پاکستان کی پکار۔۔۔ اے میرے نوجواں
ذرا اس فقرے پر غور کریں اور محسوس کرنے کی کوشش کریں۔ پاکستان اپنے نوجوانوں کو پکار رہا ہے کہ اے میرے نوجواں! میری فریاد سن کچھ تو محسوس کر۔۔۔میرے ہونے نہ ہونے کو محسوس کر
ذرا اس فقرے پر غور کریں اور محسوس کرنے کی کوشش کریں۔ پاکستان اپنے نوجوانوں کو پکار رہا ہے کہ اے میرے نوجواں! میری فریاد سن کچھ تو محسوس کر۔۔۔میرے ہونے نہ ہونے کو محسوس کر
یہ چھوٹی اور عام سی مثال اس لئے دی ہے کہ ہم عام لوگ ہیں اور ہمارا بس بھی ان عام اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر چلتا ہے۔ جب یہ عام لوگ ہی بڑے لوگ بنتے ہیں تو بس بھی بڑی بڑی باتوں پر چلتا ہے اور پھر کرپشن اور دیگر برائیاں بھی بڑی ہو جاتی ہیں۔ ہم میں اور صاحبِ اقتدار میں فرق صرف چھوٹے اور بڑے پیمانے کا ہے۔ ہمارے پیمانے میں تھوڑی شراب آتی ہے تو ہم تھوڑی پیتے ہیں اور صاحبِ اقتدار کے پیمانے میں زیادہ آتی ہے تو وہ زیادہ پیتا ہے۔ فرق صرف پیمانے کا ہے ورنہ ہم ہیں ایک جیسے ہی۔
حکومت اور ان کے درباریوں سے صرف ہم یہ کہتے ہیں کہ اب وہ دور نہیں رہا کہ آپ نے جو کہا عوام نے چپ چاپ سن لیا اور پھر کچھ عرصہ بعد بھول گئے۔ اب میڈیا بہت تیز ہو چکا ہے اور ساتھ ساتھ عوام کے ذہن بھی کچھ کچھ کام کرنا شروع ہو گئے جس کی وجہ سے اب یہ سچے جھوٹے وعدوں اور باتوں کو بھی یاد رکھتے ہیں۔