Afsana Afsani

پچھلے دنوں دیکھا کہ بلاگستان ”افسانہ افسانی“ ہوا پڑا تھا۔ اپنے عمر بنگش بھائی تو ٹھہرے ادیب، یہ حلال رزق کمائیں یا ناٹکا کو رلائیں، انہیں تو ہر کام کی اجازت ہی اجازت ہے۔ مگر کیا دیکھتا ہوں کہ ریاض شاہد صاحب مرد کو طوائف ثابت کر رہے ہیں۔ کر لو گل! بڑے لوگ، بڑی باتیں۔ بھلا ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔ اب اپنے ”سید پاک“ علی حسان کو ہی دیکھ لیجئے۔ وہ شجرِ محبت کے سائے میں نہ بھی بیٹھائیں تو کسی کی کیا مجال کہ پیروں کی شان میں گستاخی کرے۔ ان سب کو چھوڑیں اور ذرا غور تو کریں کہ چچا شبیر کا سپوت بابا دینا کو ہی مارتا پھر رہا ہے۔ اب ہم جائیں تو کدھر جائیں؟ ”سانحے در سانحے“ کے بعد بھی ہمارا قلم حرکت میں نہ آئے، بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ہماری سوئی ہوئی حس چھلانگ مار کر اٹھی۔ اپنی پرانی تحریریں کھنگالنی شروع کیں۔ دو چار افسانوں کے ٹکڑے ملے۔ جن میں سے کوئی محبوب پر تھا تو کوئی بے تکے واقعات پر۔ کہیں یار کو جنگ میں شہید کروایا ہوا تھا تو کہیں ہر شاعر کی طرح دنیا کی بے ثباتی کا ذکر تھا وغیرہ وغیرہ۔ آخر فیصلہ کیا کہ نیا ”شاہکار“ تخلیق کرتے ہیں اور یوں چل پڑے افسانہ لکھنے۔ لیکن لکھیں تو کیسے لکھیں اور پھر کس خیال پر لکھیں۔ نہ فنِ افسانہ نگاری آتا تھا نہ کوئی موضوع ذہن میں آرہا تھا کہ جس پر طبع آزمائی کی جاتی۔

اچانک یاد آیا کہ محترمہ قرۃالعین حیدر صاحبہ نے اپنے ناول ”آگ کا دریا“ کے صفحہ 180 پر لکھا تھا کہ ”پلاٹ کا توازن، مکالمات کی برجستگی غیر ضروری جزویات سے احتراز۔۔۔ یہی سب تو فنِ افسانہ نگاری کی تکنیک کہلاتا ہے اور کیا تکنیک میں کوئی ہاتھی گھوڑے لگے ہوتے ہیں۔“ بس جی اس بات کا یاد آنا تھا کہ ہماری روح تک خوشی سے جھوم اٹھی۔ اب بھلا ہمیں افسانہ لکھنے سے کون روک سکتا تھا۔ خیر فنِ افسانہ نگاری میں سب سے پہلی تکنیک تھی ”پلاٹ کا توازن“۔ اگر عینی آپی ایکڑوں کے حساب سے زمین کا توازن کرنے کا کہتیں پھر بھی کوئی مشکل ہوتی، اب ایک ”پلاٹ“ کا توازن کونسا مشکل تھا۔ البتہ مشکل یہ تھی کہ نہ ہم کرنیل نہ جرنیل، نہ بیوروکریٹ نہ صحافی۔ ایسی صورت میں ہم پلاٹ کہاں سے لائیں اور پھر اس کا توازن کریں۔

بڑی سوچ بچار کے بعد آخر اپنے گھر کے ساتھ والی خالی جگہ کو ہی پلاٹ گردانا، کدال اٹھائی اور چل دیئے اسے ہموار (توازن) کرنے۔ تین چار دن کدال چلی، ہاتھوں پر چھالے پڑے اور پلاٹ کا توازن ہو ہی گیا۔ اب اگلے مرحلے کا وقت تھا۔ غیر ضروری جزویات سے تو ہم ویسے ہی پرہیز کرتے ہیں۔ یہ تو بس ایسے ہی یار لوگوں نے بدنام کر رکھا ہے کہ ہماری تحریر میں تکرار ہوتی ہے۔ اب دیکھیں نا! ادھر بھی ہم دو ٹوک اور سیدھا سیدھا لکھ رہے ہیں۔ کیا آپ کو کوئی غیر ضروری جز نظر آیا؟ نہیں ناں؟ لہٰذا آخری مرحلہ تو ہم پہلے ہی پار کئے ہوئے ہیں۔ بس درمیانی مرحلہ یعنی مکالمات کی برجستگی باقی تھا اور پھر ہمارا افسانہ مکمل۔ اب ادھر گاؤں میں محاوروں کا ٹھیک ٹھیک استعمال اور ہر مکالمہ مناسب جگہ پر رکھنا بھلا کون سیکھاتا؟ آخر فیصلہ کیا کہ شہر کو چلتے ہیں۔ بڑے شہر میں بڑے بڑے لوگ ہوں گے اور ہمیں کچھ بڑا سیکھائیں گے۔

