<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>بیاضِ بلال &#187; طنزومزاح</title>
	<atom:link href="http://www.mbilalm.com/blog/category/fun/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.mbilalm.com/blog</link>
	<description>قطرہ قطرہ سمندر</description>
	<lastBuildDate>Fri, 11 May 2012 20:46:16 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=</generator>
		<item>
		<title>میرا یار کمپیوٹر بولا ”اردو صرف اردو ہے“</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/my-friend-computer-says-urdu-is-only-urdu/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/my-friend-computer-says-urdu-is-only-urdu/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 14 Jan 2012 19:03:40 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[اردو کمپیوٹنگ]]></category>
		<category><![CDATA[طنزومزاح]]></category>
		<category><![CDATA[computer]]></category>
		<category><![CDATA[difference]]></category>
		<category><![CDATA[encode]]></category>
		<category><![CDATA[encoding]]></category>
		<category><![CDATA[graphic]]></category>
		<category><![CDATA[graphical]]></category>
		<category><![CDATA[graphics]]></category>
		<category><![CDATA[inpage]]></category>
		<category><![CDATA[system]]></category>
		<category><![CDATA[unicode]]></category>
		<category><![CDATA[unicode urdu]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>
		<category><![CDATA[urdu is urdu]]></category>
		<category><![CDATA[urdu of computer]]></category>
		<category><![CDATA[villager]]></category>
		<category><![CDATA[villager are not human]]></category>
		<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[اردو اردو ہے]]></category>
		<category><![CDATA[اردو رسم الخط]]></category>
		<category><![CDATA[اردو والے]]></category>
		<category><![CDATA[اردو کی سائبر لائیبری]]></category>
		<category><![CDATA[الٹی سیدھی باتیں]]></category>
		<category><![CDATA[ان پیج]]></category>
		<category><![CDATA[انگریزی]]></category>
		<category><![CDATA[اپنا دوست]]></category>
		<category><![CDATA[اینکوڈنگ]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی]]></category>
		<category><![CDATA[بے عزتی]]></category>
		<category><![CDATA[تصویر]]></category>
		<category><![CDATA[تصویری اردو]]></category>
		<category><![CDATA[تصویری اردو اور کمپیوٹر کی اردو میں فرق]]></category>
		<category><![CDATA[تصویری حالت]]></category>
		<category><![CDATA[تہمت]]></category>
		<category><![CDATA[جدت]]></category>
		<category><![CDATA[دو قسم کی اردو]]></category>
		<category><![CDATA[دو ٹوک]]></category>
		<category><![CDATA[دیہاتی]]></category>
		<category><![CDATA[سائبر لائیبری]]></category>
		<category><![CDATA[سافٹ ویئر]]></category>
		<category><![CDATA[سالوں محنت]]></category>
		<category><![CDATA[سسٹم]]></category>
		<category><![CDATA[سوال و جواب]]></category>
		<category><![CDATA[سوتن]]></category>
		<category><![CDATA[فانٹ]]></category>
		<category><![CDATA[فرق]]></category>
		<category><![CDATA[فضل الحق سری پائے]]></category>
		<category><![CDATA[لوڈ شیڈنگ]]></category>
		<category><![CDATA[مستقبل]]></category>
		<category><![CDATA[میرا یار کمپیوٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ناشکرے لوگ]]></category>
		<category><![CDATA[نظام]]></category>
		<category><![CDATA[وینا ملک]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکنالوجی کے میدان]]></category>
		<category><![CDATA[پاپڑ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیسکٹاپ پبلشنگ]]></category>
		<category><![CDATA[کمپیوٹر]]></category>
		<category><![CDATA[کمپیوٹر بول پڑا]]></category>
		<category><![CDATA[کمپیوٹر سے بات]]></category>
		<category><![CDATA[کمپیوٹر سے سوال]]></category>
		<category><![CDATA[کمپیوٹر پر تہمت]]></category>
		<category><![CDATA[کمپیوٹر کا دماغ]]></category>
		<category><![CDATA[کمپیوٹر کا غصہ]]></category>
		<category><![CDATA[کمپیوٹر کی اردو]]></category>
		<category><![CDATA[کمپیوٹر کی عینک]]></category>
		<category><![CDATA[کمپیوٹر کے تاثرات]]></category>
		<category><![CDATA[کوزی حلیم]]></category>
		<category><![CDATA[گالیاں]]></category>
		<category><![CDATA[گرافکس]]></category>
		<category><![CDATA[گرافیکل]]></category>
		<category><![CDATA[یونیکوڈ]]></category>
		<category><![CDATA[یونیکوڈ اردو]]></category>
		<category><![CDATA[یونیکوڈ سسٹم]]></category>
		<category><![CDATA[یونیکوڈ نظام]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.mbilalm.com/blog/?p=1765</guid>
		<description><![CDATA[یارو! کل میری بڑی بے عزتی ہوئی ہے۔ دل تو کر رہا ہے ”کمپیوٹر“ کو اچھی بھلی گالیاں نکالوں کیونکہ اس نے کل وہ کیا جس کی کبھی مجھے امید نہیں تھی۔ خیر کمپیوٹر بھی اپنا یار ہے اس لئے اس کی گستاخی پر درگزر کرتے ہیں۔ ویسے بھی بات چیت کے آخر پر اس نے یاروں کا یار بنتے ہوئے بڑے پیار سے بات کی۔ ہوا یوں کہ کل میں کمپیوٹر کو یہ پوچھ بیٹھا ]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
یارو! کل میری بڑی بے عزتی ہوئی ہے۔ دل تو کر رہا ہے ”<a href="http://www.mbilalm.com/blog/tag/computer/" title="Computer">کمپیوٹر</a>“ کو اچھی بھلی گالیاں نکالوں کیونکہ اس نے کل وہ کیا جس کی کبھی مجھے امید نہیں تھی۔ خیر کمپیوٹر بھی اپنا یار ہے اس لئے اس کی گستاخی پر درگزر کرتے ہیں۔ ویسے بھی بات چیت کے آخر پر اس نے یاروں کا یار بنتے ہوئے بڑے پیار سے بات کی۔</p>
