ ہی اسلام اور مسلمانوں کی خاطر لڑ رہے ہیں بلکہ ذاتی مفادات، بیرونی یا اندرونی شیطانی طاقتوں کے آلہ کار ہیں۔ جن کا مقصد اسلام، مسلمانوں اور جہاد کو بدنام کرنا ہے۔ یہ سرا سر اسلام کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ اگر عام عوام سے نظریاتی اختلاف ہے تو تبلیغ کریں، سچی باتیں بتائیں اور لوگوں کے دل جیتیں۔ اسلام میں کہاں لکھا ہے کہ نظریاتی اختلاف پر دوسرے کو قتل کر دیا جائے۔ جنگ میں عام عوام کو مارنا اور نظریات کے اختلاف پر لوگوں کو قتل کرنا یہ کہاں لکھا ہے؟؟؟<br />
میں تمام لوگوں سے جو اس طرح کے کاموں میں ملوث ہیں ہاتھ جوڑ کر گزارش کرتا ہوں خدا کے لئے عام عوام کو مت مارو۔ ہمیں سمجھو ہم امن چاہتے ہیں، ہم علم چاہتے ہیں، ہم ترقی چاہتے ہیں، ہم اسلام کی سر بلندی چاہتے ہیں۔ ہم اسلام کے اُس دشمن سے لڑنے والے ہیں جو ہم سے لڑتا ہے۔ ہم بے گناہوں پر ظلم نہیں کرتے۔ لیکن طالب تم کیسے انسان ہو؟؟؟ جو خود کو مسلمان بھی کہتے ہو اور<br />
بے گناہوں کا خون بھی بہاتے ہو؟؟؟ جبکہ &#8220;مسلمان بے گناہوں کا خون نہیں بہاتا&#8221;۔۔۔<br />
احمد فراز بھی کہہ کر چلا گیا ہم پھر سے اُس کی یاد تازہ کرتے ہوئے اُس کا پیغام سناتے ہیں<br />
تم اپنے عقیدوں کے نیزے ہر دل میں اتارے جاتے ہو<br />
ہم لوگ محبت والے ہیں، تم خنجر کیوں لہراتے ہو<br />
اس شہر میں نغمے بہنے دو، اس شہر میں ہم کو رہنے دو<br />
ہم پالن ہار ہیں پھولوں کے، ہم خوشبو کے رکھوالے ہیں<br />
تم کس کا لہو پینے آئے، ہم پیار سکھانے والے ہیں<br />
اس شہر میں پھر کیا دیکھوگے، جب حرف یہاں مرجائےگا<br />
جب تیغ سے لے کٹ جائے گی، جب شعر سفر کرجائےگا<br />
جب قتل ہوا سب سازوں کا، جب کال پڑا آوازوں کا<br />
جب شہر کھنڈر بن جائے گا، پھر کس پر سنگ اٹھاؤ گے<br />
اپنے چہرے آئینوں میں، جب دیکھوگے، ڈر جاؤ گے</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/musalman-bay-ghunahoo-ka-khoon-nahi-bahata/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>10</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>تبلیغ کا طریقہ بہتر کرو اور احتیاط سے کام لو</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/tableeg-ka-tareeqa-behter-karo/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/tableeg-ka-tareeqa-behter-karo/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 15 Jul 2008 22:22:36 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[اسلام اور عصر حاضر]]></category>
		<category><![CDATA[اسلامی]]></category>
		<category><![CDATA[اشاعت]]></category>
		<category><![CDATA[اچھائی]]></category>
		<category><![CDATA[ایس ایم ایس]]></category>
		<category><![CDATA[باتیں]]></category>
		<category><![CDATA[برائی]]></category>
		<category><![CDATA[بہتان]]></category>
		<category><![CDATA[تبلیغ]]></category>
		<category><![CDATA[تحقیق]]></category>
		<category><![CDATA[جھوٹ]]></category>
		<category><![CDATA[حوالہ]]></category>
		<category><![CDATA[دعوتِ فکر]]></category>