ہم نے پوٹلی باندھی، کندھے پر لٹکائی اور شہر کی اور چل دیئے۔ سو میل کا فاصلہ طے کر کے لاہور ریلوے اسٹیشن پر اترا۔ اب ادھر سے جائیں تو کدھر جائیں۔ آخر یاد آیا کہ اپنے بابا جی اشفاق احمد صاحب گورنمنٹ کالج میں پڑھتے تھے اور انہوں نے ادھر سے سیکھا تھا۔ چلو ہم بھی ادھر سے سیکھتے ہیں۔ اونچے برجوں والے گورنمنٹ کالج کے دروازے پر پہنچے اور شہر کے پہلے ”بڑے بندے“ سے واسطہ پڑا۔ چوکیدار کو کہا کہ ”محترم! ہمیں مکالمات کی برجستگی سیکھنی ہے۔“ اس نے ایک نظر سر سے پاؤں تک دیکھا۔ غیر ضروری جزویات کو ہرگز نظر انداز نہ کیا اور ہمارے قومی لباس کا بھی بغور جائزہ لیا۔ اس کی دوسری نظر ہماری پوٹلی پر ٹھہری اور اس کے منہ سے بے اختیار نکلا ”پرے ہٹ، پتہ نہیں کہاں سے آ جاتے ہیں“۔ اس کا اتنا کہنا تھا کہ ہم سمجھ گئے کہ سڑک کے اس پار جو باغ ہے، ادھر ہی تو ادیب لوگ بیٹھا کرتے تھے۔ چوکیدار نے درست سمت میں اشارہ کیا ہے۔ ہمیں اس باغ سے ہی سیکھنے کو ملے گا۔

باغ میں پہنچے، ادیبوں کی محفلیں ڈھونڈنے لگے۔ کوئی ادیب نظر آیا نہ محفل۔ البتہ کئی جگہوں پر ”سوٹے“ اور کئی جگہوں پر بوٹے کے نیچے بیٹھ کر ”بوٹے“ پیدا کرنے کی تیاریوں میں مصروف جوڑے نظر آئے۔ یہاں کردار ہی کردار تھے۔ موضوع ہی موضوع تھے، مگر ہمیں تو مکالمات کی برجستگی سیکھنی تھی۔ خیر اِدھر اُدھر کن اکھیوں سے دیکھتا، باغ کے دوسرے کنارے پہنچ گیا۔ باغ سے باہر نکلا اور مال روڈ پر چل دیا۔ سوچ رہا تھا کہ اب جاؤں تو کدھر جاؤں۔ پاس سے گزرتی گاڑی میں بیٹھی ”سواریوں“ کی حرکات تو سعادت حسن منٹو صاحب کے کردار جیسی تھیں۔ بس پھر اس سے خیال آیا کہ چلو پاک ٹی ہاؤس چلتے ہیں۔ ادھر سے ضرور سیکھنے کو ملے گا۔ میں نے ٹی ہاؤس کا جو نقشہ سوچ رکھا تھا اس کے مطابق تو کوئی پرانی سی بوسیدہ عمارت ہو گی مگر وہاں تو اچھی بھلی عمارت نظر آئی۔ عمارت کو دیکھتے ہی سوچا کہ پہلے تو یہاں پر اتنے ادیب ہوتے تھے مگر اب چونکہ لش پش عمارت ہے تو ادیبوں کی بھی بھرمار ہو گی۔ خیر ہم جھجکتے اندر داخل ہوئے۔ سوٹ بوٹ میں ملبوس بندے نے کہا کہ اوپر چلے جاؤ۔ ہمارے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ بھلا ابھی ہماری کونسی عمر ہے اوپر جانے کی۔ خیر اس نے اشارہ کیا تو کچھ سکون ہوا۔ اس کی مراد یہ تھی کہ بالائی منزل پر جا کر بیٹھو۔