<p>ہوا یوں کہ کل میں کمپیوٹر کو یہ پوچھ بیٹھا کہ ”یارا! یہ <a href="http://www.mbilalm.com/blog/tag/unicode-urdu/" title="Unicode Urdu">یونیکوڈ اردو</a> کیا ہوتی ہے؟“ کمپیوٹر سر نیچے کیے ہوئے کاغذات کی دیکھ بھال کرنے میں خوب مگن تھا، اس لئے کمپیوٹر نے میرے سوال پر ذرا بھی توجہ نہ دی۔ جب میں نے دوبارہ بڑے پیار سے اپنا سوال دہرایا تو، ناک پر رکھی ہوئی عینک کے اوپر سے آنکھیں تھوڑی زیادہ کھول کر کمپیوٹر میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا کہ ”اردو صرف اردو ہے اس لئے کسی یونیکوڈ اردو کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا“۔</p>
<p>مجھے سمجھ نہ آئی تو میں نے مزید سوال کیا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ”کمپیوٹر کی ایک <a href="http://www.mbilalm.com/blog/difference-between-graphical-urdu-and-unicode-urdu/" title="Difference between graphical Urdu and unicode Urdu">یونیکوڈ اردو اور دوسری تصویری اردو</a> ہوتی ہے“۔<br />
بس میرا یہی کہنا تھا کہ کمپیوٹر کا دماغ گھوم گیا۔ غصے میں عینک اتار کر زور سے میز پر مارتے ہوا بولا ”تم پتہ نہیں کہاں کہاں سے الٹی سیدھی باتیں سن آتے ہو اور آ کر میرا دماغ کھانے لگ پڑتے ہو۔ جب میں نے کہا کہ اردو صرف اردو ہے، تو پھر مزید کسی سوال کی گنجائش باقی نہیں رہتی“۔<br />
اس دوران مجھے صاف پتہ چل رہا تھا کہ کمپیوٹر کو بہت غصہ آیا ہوا ہے۔ کمپیوٹر کے تاثرات سے لگ رہا تھا کہ اسے اپنے اوپر کوئی تہمت لگتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔<br />
ابھی میں اندازے ہی لگا رہا تھا کہ کمپیوٹر خود بول پڑا ”یار بلال! یہ کچھ اردو والوں نے مجھ پر ”تہمت“ لگا رکھی ہے کہ میری دو قسم کی اردو ہے جبکہ ایسا نہیں۔ جب میں دیگر زبانوں کی ایک ہی قسم رکھتا ہوں تو پھر مجھے اردو کی دو قسمیں رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ بلکہ لوگوں نے ہی میری اردو کے ساتھ ساتھ ایک تصویری اردو لا کھڑی کی ہے۔ ایک تو مجھ سے میری اردومیں بات نہیں کرتے اور اوپر سے مجھ پر دو قسم کی اردو رکھنے کی تہمت لگاتے ہیں۔  اب میں فضل الحق سری پائے اور کوزی حلیم والوں کی طرح جگہ جگہ اصلی اردو اور نقالوں سے ہوشیار رہنے کے بورڈ لگانے سے تو رہا۔ کچھ تم لوگ ہی اپنی کھوپڑی سے کام لے لو۔“<br />
بات کرتے ہوئے کمپیوٹر کے لہجے میں تھوڑی نرمی آئی ہوئی تھی لیکن ساتھ ہی چیخ کر بولا ”تم لوگ ہو ہی ناشکرے۔ میں نے اپنے اندر ایک نظام یونیکوڈ بنایا تاکہ جہاں میں دیگر زبانوں کے لئے اچھے طریقے سے کام آتا ہوں وہاں پر اردو کے لئے بھی بہتر کام آ سکوں۔ میں نے اس جدت کی خاطر کئی پاپڑ بیلے، کئی سالوں تک محنت کی، لیکن تم ناشکرے لوگوں نے میری اس جدت سے فائدہ اٹھانے کی بجائے میری اردو کے مقابلے میں تصویری اردو کو سوتن بنا دیا۔“<br />
کمپیوٹر نے یہاں پر تھوڑا سا سانس لیا۔ میں سمجھا مجھے بات کرنے کا موقع مل گیا ہے، آخر میں بھی اس معاشرے کا حصہ ہوں جہاں پر صرف تنقید برائے تنقید اور پوری بات سنے، سمجھے بغیر لیکن لیکن کہا جاتا ہے، اس لئے میں نے موقع سمجھتے ہوئے سوال کرنا چاہا مگر کمپیوٹر نے مجھے سوال کرنے کا موقع ہی نہ دیا اور بول پڑا۔<br />
”بھائی صاحب! یہ اکیسویں صدی ہے، 2011ء ختم ہو چکا ہے اور 2012ء چل رہا ہے، لیکن تم اردو والے آج بھی 1999ء کی سوچ رکھے ہوئے ہو۔ دنیا نے پچھلے دس گیارہ سالوں میں ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت ترقی کی ہے۔ خدا کے لئے تم بھی کوئی ہوش کے ناخن لو۔“<br />
اب کی بار کمپیوٹر تھوڑا چپ ہوا لیکن اس کا غصہ عروج پر تھا۔ میں نے کمپیوٹر کا غصہ کم کرنے اور اس کی مدد کرنے کے لئے کہا ”یار مجھے ٹھیک ٹھیک اور تفصیلی معلومات دے۔ میں چاہے ایک گیا گزرا بلاگر ہی سہی لیکن اگر تو مجھے ٹھیک معلومات دے گا تو میں اس معلومات کو لوگوں تک پہنچاؤں گا اور پھر ہو سکتا ہے لوگوں کو کچھ خیال آ جائے۔“<br />
میرا اتنا کہنا تھا کہ کمپیوٹر نے بڑی نرمی سے کہا ”بتا تو دیا  ہے لیکن پھر بھی تیرا کوئی سوال ہے تو پوچھ“۔<br />
میں نے کہا ”یار! ٹھیک ہے مجھے سمجھ آ گئی ہے کہ تیری اردو ایک ہی ہے، لیکن انگریزی صرف انگریزی ہے اور دیگر زبانیں بھی بالکل ایسے ہی ہیں لیکن یہ اردو کے ساتھ ہی ”<a href="http://www.mbilalm.com/blog/what-is-unicode/" title="What is Unicode">یونیکوڈ</a>“ کیوں لگا ہے؟“<br />
کمپیوٹر بولا ”بات صرف اتنی سمجھنے والی ہے کہ میرا پہلے کوئی اور نظام تھا جس میں اردو لکھنے کی گنجائش نہیں تھی۔ تب تم لوگ تصویروں کی صورت میں اردو لکھتے تھے۔ ایسی تصویری اردو نہ کل میری تھی اور نہ آج میری ہے۔ ایسی تصویری حالت میں اردو کو میں نہیں سمجھ سکتا بلکہ میں تو اسے اردو سمجھتا ہی نہیں۔ میرے لئے جیسے دیگر تصاویر ہوتی ہیں بالکل ایسے ہی یہ بھی تصاویر ہی ہیں اور ان تصاویر میں لکھی ہوئی اردو سے تم لوگ عارضی فائدہ تو اٹھا سکتے ہو لیکن اگر مجھ سے کہو کہ میں ایسی تصویری حالت میں موجود اردو کی سائبر لائیبریریوں سے مواد تلاش کر کے دوں تو یہ میرے لئے فی الحال ممکن نہیں۔ جب پرانا وقت تھا تب تو تصویری حالت میں اردو رکھنا تمہاری مجبوری تھی اور مجھے بھی بہت شرمندگی ہوتی تھی کہ میں باقی کئی زبانوں کے لئے تلاش اور دیگر کئی کاموں میں مدد دیتا ہوں لیکن اردو کے لئے سوائے ڈیسکٹاپ پبلشنگ کے اور کسی کام نہیں آ رہا تو پھر مجھے خیال آیا کہ ایسا کوئی نظام ہو جس سے میں زیادہ سے زیادہ زبانوں کو سمجھ سکوں اور انسانوں کو فائدہ پہنچاؤ۔ یوں میں نے ایک نظام بنایا جس کو یونیکوڈ کا نام دیا۔ میں نے اس <a href="http://www.mbilalm.com/blog/urdu-unicode-values/" title="Unicode Values of Urdu Letters">یونیکوڈ نظام میں اردو</a> کو بھی جگہ دی۔ اب میری زیادہ تر زبانیں اسی نظام میں موجود ہیں۔ میں صرف اسے زبان مانتا ہوں جو میرے زبانوں کے نظاموں کے تحت لکھی جاتی ہیں۔“</p>
<p>ابھی اتنی گفتگو ہوئی تھی کہ <a href="http://www.mbilalm.com/blog/villager-are-not-human/" title="دیہاتوں میں لوڈ شیڈنگ">بجلی چلی گئی</a> اور بات چیت کا سلسلہ رک گیا۔ میں باہر صحن میں چلا گیا۔ دھوپ میں بیٹھ کر مالٹے کھائے۔ مالٹے کھانا مجبوری تھی کیونکہ ایک بہت پیارے دوست نے سرگودھا سے کافی سارے مالٹے بھیج دیئے ہیں۔ مالٹے کھانے کے ساتھ میں سوچتا رہا کہ آخر کمپیوٹر آج اتنے عجیب و غریب لہجے میں بات چیت کیوں کر رہا تھا۔ خیر اللہ اللہ کر کے پانچ گھنٹے بعد شام کے وقت بجلی نے دیدار کروایا اور میں بھاگتا ہوا کمپیوٹر کے پاس پہنچا تاکہ گفتگو کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جائے اور یوں کمپیوٹر سے دوبارہ بات چیت شروع ہوئی۔</p>