		<category><![CDATA[سنی سنائی]]></category>
		<category><![CDATA[طریقہ]]></category>
		<category><![CDATA[مذہبی]]></category>
		<category><![CDATA[مستند]]></category>
		<category><![CDATA[من گھڑت]]></category>
		<category><![CDATA[منسوب]]></category>
		<category><![CDATA[نیکی]]></category>
		<category><![CDATA[پیغامات]]></category>
		<category><![CDATA[کتاب]]></category>
		<category><![CDATA[ہدایت]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=13</guid>
		<description><![CDATA[ہر اِدھر اُدھر کی بات اور ہر سنی سنائی بات کی پہلے خود تحقیق کریں پھر دوسروں کو بتائیں۔ اگر کوئی اسلامی بات یا مسئلہ ہم کسی کو بغیر حوالہ کے اسلام کا نام لے کر کہہ دیتے ہیں اور اگر وہ اسلام کے مطابق نہ ہوئی تو یوں ہم نے جھوٹ کو اسلام کی طرف منسوب کر دیا۔ تو یہ بھی بہت بڑا گناہ ہے]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم  </p>
<p>ایک زمانہ تھا جب ہاتھ سے کتابت کی جاتی تھی۔ کوئی پریس نہیں تھا۔ تحریری اشاعت و تبلیغ کا کام بہت کم ہوتا تھا۔ جو بھی مذہبی کتاب لکھی جاتی اُس کی اشاعت بھی بہت بڑا مسئلہ ہوتا تھا۔ جو لوگ واعظ و نصیحت کرتے وہ بھی پہلے سالہ سال دینی تعلیم حاصل کرتے پھر کہیں جا کر وہ اس قابل ہوتے کہ واعظ و نصیحت کرتے۔ وقت گزرتا گیا، جدید ٹیکنالوجی آئی اور آج کے دور میں کوئی اچھی کتاب لکھنا تو مشکل ہے لیکن اشاعت کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ جگہ جگہ پریس اور کمپیوٹر کتابت دستیاب ہے۔ اشاعت کا کام آسان ہونے سے ہر خاص و عام کو آسانی ہوئی ہے۔ جہاں آسانی ہوئی وہاں ہی کچھ غیر ذمہ دار لوگوں نے فائدہ اُٹھایا اور عوام الناس کے لئے ایک اور مسئلہ پیدا کر دیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج بہت سی باتیں اپنی اصل سے بہت دور اور کچھ تو من گھڑت ہیں۔ یہ سارا کام غیر ذمہ دار لوگوں کے ایک خاص طبقے کا ہر وہ بندہ جس کا کتاب لکھنے کو دل کرتا ہے کر رہا ہے جو کوئی بات، دینی مسئلہ یا تحریر اِدھر اُدھر سے سنتا یا کسی کتاب میں پڑھتا ہے اور بغیر تحقیق کے سب کو ملا کر لکھ دیتا ہے اور ایک کتاب بنا ڈالتا ہے جس کو اپنے نام کی شہرت کی خاطر شائع کر دیتا ہے اور ایک خاص حلقہ احباب میں اپنا نام ظاہر کرا دیتا ہے۔ اس طرح چند چھوٹی تنظیموں، اداروں اور گروہوں نے بھی یہ کام کیا۔ اپنا نام لوگوں میں عام کرنے کے لئے جو دل میں آیا اسلام کے نام پر شائع کر دیا۔ اب ان سنی سنائی اور کسی چھوٹی موٹی کتاب میں پڑھی ہوئی باتوں، دینی مسائل اور تحریروں کو اپنی کتاب یا پرچوں میں بغیر تحقیق کے اپنے الفاظ میں اور بغیر مستند کتب کے حوالہ جات کے شائع کرنے سے عوام تک کچھ علم تو پہنچ گیا لیکن اپنے الفاظ اور بغیر مستند کتب کے حوالہ جات سے اس مواد کے اصل ہونے میں بھی شکوک و شہبات پیدا ہو گئے۔</p>