بالائی منزل پر پہنچ کر ایک کونے میں جا بیٹھا اور ادیبوں کی تصاویر اور تحریروں کا بغور جائزہ لینے لگا۔ روٹی کھانے کے لئے کہانی لکھ کر دینا والا بھوکا ادیب کہیں بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔ گو کہ تصاویر میں ادیب ہی ادیب اور ادب ہی ادب تھا مگر اردگرد کا ماحول کچھ بے ادب سا محسوس ہوا۔وہاں یا تو برگر بچے تھے یا رنگ برنگی بریانیاں۔ کافی سوچ بچار کے بعد خیال آیا کہ چلو منٹو جی کا کوئی کردار بن جاتے ہیں، شاید کہ تب ہی سیکھنے کو مل جائے۔ پھر کیا تھا کہ ایک میز پر اپنے تائیں بڑے مہذب اور ”ادیبانہ“ انداز میں بیٹھ گیا۔ میرا خیال تھا کہ ٹی ہاؤس میں موجود برگر میری ادیبانہ حرکت سے متاثر ہوں گے۔ مگر برگر تو برگر، بریانی بھی مجھ پر ہنسی۔ دل ہی دل میں سوچا کہ ”ہسی تے پھسی“۔ مگر سارے ارمان اس وقت چکنا چور ہوئے جب بریانی نے باجو والے برگر کو کہا وہ دیکھو ”جوکر“۔ میں عجب بے چینی سے بریانی کو دیکھتا سوچتا ہی رہ گیا کہ آخر میں نے کیا غلطی کر دی؟ فقط سیکھنے ہی تو آیا تھا۔ دیہاتی ہوں تو کیا دیہاتی ہونا جرم ہے؟ ہم تو وہ ہیں جو مٹی کے ساتھ مٹی ہو کر رزق تلاش کرتے ہیں۔ اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو کونسا طوفان آ گیا؟ آخر میں بھی ایک انسان ہوں۔ سوالی نظروں سے دیکھتا ہوا سوچ ہی رہا تھا کہ ابن انشاء جی تصویر سے چھلانگ لگا کر باہر آئے اور بولے
کیوں تیری آنکھ سوالی ہے؟
یہاں ہر اک بات نرالی ہے
اس دیس بسیرا مت کرنا
یہاں مفلس ہونا گالی ہے
چل انشاء اپنے گاؤں میں
بیٹھیں گے سکھ کی چھاؤں میں

انشاء جی کا اتنا کہنا تھا کہ فوراً اٹھا، غصے میں بریانی کی طرف انتقام بھری نظر سے دیکھا، مگر اندر سے ٹوٹا ہوا اور ناامید ہوتے ہوئے، اپنی پوٹلی اٹھائی اور گاؤں واپسی کی تیاری کی۔ غصے کے عالم میں فٹ پاتھ پر چل رہا تھا کہ میرے آگے آگے ایک شخص ہنستے ہنستے یہ گنگناتا جا رہا تھا۔
ہے دعا یاد مگر حرفِ دعا یاد نہیں
میرے نغمات کو اندازِ نوا یاد نہیں
ہم نے جن کے لیے راہوں میں بچھایا تھا لہو
ہم سے کہتے ہیں وہی عہدِ وفا یاد نہیں
زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا، یاد نہیں

میں نے سوچا کہ ہنستے مسکراتے زندگی کی اتنی بڑی تلخی کو بیان کرنے والا کوئی عام انسان نہیں ہو سکتا۔ تیز قدموں سے آگے بڑھ کر دیکھا تو ساغرصدیقی مرحوم کا لاشہ تھا۔ افسوس تو بہت ہوا مگر اک حوصلہ بھی ہوا کہ جب ساغر صدیقی جیسے قابل بندے کے ساتھ بھرے شہر میں ایسا ہوا تھا تو پھر میں تو کچھ بھی نہیں۔ مجھے تو مکالمات کی برجستگی تک نہیں آتی۔ اگر میرے ساتھ بریانی نے معمولی سا غلط برتاؤ کیا ہے تو مجھے افسردہ نہیں ہونا چاہیئے۔ ابھی یہی سوچ کر چلنے لگا تھا کہ حکیم ناصر سامنے سے آتے دیکھائی دیئے۔ قریب پہنچ کر مجھے حوصلہ دیتے ہوئے بولے
پی جا ایام کی تلخی کو بھی ہنس کر ناصر
غم کو سہنے میں بھی قدرت نے مزا رکھا ہے