<p>کمپیوٹر سے سلام دعا کے بعد میں نے کہا”تم نے مجھے اتنی لمبی چوڑی تقریر سنا دی ہے لیکن میرا سوال تو وہیں کا وہیں ہے کہ آخر اردو کے ساتھ یونیکوڈ کیوں بولا جاتا ہے؟“<br />
سوال کرنے کی دیر تھی کہ کمپیوٹر بڑے طنزیہ انداز میں بولا ”میں نے تو تم لوگوں کو کب کہا کہ میری اردو کے ساتھ یونیکوڈ لفظ کا اضافہ کرو؟ ٹھیک ہے یونیکوڈ میرے ایک نظام، ایک ٹیکنالوجی کا نام ہے لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ تم اس نظام کے نام کو زبان کے نام کے ساتھ ملا دو۔ بھائی صاحب! میں تو اردو کی طرح کئی دیگر زبانیں بھی یونیکوڈ نظام کے تحت ہی سمجھتا ہوں لیکن کبھی تم نے ان زبانوں کے ساتھ یونیکوڈ کا لفظ لگا دیکھا یا سنا؟ اصل میں تم لوگ پہلے تصویروں کی صورت میں اردو لکھتے تھے۔ جس کا مجھے کچھ پتہ نہیں ہوتا تھا۔ میں ان اردو لکھی تصویروں کو تصویریں سمجھ کر ادھر سے ادھر کرتا اور پرنٹر کو بھیجتا تھا لیکن جب میں نے اردو کو سمجھنا شروع کیا اور جس نظام کے تحت سمجھا تم لوگوں نے اردو کے ساتھ اس نظام کا نام لگا دیا۔  ٹھیک ہے ڈویلپر اور دیگر ماہرین تکنیکی لحاظ سے بات چیت کرتے ہوئے میرے نظام کو زیر بحث لائیں اور بات سمجھنے کے لئے یونیکوڈ اردو کہہ لیں، لیکن لوگوں کو بتا دو کہ میری اردو صرف ”اردو“ ہے کوئی ”یونیکوڈ اردو“ نہیں، اس لئے جب تم لوگ میرے حوالے سے اردو کا ذکر کرو تو زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہو کہ کمپیوٹر کی اردو۔“<br />
آخر کار میں نے کمپیوٹر سے کہا ”چھوڑ ساری باتوں کو مجھے صرف دو ٹوک بتا کہ اردو کے معاملے میں آخر تو چاہتا کیا ہے؟“<br />
کمپیوٹر نے نہایت ہی نرمی سے کہا ”دیکھو بھائی بلال! پہلی بات تو یہ کہ میری صرف ایک ہی اردو ہے جس کو میں یونیکوڈ نظام کے تحت سمجھتا ہوں۔ دوسری بات اگر چاہتے ہو کہ میں انٹرنیٹ اور ہر جگہ پر اردو کے حوالے سے تم لوگوں کی مدد کر سکوں تو پھر مجھ سے میری اردو میں ہی بات کرو۔ ٹھیک ہے ابھی میں اردو کو بہتر سے بہتر انداز میں دکھانے اور دیگر کئی کاموں  کے لئے نظام تیار کر رہا ہوں اور وقت کے ساتھ ساتھ میں تم لوگوں کو مزید اچھے <a href="http://www.mbilalm.com/blog/what-is-font/" title="What is Font">رسم الخط (فانٹ)</a> میں اردو دکھاؤں گا اور کئی قسم کی زیب و آرائش کر کے دوں گا لیکن یہ سارے نظام میں تب ہی بناؤں گا جب تم میری اردو میں مجھ سے مخاطب ہونا پسند کرو گے۔ اگر آج بھی تم زیب و آرائش کے چکر میں تصویروں میں ہی اردو لکھتے رہے تو پھر سوچ لو میں قیامت تک تم لوگوں کو اردو کے متعلق اچھے نظام نہیں دوں گا۔ تجھے آخری اور خاص بات بتا دوں کہ یونیکوڈ نظام کے تحت لکھی جانے والی اردو کا ہی مستقبل ہے اور یہ بات اردو کے مامے چاچے سافٹ ویئروں کو بھی سمجھ آ چکی ہے جبھی تو وہ بھی خود کو اسی نظام کے تحت لے آئے ہیں۔ باقی اب اٹھو اور جاؤ میرا زیادہ دماغ نہ کھاؤ۔ مجھے اور بھی بہت سے کام کرنے ہیں۔ یہ نہ ہو بجلی دوبارہ چلی جائے اور کام وہیں کے وہیں رکے رہ جائیں۔“<br />
خیر میں نے بھی سوچا کمپیوٹر ٹھیک ہی کہہ رہا ہے باقی کام کاج کر لینے چاہئیں۔ یوں میں کمپیوٹر سے گفتگو کرنے کے بعد اٹھ کر جانے لگا تو کمپیوٹر نے پیچھے سے آواز دی ”اس گفتگو پر تحریر ضرور لکھنا۔ زیادہ نہیں تو لوگوں کو میرا صرف اتنا پیغام دے دینا کہ کمپیوٹر نے کہا ہے کہ میری صرف ایک ہی اردو ہے جسے میں یونیکوڈ نظام کے تحت سمجھتا ہوں، باقی رنگ برنگی تصویروں کو میں اردو نہیں سمجھتا اور میرا ان تصویروں سے اردو کے حوالے سے کوئی لینا دینا نہیں بلکہ فی الحال میرے سامنے چاہے اردو لکھی تصویریں رکھو یا وینا ملک کی تصویریں رکھو، میں دونوں کو ایک ہی کھاتے میں ڈال دوں گا۔“</p>
<p>نوٹ (16 جنوری 2012ء) :- شاید کچھ دوستوں کو اس تحریر پر ہونے والے تبصروں سے اندازہ نہ ہو تو سوچا وضاحت کر دوں۔ دراصل انٹرنیٹ پر ایک صاحب اردو سافٹ ویئر بیچنے کی خاطر زرد مارکیٹنگ کرتے ہوئے لوگوں میں گمراہی پھیلا رہے ہیں تو سوچا تکنیکی لحاظ سے تھوڑی وضاحت کر دوں تاکہ لوگ گمراہ نہ ہوں اور حقیقت کو پہچانیں۔ملتی جلتی تحاریر:-&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/difference-between-graphical-urdu-and-unicode-urdu/' title='کمپیوٹر کی ”اردو“ اور ”تصویری اردو“ میں فرق'>کمپیوٹر کی ”اردو“ اور ”تصویری اردو“ میں فرق</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/what-is-unicode/' title='یونیکوڈ کیا ہے؟'>یونیکوڈ کیا ہے؟</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/reply-on-urdu-in-present-time/' title='موجودہ دور میں اردو زبان &#8211; جواب'>موجودہ دور میں اردو زبان &#8211; جواب</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/what-is-font/' title='رسم الخط(Font) کیا ہے؟'>رسم الخط(Font) کیا ہے؟</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/disease-of-english-in-pakistan/' title='پاکستان میں ”انگریزیا“ کی بیماری'>پاکستان میں ”انگریزیا“ کی بیماری</a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/my-friend-computer-says-urdu-is-only-urdu/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>51</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ضرورت ”بچے“ کی ماں ہے</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/necessity-is-the-mother-of-baby/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/necessity-is-the-mother-of-baby/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 17 Dec 2011 22:36:05 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[طنزومزاح]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[boys]]></category>
		<category><![CDATA[einstein]]></category>
		<category><![CDATA[facebook]]></category>
		<category><![CDATA[first day]]></category>
		<category><![CDATA[generation]]></category>
		<category><![CDATA[girls]]></category>
		<category><![CDATA[human]]></category>
		<category><![CDATA[internet]]></category>
		<category><![CDATA[invention]]></category>
		<category><![CDATA[leader]]></category>
		<category><![CDATA[love]]></category>
		<category><![CDATA[man]]></category>
		<category><![CDATA[mobile]]></category>
		<category><![CDATA[mother]]></category>
		<category><![CDATA[necessity]]></category>
