محفوظات برائے ”طنزومزاح“ زمرہ
جولائی 15, 2015
13 تبصر ے

ہمارے بچپن کے رمضان المبارک

بھلے زمانے کی بات ہے کہ خلیل میاں فاختہ اڑایا کرتے تھے اور تب میڈیا پر ”رمضانی ٹرانسمیشن“ نہیں ہوتی تھی۔ روزہ کشائی کی بجائے افطاری ہوا کرتی تھی۔ ویسے ہم کوئی ”انیس سو پتھر“ کے زمانے کے بھی نہیں اور نہ ہی قائم علی شاہ صاحب ہمارے ہم جماعت تھے۔ ہمارا بچپن گزرے تو ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں۔ خیر ہمارے بچپن میں تو رمضان کی سب سے مزے کی چیز عید کارڈ اور تراویح ہوتی تھی۔ تراویح میں بچہ پارٹی خوب تفریح کیا کرتی۔ جیسا کہ ایک بچے نے حاجی صاحب کو حالتِ سجدہ میں←  مزید پڑھیے
اپریل 29, 2014
30 تبصر ے

دھمکیاں اور میری وصیت

سمجھتا تھا کہ میں ایک نہایت عام انسان ہوں۔ اِدھر سٹیج سے اتروں گا تو اُدھر دنیا کو پتہ بھی نہ ہو گا کہ کوئی ایم بلال ایم نامی انسان اس دنیا میں آیا تھا، کیونکہ عام لوگوں کے بارے میں یہی دنیا کا دستور رہا ہے۔ خیر میں تو کافی مشہور ہوں، اس بات کا مجھے تب پتہ چلا، جب کئی لوگوں نے دھمکیاں دینی شروع کیں۔ حالات کی سنگینی کو مدِنظر رکھتے ہوئے سوچا کہ قارئین کو اس متعلق آگاہ کر دینا چاہیئے۔ ابھی بتا دیتا ہوں کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو اس کی ذمہ دار وہ ہو گی جو←  مزید پڑھیے
مارچ 6, 2014
20 تبصر ے

افسانہ افسانی

پچھلے دنوں دیکھا کہ بلاگستان ”افسانہ افسانی“ ہوا پڑا تھا۔ اپنے عمر بنگش، ریاض شاہد، علی حسان اور خرم ابن شبیر کی کیا ہی بات ہے۔ بڑے لوگ، بڑی باتیں۔ بھلا کسی کی کیا مجال کہ انہیں کچھ کہے۔ اس سب کے بعد بھی ہمارا قلم حرکت میں نہ آئے، بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ہماری سوئی ہوئی حس چھلانگ مار کر اٹھی۔ یوں برگر تو برگر، بریانی بھی ہم پر ہنسی۔ اسی اثنا میں ہماری ملاقات اشفاق احمد، سعادت حسن منٹو، ابن انشاء، ساغر صدیق، حکیم ناصر اور ممتاز مفتی صاحب سے ہوئی اور ہماری پوٹلی←  مزید پڑھیے
دسمبر 17, 2013
19 تبصر ے

اشتہار برائے ضرورتِ رشتہ

پچھلے دنوں ہمارا ایک دوست مظلوموں کی صف میں کھڑا ہو گیا ہے۔ بیچارہ ایک مصیبت سے نکل کر دوسری میں چلا گیا ہے۔ اب ہمیں اپنے ایک نکمے مگر کماؤ، ویب ڈویلپر، بلاگر، لکھاری اور سیاح دوست کی شادی کے لئے ”سیاہ“ لڑکی کا رشتہ درکار ہے۔ شرائط صرف دو ہیں۔ ایک یہ کہ لڑکی پہلوان ہو، تاکہ ہمارے دوست کو سیاحت سے باز رکھ کر گھر باندھے رکھے۔ دوسری شرط ہے کہ لڑکی کو اردو آتی ہو، تاکہ ہمارے دوست کی تحاریر پڑھے۔ ورنہ اسے کسی نے پڑھنا تو ہے نہیں۔ مزید←  مزید پڑھیے
جون 7, 2013
12 تبصر ے

وزیر اعلیٰ لاہور کا اقبال بلند ہو

محترم وزیر اعلیٰ لاہور! آپ کا اقبال ہمالیہ سے بھی بلند ہو۔ یوں تو آپ کا کوئی ثانی نہیں لیکن آپ کی وہ انگلی جس سے آپ انگلی کرتے، معذرت جناب، غلطی ہو گئی، دراصل میری مراد یہ تھی کہ آپ کی انگشتِ حکمیہ نے انتخابی مہم میں کیا خوب جوش دکھائے۔ اسی نے مائیک توڑے اور دشمنوں کو ناکوں چنے چبوائے۔ پھر زرداری کو کب سڑکوں پر گھسیٹ رہے ہیں؟ بڑے بھائی صاحب تو بس جوش خطابت میں آپ کو نفسیاتی کہہ گئے جبکہ آپ تو شیر ہیں، بس دُم کی کمی ہے۔←  مزید پڑھیے