بہرحال اس سب کے بعد حوصلہ تو بہت ہوا لیکن سوچوں کے انبار ذہن میں اچھل کود کرتے رہے اور میں چپ چاپ چلتا رہا۔ کب ریلوے اسٹیشن پہنچا اور کب بینچ پر بیٹھ کر ریلوے لائن کو گھورنے لگا، کچھ پتہ نہ چلا۔ ایک بندہ میرے ساتھ والے بینچ پر بیٹھا میرا بغور جائزہ لے رہا تھا۔ مجھے اس کا احساس اور میرا ٹک ٹکی باندھ کر لائن کو گھورنا تب ٹوٹا جب ساتھ والے بینچ پر بیٹھے بندے نے مجھے مخاطب کیا۔ ارے کیوں پریشان اور انتقامی کیفیت لیے بیٹھے ہو؟ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے اس بندے نے میرا دماغ پڑھ لیا ہو۔ ایسا تو کوئی ماہرِ نفسیات ہی کر سکتا ہے۔ جب میں نے اس طرف دیکھا تو ہکا بکا رہ گیا۔ فوراً ان کے پاس گیا اور بولا دیکھو نا مفتی صاحب! میں لکھنا چاہتا ہوں۔ اس کے لئے کتنے پاپڑ بیلے، استادوں اور اس معاشرے سے دوٹوک ”ادب“ کے قانون سیکھنے چاہیں۔ کسی ”ادیب“ نے مجھے ”بے ادیب“ سمجھ کر ”جھنڈی“ کرا دی تو کسی افسانہ نگار نے افسانے کو اک فسانہ ہی رکھنا چاہا۔ اوپر سے لوگوں نے فقط دیہاتی ہونے پر عجیب عجیب باتیں کیں۔ چوکیدار نے مجھے ”پاکستانی“ سمجھ کر جھڑک دیا۔ باغ میں بھی عجیب عجیب بوٹے دیکھے۔ برگر تو برگر بریانی بھی مجھ پر ہنسی۔ انشاء جی نے کہا کہ گاؤں لوٹ جا۔ ساغر صدیقی صاحب کی حالات دیکھ کر بے چین ہو گیا۔ اب آپ ہی بتاؤ میں کیا کروں؟ ممتاز مفتی ہنسے اور بولے کہ بچے فکر نہ کر، میں تو خود کہتا ہوں کہ”صرف ادیب ہی کو لکھنے کا حق نہیں ہے، غیر ادیب بھی لکھ سکتا ہے۔ آپ اسے ادیب نہ مانئے گا، لیکن لکھنے کا حق تو دیجیے نا۔“ مزید مجھ سے پوچھا کہ ”اچھا یہ بتا کہ کیا تونے میری کتاب علی پور کا ایلی پڑھی ہے؟“ میں نے عرض کی جی بالکل پڑھی ہے۔ آگے سے مفتی صاحب بولے کہ ”یہ کتاب میں نے اردو ادب کے خلاف احتجاج اور اردو ادب پر طنز کی حیثیت سے لکھی تھی اور میرا خیال تھا کہ یہ کتاب چھینٹے اڑائے گی، شوراشوری پیدا کرے گی اور پھر ٹائیں ٹائیں فش ہو کر رہ جائے گی۔ لیکن یہ کتاب تو چل نکلی۔” پھر مجھے کہنے لگے ”اپنے نام کو دو’میموں‘ میں پھنسانے والے میری بات دھیان سے سن۔ سچائی میں بہت طاقت ہے اور اوپر سے اردو ادب کا قلب بہت وسیع ہے۔“ اس کے بعد مفتی صاحب تو کہیں چلے گئے مگر انہی کے جیسی باتیں کرنے والا ایک ہیولا سا نظر آیا اور وہ مجھ سے کہنے لگا کہ جو بھی لکھنا چاہتے ہو بس لکھو۔ ہر چیز سے بغاوت کر کے لکھو۔ اگر اپنے لئے اور عام لوگوں کے لئے لکھو گے تو تمہارا قلم سونے کے الفاظ لکھے گا۔اگر تمہارا لکھا لوگوں کے دلوں پر اثر کر گیا تو پھر تمہارا لکھا ہی قانون ہو گا، تمہاری تحریر ہی سند ہو گی۔ ایسی صورت میں جو بھی لکھو گے اگر وہ ادب کی کوئی صنف نہ بھی ہوئی تو اک تیری وجہ سے اک نئی صنف ایجاد ہو جائے گی۔ اگر استادوں کے قوانین کی پاسداری کرنے کا اتنا ہی شوق ہے تو لکھ اور تیرا مسلسل لکھنا ہی تجھے قوانین سیکھا دے گا۔ رہی بات چوکیدار، وہ باغ میں بوٹے، وہ برگر، وہ بریانی، وہ تیری اپنی حرکتیں، انشاء کی تلقین اور ساغر کا غم یہ سب ہی موضوعات اور خیالات ہیں۔ ان کا تفصیلی جائزہ لے، انہیں سوچ، ان کے تجرئیے میں ڈوب کر پا جا منزل۔

اتنے میں ٹرین آ گئی اور ہیولا کہیں غائب ہو گیا۔ میں جو خالی ہاتھ گیا تھا مگر ”افسانہ افسانی“ ہو کر ٹرین میں سوار ہوا۔ راستے بھر حالات کا تجزیہ کرتا اور سوچتا رہا۔ جب گھر پہنچا تو میری پوٹلی میں موضوع ہی موضوع، خیال ہی خیال، کردار ہی کردار، افسانے ہی افسانے اور کہانیاں ہی کہانیاں موجود تھیں۔ حتی کہ ایک ناول کا خاکہ بھی پوٹلی میں پڑا تھا۔