		<category><![CDATA[research]]></category>
		<category><![CDATA[science]]></category>
		<category><![CDATA[sex]]></category>
		<category><![CDATA[story]]></category>
		<category><![CDATA[telephone]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>
		<category><![CDATA[women]]></category>
		<category><![CDATA[young]]></category>
		<category><![CDATA[youth]]></category>
		<category><![CDATA[آئن سٹائن]]></category>
		<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[انسان]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ایجادات]]></category>
		<category><![CDATA[تحقیق]]></category>
		<category><![CDATA[جنسی تسکین]]></category>
		<category><![CDATA[جوان]]></category>
		<category><![CDATA[جوانی]]></category>
		<category><![CDATA[روز اول]]></category>
		<category><![CDATA[رہبر]]></category>
		<category><![CDATA[سائنس]]></category>
		<category><![CDATA[سیکس]]></category>
		<category><![CDATA[ضرورت]]></category>
		<category><![CDATA[عورت]]></category>
		<category><![CDATA[فیس بک]]></category>
		<category><![CDATA[لڑکیاں]]></category>
		<category><![CDATA[لڑکے]]></category>
		<category><![CDATA[لیڈر]]></category>
		<category><![CDATA[ماں]]></category>
		<category><![CDATA[محبت]]></category>
		<category><![CDATA[مرد]]></category>
		<category><![CDATA[موبائل]]></category>
		<category><![CDATA[نسل]]></category>
		<category><![CDATA[نوجوان]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیلی فون]]></category>
		<category><![CDATA[پیار]]></category>
		<category><![CDATA[کہانی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.mbilalm.com/blog/?p=1629</guid>
		<description><![CDATA[ضرورت ایجاد کی ماں ہے اور یہی ضرورت چیخ و پکار کر رہی ہے لیکن ہمارے اکثر نوجوانوں نے صرف جنسی تسکین کو ہی ضرورت سمجھا ہوا ہے اور اس ضرورت کے تحت دن بدن ”محبت“ کے نئے سے نئے ماڈل ایجاد کر رہے ہیں۔ جیسے موبائلی محبت، انٹرنیٹی محبت اور فیس بکی محبت وغیرہ]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
دنیا میں روز اول سے ہی ایجادات کا سلسلہ شروع ہو گیاتھا کیونکہ روز اول سے ہی انسان نے اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کا بندوبست شروع کر دیا تھا جبھی تو سیانے کہتے ہیں کہ ”ضرورت ایجاد کی ماں ہے“۔ اگر ضرورت ایجاد کی ماں ہے تو، پس ثابت ہوا ہر ”ایجاد“ کو ”ضرورت“ ہی جنم دیتی ہے۔ کبھی موسموں کی شدت سے بچنے کی ضرورت نے مکان کو جنم دیا تو کبھی پیغام جلد سے جلد دوسروں تک پہنچانے کی ضرورت نے ٹیلی فون کو جنم دیا۔ ہر دور اور ہر انسان کے حساب سے یہ ”ضرورت“ اپنی شکلیں بدل بدل کر ”ایجاد“ کو جنم دیتی رہی۔ کبھی ضرورت نے مال و دولت کی شکل اختیار کر لی تو کبھی انسانیت کی فلاح، کبھی شہرت تو کبھی عزت، کبھی پیار تو کبھی شوق۔ بس ”ضرورت“ اپنی شکلیں بدلتی رہی اور ایجادات ہوتی رہیں اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا۔</p>
<p>اب دیکھئے اپنے ارد گرد کے حالات۔ ضرورت موجود ہے، حالات رستہ دیکھا رہے ہیں، ذہانت کے سمندر بہہ رہے ہیں لیکن کوئی خاص ایجاد نہیں۔ ضرورت ایجاد کی ماں ہے اور یہی ضرورت چیخ و پکار کر رہی ہے لیکن ہمارے اکثر نوجوانوں نے صرف جنسی تسکین کو ہی ضرورت سمجھا ہوا ہے اور اس ضرورت کے تحت دن بدن ”محبت“ کے نئے سے نئے ماڈل ایجاد کر رہے ہیں، جیسے موبائلی محبت، انٹرنیٹی محبت اور فیس بکی محبت وغیرہ۔ کئی نوجوان تو اس سے بھی ایک قدم آگے نکل چکے ہیں۔ ان نوجوانوں نے ”ضرورت“ کسی جنسِ مخالف کا نام سمجھ رکھا ہے اور اس ”ضرورت“ کے لئے دن رات ایک کرتے پھر رہے ہیں تاکہ ”کچھ“ ایجاد کر سکیں۔</p>
<p>المیہ تو یہ ہے کہ یہاں آپ کو موجد نہیں بلکہ جگہ جگہ عاشق ملیں گے۔ یہاں آپ کو سائنسی تحقیق تو نہیں البتہ لڑکی لڑکے کی دوستی کو جائز و ناجائز ثابت کرنے والی تقاریر ضرور ملیں گی۔ سب سے بڑھ کر یہاں آپ کو رہبر نہیں بلکہ نظام پر گفتگو کرتے نقاد ملیں گے۔ جو دو چار اپنے ہی جیسوں کے ”ٹاک شوز“ دیکھ کر تنقید پر تنقید کرتے پھر رہے ہیں۔ تنقید بھی ایسی کہ جس کا نتیجہ صرف اور صرف بحث برائے بحث ہے، کوئی تعمیر نہیں۔ جس تنقید کا نتیجہ حوصلہ شکنی کر رہا ہے نہ کہ کچھ کرنے کا جذبہ پیدا کرے۔ دوسری طرف ذہانت نے اپنا ایک شور مچایا ہوا کہ ”جی ہمیں کوئی رہبر نہیں مل رہا“۔ ذرہ ان کی ذہانت تو دیکھو، یہ چاہتے ہیں کہ ساری رات یہ موبائل پر گپیں لگاتے رہیں اور جب دن کو سکون سے سوئے ہوں تو آئن سٹائن آئے اور ان کے سرہانے لکھی لکھائی تیار شدہ تھیوری رکھ جائے۔ ارے خدا کے بندو! محنت کرو اور خود آئن سٹائن بنو نہ کہ شارٹ کٹ کے چکر میں سوتے رہو۔ حالات خود رہبر بنے تو ہوئے ہیں اور تمہیں بتا بھی رہے ہیں کہ اگر اپنی بقا چاہتے ہو تو ترقی کی طرف جاؤ۔ </p>
<p>اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم نے حالات کو رہبر بنا کر، ان سے سبق سیکھتے ہوئے، اپنی اصل ضرورت کے مطابق ایجادات کرنی ہیں یا پھر یونہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے خواب غفلت میں رہنا ہے اور فضول کاموں کو اپنی ضرورتیں بنا کر اندھیروں میں سفر کرنا ہے۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم نے اپنا لیڈر آپ بننا ہے یا پھر مسیحا کا انتظار کرتے کرتے اپنی موت آپ مر جانا ہے۔</p>
<p>ایجادات سے مراد صرف سائنسی ایجادات ہی نہیں بلکہ یہ ایک اصطلاح استعمال کی ہے جس میں سائنسی ایجادات سے لے کر معاشی، معاشرتی اور ہر لحاظ سے ہونے والی بہتر تبدیلیاں ہیں۔ آپ جو جواور جتنا جتنا کر سکتے ہیں، خدا کے لئے وہ تو کریں۔ ہمارے اندر اخلاقیات بہت کم ہو چکی ہیں، اس وقت یہ بھی ہماری ایک ضرورت ہے۔ بہتر نظام لانے، بہتر لیڈر پیدا کرنے، بہتر ٹیکنالوجی بنانے اور بہترین معاشرہ تشکیل دینے جیسی ضرورتوں کی طرف بھی توجہ کرنی ہے۔ نوجوانوں! ”ضرورت ایجاد کی ماں ہے“ کا اصل فلسفہ سمجھو اور ”ضرورت کو بچے کی ماں“ نہ بناؤ۔ ٹھیک ہے ضرورت کے تحت بچے ”ایجاد“ کرنے پر توجہ بھی دیں اور یہ بھی ایک ”اہم“ ضرورت ہے لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی تو دیکھیں کہ ہماری اور بھی بہت سی ضرورتیں ہیں اور ان ضرورتوں کے تحت اور بھی بہت کچھ ایجاد کرنا ہے۔</p>