<p>آج کے اس جدید دور میں انٹرنیٹ اور موبائل فون جیسی ٹیکنالوجی عام ہونے سے ایک عام انسان کا بھی اشاعت و تبلیغ میں حصہ لینا آسان ہو گیا۔ ہر اچھے انسان کا دل کرتا ہے کہ وہ اشاعت و تبلیغ کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے۔ ایسے ہی کچھ لوگوں نے نیک نیتی سے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے انٹرنیٹ پر ویب سائٹس، برقی پیغام (ای۔میل) اور موبائل پیغام (ایس۔ایم۔ایس) کے ذریعے دینی اشاعت و تبلیغ کا کام شروع کیا۔ اُن کی دیکھا دیکھی مزید لوگ بھی اس کام میں حصّہ لینا شروع ہو گئے لیکن اب ان نیک نیت لوگوں میں کچھ ایسے غیر ذمہ دار لوگ بھی شامل ہو چکے ہیں جو اِدھر اُدھر سے سنی سنائی باتیں، مختلف واعظ و نصیحت میں سنی تقاریر اور غیر مستند کتب سے پڑھی ہوئی باتیں اپنے الفاظ میں لکھ کر اور بغیر مستند کتب کے حوالہ جات کے دوسروں کو برقی پیغام اور موبائل پیغام بھیج رہے ہیں۔ پہلے پہل ان غیر ذمہ دار لوگوں کا گروہ اتنا فعال نہیں تھا لیکن اب انٹرنیٹ اور موبائل پیغام کے بہت زیادہ سستا ہو جانے اور عام انسان کی پہنچ میں آ جانے سے اس گروہ کے لئے آسانی ہوئی ہے اور بڑے عجیب عجیب پیغامات کو اسلام کا نام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی ایسی باتیں ہیں جن کے ساتھ صرف اتنا لکھ دیتے ہیں کہ یہ حدیث ہے جبکہ کسی مستند حدیث کی کتاب سے کوئی حوالہ نہیں دیتے۔ اسی طرح بعض باتوں کے ساتھ لکھا ہوتا ہے کہ یہ فلاں صحابی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول ہے جبکہ صرف صحابی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا نام ہوتا ہے ساتھ کسی کتاب کا حوالہ نہیں ہوتا۔</p>
<p>مجھے تو کئی بار ایسا لگتا ہے کہ اِن ساری باتوں کے پیچھے کچھ اسلام مخالف قوتیں ہیں جو ہر اِدھر اُدھر کی بات کو اسلام میں شامل کر کے اسلام کو کمزور کرنا چاہ رہی ہیں۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ اسلام ایک ایسی سچائی ہے جو کسی بھی قوت سے جھٹلائی نہیں جاسکتی لیکن میں اس تحریر سے اپنے اُن مسلمان بھائیوں اور بہنوں تک اپنا پیغام پہنچانا چاہتا ہوں جو نادانستہ طور پر اس کام کو اسلامی سمجھ کر کر رہے ہیں یا کسی نہ کسی حوالے سے اس کام کا حصّہ بنے ہوئے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہر ادھر ادھر کی بات کو اسلام کا نام نہ دیا جائے بلکہ جو بھی آیت، حدیث یا قول کسی دوسرے شخص کو کسی بھی ذریعہ سے پہنچایا جائے وہ مکمل تحقیق شدہ اپنے اصل متن کے ساتھ اور ساتھ میں مکمل حوالہ بھی موجود ہو تاکہ جب کوئی دوسرا شخص پڑھے تو اُسے بات میں وزن نظر آئے اور اگر وہ خود تحقیق کرنا چاہے تو حوالہ جات سے آسانی سے کر سکے۔ اس نفسا نفسی کے عالم میں کسی عام انسان کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ کوئی اسلامی بات بغیر حوالہ جات کے سنے یا پڑھے تو پھر اُس بات کے حوالے تلاش کرتا رہے۔ اس لئے اگر آپ کوئی بات کسی کو بتا رہے ہیں یا کتاب یا کسی بھی میڈیا پر کوئی بات لکھ رہے ہیں تو ساتھ حوالہ ضرور دیں تاکہ تحقیق کرنے والے کے لئے آسانی ہو۔ ویسے بھی ایک پڑھا لکھا اور عقل مند انسان بغیر حوالے کے کسی بات کو تسلیم نہیں کرتا۔<br />
اس تحریر کا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ دینِ اسلام کی اشاعت و تبلیغ کا کام نہ کیا جائے بلکہ مقصد یہ ہے کہ اشاعت و تبلیغ کا کام ضرور کیا جائے لیکن ذمہ داری کے ساتھ۔ اسلام کی اشاعت و تبلیغ کے کام کرنے والوں کی بہت فضیلت ہے یعنی نیکی کی ہدایت اور برائی سے منع کرنے والوں کو قرآن پاک نے بڑا درجہ دیا ہے جس کا ذکر سورۃ اٰل عمران آیت 104 اور 110، سورۃ توبہ آیت 71 اور سورۃ الحج آیت 41 میں آیا ہے۔</p>