<p>یہ تحریر کسی ایک صنف کے لئے نہیں بلکہ اس میں دونوں (لڑکے اور لڑکیوں ) کو مخاطب کیا ہے۔ بس کئی جگہ پر محاورے کے مطابق چلتے ہوئے صنف واضح ہو رہی ہے تو اس مراد ہرگز لڑکے یا لڑکیاں نہ لیا جائے بلکہ یہ سوچئے کہ دونوں اطراف میں یہ سب چل رہا ہے اور تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ملتی جلتی تحاریر:-&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/reply-on-urdu-in-present-time/' title='موجودہ دور میں اردو زبان &#8211; جواب'>موجودہ دور میں اردو زبان &#8211; جواب</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/why-urdu-important-for-us-summary/' title='ہمارے لئے اردو کیوں ضروری &#8211; خلاصہ'>ہمارے لئے اردو کیوں ضروری &#8211; خلاصہ</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/advantages-of-pak-urdu-installer/' title='آپ کو پاک اردو انسٹالر کا کیا فائدہ؟'>آپ کو پاک اردو انسٹالر کا کیا فائدہ؟</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/our-needs-and-extremism/' title='ہماری ضرورتیں اور شدت پسندی'>ہماری ضرورتیں اور شدت پسندی</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/trouble-land-of-our-mental-slave/' title='ہمارے ذہنی غلاموں کا جنجال پورہ'>ہمارے ذہنی غلاموں کا جنجال پورہ</a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/necessity-is-the-mother-of-baby/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>18</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>مزید اردو کمپیوٹنگ کی کوئی تحریر نہیں، کیونکہ اب مجھے بلاگ نگار بننا ہے</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/no-more-urdu-computing-now-i-am-blogger/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/no-more-urdu-computing-now-i-am-blogger/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 16 Aug 2011 03:34:44 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[اردو کمپیوٹنگ]]></category>
		<category><![CDATA[طنزومزاح]]></category>
		<category><![CDATA[do more]]></category>
		<category><![CDATA[i am a blogger]]></category>
		<category><![CDATA[no more]]></category>
		<category><![CDATA[no more blogging]]></category>
		<category><![CDATA[no more urdu blogging]]></category>
		<category><![CDATA[no urdu computing]]></category>
		<category><![CDATA[آئی ایم بلاگر]]></category>
		<category><![CDATA[آئی ایم ناٹ بلاگر]]></category>
		<category><![CDATA[بلاگر ای بلاگر]]></category>
		<category><![CDATA[بونگو بونگ بونگیاں]]></category>
		<category><![CDATA[مور ای مور]]></category>
		<category><![CDATA[نو مور]]></category>
		<category><![CDATA[نو مور بلاگنگ]]></category>
		<category><![CDATA[ٹینگو]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیگو ٹیگ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈو مور]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.mbilalm.com/blog/?p=1360</guid>
		<description><![CDATA[ اب میں اردو کمپیوٹنگ، اردو بلاگنگ یا اردو کی کسی بھی قسم کی ترویج کے لئے نہ کوئی تحریر لکھوں گا اور نہ ہی کسی ایسے کام میں شرکت کروں گا جس سے اردو کی ترویج ہوتی ہو۔ دسو یار! ہے کوئی بات کرنے والی؟ تین سال پہلے سوچا تھا، چلو بلاگ بناتا ہوں اور فلسفے جھاڑا کروں گا۔ ادھر ادھر سے پکڑ کر بونگیاں مار دیا کروں گا لیکن میں تو چند ایک تحاریر کے علاوہ ساری تحاریر ہی فضول لکھ گیا۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>جیسا کہ عنوان نے ہی ساری بات واضح کر دی ہے کہ اب میں اردو کمپیوٹنگ، اردو بلاگنگ یا اردو کی کسی بھی قسم کی ترویج کے لئے نہ کوئی تحریر لکھوں گا اور نہ ہی کسی ایسے کام میں شرکت کروں گا جس سے اردو کی ترویج ہوتی ہو۔ دسو یار! ہے کوئی بات کرنے والی؟ تین سال پہلے سوچا تھا، چلو بلاگ بناتا ہوں اور فلسفے جھاڑا کروں گا۔ ادھر ادھر سے پکڑ کر بونگیاں مار دیا کروں گا لیکن میں تو چند ایک تحاریر کے علاوہ ساری تحاریر ہی فضول لکھ گیا۔ اس تحریر کا مواد چھوڑ کر تین سالوں میں دوستوں کے تبصرے، پِنگ بیک اور میرے جواب ملا کر کل صرف 1073 کمنٹس بنتے ہیں اور 110 تحاریر جن میں سے تقریباً 63 تو سیدھی سیدھی فضولیات میں شمار ہو جاتی ہیں کیونکہ یہ اردو کمپیوٹنگ اور بلاگنگ میں آتی ہیں۔ آپ خود سوچیں جس تحریر کو لکھنے میں تھوڑی بہت محنت شامل ہو وہ بھلا کیسے کسی ”بلاگ نگار“ کی تحریر ہو سکتی ہے؟</p>
<p><span style="color: #0000ff;">جج کا فیصلہ</span><br />
سارے اعدادوشمار اور تحاریر کی نوعیت صاف صاف واضح کر رہے ہیں کہ ”<a href="http://www.mbilalm.com/blog/" target="_blank">م بلال م کی بیاض</a>“ کوئی بلاگ نہیں اور نہ ہی م بلال م کا شمار ”بلاگران“ میں ہوتا ہے۔ لہذا یہ عدالت فیصلہ کرتی ہے کہ آج کے بعد م بلال م ایسی تحاریر سے توبہ کرے جن پر سوچ بچار کرنی پڑتی ہو بلکہ اب روز کی دو چار یا کم از کم ایک تحریر لازمی لکھے اور وہ بھی انگلش میں تاکہ اس کا شمار بلاگران میں کیا جا سکے۔</p>
<p><span style="color: #0000ff;">میری دہائی</span><br />
جج صاحب اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں کیونکہ اس میں میری کوئی غلطی نہیں بلکہ اس ”ظالم“ معاشرے نے مجھے یہاں تک پہنچا دیا ہے۔ مجھے بننا بلاگ نگار تھا لیکن بن اردو کمپیوٹنگ کا ”ماسٹر“ گیا۔ شروعات کہاں سے کی تھی لیکن باتوں باتوں میں اردو کمپیوٹنگ اور بلاگنگ تک محدود ہو کر رہ گئی۔ بلاگ کا سہارا لے کر لکھاری بننے آیا تھا لیکن لوگوں نے صرف اردو کمپیوٹنگ کا ”جیالا“ کہہ دیا۔ ”یار جج“ کبھی <a href="http://www.mbilalm.com/blog/ga-gi-gay/" target="_blank">اِدھر اُدھر</a> بھی نظر مار۔ کبھی ہم نے یہاں وہاں کچھ <a href="http://www.mbilalm.com/blog/ab-koi-shoor-na-machaiy/" target="_blank">الٹا سیدھا</a> بھی لکھا تھا۔</p>
<p><span style="color: #0000ff;"> اختتامیہ</span><br />
اب کیا کیا جا سکتا ہے کیونکہ عدالت کا حکم ہے ماننا تو پڑے گا۔ کام مشکل تو ہے لیکن مجبوری ہے، ویسے بھی اب مجھے بلاگ نگار بننا ہے۔ ویسے بلاگ نگار بننے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ چھوٹی سی متنازع ”شُرلی“ چھوڑ دو اور لوگوں کو بحثوں میں الجھائے رکھو۔ بھلا یہ کیا بلاگ ہوا جہاں اردو کمپیوٹنگ پر تحاریر لکھی جا رہی ہیں۔ اس لئے میں موجودہ نوعیت کی بلاگنگ، اجی غلطی ہو گئی بلاگنگ تو یہ ہے ہی نہیں، میری مراد یہ تھی کہ موجودہ نوعیت کی تحاریر چھوڑ کر ”بلاگنگ“ شروع کرنے جا رہا ہوں۔ اگر پھر بھی کامیاب بلاگ نگار نہ بن سکا تو پھر اس سے بھی بہتر راستہ یہ ہو گا کہ خبریں بلاگ پر لگانا شروع کر دوں گا۔ کیسا مزہ آئے گا کہ ہر خبر پر نظر ہو گی ہماری۔ ہمیں سب معلوم ہو گا کہ زرداری صاحب آ رہے، زرداری صاحب جا رہے ہیں۔ اور تو اور یہ بھی پتہ ہو گا کہ اب وہ”وہاں“ جا رہے ہیں۔ اب زرداری صاحب کے ”یہاں وہاں“ بھی بہت زیادہ ہیں۔ چلو لگے ہاتھوں تمام ”یہاں وہاں“ کی خبر ہو جائے گی۔ لگتا ہے ایسی ”شُرلی بلاگنگ“ سے میں بلاگ نگار بن ہی جاؤ گا لیکن پھر بھی خدانخواستہ کامیابی نہ ہوئی، تو خبر پر اپنی طرف سے تھوڑا سا تبصرہ کر کے تحریر لکھوں گا تو پھر مجھے کوئی طاقت کامیاب بلاگ نگار بننے سے نہیں روک سکے گی۔ اور ہاں یاد آیا یہ سب اردو میں نہیں ہو گا بلکہ انگلش اخبار کاپی پیسٹ ہوا کرے گی۔ اجی اب ہم اتنے بھی گئے گزرے نہیں۔ کاپی پیسٹ کرنے جتنی انگلش تو ہمیں آتی ہی ہے۔</p>
<p>دوستوں بڑے عرصے سے اردو کمپیوٹنگ اور بلاگنگ پر تکنیکی حوالے کے علاوہ کچھ اور نہیں لکھا تھا تو سوچا کچھ ہلکا پھلکا لکھا جائے تو یہ تحریر لکھی دی۔ ویسے میرا ایسا ویسا کوئی ”شُرلی ارادہ“ نہیں ہے۔ یہ سب تو میں نے ”بونگو بونگ“ بونگیاں ماری ہیں۔ مزید میں کسی قسم کے بلاگ نگار کو تنقید کا نشانہ نہیں بنا رہا کہ فلاں قسم کی چیز بلاگنگ نہیں یا فلاں بلاگنگ کا غلط انداز ہے۔ دراصل فی الحال میری نظر میں بلاگنگ کی کوئی تعریف نہیں سوائے اس کے کہ بلاگ آپ کی شخصیت کا عکاس ہوتا ہے۔ جیسے آپ، ویسا آپ کا بلاگ۔ باقی جو دل کرتا ہے، جیسا دل کرتا ہے، بس لکھ دو۔ بلاگ آپ کی جاگیر ہے، جس میں جیسے چاہو، جس انداز میں چاہو، گھومو پھرو۔ موج مستی کرو، سیکھو سیکھاؤ اور زندگی جیو۔ اب ”موج مستی“ کا کوئی ”پُٹھا سِدھا“ مطلب نہ نکال لینا۔ تنقید سے نہ ڈرو کیونکہ یہ وہ چیز ہے جس نے آج تک کسی کو نہیں بخشا بلکہ ہو سکے تو تنقید سے کچھ سیکھو۔</p>
<p><span style="color: #0000ff;"> واپسی</span><br />
کہتے ہیں چور چوری سے گیا لیکن ہیرا پھیری سے نہ گیا اس لئے اسی ہیرا پھیری میں اردو کمپیوٹنگ کی ایک اور تحریر پڑھیں۔ جن دوستوں کو <a href="http://www.mbilalm.com/blog/write-urdu-in-text-editor/" target="_blank">ٹیکسٹ ایڈیٹر میں اردو لکھنے میں مسئلہ</a> ہے وہ <a href="http://www.mbilalm.com/blog/write-urdu-in-text-editor/" target="_blank">یہ تحریر</a> دیکھیں۔<br />
مذاق کے علاوہ کہوں تو میرے اللہ نے اردو کمپیوٹنگ اور بلاگنگ پر لکھنے کی وجہ سے جتنی مجھے عزت دی ہے وہ شاید اس کے بغیر میں کبھی حاصل نہ کر پاتا۔ یااللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے یہ توفیق دی۔۔۔ملتی جلتی تحاریر:-کوئی ملتی جلتی تحریر موجود نہیں</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/no-more-urdu-computing-now-i-am-blogger/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>51</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>بِلو مال و مال پارلیمنٹ پہنچی</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/billo-and-youth-parliament/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/billo-and-youth-parliament/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 01 Oct 2009 19:41:47 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[طنزومزاح]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[abrar ul haq]]></category>
		<category><![CDATA[ibrar-ul-haq]]></category>
		<category><![CDATA[youth parliament]]></category>
		<category><![CDATA[youth parliament of pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[youthparliament.org.pk]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=147</guid>
		<description><![CDATA[&#8220;بِلو&#8221; ابھی تک گھر میں ہی تھی کہ ایک دن سکول میں تفریح کے وقت ہمارا ایک دوست کچھ گنگنا رہا تھا جب غور کیا تو پتہ چلا کہ حضرت بِلو کے گھر جانے کی صدا لگا رہے ہیں۔ تھوڑی بہت تحقیق سے پتہ چلا کہ اصل میں ابرار الحق سب کو آوازیں دے رہے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>&#8220;بِلو&#8221; ابھی تک گھر میں ہی تھی کہ ایک دن سکول میں تفریح کے وقت ہمارا ایک دوست کچھ گنگنا رہا تھا جب غور کیا تو پتہ چلا کہ حضرت بِلو کے گھر جانے کی صدا لگا رہے ہیں۔ تھوڑی بہت تحقیق سے پتہ چلا کہ اصل میں ابرار الحق سب کو آوازیں دے رہے تھے کہ جس نے بِلو کے گھر جانا ہے وہ ٹکٹ لے اور لائن میں لگ جائے۔ ابرارالحق کی آواز ہمارے دوست تک پہنچی اور اس نے بھی وہی صدا لگانی شروع کر دی۔ یہ وہ وقت تھا جب پہلی بار ابرار الحق موسیقی کی دنیا میں نمودار ہوئے۔ مجھ جیسے کئی لوگ حیران تھے کہ کیا یہ کوئی گانا ہے یا پھر مداری ہو رہی ہے؟ لیکن وقت کی تیز دھار نے مجھ جیسے کئی لوگوں کے ذہن کاٹ کر یہ بات باور کروا دی کہ یہ کوئی مداری نہیں بلکہ اب ایسے ہی گانے ہوا کریں گے۔ خیر وقت کے ساتھ ساتھ ابرار الحق کے چاہنے والوں میں اضافہ ہوتا گیا اور ابرار الحق کا ہر البم خاص طور پر نوجوانوں میں مقبولیت حاصل کرتا۔ وقت گزرتا گیا اور شائد  بِلو بھی بڑی ہو چکی تھی یوں بِلو گھر سے نکلی اور جی ٹی روڈ پر آگئی۔ یہی وہ وقت تھا جب بابے بھی جوان ہونے لگے اور ان کے دل کی ٹلیاں بجنے لگیں۔ بِلو کے لشکارے پر جی ٹی روڈ پر بریکیں لگیں، اُڑتے ہوئے جہاز بھی نیچے اتر آئے، کافی گاڑیوں میں گاڑیاں &#8220;ٹھا&#8221; کر کے لگیں اور  یوں روڈ بند اور مداری شروع۔یہیں بِلو کو سائیکل پر بیٹھنے کی دعوت بھی دی گئی اور ساتھ ساتھ کچھ تھوڑے بہت میٹھے میٹھے طنز بھی ہوئے جیسے پینی پیپسی، کھانے برگر اور مقابلہ جٹ سے۔پتہ نہیں بِلو سائیکل پر بیٹھی بھی یا نہیں لیکن ابرارالحق کے &#8220;شریک&#8221; ان سے بہت جل رہے تھے۔ ابرارالحق کے اسی سائیکل کو دیکھتے ہوئے کچھ سیاست دانوں نے انتخابی نشان بھی سائیکل رکھ لیا اور ابرارالحق ان سیاست دانوں کے لئے اسی سائیکل پر ووٹ مانگنے نکل پڑے کچھ کامیابی بھی ہوئی لیکن پتہ نہیں کب وہ سائیکل پنکچر ہوا اور ساری سیاست کی ہوا نکل گئی۔