<p>جہاں دین کی تبلیغ کا بڑا اجر ہے وہاں یہ بڑی ذمہ داری اور نہایت احسن طریقہ سے کرنے والا کام ہے۔ سورۃ النحل آیت 125 میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے &#8220;(اے رسولِ معظّم!) آپ اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بحث (بھی) ایسے انداز سے کیجئے جو نہایت حسین ہو، بیشک آپ کا رب اس شخص کو (بھی) خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہ ہدایت یافتہ لوگوں کو (بھی) خوب جانتا ہے۔&#8221; (ترجمہ طاہر القادری)</p>
<p>ہم سب کو چاہئے کہ دینِ اسلام کی اشاعت و تبلیغ میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتے ہوئے یہ دھیان بھی رکھیں کہ اسلام کی اشاعت و تبلیغ کے لئے جو بات یا کام ہم کر رہے ہیں وہ اسلام کے عین مطابق بھی ہے یا نہیں اور ہمارا طریقہ ٹھیک بھی ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ ٹھوس دلائل اور حوالہ جات کا ضرور خیال رکھیں۔ ہر اِدھر اُدھر کی بات اور ہر سنی سنائی بات کی پہلے خود تحقیق کریں پھر دوسروں کو بتائیں۔ اگر کوئی اسلامی بات یا مسئلہ ہم کسی کو بغیر حوالہ کے اسلام کا نام لے کر کہہ دیتے ہیں اور اگر وہ اسلام کے مطابق نہ ہوئی تو یوں ہم نے جھوٹ کو اسلام کی طرف منسوب کر دیا۔ تو یہ بھی بہت بڑا گناہ ہے۔<br />
اسی بارے میں سورۃ نحل آیت 116 میں ارشادِ باری تعالٰی ہے &#8221; اور وہ جھوٹ مت کہا کرو جو تمہاری زبانیں بیان کرتی رہتی ہیں کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے اس طرح کہ تم اللہ پر جھوٹا بہتان باندھو، بیشک جو لوگ اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتے ہیں وہ (کبھی) فلاح نہیں پائیں گے&#8221; (ترجمہ طاہر القادری)۔ جب کسی بات یا پیغام میں ہم کسی مستند کتاب کا حوالہ نہیں دیتے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ یہ بات ہم خود سے کہہ رہے یا لکھ رہے ہیں اور اس کی مکمل ذمہ داری ہم پر ہے۔ لیکن جب ہم کسی کتاب کا مستند حوالہ دے دیتے ہیں تو پھر ساری ذمہ داری اُس کتاب والے پر ہوتی ہے اور ہم صرف اُس بات یا پیغام کو دوسروں تک پہنچا رہے ہوتے ہیں۔<br />
اس لئے اے امت مسلمہ دین کے معاملے میں اختیاط سے کام لیا کریں اور کوئی بات روایت کرنے سے پہلے تحقیق کر لیا کریں۔ ایک بار پھر میں اپنے اُن دوست احباب کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہوں جو آج کل تحقیق کے بغیر ہر سنی سنائی بات کو اسلام کا نام دے رہے ہیں۔ خاص طور پر اُن دوست احباب کو دعوتِ فکر دیتا ہوں جو برقی پیغام اور موبائل پیغام کے ذریعے یہ کام کر رہے ہیں یعنی کوئی بھی اسلام کے نام کا پیغام ملتا ہے اور اسے بغیر تحقیق کے اور بغیر حوالہ جات کے آگے دوسروں کو بھیج دیتے ہیں۔ اے امتِ مسلمہ نیکی کرو اور نیکی کی دعوت بھی دو لیکن دھیان رکھو جو بات آپ اسلام کے ساتھ منسوب کر رہے ہو وہ اسلام کے مطابق بھی ہے یا نہیں اور ساتھ حوالہ بھی موجود ہے یا نہیں۔<br />