یہاں یاد رہے ہمیں جتنا معلوم ہوا ہے اس کے مطابق ابرارالحق خود سیاست میں نہیں تھے بلکہ سیاست دانوں کی اشتہاری مہم میں کام کر رہے تھے۔ خیر پنکچر سائیکل کو بھیگے ہوئے دسمبر میں پیدل ساتھ ساتھ چلاتے ہوئے ابرارلحق کو سجنی کی بہت یاد آئی۔ پھر نہ جانے کب دل تڑپا اور آواز آئی کہ &#8220;دھرتی ہے ماں&#8221;۔ مجھ جیسے کئی لوگ حیران تھے کہ ابرار بھائی کو کیا ہو گیا ہے؟ پنجاب دھرتی سے ابرارالحق کو جگا جٹ مل گیا پھر اس کی کہانی شروع ہو گئی۔ جٹ کی دہشت نے اسے جرم کرنے پر مجبور کر دیا اور پھر جٹ کچہری پہنچا، سزا ہو گئی۔ جگا جیل سے رہا تو ہو گیا لیکن جگے جٹ کو دشمنوں نے کاٹ کر موت کی گھاٹ اتار دیا۔ خیر اتنے میں جی ٹی روڈ کھل گیا اور ابرارالحق لاہور پہنچ گئے۔ اب کی بار صرف ایک &#8220;بِلو&#8221; ہی نہیں پورے لاہور کی &#8220;کڑیوں&#8221; کو ابرارالحق میلہ دیکھانے لے گئے۔ میلے میں رنگ  برنگا ماحول دیکھا تو ابرارالحق کو رب کے کئی رنگ یاد آئے تو انہوں نے رب کے رنگوں کی صدا کیا لگائی پھر ماں کی یاد آئی،قربانی کا جذبہ پیدا ہوا اور اشاروں پر گاڑیاں صاف کرتے ہوئے بچوں کے دکھ بھی یاد آئے اور انہوں نے ان سب کی بھی صدا لگائی۔ بڑی حیرانی ہونے کے ساتھ ساتھ دل بہت خوش ہوا چلو ابرار بھائی نے ہم جیسے غریبوں کے لئے بھی کچھ بولا ہے۔ ابرار بھائی کا دل نرم ہو چکا تھا یوں انہوں نے ایک اور کارنامہ کر دکھایا اور صغریٰ شفیع ہسپتال بنایا۔ اس کام کے بعد ابرار بھائی نے پھر جوش مارا اور عشق کا نعرہ لگا دیا۔ نعرہ لگاتے ہوئے شہر شہر گھومنا شروع کیا۔ بِلو اور دیگر کے ساتھ ساتھ &#8220;مجاجنی&#8221;، &#8220;پریتو&#8221;، &#8220;رانو&#8221;، &#8220;پروین یا پرمین&#8221;   اور بھی بے شمار لوگوں کو ساتھ ملا لیا ابھی لوگ جمع ہوئے ہی تھے کہ اسلام آباد سے فیکس آ گئی۔ ابرار بھائی نے پیار کی پالیسی تھوڑی تبدیل کی، نوجوانوں میں شعور پیدا کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ سب کے فارم پُر کیے۔ بِلو اور دیگر عاشقوں کی ٹیم لے کر اسلام آباد پارلیمنٹ میں پہنچ گئے۔یوں گھر سے نکلی بِلو مال و مال پارلیمنٹ پہنچی۔<br />
مندرجہ بالا تحریر بس کچھ مزاح لکھنے اور کچھ ابرارالحق کے بارے میں لکھنے کا شوق ہوا تو لکھ دیا۔ ویسے یہ شوق اس وقت ہوا جب کچھ دن پہلے سوشل کمیونٹی ویب سائیٹ &#8220;فیس بک&#8221; پر ابرارالحق کے دیئے ہوئے ایک لنک http://www.youtube.com/watch?v=12CHjEcY9qk  پر ایک چھوٹی سی ویڈیو دیکھی۔ ویڈیو، شاعری اور ابرارالحق کے کمنٹس کسی کے لئے متاثر کن ہوں یا نہ ہوں لیکن میرے لئے کافی متاثر کن تھے۔ دراصل وہ ویڈیو ابرارالحق کے ایک پروجیکٹ یوتھ پارلیمنٹ کے بارے میں تھی۔ یوں تو یوتھ پارلیمنٹ کا اشتہار کئی بار اخبارات میں دیکھا لیکن کچھ خاص سمجھ نہیں آتی تھی کہ یہ پروجیکٹ کس لئے ہے اور اس کا مقصد کیا ہے۔ لیکن ویڈیو میں ابرارالحق کے کمنٹس سن کر کچھ کچھ اندازہ ہوا۔ پھر یوتھ پارلیمنٹ کی ویب سائیٹ دیکھی اور اپنی کمزور سی انگریزی کو استعمال کرتے ہوئے کچھ سمجھنے کی کوشش کی تو کچھ کچھ ایسا ہی لگا کہ یہ ایک اچھا پروجیکٹ ہے۔ یوتھ پارلیمنٹ ویب سائیٹ کے ایڈمن کو ایک ای میل بھی کی تھی کہ جناب ہم جیسے لوگ جو انگریزی نہیں پڑھ سکتے ان کے بارے میں بھی کچھ سوچیں اور اگر ہو سکے تو یوتھ پارلیمنٹ کے بارے میں معلومات اردو میں بھی فراہم کر دیں۔ جب میل کا کوئی جواب نہ آیا تو فیس بک پر بھی یوتھ پارلیمنٹ کے پیج پر بھی گزارش کی لیکن پھر بھی کوئی جواب نہیں۔ خیر کوئی مسئلہ نہیں۔ ابرارالحق اور یوتھ پارلیمنٹ سے گذارش ہے کہ اردو میں بھی معلومات فراہم کریں کیونکہ جس &#8220;یوتھ&#8221; کے لئے یہ سب ہو رہا ہے اس میں بہت زیادہ لوگ مجھ جیسے ہیں جو ٹھیک طرح سے انگریزی نہیں سمجھ سکتے۔ ایک بار پھر گذارش ہے کہ خدارا ہم پر اور ہماری زبان پر پہلے ہی بہت ظلم ہو رہے ہیں اس لئے کم از کم ہمارا نہیں تو ہماری زبان کا ہی کچھ خیال کریں۔<br />
باقی آپ سب سے گذارش ہے کہ ابرارالحق کے گانے آپ کو پسند ہیں یا نہیں اس بات کو ایک طرف کر کے کم از کم یوتھ پارلیمنٹ کے بارے میں http://www.youthparliament.org.pk پر پڑھیں اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ پروجیکٹ کچھ بلکہ رتی برابر بھی بہتری لا  سکتا ہے تو اس پروجیکٹ میں ضرور شامل ہوں اوردوسروں کو بھی اس پروجیکٹ میں شامل ہونے کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ مجھ جیسے ان پڑھ کو بھی سمجھائیں اور ابرارالحق کو بھی مشورہ دیں کہ اس کو کس طرح مزید بہتر کیا جا سکتا ہے۔ ویسے میں نے مشورے کا کہہ تو دیا ہے لیکن مجھے خود معلوم نہیں کہ ابرارالحق اور یوتھ پارلیمنٹ والے مشورہ لینا پسند بھی کریں گے یا نہیں۔ملتی جلتی تحاریر:-کوئی ملتی جلتی تحریر موجود نہیں</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/billo-and-youth-parliament/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>گا، گی، گے</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/ga-gi-gay/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/ga-gi-gay/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 23 Jul 2008 22:33:16 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[طنزومزاح]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=14</guid>
		<description><![CDATA[سنا ہے پاکستان کے زیادہ تر سیاست دانوں کو موسیقی کے سروں کی بیماری لگی تھی اور یہ بیماری اب تک لگی ہوئی ہے۔ اس بات کو دیکھتے ہوئے ہم نے ایسی بیماری والے سیاست دانوں کو موسیقار سیاست دان کا نام دیا ہے۔ موسیقار سیاست دان ویسے تو کسی کام کے نہیں سوائے ملک [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">سنا ہے پاکستان کے زیادہ تر سیاست دانوں کو موسیقی کے سروں کی بیماری لگی تھی اور یہ بیماری اب تک لگی ہوئی ہے۔ اس بات کو دیکھتے ہوئے ہم نے ایسی بیماری والے سیاست دانوں کو موسیقار سیاست دان کا نام دیا ہے۔ موسیقار سیاست دان ویسے تو کسی کام کے نہیں سوائے ملک کو لوٹنے کے لیکن اندر اندر یہ سیاست دان تو سائنسدان اور موسیقاروں کو بھی پیچھے چھوڑ گئے اور یوں سیاست دانوں نے موسیقی میں نئے سُر ایجاد کر دیئے۔ عام طور پر موسیقی کے 7 سُر سا، رے، گا، ما، پا، دا،نی ہوتے ہیں۔ دنیا دن بدن چھوٹی سے چھوٹی ٹیکنالوجی اور وقت بچانے کی طرف لگی ہوئی ہے اس لئے موسیقار سیاست دانوں نے سوچا کہ موسیقی کے نئے سُر اور تعداد کم کی جائے تاکہ وقت کی بچت کی جائے۔ اور یوں موسیقار سیاست دانوں نے موسیقی کے نئے سُر ایجاد کر ہی لئے۔ ان سُروں کے بارے میں عوام کو نہیں بتایا گیا تھا اور ابھی بھی نہیں بتایا جا رہا البتہ اشاروں اشاروں میں بات سمجھانے کی کوشش ضرور کی گئی تھی اور ہے۔ سارے موسیقار سیاست دان اپنے زیادہ تر بیانات میں نئے سُروں کا استعمال کرتے ہیں۔ ہم آپ کو بتاتے جائیں کہ یہ نئے سُر کون سے ہیں۔۔۔ پرانے سُروں کی تعداد میں کمی کر کے نئے سُر صرف تین بنائے گئے۔ جن کے نام گا، گی اور گے ہیں۔ ان سُروں کا تعلق کیونکہ مستقبل سے ہے اس لئے ان کے نام بھی مستقبل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے گا، گی، گے ہی رکھے گئے۔ موسیقار سیاست دانوں کا خیال ہے کہ اصل چیز ہی مستقبل ہے اس لئے ماضی اور حال بھاڑ میں جائیں صرف مستقبل کا ہی سوچا جائے۔۔۔<br />
اگر آپ اخبارات پڑھتے ہیں یا خبریں سنتے ہیں تو آپ کو بھی اندازہ ہو چکا ہو گا کہ موسیقار سیاست دان آج کل ان نئے سُروں کے دیوانے ہو چکے ہیں اور ہر بیان میں انہیں استعمال کر رہے ہیں۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی ایک موسیقار سیاست دان صاحب کہہ رہے تھے کہ &#8220;بجلی کے بحران پر جلد قابو پا لیا جائے گا ا ا ا ا ا ا ا ا&#8221;۔ ایک وزیر صاحبہ کہہ رہی تھیں کہ &#8220;میں پاکستان کو خوش حال کر دوں گی ی ی ی ی ی ی &#8220;۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا کہ ہم &#8220;آٹے کی فراہمی یقینی بنا دیں گے ے ے ے ے ے&#8221;۔ اگر آپ تھوڑا سا غور کریں تو آپ کو بھی ان سروں کی سمجھ آ جائے گی ی ی ی ی ی ۔۔۔ کہ یہ سُر کتنی اہمیت رکھتے ہیں۔<br />
میرے خیال میں شائد یہ کوئی پہلے موسیقار سیاست دان نہیں بلکہ ان سے پہلے بھی کئی گزر چکے ہیں جو اسی گا، گی، گے کی سرگم کرتے رہے ہیں اور عوام کو پاگل بناتے رہے ہیں۔۔۔ اور ایک ہماری بھولی اور سادہ عوام ہے جو بیچارے بڑی معصومیت سے دن رات محنت کرتے ہیں اور پھر فارغ اوقات میں گا، گی، گے کی سرگم سنتے ہیں۔۔۔<br />
لیکن اب عوام کو اس سرگم کی اصل صورت کا خوب اندازہ ہونے لگا ہے۔۔۔ کیونکہ اس سرگم کی حقیقت آج تک نہیں ہو سکی۔ سب موسیقار سیاست دان یہی سرگم گا، گی، گے کا استعمال کرتے ہیں۔ لیکن آج تک یہ گا، گی اور گے آیا ہی نہیں۔ عوام پہلے سے بھی زیادہ مشکلات میں زندگی گزار رہی ہے۔ لیکن اگر موسیقار سیاست دانوں کی سرگم سنیں تو لگتا ہے کہ مستقبل قریب میں پاکستان سپر پاور بننے والا ہے۔ جبکہ ایسا کچھ نظر نہیں آرہا۔۔۔</p>
<p>ملتی جلتی تحاریر:-کوئی ملتی جلتی تحریر موجود نہیں</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/ga-gi-gay/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>اب کوئی شور نہ مچائے &#8212; حکومت کا ساتھ دو</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/ab-koi-shoor-na-machaiy/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/ab-koi-shoor-na-machaiy/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 25 Jun 2008 12:59:03 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[طنزومزاح]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://localhost/my/?p=10</guid>
		<description><![CDATA[یہ وہ دور چل رہا ہے جب ہر چیز بدل رہی ہے تانگے کی جگہ چنگ چی رکشہ (چاند گاڑی)، ٹوسڑوک میوزیکل رکشے کی جگہ CNG رکشہ آگیا ہے مقصد یہ کہ ہر چیز بدل رہی ہے نئی نئی ایجادات کی دوڑ تیز ہو گئی ہے اور پاکستان بہت پیچھے رہتا جا رہا ہے اس [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">یہ وہ دور چل رہا ہے جب ہر چیز بدل رہی ہے تانگے کی جگہ چنگ چی رکشہ (چاند گاڑی)، ٹوسڑوک میوزیکل رکشے کی جگہ CNG رکشہ آگیا ہے مقصد یہ کہ ہر چیز بدل رہی ہے نئی نئی ایجادات کی دوڑ تیز ہو گئی ہے اور پاکستان بہت پیچھے رہتا جا رہا ہے اس لئے حکومت نے اب اس دوڑ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ لٰہذا عوام حکومت کا ساتھ دے اور اس کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے۔ حکومت نے عوام کی خوشی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ اب بچے کم پیدا کرنے کی کوئی ضروت نہیں جتنے چاہے پیدا کرو کیونکہ اس کا حل حکومت کو مل گیا ہے جہاں زیادہ لوگ ہونگے وہاں فوجی آپریشن کے ذریعے لوگ کم کر دیئے جائیں گے، اگر ایسا نہ ہو سکا تو خودکش بمبار کس لئے ہیں اور اگر ایسا بھی نہ ہو سکا تو ایک بہت جامع منصوبہ &#8220;آٹا عوام کی پہنچ سے دور رکھو&#8221; تشکیل دیا گیا ہے جس کا ابھی چند دن پہلے افتتاح کر دیا گیاہے۔ جب آٹا ایک خاص درجہ حرارت پر حکومت سنبھالے گی تو اس سے عوم ایسے کم ہو گی کبھی کسی نے سوچا بھی نہیں منصوبہ کی مزید وضاحت کرتے ہوے حکومت نے کہا آٹا جیسی خطرناک چیز جب عوام کی پہنچ سے دور ہو گی تو اس کے بہتر نتائج بھوک، چوری اور ڈکیتی کی صورت میں سامنے آئیں گے۔ ایک حکومتی چور صاحب نے مزید فرمایا کہ جب آٹا نہیں ہو گا تو عوام کم کرنے میں بہت مدد ملے گی کچھ لوگ بھوک سے مر جائیں گے۔ طاقت ور آٹے کی چوری کریں گے تو ایک نہ ایک دن پولیس کی گولی سے مر جائیں گے۔ بچی کچھی عوام کو روٹی کے چکر میں ڈال کر سیاست دان آسانی سے ووٹ لے سکیں گے جو پاکستان کے مستقبل کے لئے بہتر ثابت ہوں گے۔ مستقبل پر روشنی ڈالتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ تحقیقی علم جیسی بیماری جو کہ پاکستان کی ترقی کی رہ میں رکاوٹ ہے کو بھی آٹے کی مدد سے دور کیا جائے گا مزید پوچھنے پر وضاحت کی کہ جب نوجوان آٹا حاصل کرنے کی طرف لگ جائے گا تو یقیناً تحقیق سے دور ہو گا جس سے دینی تعلیم کے طالب علم تعلیم سے فارغ ہو کر دین کو کاروبار بنائیں گے اور سائنسی طالب علم روٹی کے پیچھے بھاگے گا تو دونوں تحقیق کرنے کی صلاحیت کھو دیں گے جس سے ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔ یہ سارا منصوبہ پاکستان کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہے لٰہذا اب کوئی شور نہ مچائے اور حکومت کا ساتھ دے۔</p>
<p>ملتی جلتی تحاریر:-کوئی ملتی جلتی تحریر موجود نہیں</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/ab-koi-shoor-na-machaiy/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>4</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