اللہ تعالٰی ہم سب کو دینِ اسلام کی صحیح سمجھ عطا کرے اور سیدھے راستے ہر چلائے۔۔۔آمین۔۔۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/tableeg-ka-tareeqa-behter-karo/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>8</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>آخر کب تک یہ سب چلے گا؟ کتنے لوگوں کی قربانی دینی ہو گی؟</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/akhir-kab-tak-yeh-sub-chalay-ga/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/akhir-kab-tak-yeh-sub-chalay-ga/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 10 Jun 2008 11:57:48 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[اسلام اور عصر حاضر]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://localhost/my/?p=8</guid>
		<description><![CDATA[آج امتِ مسلمہ بہت زیادہ مسائل کا شکار ہے۔ کہں غیر مسلم دہشت گرد قرار دے کر مارتے ہیں تو کہیں اسلام کا نام لے کر جو جی میں آیا کر دیا جاتا ہے۔ تو کہیں مسلمان فرقہ واریت کی جنگ لڑ رہے ہیں جس میں ایک دوسرے کو کافر قرار دے کر قتل کیا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">آج امتِ مسلمہ بہت زیادہ مسائل کا شکار ہے۔ کہں غیر مسلم دہشت گرد قرار دے کر مارتے ہیں تو کہیں اسلام کا نام لے کر جو جی میں آیا کر دیا جاتا ہے۔ تو کہیں مسلمان فرقہ واریت کی جنگ لڑ رہے ہیں جس میں ایک دوسرے کو کافر قرار دے کر قتل کیا جا رہا ہے۔<br />
آخر کب تک یہ سب چلے گا؟ کتنے لوگوں کی قربانی دینی ہو گی اور کتنے بے گناہوں کو صرف اس بات کی سزا دی جائے گی کہ وہ مسلمان ہیں؟ اے امتِ مسلم ذرا اس بات پر بھی سوچو!<br />
آج سے تقریباً چودہ سو سال پہلے ہمارے پیارے نبی ﷺ جو دین ہمارے لئے لے کر آئے وہ امن و اتحاد کا دین اور خوشی و مسرت کا پیغام ہے۔ جس دین نے آکر ہر طرف اجالا کر دیا۔ علم کی ایک ایسی شمع روشن کی جس نے پوری کائنات کو منور کردیا۔ جس نے ایک صف میں امیروغریب کو کھڑا کر دیا۔ ذات پات ، رنگ و نسل کے فرق کو مٹا دیا اور علم کو فتح دے  کر جہالت کو ختم کر دیا۔<br />
لیکن آج اسی کے ماننے والے متحد ہونے کی بجائے فرقہ واریت کی جنگ لڑ رہے ہیں ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کے لیے بیان بازی کی جا رہی ہے۔ علم سے دنیا سنوارنے کی بجائے جہالت سے اندھیرا کیا جارہا ہے۔ آخر کب تک یہ سب چلے گا؟ اے امتِ مسلمہ ذرا اس بات کو بھی سوچو!<br />
جو چیزیں ساری امتِ مسلم میں تقریباً ٪95 متفرق ہیں اُن کی طرف آؤ تھوڑے سے اختلافات جو صرف ٪5 ہیں اُن کو سامنے رکھ کر تفرقہ بازی کی طرف نہ جاؤ۔ خدارا متحد ہو جاؤ۔ اے امتِ مسلم اللہ تعالٰی کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔<br />
اقتدار کے لئے لڑنے کی بجائے پیار سے کام سنوارو اسلام نے تو ساری دنیا محبت و پیار سے جیتی تھی نہ کہ اقتدار کی جنگ سے۔ ایک دوسرے کو بلاوجہ اور نظریات کے اختلاف پر دُکھ دینے سے اگر اسلام نافذ ہوتا تو آج دنیا میں کوئی مسلمان نہ ہوتا۔ ہمارے نبی ﷺ نے تو امن و امان اور بھائی چارہ کا درس دیا لیکن آج ہم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟کہ  ہم نے امن و امان اور بھائی چارہ کی بجائے فرقہ واریت کو دین سمجھا ہوا ہے۔ آخر کب تک یہ سب چلے گا؟ ذرا اس بات کو بھی سوچو!<br />
ابھی بھی وقت ہے کہ ہم اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور سیدھی راہ پر چلیں اگر ایسا نہ کیا، قرآن و سنت کی بتائی ہوئی راہ پر نہ چلے، متحد نہ ہوئے، باہمی نظریاتی اختلافات اور جھگڑوں کو ختم نہ کیا تو اس کا مطلب صاف واضح ہے کہ ہم اللہ تعالٰی کی رحمت کے طلبگار ہی نہیں اور ہم ساری انسانیت کو دین حق سے دور، اشاعت و تبلیغ دین کی بجائے حق کو کمزور، لوگوں کے دلوں میں نفرت اور باہمی جھگڑا پیدا کر رہے ہیں۔ غیر مسلموں کے سامنے اسلام کا غلط نقشہ کھینچ رہے ہیں اور اپنے دین حق سے سراسر غداری کر رہے ہیں۔<br />
آخر کب تک یہ سب چلے گا؟ اے امتِ مسلمہ ذرا اس بات کو بھی سوچو!<br />
اگر کسی دوسرے مسلمان بھائی سے اسلامی مسئلے میں کوئی اختلاف آتا ہے تو ایک دوسرے کو قرآن و حدیث کی روشنی میں سمجھاؤ اگر پھر بھی کوئی راہ نہ نکال پاؤ تو کم از کم بے جا بحث، بیان بازی، دل دکھانے والی تقاریر اور لڑائی سے بچو اور باقی لوگوں کو فرقہ واریت سے دور رہنے دو۔<br />
چھوڑ دو اُن لوگوں کو جو دین کو کاروبار بنا کر اپنی دوکانیں چمکا رہے ہیں جہاں دیکھو فرقہ واریت کو ہوا دیتے ہیں جو اسلام کا نقشہ بگاڑنا چاہتے ہیں جن کی وجہ سے لوگوں میں اسلام سے دوری پیدا ہو رہی ہے۔ اے امتِ مسلمہ خلوصِ نیت کے ساتھ میدان میں اُترو سچائی کی تلاش میں نکلو۔ سرچ کرو کہ اسلام کیا ہے؟ پھر خود جان جاؤ گے کہ روشن خیالی وہ ہے؟ جسے آج لوگ سمجھتے ہیں یا پھر وہ؟ جس کا اللہ تعالٰی نے کہا  جس سے ماؤں اور بہنوں کی عزت و آبرو مخفوظ ہوتی ہے۔ اسلام تو وہ مذہب ہے جس نے جہالت میں ڈوبی ہوئی اس دنیا کو جہاں عورت کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا بتایا کہ عورتوں کے حقوق بھی ہیں۔ ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کے رشتہ کی پہچان کرائی۔ عورت کو غلامی سے آزاد کرایا۔ حقیقی اسلامی تعلیمات اور کام اپناؤ تو پھر ساری حقیقت سامنے آ جائے گی کہ کس چیز کو روشن خیالی کہا جاتا ہے۔ اُن علمائے حق سے ملو جو امن اور بھائی چارہ،عبادات اور ہر اس اچھی بات کا درس دیتے ہیں جس سے دین و دینا سنور جاتی ہے۔ اور سب سے بڑ کر قرآن سے رابطہ کرو جو ہر دور کی جدید ترین اور ایک مکمل کتاب ہے اور جو حق ہے۔سنت نبویﷺ اختیار کرو تو پھر دیکھو دین و دنیا کیا ہے۔ پھر پتہ چلے گا کہ اسلام تو وہ ہے جس کو اپنانے سے اللہ تعالٰی کے سوا کسی سے کوئی ڈر نہیں آتا اور اسلام ہی دنیا اور دنیا ہی اسلام ہے۔ نہ کہ وہ اسلام اور وہ دنیا ہے جسے ہم علیحدہ علیحدہ کر رہے تھے۔<br />
والسلام   اپنی دعاؤں میں یاد رکھیئے گا۔<br />
دعا ہے کہ اللہ تعالٰی ہمیں اور ہمارے حکمرانوں کو سیدھی راہ پر چلائے اور ہم سب کو اسلام کی صحیح سمجھ عطاء فرمائے۔ (آمین)</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/akhir-kab-tak-yeh-sub-chalay-ga/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>3</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

